ٹرولنگ کی جدلیات۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ٹرولنگ ابتداء میں دوسروں کو محض شہہ دینے، دہکانے اور غصہ دلانے والی ہی ایک شریر بچگانہ حرکت سمجھی جاتی تھی لیکن نیوز اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جدید استعمال کے ساتھ اس کی نوعیت، استعمال اور اثرات میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ہم آج تفریحی، سیاسی، جنگی اور انفرادی/اجتماعی تسلط کے حصول کیلئے کی جانے والی مربوط ٹرولنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ آج کی دنیا میں ساکپپٹ آرمی سے لیس ہے جو پوری ٹرولرز کی ٹیم پہ مشتمل ہوتی ہے جنہیں حکومتیں اور ریاستیں رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر چینی حکومت کی ففٹی سینٹ پارٹی ہر سال 440 ملین حکومت نواز سوشل میڈیا پوسٹس لگاتی ہے۔ حتی کہ سرکاری ملازمین کو قومی تعطیلات کے دوران سرکار کی حامی پوسٹیں لگانے کے لئے ادائیگی کی جاتی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر سیاسی مظاہروں سے بچا جاسکے۔ یہاں تک کہ چینی حکومت کی سرکاری امداد سے چلنے والے گلوبل ٹائمز میں سنسرشپ اور ففٹی سینٹ پارٹی کے ٹرولز کے دفاع میں اداریہ چلاتا رہا۔ اسی طرح سعودی حکومت نے جمال خشوگی کے خلاف ٹوئٹر پہ اکاؤنٹس کی ایک آرمی تیار کی۔ اسی طرح دھوکے باز ٹرولر میڈیا پہ جعلی معلومات کے ذریعے سٹاک ایکسچینج میں اپنے شیئرز کی ویلیو بڑھاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں جنکی وجہ سے بہت سے سرمایہ کار اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
آج کے وقت میں سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک بہت بڑا حصہ بن رہا ہے یا بن چکا ہے۔ یہ ہر معاملے میں اور ہر جگہ موجود ہے۔ ہم سب اسے استعمال کرتے ہیں یا کرنے پہ مجبور ہیں۔ ہمارے قریبی اسے استعمال کرتے ہیں، اشتہاری ادارے اسے استعمال کرتے ہیں، مشہور شخصیات، برانڈز وغیرہ بھی سوشل میڈیا سے جڑے ہوتے ہیں۔ دنیا کی آبادی 7۔3 بلین ہے اور 3۔7 ارب انٹرنیٹ صارفین کے اکاؤنٹس کی تعداد موجود ہے۔ بلاشبہ ہر قسم کے صارفین کو استعمال کے دوران کسی نہ کسی طرح کے سوشل میڈیا ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شر پھیلانے کے مقصد سے متنازعہ بیانات دے کر سوشل میڈیا سائٹوں پر تنازعات پیدا کرنے والے ٹرولرز انٹرنیٹ کے تقریباً ہر گوشے میں دیکھے جاسکتے ہیں جو افراد، کاروباری اداروں اور سوشل میڈیا کے دیگر پہلوؤں کی عمومی بہبود کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر تنازعہ پیدا کرنا یا کسی آن لائن کمیونٹی میں اشتعال انگیز و غیر ضروری پوسٹ کرکے لوگوں کو پریشان کرنا ٹرولنگ کہلاتا ہے۔ بنیادی طور پر ایک سوشل میڈیا ٹرولر وہ ہوتا ہے جو جان بوجھ کر دوسرے صارفین کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی بھی متحرک سوشل میڈیا صارف ہے تو کسی نہ کسی طریقے سے ٹرولنگ کا سامنا کرتا ہے۔ راقم سوشل میڈیا استعمال کے عروج کے دوران بہت ساری ٹرولنگ ہوتے دیکھی ہے۔
کسی رجعت پسند یا لبرل فیس بک پیج پر جا کر لفظی باکسنگ کے میچ کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دلائل کی سپلائی کبھی ختم نہیں ہو گی جبکہ اکثر الفاظ دوسروں کو مشتعل کرنے والے مواد کا روپ دھارے ہوتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی بحث کرتا ہے وہ ٹرول نہیں کر رہا ہے لیکن اگر کوئی شخص جو کسی شخص کی ماں کے بارے میں تبصرہ کرتا ہے وہ ٹرولنگ کر رہا ہے۔ کوئی ایسا شخص جو گفتگو میں موضوع سے ہٹ کر کوئی بات لائے تاکہ اس شخص کو مشتعل کردے تو یہ ٹرولنگ ہے۔ بہر حال ٹرولنگ کی پہچان کرنا مشکل نہیں ہے۔ نوجوانوں میں آن لائن شناخت بنانے کا شوق انہیں ٹرولنگ کی طرف لیجاتا ہے۔ مثلاً فیس بک پہ ایک لڑکے کو ایک لڑکی نے دوستی کے لیے انکار کر دیا تو اب وہ لڑکا اسکی پوسٹ پہ جاکر بلاوجہ اور جاہلانہ کمنٹ کرتا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے رازوں کو افشا کر کے طنز ، رشک اور خیانت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جو ٹرولنگ کے ذمرے میں آتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ٹرولر ہمیشہ کم عمر ہی ہو گا، ہم بہت سی جگہوں پر عمررسیدہ لوگوں کو ٹرولنگ کرتے دیکھا ہے۔ زیادہ تر ٹرولنگ جرم کے ذمرے میں نہیں آتی لیکن کچھ نتائج جرائم کی صورت میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان اِس کے آغاز سے ہی ٹرولرز کا سامنا کر رہے ہے جنکی کی بہت سی مختلف قسمیں ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں ایسے ٹرالز ہیں جو صرف اور صرف شوقیہ آن لائن بدگمانی پھیلا کر ‘مزہ’ لیتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہیں کوئی ٹرولر نفرت انگیز رجحان کا اظہار کرتے ہیں، کچھ درست گرائمر کے نام پہ دوسروں کو زچ کرتے ہیں، کہیں کوئی ٹرولر کسی فورم یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جان بوجھ کر ماحول خراب کر رہے تھے۔ اکثر ٹرولز کے لیے ٹرولنگ ایک تفریح کے سوا کچھ نہیں۔ یہ لوگ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر یا پریشانی میں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کی اکثریت منفی رجحان کے حامل ہوتی ہے۔ یہ لوگ لازمی طور پر سیریل کلرز یا جنسی انحراف جیسی نفسیات کا عملی مظاہرہ نہیں کرتے لیکن بلاشبہ دوسروں کے دکھوں کا سبب بننے یا محض مشاہدہ کرنے میں کچھ جذباتی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بین ریڈفورڈ کی کتاب “بیڈ کلونز” (یعنی بُرے مسخرے) میں تاریخ اور جدید دور کے مسخروں کے رجحان بارے میں بحث کی ہے۔ اُس کے مطابق مسخرے انٹرنیٹ ٹرولر میں بدل چکے ہیں۔ جیسے قدیم روایتی مسخرے ایک مخصوص لباس اور میک اپ کے پیچھے اپنی اصل پہچان چھپاتے تھے ویسے ہی جدید دور کے ٹرولرز کی اکثریت جعلی اکاؤنٹ کی چھپ کر دوسرے انٹرنیٹ استعمال کنندگان کا استحصال کرتی ہے۔ یہ لوگ سائیکوپیتھی اور میکیا ویلین ازم کے پیروکار ہیں جنہیں دوسرے کو درد میں مبتلا کرنے سے خوشی ہوتی ہے۔ پریشان کرنے یا نقصان پہنچانے کی قابلیت انہیں طاقت کا احساس دلاتی ہے۔
میری اپنی رائے میں کسی شخص کا مزاج اسے ٹرولنگ کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے منفی مزاج میں مبتلا لوگوں میں ٹرولنگ شروع کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ انسانی مزاج کے ساتھ ساتھ اسکی آب و ہوا، ہفتے کے دن اور دن کے اوقات بھی ٹرولنگ کا تعین کرتے ہیں مثلاً پوری دنیا میں رات کے اوقات میں ٹرولنگ سب سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ صبح کے اوقات میں کم از کم ہوتی ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر پیر کے دن سب سے زیادہ ٹرولنگ کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راقم ٹرولر میں ٹرولنگ کی انفرادی وجوہات پرکھنے کی بجائے پوسٹ کے مزاج اور اُس کے مندرجات کے سیاق و سباق کے زریعے اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ٹرولنگ کے اسباب کیا ہیں کیونکہ ٹرولنگ کا تعین ٹرولر کے ماحول کی وجہ سے نہ کہ کسی موروثی خصلت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
آن لائن کلچر میں ابھرنے والی سب سے مقبول بات یہ ہ
تھی کہ ٹرولرز کو اہمیت ہی نہ دی جائے۔ یعنی کسی بھی وقت جب کوئی ٹرولر کسی آن لائن صورتحال میں شرانگیزی پھیلاتا ہے تو اسکو نظرانداز کرنے کی روایتی نصیحت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ جواب دینے اور بحث کرنے سے آپ کی پوسٹ پٹڑی سے اتر سکتی ہے۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو اعتراض اور اختلاف کے پیچھے پیچھے ٹرول کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس بنیاد پر اگر آپ کسی ٹرولر سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ نظرانداز ہو کر وہ لامحالہ بور ہوجائیں گے یا شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ واہ جناب آپ نے اچھا کھیل کھیلا، میں معافی مانگتا ہوں، چلیں اپنے اپنے راستے ناپتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا ہے بلکہ ٹرولنگ کرنے والے مزید رد عمل اور شدت کے ساتھ دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ اگر ان کو کنفرم ہو کہ ان کو نظرانداز کیا جارہا ہے تو وہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں بہت سارے معاملات ہیں جو ٹرول کو نظرانداز ہونے کے احساس میں مبتلا کر کے مزید اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتے ہیں۔ آن لائن ٹرولنگ لامحدود اور پیچیدہ ہے لہذا اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی آسان راہیں بھی نہیں ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply