مولوی صاحبان سے سوالات

مولوی صاحبان جواب دیجئے……. رانا تنویر عالمگیر

آج مولوی صاحبان کو علماء کا مقام اور حقوق تو اچهے سے یاد ہیں مگر اس اہم ترین منصب کی ذمہ داریوں سے بلکل بےخبر نظر آتے ہیں. انبیاء کا وارث ہونے کے لیے جدوجہد بهی انبیاء جیسی ہی درکار ہے.. اگر مثالیں عمر بن خطاب رض اور عمر بن عبدالعزیز رح کی ہیں تو ان جیسا بننے کی کوشش بهی نظر آنی چاہیے.. پهر لوگوں پہ آپ کی باتوں کا اثر بهی ہوگا اور قوم کی تقدیر بهی بدلے گی….. ہمارے کچه سوال ہیں… ہمیں جواب چاہیں.. یاد رہے کہ آپ کے جواب نہ دینے، سوال کرنے والوں کا مزاق بنانے اور خودساختہ جواب دینے، جس کا سوال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کیوجہ سے سے نوجوان نسل کا ایک بڑا طبقہ مزہب سے باغی ہوچکا ہے… اور ہورہا ہے….. امید کرتا ہوں کہ آپ انہیں قابل جواب سمجهیں گے اور نیت پہ شک بهی نہیں کریں گے… بغض، حسد، تعصب بهی نہیں ڈهونڈهیں گے……

1.معاشرے کے ہر فرد پر سوال اٹهایا جاسکتا ہے تو مولوی پر کیوں نہیں؟ اگر اٹهایا جا سکتا ہے تو سوال کرنے پر اکثر مولوی صاحبان اشتعال میں کیوں آجاتے ہیں؟
2.کیا ایک عام فرد اور عالم دین کی ذمہ داری برابر ہے؟ اگر عالم اپنی ذمہ داری میں غفلت برتے تو اسے تنبیہہ کیوں نہیں کی جاسکتی؟
3.کیا ایک عالم دین کو ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ آج کے مولوی ہیں؟
4.دین فروشی سے کیا مراد ہے؟ کیا قیمت طے کرکے تقریر کرنا بهی دین فروشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر یہ دین فروشی نہیں ہے تو قرآن و حدیث میں جس دین فروشی کا ذکر ہے وہ کیسے دین بیچیں گے؟
5.فقط پانچ نمازیں وقت مقررہ پر پڑهانا اور سارا دن سکون کرنا ہی مومن کی علامات ہیں؟
6.امام اعظم ابوحنیفہ رح، امام شافعی رح، امام احمد بن حنبل رح اور امام مالک رح کو کن کن علوم پر دسترس حاصل تهی؟ وہ کونسی کتابیں تهیں جن کو پڑه کر وہ عالم بنے تهے؟ اب وہ کتابیں کہاں ہیں؟ اگر وہ یہی کتابیں ہیں جو آج مدارس میں پڑهائی جاتی ہیں تو آج ایسا عالم نظر کیوں نہیں آتا جس پر عالم اسلام کو فخر ہو؟
7.کیا نبی کریم ص اور صحابہ کرام رض بهی یہی ذمہ داریاں سرانجام دیتے تهے جو آج مولوی سرانجام دے رہے ہیں؟ کیا نبی پاک ص اور صحابہ کرام رض صرف پانچ وقت نماز پڑهاتے تهے اور اس کے علاوہ سارا دن آرام کرتے تهے؟ وہ کون کون سے اعمال ہیں جو نبی پاک ص اور صحابہ رض تو ادا کرتے تهے مگر مولوی نہیں کررہے اور کیوں؟
8.مدارس میں یہ کتابیں کب سے پڑهائی جارہی ہیں اور کب تک پڑهائی جاتی رہیں ؟ کیا نبی کریم ص کے دور میں بهی یہی کتابیں پڑهائی جاتی تهیں؟ اگر نہیں تو آج وقت کے حساب سے ان میں ترمیم کیوں نہیں ہوسکتی؟
9.مدارس کب سے زکوت خیرات صدقات پہ چل رہے ہیں اور کب تک چلتے رہیں گے؟ مدارس میں پڑهنے والے کتنے فیصد طلباء زکوت کے مستحق ہیں؟ اگر 10 ،20 فیصد طلباء زکوت کے مستحق ہیں بهی تو باقی 80 فیصد طلباء جو زکوت کے پیسوں سے عالم بنتے ہیں، ان کے لیے کیا حکم ہے؟
10.ابوبکر رض و عمر رض سے جب ایک عام آدمی مجمع میں کهڑا ہوکر سوال پوچه سکتا ہے اور حساب مانگ سکتا ہے تو مولوی سے کیوں نہیں؟
11.مسلمانوں کی اس حالت کا مولوی کس حد تک ذمہ دار ہے؟
12.پاکستان کے دیہات کی مسجدوں کے قریبا 50 فیصد مولوی صاحبان نے مدرسے کی مروجہ درس نظامی کی ڈگری بهی حاصل نہیں کی ہوئی اور وہ اردو بهی ٹهیک سے لکه پڑه اور بول نہیں سکتے، وہ لوگ امامت کے اہل ہیں؟ اور جس قوم کے امام ایسے ہوں اس کی حالت پاکستان سے مختلف ہوسکتی ہے؟
13.عمر پہ جب اعتراض ہوا کہ ایک چادر سے آپ کا سوٹ نہیں بن سکتا اور آپ نے دو چادریں رکهی ہیں تو آپ نے بیٹے نے فورا غلط فہمی دور کردی اور کہا کہ میں نے اپنے والد کو اپنی چادر دی ہے… آج وہ مولوی صاحبان جن کا بظاہر کوئی بزنس بهی نہیں ہے، انتہائی قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، شہر کی انتہائی مہنگی ہاوسنگ سکیموں میں رہائش رکهے ہوئے ہیں اور زندگی کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہورہے ہیں، کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ عوام کی غلط فہمی دور کریں اور بتائیں کہ یہ سب کیسے اور کہاں سے آیا اور آرہا ہے؟
14.اگر سائنس غیر اسلامی ہے تو کیا ہمیں سائنسی ایجادات کے استعمال سے گریز نہیں کرنا چاہیے…؟ اگر ایجادات سے فائدہ اٹهانا جائز ہے تو ہمیں اپنی قوم اور خصوصا مدارس کے بچوں کو بهی عصری علوم نہیں پڑهانے چاہئیں تاکہ وہ بهی باوقار شہری بن سکیں اور مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد صرف مسجد اور مدرسے کیطرف ہی نہ دیکهیں؟؟؟
15.فقہ کے امام اربعہ فقہی مذہب میں شدید اختلاف کے باوجود مسلم امہ میں قدر کی نگاہ سے دیکهے جاتے ہیں اور ان کی زندگی سے بهی واقعات ملتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا بےحد احترام کرتے تهے مگر آج کے مولوی صاحبان ذرا ذرا سی بات پہ ایک دوسرے کے خلاف کفر و شرک کے فتوے جاری کردیتے ہیں اور انتہائی عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیوں؟
16.اسلام میں زکوت کا نظام کیوں رائج کیا گیا؟ کیا مساجد کو زکوت دینا زکوت کے مصارفین کی حق تلفی نہیں؟ کیا آپ نہیں سمجهتے کہ اگر زکوت کی منصفانہ تقسیم ہو تو بےشمار لوگ خودکشیوں اور دیگر جرائم سے بچ سکتے ہیں؟
17.کیا فرقہ پرستی کا خاتمہ ممکن ہے؟ ہاں تو کیسے؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ نہیں کا ذمہ دار کون ہے؟
18.کیا ہمارے معاشرے میں موجود اسلام کا تصور ،اسلام کی شان و شوکت بحال کرسکتا ہے؟
19.آپ ہمارے معاشرے میں کسی بهی اوسط مسلمان سے پوچه لیں کہ اسلام کیا ہے، اس کے نزدیک مخصوص حلیہ و شناخت اور نماز و حج وغیرہ ہی کل اسلام ہے… ایک ایسا دین جو قیامت تک کے لیے تها اور ہر زمانے کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکهتا تها، سیاست و معیشت و سائنس سمیت ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا تها.. بہترین ضابطہء حیات تها، اسے ہائی جیک کرکے اسلام کا موجودہ تصور پیش کرنے اور لوگوں کی ذہن سازی میں کس کا ہاته ہے؟
20.مولوی صاحبان کی اکثریت اپنی تقریروں میں سازش کا لفظ استعمال کرتی ہے کہ یہودی نے اسلام کے خلاف سازش کی اور کررہے ہیں.. عیسائی نے کی، ہندو نے کی،سوال یہ ہے کہ جب وہ سازش کررہے تهے، اس وقت ہم کیا کررہے تهے؟ اور آج ہم کیا کررہے ہیں؟ اپنی لاپروائی و نالائقی کو دوش دینے کی بجائے ہم دوسروں کو برا بهلا کیوں کہتے ہیں؟ جب ہمیں معلوم ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور کررہے ہیں تو پهر ہم ایک کیوں نہیں ہوجاتے؟ کیا ہم اتنے نااہل ہیں کہ سازش کا علم ہونے کے باوجود اس کا توڑ نہیں کرسکتے؟
21.ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بهی ہے کہ عام جاہل لوگ ملکر اپنے لیے عالم کا انتخاب کرتے ہیں. اسے امام کہا جاتا ہے اور تنخواہ وغیرہ بهی وہ لوگ اپنی جیب سے دیتے ہیں. اب اس امام کی ڈیوتی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خوش رکهے. ذرا سی کوتاہی کیصورت میں اس کی چهٹی کروا دی جاتی ہے. اب سوال یہ ہے کہ جس شخص کے سر پر ہروقت نوکری سے برخاست ہونے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، وہ کیا دین سکهائے گا؟ بڑے اور نامور علماء نے آج تک اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹهایا؟ اور پهر جب بهی کوئی سوال کرو تو بیچارے مولوی کی مثال دیکر چپ کروا دیا جاتا ہے. اس کی بیچارگی کا ذمہ دار کون ہے؟ مختلف مسائل پر لاکهوں لوگوں کو اکٹها کرکے حکومتوں سے اپنی بات منوانے والون نے آج تک ان مسائل پر بات کیوں نہیں کی؟
22.کسی کی طرف سے بهی سوال پوچهے جانے پر اکثر تو اس کا مذاق بنایا جاتا ہے کہ طہارت کے مسائل آتے نہیں اور چلے ہو دین پر بات کرنے، نماز کی شرائط بتاو، جنازہ کی دعا سناو، یا پهر سوال کے جواب میں نصیحت اور سوال گندم، جواب چنا… کیا اس قسم کا رویہ اور سوالات سے بهاگنا ایک عالم کے شایان شان ہے؟ اور دوسری بات… سوال کرنے والوں پر اکثر مولوی صاحبان جلسوں میں طنز کرتے نظر آتے ہیں کہ مولوی نہ ہوتا تو تیرے باپ کا نکاح کون پڑهاتا؟ جنازہ کون پڑهاتا ہے؟ پیدائش کے وقت اذان کون دیتا ہے؟ یہی باتیں سوال کرنے پر مولوی صاحبان کے معتقدین کرتے ہیں اور ہرجگہ کرتے ہیں. کیا یہ صریحا جہالت نہیں؟ کیا ایک عالم دین کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح و جنازہ پڑهائے؟ اور کسی کو فقط اس لیے عالم اور انبیاء کا وارث مان لیا جائے یا سوال سے بالاتر سمجه لیا جائے کہ وہ نکاح و جنازہ وغیرہ پڑهاتا ہے؟ ابوبکر رض پہ اعتراض ہوتا ہے تو جواب دیتے ہیں، عمر رض پہ اعتراض ہوتا ہے تو جواب دیتے ہیں، مولوی صاحب سے سوال ہوتا ہے تو گالی… ایسا کیوں ہے؟؟؟؟
امید کرتا ہوں کہ مولوی صاحبان نظرکرم فرمائیں گے… جزاک اللہ خیرا

Avatar
رانا تنویر عالمگیر
سوال ہونا چاہیے.... تب تک، جب تک لوگ خود کو سوال سے بالاتر سمجهنا نہیں چهوڑ دیتے....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *