عہدحاضر میں عسکریت پسندی اور اس کے ریاستی حل۔۔عمیر فاروق

اسی طرح کا حل افغانستان میں تلاش کیا گیا۔ داعش یہاں طالبان کا مقابلہ کرنے کی اہل ثابت نہ ہوئی۔ سو پہلی سٹیج پہ امریکہ ، روس، چین اور پاکستان کے خاموش مذاکرات ہوئے جسے میڈیا میں بلیک آؤٹ کیا گیا۔اور دوسری سٹیج پہ براہ راست طالبان اور امریکہ میں معاہدہ طے پایا جو علی الاعلان تھا۔

اب افغان مسئلہ ایک نئی سٹیج لے چکا ہے۔ شمال کی قیادت نے حالات کو بھانپتے ہوئے اپنی علیحدہ پالیسی کا واضح اعلان کردیا ،ایک طرف تو انہوں نے ڈیورنڈلائن کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے کر پاکستان سے اپنے اختلافات ختم کردیے اور دوسری طرف نئے افغان آئین کے وفاقی طرز پہ ہونے کا مطالبہ کردیا۔ بال اب اشرف غنی کی کورٹ میں تھی۔

ادھر علاقے کے تمام ممالک میں واحد انڈیا رہ گیا جو اس حل سے خوش نہیں ،اس کا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں مستقل امن کی صورت میں وہ اس ملک کو پاکستان کے اندر دہشت گردی ایکسپورٹ کرنے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پہ استعمال نہیں کرسکتا نیز افغان مسئلہ حل ہونے کے بعد یہاں سے گزرنے والے ٹریڈروٹس زیادہ تر پاکستان سے ہوکر گزریں گے جس کا براہ راست معاشی فائدہ پاکستان کو ہوگا اور انڈیا اسے بھی اپنے مفاد کے لئے نقصان دہ سمجھتا ہے۔ لیکن اسکا سب سے  بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا براہ راست بارڈر افغانستان سے نہیں ملتا اور بیچ میں پاکستان آجاتا ہے۔

ماضی میں ایک پیشکش روس اور ایران کی طرف سے آئی تھی کہ انڈیا نارتھ ساؤتھ کاریڈور کی بندرگاہ چاہ بہار کو افغانستان تک رسائی کے لئے استعمال کرسکتا ہے اور افغانستان میں روس اور ایران اس کے اتحادی بن جائیں گے بشرطیکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی بجائے روس اور ایران کے گروپ میں شامل ہو لیکن انڈیا نے یہ تجویز رد کردی سو چاہ بہار کو وہ صرف تجارتی مقاصد کے لئے ہی استعمال کرسکتا ہے اپنی سیاسی سٹریٹیجک کھیل کے لئے نہیں۔

ادھر خود افغانستان کے اندر اشرف غنی اس معاہدہ پہ خوش نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں اسے اسکے سیاسی مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ملی، سو اشرف غنی نے مایوس ہوکر انڈیا کا ہاتھ تھام لیا۔ لیکن اس کی کمزوری یہ ہے کہ اسکا سپورٹ بیس جو وہاں کی پشتون آبادی تک محدود ہے، کا بڑا حصہ طالبان کی حمایت کرتا ہے اور پشتون شہری آبادی جس میں اسکی حمایت ممکن تھی وہاں حامد کرزئی اس کو چیلنج پیش کرتا ہے سو اشرف غنی کو اپنا سیاسی مستقبل خطرے میں نظر آرہا ہے۔

سو اس کی اور انڈیا کی فی الحال کوشش اس نکتہ پہ مرکوز ہے کہ کسی طرح اس امن معاہدہ کو سبوتاژ کرکے امریکہ کو اس پہ  عمل درآمد  سے باز رکھا جائے لیکن اب تک انہیں  کامیابی نہیں مل سکی اور آگے ملتی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ اسکی واضح وجہ ہے امریکہ کو یہ سمجھ آچُکی ہے کہ افغانستان میں اس کی فوجی موجودگی کا اسے کوئی فائدہ نہیں ، نہ وہ یہاں رہ کر خود وسط ایشیا تک کوئی کاریڈور بنا سکتا ہے ( بدامنی کی وجہ سے ) اور نہ علاقے کے دیگر ممالک کو افغانستان کو بائی پاس کرکے ٹریڈ روٹس بنانے سے روک سکا سی پیک کے علاوہ ایران روس کے نارتھ ساؤتھ کاریڈور پہ بھی کام جاری ہے امریکہ کے حصے میں صرف فوجی اور افغان حکومت کے اخراجات آتے ہیں جب تک چاہے یہاں پیسہ فضول خرچ کرتا رہے اب وہ بھی تنگ آکر اپنی پالیسی بدل چکا ہے اور طالبان کے تعاون سے یہاں امن لانا چاہتا ہے تاکہ باقیوں کے متوازی اسکا ٹریڈ روٹ بھی وسطی ایشیا تک فعال ہو۔

سو اب ہر طرف سے بال اشرف غنی کی کورٹ میں ہے ،چاہے امریکہ ہو یا طالبان یا شمال والے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے؟ یہ بات تو طے ہے کہ مذاکرات سے مستقل فرار تو کوئی بھی برداشت نہیں کرے گا عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے صبر کا پیمانہ بھی حالیہ لبریز ہوگیا جب انہوں نے براہ راست انڈیا پہ الزام لگایا کہ وہ ان مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ بہرحال اگر مذاکرات کا کوئی مثبت حل نکل بھی آتا ہے تو بھی داعش افغانستان کا مسئلہ موجود رہے گا شاید اسکا حل آگے جا کر نکل سکے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *