زیرو پوائنٹ پہ کھڑی ایک ذہنی مریض عورت۔۔عطیہ قیوم

میں فیمینسٹ تو نہیں ہوں لیکن اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اگر آپ مجھے فیمینسٹ کہیں گے تو مجھے برا بھی نہیں لگے گا۔

عورت کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ اگر وہ بیٹی ہے تو رحمت ہے، بیوی ہے تو شوہر کے نصف ایمان کی وارث اور ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنّت ہے۔ قبل از اسلام عورت کو ایک بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں سے نفرت کی جاتی تھی۔ اور معصوم بچیوں کو جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا تھا، زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

پر افسوس آج کے عالِم فاضل، شعور یافتہ لوگ اُسی زمانہِ جاہلیت سے مماثلت رکھتے ہیں۔ کیونکہ آج بھی عورت کو صرف گھر کے کام کاج یا مار پیٹ یا پھر اپنے دل بھلانے کا کھلونا سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ وہ خود ہی عورتوں کو خود سے کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا بچا اٹھ کر گھر کی عورتوں کو یا بڑی بہنوں کو تہذیب سکھانے لگ جاتا ہے۔ حقیقتاً جس کا اپنا فون لڑکیوں کی برہنہ تصاویر یا پھر ویڈیوز سے بھرا ہوتا ہے۔ اور جو خوشی خوشی ایک دوسرے کو بھیجنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور یہی “باشعور” و “باغیرت” اٹھ کر گھر میں ہمیں تہذیب سکھاتے ہیں۔

میں نے دیکھا ہے، کہ ہمارے معاشرے کی کند ذہنیت کی وجہ سے اگر کسی لڑکی کو بولا جائے کے تم میرا بیٹا ہو یا انگریزی زبان کے لفظ “Bro” سے بلایا جائے تو وہ بہت خوش ہوتی ہے کہ اسے ایک لڑکا سمجھا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں؟ کیا بیٹی ہو کر اس نے کوئی گناہ کیا ہے۔ یا پھر بیٹیاں اہمیت کی حامل نہیں ہیں؟

میں اپنی ہی بات کروں کہ جب میرے ابو جان جنھوں نے مجھے میری خوائش سے پہلے ہر چیز مہیا کی، ان سے مجھے کوئی شکایت تو نہیں ہے لیکن جب وہ مجھے عطیہ کی جگہ عطااللہ کہہ کر بلاتے ہیں تو میں خوشی سے جھوم جاتی ہوں کہ انھوں نے مجھے بیٹا کہا ہے۔ شاید واقعی بیٹی ہونا گناہ ہے۔ اسی لیے ہماری اپنی ذہنیت ایسی ہوگئی ہے یا کر دی گئی ہے۔

جب کہ لڑکیوں کو اپنی زندگی میں ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسی باتوں کا اور ایسے لوگوں کا سامنا ہوتا ہے جو اپنی گندی نظروں سے ہی اپنا تعارف کروا دیتے ہیں۔ اور جن کو دیکھ کر دل تو کرتا ہے کہ ان کا منہ نوچ لیا جائے۔ لیکن صبر کر کے وہاں سے گزر جانا پڑتا ہے۔

اگر حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ کتنی ہی بچیوں کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور ایسے حالات میں ان بچییوں کی مائیں تک انصاف لینے کے بجاۓ پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ صرف ایک جملے کی خاطر کہ لوگ کیا کہیں گے۔ کیونکہ یہ عزت کا سوال ہوتا ہے۔ اور لڑکی کی عزت ایک بار چلی جاۓ تو ہمارے معاشرے کے مطابق اسکی غلطی نہ ہونے کے باوجود دوبارہ نہیں آتی۔

باتوں باتوں میں یاد آیا کہ۔ ” زیرو پوانٹ پر کھڑی عورت” جو ڈاکٹر نوال اسعدوی کا تحریر کردہ ناول ہے، یہ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔ جس میں عورت کو اپنے وجود کو سنبھالنے یا یوں کہہ لیں کے اپنے آپ کو ایک خودار عورت ثابت کرنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ سب بتایا اور دکھایا گیا ہے۔

اس کہانی میں جو اہم کردار ہے، وہ فردوس نامی عورت کا ہے۔ فردوس کی کہانی اس کی اپنی زبانی بیان کی گئی ہے۔ فردوس کا ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق ہے۔ اور اس گھر میں عورت کو خاندانی اعتبار سے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔ اس کے باپ کے ظلم و ستم اس پر کافی نہیں ہوتے کہ زندگی اسے مزید تلخییوں کا سامنا کرواتی ہے۔ اس کے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے چچا جو نام کے بہت مذہبی انسان تھے، فردوس کا بہت خیال رکھتے تھے وہ اس کو اپنے ساتھ شہر اپنے گھر لے گئے، جہاں وہ اکیلے رہتے تھے۔ ایک دن اچانک ان کا ایمان اس طرح بہک گیا کہ وہ معصوم بچی اس معتبر شخص کی ہوس کا شکار ہوگئی۔ جسے معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لڑکیاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔

اس کے کچھ عرصے بعد چچا نے شادی کر لی اور ان کی بیوی محترمہ کو فردوس کا وہاں رہنا بالکل اچھا نہیں لگا تو انھوں نے فردوس کو بورڈنگ اسکول میں داخلہ دلوا دیا۔ فردوس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ فارغ وقت میں بھی کتابیں ہی پڑھا کرتی تھی۔ جب اس کی سیکنڈری کی پڑھائی مکمل ہوئی، تو اُس کے چچا اُسے اپنے ساتھ دوبارہ گھر لے آئے۔ پھر چچی کا وہی مسئلہ کہ انھیں فردوس کا وہاں رہنا برداشت نہیں تھا۔ تو انھوں نے فردوس کی شادی کرانے کا مشورہ دیا۔ اور فردوس کی شادی ایک 60 سالہ بوڑھے شخص سے کروا دی گئی اس کی مرضی کے بغیر۔ وہ بھی آئے دن فردوس کو مارتا رہتا۔ تب فردوس اپنی جان بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگ نکلی اور دربدر گھومتی رہی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اُس دلدل سے نکل کر کسی اور دلدل میں قدم بڑھا رہی ہے۔

فردوس بہت سے درندوں کی ہوس کا شکار ہوئی۔ اور جب کسی ایک مرد نے اس کے سامنے پیسے بڑھائے تو وہ حیران ہوئی اور اسے معلوم ہوا کہ اس کی کوئی قیمت ہے۔ تب اس کے اطراف میں محدود اور نیچ سوچ والے مرد حضرات نے اسے یہ کاروبار کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی سوچ یہیں تک محدود تھی کہ وہ ایک نہایت کمزور تخلیق ہے۔ یوں وہ ساری زندگی انھی مردوں کی خاطر قربانی کا بکرا بنتی رہی۔

مگر کہانی کے اختتام پر جب اس نے تنگ آتے ہوئے مضبوطی سے کام لے کر ایک مرد کا قتل کر دیا تب جا کر اسے احساس ہوا کہ وہ اتنی کمزور تو نہیں تھی۔ جتنا اسے بچپن سے بتایا گیا تھا۔ وہ اپنے آپ پر رشک کرنے لگی۔ اسے اپنے آپ پر فخر محسوس ہونے لگا۔ کیوں کہ وہ جو اپنے اوپر ہوتے ظلم کو کبھی روک نہیں سکتی تھی، اس نے وہ کر دکھایا جو اس کے لیے ناممکن تھا۔ وہ لڑی، وہ اپنے لیے لڑی۔ اور وہ قتل کرے بھی بہت پُرمسرت محسوس کر رہی تھی۔ اسے سکون مل گیا تھا۔ وہ سکون جس سے وہ پوری زندگی ناآشنا رہی۔ قتل کے الزام میں اندھے قانون نے اسے پھانسی کی سزا سنائی۔ اسے اپنی سزا کم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ گویا اس کی زندگی کی تمام حسرتیں پوری ہو چکی تھیں۔ اور وہ اب ابدی نیند سونے کو پوری طرح تیار تھی۔

ایسی کتنی ہی فردوس اپنا آپ کھو بیٹھتی ہیں، ایسے کتنے ہی سانپ انھیں ڈستے ہی چلے جاتے ہیں۔ اور وہ انصاف کے لیے در در بھٹکتی رہتی ہیں۔ پر افسوس ہم انصاف سے نا آشنا لوگ کبھی بھی ان کا درد نہیں سمجھ سکتے۔

میں جانتی ہوں سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے، پر ایسے مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر عورت پر عجیب سا خوف طاری ہو جاتا ہے اور بدن میں کپکپی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر ایک وحشت کا احساس ہوتا ہے۔ ان مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر عورت اپنے دوپٹے سے اپنا آپ ڈھانپنے پر بار بار مجبور ہو جاتی ہے۔

جی ہاں مرد ایک جیسے نہیں ہوتے، پر ایسے مردوں کا کیا کیا جائے جن کی وجہ سے عورت ایک ذہنی مریض بن جاتی ہے!!

زیرو پوائنٹ پہ کھڑی عورت، ایسی ہی ایک ذہنی مریض عورت کی کہانی ہے، جو ہر دردمند انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *