علما کی اعلیٰ سطحی ملاقات اور غلط فہمیاں۔۔انعام الحق

ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر نبی آخر الزماں سرکار دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اسوقت پڑی جب وہ مسجد نبوی کے احاطہ میں اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ تشریف فرما تھے
تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو وضاحت دی کہ یہ میری اہلیہ ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اتقوا مواضع التھم
کہ تہمت کی جگہوں سے بچو۔

اس تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ مورخہ 22ستمبر2020 کودیوبندی بریلوی اہل حدیث اور اہل تشیع چاروں مکاتب کے نمائندہ علما کی مقتدر حلقوں کے اعلی حکام سے ہوئی جس میں بریلوی دیوبندی اور اہل حدیث تینوں اہل سنت مکاتب فکر نے حالیہ گستاخیوں پر جاندار اور ٹھوس موقف پیش کیا۔

جسکی قابل ذکر تفصیل یہ ہے کہ اس ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت فیوضھم نے مقتدر حلقوں کے اعلی سطحی ذمہ داروں سے پوچھا کہ آپ نے پاکستان بنتے دیکھا ہے انھوں نے کہا نہیں ہماری تو بہت بعد کی پیدائش ہے تو شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے فرمایا کہ میں نے پاکستان بنتے بھی دیکھا ہے تحریک پاکستان میں نعرے بھی لگائے ہیں اس لئے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاکستان سے جس قدر ہماری والہانہ الفت و عقیدت ہے وہ کسی طور پر کسی سے کم نہیں ہم پاکستان کے ایک ایک ذرہ پر خون چھڑکنا سعادت سمجھتے ہیں اس لئے ہماری حب الوطنی پر کسی کو سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم پاکستان میں کسی قسم کی تخریب کاری فتنہ وفساد کی اجازت کسی کو بھی نہیں دے سکتے حالیہ گستاخیوں پر ہم ہر اعتبار سے رنجیدہ ہیں اور سکتے میں ہیں، یہ ناقابل برداشت ہیں ،ان گستاخیوں کے مرتکبین کے خلاف قانونی شکنجہ کسا جانا سب کو نظر آنا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح زبان درازی کرنے کی ملعون جسارت نہ ہو۔

تیسری اہم بات مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ نے یہ کی کے عاشورا سے متعلق جلوس پھیلتے پھیلتے ربیع الاول تک پہنچ گئے ہیں انکو ختم کیا جائے یا محدود کیا جائے کیونکہ یہ فتنہ انگیزی اور ملک کے انتظامی معاملات کو مفلوج کرنے کا باعث بن رہے ہیں اس لئے ارباب اختیار اس پر حب الوطنی سے لبریز سنجیدہ نوٹس لیں اور عملی اقدامات کریں اور تحفظ بنیاد اسلام کے ابتدائی ڈرافٹ کو عملی طور پر نافذ کرائیں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت فیوضھم کی اس جامع و مانع گفتگو کی تینوں اہلسنت مکاتب نے مکمل تائید کی بالخصوص مفتی منیب الرحمان دامت برکاتہم نے تو ان کے ایک ایک لفظ کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کیا۔

پھر اہل تشیع کی جانب سے راجہ ناصر عباس نے تمام گستاخوں کے فعل کو انفرادی قرار دیکر ان سے اظہار لاتعلقی کرکے جان چھڑانے کا پرانا حربہ استعمال کیا۔

جس پر قائد مدارس وناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے بروقت راجہ ناصر عباس کی غلط بیانی کو پکڑا اور ان سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ لاہور میں پریس کانفرنس کرنے والے آپ کی جماعت کے لوگ نہیں تھے ۔؟
کراچی میں آپ کی جماعت گستاخوں کو ڈیفنڈ نہیں کررہی۔؟

آپ نے انکے خلاف کیا نوٹس لیا جس پر راجہ ناصر عباس علامہ شہنشاہ نقوی افتخار حسین نقوی اور علامہ عارف وحدی کی سٹی گم ہوگئی اور وہ ہزیمت کا پسینہ خشک کرنے کی کوشش میں مصروف رہے
بہرحال اسکے بعد ایک بااختیار اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جسکو محدود مدت میں سونپا گیا کام مکمل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

یہ تو تھی چاروں مکاتب فکر کے نمائندہ علما کی اعلی سطحی مقتدر حلقوں کے اعلی سطحی ذمہ داروں سے ملاقات کی حقیقی سٹوری جس میں الفاظ میرے ہیں احوال وہاں کے ہیں پھر بھی دروغ بر گردن راوی۔

اب بعض لوگ اس ملاقات پرغلط فہمیاں پھلاکر اپنی سابقہ بھڑاس نکال رہے ہیں انکو اللہ ہی ہدایت دے
بقیہ میرے گذشتہ کالم کو بھی بعض ناعاقبت اندیش غلط رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا منہ تو بند نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اللہ جانتا ہے میری سیاسی عقیدت مولنا فضل الرحمان سے ہے اور میری علمی اور روحانی نسبت استاذی الشیخ دکتور عبدالرزاق اسکندر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی قاری حنیف جالندھری دامت فیوضھم جیسے الوالعزم شخصیات سے ہے میں ان کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتا ہوں البتہ اس عقیدت مندی کے باوجود میں یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ تنقید اور اختلاف رائے کو میں اس نیازمندی کے منافی نہیں سمجھتا ہوں۔
مجھے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ مولنا فضل الرحمان سے دلی لگاؤ کے باوجود میں نے ان پر تنقید کے وہ نشتر چلائیں ہیں کہ بعض لوگ یہ یقین نہیں کرتے کہ مولنا فضل الرحمان آپ کا آئیڈیل سیاستدان ہے لیکن انکو یقین دلوانا میرا مقصود و مطلوب بھی نہیں اور اس پر میں مقدور بھی نہیں۔

میرے سابقہ کالم میں ٹیوشن پڑھنے والی سیاسی اور مذہبی قیادت سے مراد نابالغ اور غیر تربیت یافتہ مذہبی وسیاسی قیادت تھی شیخ الاسلام جیسے لوگ مراد نہیں تھے وہ تو خود مربی امت ہیں نہ کہ خود طفل مکتب۔

اس وضاحت کے بعد یہ واضح کرنا بھی میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس نوعیت کی ملاقات کو خفیہ رکھنا خلاف مصلحت اور ناممکن تھا نہ جانے کیوں اس کو ضروری سمجھا گیا حالانکہ اس دور میں اس نوعیت کی ملاقات کو خفیہ رکھنا ناممکن ہی نہیں ہے بلکہ مشکوکیت کا باعث ہے وہ بھی تب جب اس میں پچاس کے قریب لوگ شریک ہوں ایک دو لوگوں کی ملاقات کو تو مخفی رکھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اس لئے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس ملاقات پر آئی ایس پی آر کی باقاعدہ پریس ریلیز ہونی چاہیے تھی جو ہیڈلائن کی زینت بنتی جن اکابرین کو میڈیا سے الرجی ہو وہ قومی لیول کے معاملات سے مکمل کنارہ کشی اختیار کریں تاکہ انکا مزاج اس طرح کی غلط فہمیوں کا باعث نہ بنے
اللہ تعالی ہم سب کو فہم وفراست کے ساتھ مصداق کا تعین کرنے اور حالات کی نزاکتوں اور تقاضوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین!

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *