آئیے قرآن پڑھیں(قسط چہارم)۔۔محمد اقبال دیوان

دیوان صاحب کی فیس بک پر ایک پوسٹ قرآن کریم سے متعلق لگی تو ہم سب کو بہت پسند آئی۔ اس میں انہوں نے مختلف تراجم اور معاون کتب کے سلسلے میں بات کی تھی۔ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کی ممبر زرقا اظہر صاحبہ نے اور دیگر دوستوں نے درخواست کی کہ وہ خالصتاً اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک یا ایک سے زائد اقساط پر مبنی ایک مضمون ایسا لکھیں جس سے قارئین کے دل میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے سے رغبت پیدا ہو۔ان کے شبہات، خوف اور طبیعت کی رکاوٹ دور ہو۔یہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔دیوان صاحب کی یہ کاوش بصد عجز و دعائے قبولیت کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔سادہ سی کوشش سادہ دل ذوق طلب سے سرشار اور ایمان والوں کو مکالمہ کا نذرانہء برائے راہ نمائی۔

تیسری قسط کا آخری حصہ
۔۔۔۔۔۔
ہم نے کہا تھا نا کہ قرآن Human Agents کو رد کرتا ہے بجز ان کے جنہیں اللہ نے بطور نبی اور رسول بنا کر دنیا میں خود بھیجا ہو۔یوں دین میں کسی گھرانے یا فرد کی برتری اسے منظور نہیں اسی کتاب”الرحیق المختوم“ کے بموجب دین کے حوالے سے آپ کا  پہلا دعوتی خطاب ہے۔ابتدا ہی سے بتادیا جارہا ہے کہ کسی کو کوئی فوقیت نہیں یہ پیغام موجود ہے۔ عمل کرو۔ صلے کی امید مجھ سے نہیں اللہ سے رکھو۔۔
”اے بنی قریش اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
اے محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کیوں کہ  میں  تم سب کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔البتہ تم سے نسبت و قرابت کے تعلقات ہیں جنہیں میں  باقی و تر و تازہ رکھنے کی کوشش کروں گا۔(الرحیق المختوم کا یہ حوالہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری سے منسوب ہے)

اس قسط میں ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اگلی قسط میں یہ بتائیں گے کہ ایک عام مسلمان بالخصوص وہ جو سن ستر کے بعد کا مسلمان ہے اس کی قرآن سے دوری کا اسباب کیا ہیں اور وہ کوشش کرکے کس طرح قرآن کے مطالعے کو تقویت دے سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کا پاکستان میں ابتدائی دور۔چیٹ پروگرام ایم آر-آءی ۔سی-۲
انٹرنیٹ کا پاکستان میں ابتداءی دور۔چیٹ پروگرام ایم آر-آءی ۔سی
سورہ البقرہ آیت نمبر ۲۲۱
حرم پاک کی لاءبریری میں رکھا سن پچاس کا نسخہ۔اس کا شمار انگریزی کے بہترین تراجم میں ہوتا ہے
انیسویں صدی کا ہاتھ کا لکھا قرآن کریم کا نسخہ
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

نئی قسط
اس قسط میں ہم کوشش کریں گے کہ جس طرح ہم نے پچھلی اقساط میں قرآن کی قربت اختیار کرنے میں بیرونی رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے ویسے ہی دو تین اقساط میں ان رکاوٹوں کو بھی بیان کریں جو شکوک و شبہات کی صورت میں قلب مومن کے اندر جنم لیتی ہیں۔ہمارا ارادہ اس سلسلہء مضامین کو مختصر رکھنے کا تھا مگر دوستوں نے یوں اصرار کیا کہ اس موضوع پر ذرا کھل کر گفتگو ہو نی چاہیے ۔سر دست ہم اپنے تجربات اور مشاہدات کی صورت میں انہیں واک تھرو کرائیں۔ایک جامع گائیڈڈ  ٹور دیں تاکہ معاملات سمجھنے  میں آسانیا ں ہوں۔ اللہ کی مدد شامل حال رہی اور   ہماری زندگی یا بعد میں کسی کو اسے کتابی صورت دینے کا خیال آیا تو ہمارے مدیران گرامی خود فیصلہ کریں گے کہ اس میں موضوع کی مناسبت سے کن حصوں کو شامل رکھنا درست ہوگا۔

کم عمر دوستوں کے لیے یہ تھوڑا سا منظرنامہ سن نوے کے ابتدائی پانچ برسوں کا۔
زمانہ سوشل میڈیا،یوٹیوب اور اس طرح کی سہولیات کا نہ تھا۔انٹرنیٹ پاکستان میں آتو گیا تھا مگر اس کے حصول کے لیے پاپڑ بیلنا پڑتے تھے۔تجرباتی دور تھا۔ سرکاری پی ٹی سی ایل نے کراچی میں چند ایک اداروں کو ہاٹ میل وغیرہ چلانے کے لیے لائن دے رکھی تھی۔سب سے زیادہ مزہ خالد مردام بے کی ایم آر آئی سی کا ہوتا تھا۔ویب کیم بھی عام نہ تھا۔انٹرنیٹ سیٹ کرانے کے لیے سی پی یو اٹھا کر اس ادارے کے دفتر لے جانا پڑتا تھا۔ایک ٹیم اس میں مختلف طریقوں سے کنکشن سیٹ کرتی تھی انٹرنیٹ کا حصول دشوار تھا۔ گھر میں دو عدد فو نز کی ضرورت ہوتی تھی۔ایک فون سے انٹرنیٹ کا ڈائل اپ پروٹوکول چلا کرتا تھا۔ فونز پر سرکار کی اجارہ داری تھی،لیپ ٹاپ اور سیل فون بھی عام نہ تھے۔

ایک نکاح کی دعوت میں ہم ان سے ملے تھے۔
بارات کی آمد میں غیر معمولی تاخیر ہوگئی تو ایک دعوت میں ہماری عزیزہ ہمارے پاس ایک باپ اور ان کی دو جواں سال چلبلی صاحبزادیوں زارہ اور سارہ کو لے آئیں۔ گفتگو چل پڑی۔باپ نے کسی عیسائی عورت سے شادی کرلی تھی۔دین کا چلن خود کے گھرانے میں پہلے بھی کم تھا۔عیسائی اہلیہ کی وجہ سے اس قلت میں اور اضافہ ہوگیا۔بیٹیاں باپ سے پوچھتی ہوں گی اور باپ انہیں کسی عالم یا مولوی کے سامنے لے جانے سے گریز کرتا تھا۔ وہ ان کے فطری مگر تکلیف دہ سوالات کے حوالہ سے پدرانہ اور شناختی حوالوں سے پریشان تھا۔ہماری شیخ احمد دیدات سے ملاقات کا قصہ بھی اقربا میں عام تھا۔ اسی وجہ سے مرحوم دیدات صاحب Inter-faith شادیوں کے حامی نہ تھے۔وہ کہتے تھے کہ طلاق کی صورت میں بچے ماں کے دین پر چلے جاتے ہیں تو اپنے فا طمہ اور عبداللہ کو بچاؤ۔اپنی اس سوچ کا جواز وہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 221 میں تلاش کرتے تھے۔یہ آیت حکم دیتی ہے کہ” اور مومنو مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔مشرک عورت تم کو خواہ کتنی بھی بھلی لگے اس سے مسلمان لونڈی بہتر ہے۔ اور اسی طرح مشرک مرد سے جب تک وہ ایمان نہ لائے اپنی مسلمان عورتوں کا نکاح نہ کرنا کیوں کہ مشرک مرد سے چاہے تم کو کتنا بھی بھلا لگے مسلمان غلام بہتر ہے۔یہ(مشرک لوگ) تمہیں دوزخ کی جانب بلاتے ہیں۔اس کے برعکس اللہ تم کو بخشش اور جنت کی جانب بلاتا ہے۔وہ اپنے حکم کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔“

بچیوں کے سوالات تین تھے۔ہم کچھ کشادگی سے ذکر کریں تو صرف دو۔ہمیں لگا یہ سوالات نہیں رکاوٹیں ہیں جن کو فہم و ادراک دو ر کردے تو اللہ کی مدد سے دین پر عمل کرنا آسان ہوگا۔اب بھی ممکن ہے ایسے ہی سوالات بے شمار بچوں کے ذہن میں ہوں مگر مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان کا جواب حاصل کرنے میں انہیں دشواری ہوتی ہو۔

سوال پہلا۔جس طرح جیزز کرائسٹ عیسائیوں کے لیے ہیں جس کی وجہ سے ہم پورے دین کو ہی عیسائیت کہتے ہیں، گوتم بدھ کی وجہ  سے بدھ مت کہتے ہیں ،رام ہندؤوں کے لیے بھگوان ہے ،تو اسلام میں محمد (ﷺ) کون ہیں اور خدا کیا ہے۔ وہ ان تین چار بڑے مذاہب کے خدا کے تصور سے کیوں کر مختلف ہے؟۔انہیں ایسا جواب درکار تھا جس کو وہ آسانی سے تسلیم کرسکیں اور جو ان کے جدید اور باغیانہ دماغ کو یقین کا سہارا مہیا کرسکے۔ہم نے کہا۔۔
جو بھی شخص اسلام کی طرف رجوع کرے۔اس کے لیے شہادت کافی ہوتی ہے۔ کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

پنچاوتی ناسک ،مہاراشٹرا جہاں سیتااور رام نے بن باس لیا
آگ کے ذریعے بے گناہی کا ثبوت
سیتا کی آتش خارامی اور کنول

رجوع کیوں تبدیلی دین کیوں نہیں۔؟

یہ ایک ضمنی سوال تھا جو ان کی جانب سے اٹھایا گیا۔

ہم رجوع کا لفظ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک ہر بچہ دین فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور وہ پھر کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔Convert یا تبدیلی دین کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جو کسی اور مذہب کی پیروی کرتا ہو اور اسے چھوڑ کر ایک اور نئے دین کی جانب بڑھے۔ ہمارے نبی محترم محمدﷺ فرماتے تھے کہ ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی سرشت میں رب کی بندگی ہے۔وہ اپنے والدین کی وجہ سے عیسائی یا یہودی یا کثرت خداوندگان کا عقیدہ اپنالیتا ہے۔اللہ ہدایت دے اور وہ دین اسلام کی طرف لوٹے تو اسے رجوع یا Reversion کہنا مناسب لگتا ہے۔اس دلیل کو دھیان میں رکھیں کیوں کہ اسلام دین کو Accident of Birth نہیں مانتا۔ دین اسلام کے نزدیک ایک پیدائشی حادثہ ہرگز نہیں۔ اللہ کو یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ ہماری بندگی ہمارے بڑوں کا فیصلہ تھا۔ سزا وار وہ ہیں ہم نہیں۔اسلام مذہب کو باشعور انتخاب یعنی ( Conscious Choice ) مانتا ہے۔
سو محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔آپ خاتم الانبیا ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی اور کتاب آئے گی نہ کوئی دوسرا پیغمبر یا رسول ،تو۔۔

Quran is the last testament revealed through the last Prophet.

ہم اس سوچ میں غلطاں تھے کہ پہلے ہم اللہ کے تصورپر بات کریں یا مختلف مذہبی ہستیوں جیسے عیسی ابن مریم، بدھا اور رام کے حوالے سے بات کریں۔؟ انہوں نے یہ پوچھ کر خود ہی ہماری مشکل آسان کردی کہ اللہ کون ہے وہ رام، کرائسٹ اور گوتم بدھ سے کیوں مختلف ہے۔ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ بائیبل جب اللہ کی کتاب ہے تو اسلام اور عیسائیت میں کیا بنیادی فرق ہے۔؟

ہم نے عرض کیا کہ رام اور بدھا کے بارے میں آپ جو بھی سوچیں صرف اس بات کا فوکس رہے کہ وہ اوّل تا آخر انسان تھے۔انسان کے تمام جسمانی خصائل جو رحم مادر سے روح کے جسم کا ساتھ چھوڑنے تک ہوتے ہیں وہ ان دونوں برگزیدہ ہستیوں پر بھی گزرے۔یہ ممکن نہیں کہ ایک انسان چاہے وہ کتنا ہی بلند حیثیت والا کیوں نہ ہو،اپنا اسٹیٹس خود سے اتنا بلند   کرلے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے روپ میں ڈھال لے۔ انسان جو Matter (مادہ) ہے وہ خود ہی ایک دن اپنے آپ کو لافانیNon-Matter میں بدل کر اپنے جیسے انسانون کی بندگی کا شرف حاصل کر لے۔سیدنا عیسیؑ پر ہم بعد   میں بات کریں گے۔یوں رام اور بدھا کیسے خود سے دنیا میں ہر وقت ہر انسان کے معاملات کو حل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے، اس کو ماننا دماغ کے لیے بہت مشکل ہے۔ اس حساب سے یہ تینوں مقتدر ہستیاں اچھائی کے اعلی ترین معیار پر پوری اترنے کے باوجود Omni- Present , (ہر جگہ موجود) اورOmni-Scient(ہر بات سے واقف) نہیں کہی جاسکتی ہیں۔

رام بے چارے تو اگر رامائن کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو اتنے مجبور تھے کہ والد دسارتھ کی تیسری بیوی (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت ہے) ان کی سوتیلی والدہ کے کئی جو چکوال کی تھیں انہوں نے انہیں تخت سے محروم کرکے اپنے بیٹے بھارت کو بادشاہ بنانے کے لیے سیتا ماں سمیت بن باس پر بھجوادیا تو ان کی بیوی سری لنکا کا بادشاہ راون اٹھا کر لے گیا اور انہیں بندروں کے خدا ہنومان کی مدد سے وہ ستی ساوتری بیوی، وہ پیکر عفت و پاکیزگی چودہ سال بعد واپس ملی۔اس بے چاری کو اپنی عفت و وفاداری ثابت کرنے کے لیے آگ پر چلنا پڑا تھا۔ایشیا اور یوروپ اور افریقہ میں یہ خیال بہت عام تھا اور آپ نے ہندی اردو اور مقامی زبانوں میں محاورہ بھی سنا ہوگا کہ”سچ کو آنچ نہیں“ تو جس کسی پر الزام لگ جاتا تھا اسے بے گناہی ثابت کرنے کے لیے آگ پر چلنا پڑتا تھا۔سیتا جب اس اگنی پرکھشایعنی آگ پر بہ رضا و رغبت چلیں تو رامائین میں لکھا ہے کہ وہ جہاں قدم رکھتی تھیں وہاں کنول اگ جاتے تھے۔

زارہ اور سارہ نے یہ سنا تو کہنے لگیں Now this is incredibly outrageous(یہ تو بالکل ہی ناقابل یقین حد تک مضحکہ خیز ہے)
چلیں ایسا کریں کہ آپ ہمیں اسلامی کانسپیٹ بتائیں۔مسلمانوں کا اللہ کیسا ہے وہ سمجھائیں۔ انہیں اس حوالے سے جو ہم نے بتایا وہ آپ کو اگلی قسط میں بتائیں گے۔ اسلام میں سیدنا عیسی اور خدا کا تصور کیا ہے۔
آپ اس پورے بیانیے کو محض Filler نہ سمجھیں۔مرحوم شیخ احمد دیدات صاحب سے ہم نے یہ بات سیکھی کہ جب اسلام اور قرآن کے حوالے سے آپ اس بات پر قائل نہ ہوں کہ عقائد کی دنیا کے بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل  سٹور میں آپ کا عقیدہ زندگی کی Best -Buy ہے۔آپ کو اپنا عقیدہ اور اپنا قرآن الکریم دوسروں تک پہنچانے میں سواد نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بائیبل کو اس حد تک جان چکے تھے کہ شاید پوپ کو بھی بائیبل اتنی نہیں آتی تھی جتنی مرحوم شیخ احمد دیدات کو آتی تھی۔آج کا یہ مکالمہ آپ کو اچھا لگتا ہے تو جان لیں کہ آپ کو اپنے بزرگوں کا ہندو دھرم سے جان چھڑانا ایک عقلمندی کا فیصلہ لگے گا۔

اس مکالمے کے بہت بعد میں ہم نے نیویارک کی ایک محفل میں کامیا پٹیل سے سنا کہ رام سے سیتا کا اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کا مطالبہ تو اخلاقیات کا دوہرا اور منافقانہ معیار ہے رام خود بھی تو چودہ سال Single -Manتھے۔)Absent Spouse غَیبت ازدواج) کا کلیہ تو دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔رام کی عصمت پر تو سیتا کی جانب سے کوئی سوال نہ اٹھا۔
ایک تو بے چاری سیتا کو ایودھیا یوپی سے سوتیلی ساس کے کہنے پر اٹھاکر ساڑھے آٹھ سو میل دور پنچاوتی۔(موجودہ ناسک۔ مہاراشٹرا) کے جنگل میں لے آئے۔وہاں بھی اپنی بیوی سیتا کو راون کے ہاتھوں اغوا ہونے سے بچانے میں ناکام رہے تھے۔جدید دور کی ہندو عورت،رام کو ایسا دقیانوسی مرد مانتی ہے جو ہیرو کم اور شکی مزاج دیہاتی زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنی بیوی کی واپس آنے پر اس کی عزت نہیں کرتا اور اسے گھر سے اس وقت نکال دیتا ہے جب وہ ماں بننے والی ہوتی ہے۔کامیا کا کہنا تھا خدا اورانسان کی اس ٹیبل ٹینس میں مجھے تو رام جی کو ایک ڈھنگ کا مرد ماننا بھی مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ میں اسے بھگوان مانوں۔اس کے آگے ماتھا ٹیکوں اور اس پر چڑھاوئے چڑھاؤں۔

ہم اگلی قسط میں تین بڑے مذاہب ہندو ازم، عیسائیت اور اسلام کے تصور خدا پر بات کریں گے یاد رکھیں کسی دین کی عظمت اور فطرت انسانی کے لیے قابل قبول ہونے کا اندازہ اس کے ہاں مروج اللہ کے تصور ذات سے وابستہ ہے۔قرآن کس طرح ہمیں وہ تصور ذات الہی فراہم کرتا ہے جو مغرب کے مشہور ترین افراد بشمول پوپ پال ثانی کے دنیا کا بہترین تصور الہی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *