آئیے قرآن پڑھیں(قسط سوئم)۔۔محمد اقبال دیوان

دیوان صاحب کی فیس بک پر ایک پوسٹ قرآن کریم سے متعلق لگی تو ہم سب کو بہت پسند آئی۔ اس میں انہوں نے مختلف تراجم اور معاون کتب کے سلسلے میں بات کی تھی۔ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کی ممبر زرقا اظہر صاحبہ نے اور دیگر دوستوں نے درخواست کی کہ وہ خالصتاً اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک یا ایک سے زائد اقساط پر مبنی ایک مضمون ایسا لکھیں جس سے قارئین کے دل میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے سے رغبت پیدا ہو۔ان کے شبہات، خوف اور طبیعت کی رکاوٹ دور ہو۔یہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔دیوان صاحب کی یہ کاوش بصد عجز و دعائے قبولیت کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔سادہ سی کوشش سادہ دل ذوق طلب سے سرشار اور ایمان والوں کو مکالمہ کا نذرانہء برائے راہ نمائی۔

دوسری قسط کا آخری حصہ
سیدنا اکرم ندوی گلہ مند تھے کہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو صرف خاص خاص انداز میں پڑھتی ہے اس انداز کو آپ انگریز ی کی اصلاح میں sloppily (اردو میں اس کا ترجمہ کوئی مناسب نہیں مگر بے ڈھنگا پن سمجھ لیں)۔ وہ چنیدہ سورتیں پڑھتے ہیں۔ اپنی من پسند آیات سے تاویلیں گھڑتے ہیں۔
اس سے قبل کے ہم آپ کو دوسری رکاوٹ کی طرف لے جائیں۔ پہلی تو آپ سمجھ ہی گئے ہیں کہ قرآن
بالمقابل احادیث اور فقہی مسائل پرسے شدید لگاؤ ۔یہ شخصیت پرستی ہے۔
قرآن کا سب سے بڑا اعجاز ہی اس کا Impersonal ہونا ہے۔
اس اہم نکتے پر اور دیگر اسباب جو مسلمانوں کی اکثریت کو قرآن کے براہ راست مطالعے اور اس کے نتیجے میں عمل صالح کی تشکیل ترتیب اور تعمیل سے روکتے ہیں ان پر گفتگو ہوگی۔ ہم جس طرح ہم ایک عام کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے عادی ہیں ان سے یہ قرآن العظیم کیوں کر مختلف کتاب ہے ان سب وجوہات کو اللہ کی رضا شامل رہی تو ہم تیسری قسط میں بیان کریں گے
تیسری قسط

شخصیت پرستی سے اجتناب
موجودہ قسط میں اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ قرآن کس طرح شخصیت اور رؤسا پرستی کو رد کرتا ہے۔قرآن کے بیانیے پر غور کریں تو بیسیوں خوبیوں کا ادراک ہوتا ہے مگر روح اختصار، طلب گار ہے کہ اس میں سے تین خوبیاں کم از کم ایسی بیان کردی جائیں کہ جس سے اس کی عظمت آشکار ہوجائے۔۔

سورہ الزخرف
سورہ الزخرف

اور اس کو پڑھ کر سمجھنا، اس کو اساس اوّلین ماننا اور اس کو اپنی زندگی میں یوں رچا بسا لینا کہ وہ آسان خوب صورت اور رضائے الہی کا باعث بن جائے۔
یہ تین خوبیاں ہیں
۱۔ اس کا نبی کریمﷺ کے حوالے سے Impersonal ہونا۔
۲۔اس کا شخصیت پرستی سے کامل اجتناب جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں تفرقہ اور توہم پرستی عام ہوگئی
ان دو نکات کی وجہ سے قرآن انبیا علیہ سلام کا رتبہ اللہ کے دوست، اس کے فرمانبر دار بندے اور اس کے نبی، رسول، شاہد اور نذیر ہونے کے ناطے بہت بلند ہے مگر وہ دیگر اقسام کے Human Agents جو مال، سماجی مرتبے اور نبی سے رشتہ داری کی بنیاد پر کسی خصوصی مقام کے دعوے دار ہوں انہیں یکسر رد کرتا ہے۔وہ بنو مخزوم اور بنو امیہ کے سرداروں سے زیادہ اعلیٰ  مرتبت مکہ کے حبشی غلام سیدنا بلال رضی اللہ اور قرن کے چرواہے اویس قرنی کو دین میں فوقیت اور برتری کا حامل مانتا ہے۔
۳۔کلام الہی ہونے کے ناطے اس کی کمال شائستگی، اجتناب( Restraint ) اور مخالف فرد یا خیال کی تنقید و تردید کے وقت اختصار اور رکھ رکھاؤ (Decorum) کو برتنا ہے۔

نزول قرآن اور دعوت اسلام کے وقت سیدنا خالد ؓکا والد ولید بن مغیرہ جیسے مالدار افراد مکہ میں موجود تھے۔ان کا سب سے بڑا اعتراض کیا تھا۔اس پر توجہ دیں۔ایسی ہی آیات سے قرآن کی آفاقیت اور آپ کو ایمان و استدلال جان پکڑتا ہے۔

سورہ الذخرف کی آیات نمبر تیس تا بتیس کا مطالعہ کریں تو ان کی طرف سے یہ اعتراض سامنے آتا ہے۔
( 30۔یہ قرآن تو نرا سحر ہے سو ہم اسے جھٹلاتے ہیں۔31۔کہتے ہیں یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے پر نازل کیوں نہ کیا گیا۔32،اے لو یہ آپ کے رب کی رحمت کو کس طور تقسیم کرتے ہیں۔ہم نے دنیا میں ان کی روزی تقسیم کی۔ ایک کو دوسرے پر بلند کیا تاکہ ایک کو دوسرا ماتحت بنالے۔جو کچھ یہ (لوگ دنیا میں) سمیٹ رہے ہیں آپ کے رب کی رحمت ان سب سے بہت بہتر ہے۔)۔

سورہ الحجر
کوہ صفا کی تقریر

اصل موضوع سے معمولی سا انحراف خالصتاً جنرل نالج کے لیے
۔ولید بن مغیرہ اور ہشام بن مغیرہ دونوں سگے بھائی تھے دونوں مکہ کے جید سردار۔قبیلہ بنو مخزوم
۔ولید کے بیٹے خالدؓ (لقب سیف اللہ)
۔ہشام کا بیٹا امر ابولحکم بن ہشام المعروف بہ ابوجہل
۔ یوں سیدنا خالد اور ابو جہل دونوں سگے چچا زاد بھائی تھے۔

آیئے آپ کو قرآن کے نزول کے بعد کے ابتدائی ایام کا احوال بتائیں۔
یہ تاریخ ضرور ہے مگر یہ دعوت اور قرآن فہمی کی جانب لازمی قدم ہے۔
نبوت کا پہلا سال ہے۔ شروع کا زمانہ۔ کوہ صفا والا واقعہ پیش آچکا ہے۔ سگے چچاابولہب نے آپ کو کوسا بھی ایک روایت کے مطابق شاید پتھر بھی آپ کی جانب اچھالا۔(ابو لہب پر دھیان رکھیں چوتھی قسط میں اس بات کو لپیٹیں گے)

سورہ القلم کی آیات گیارہ سے تیرہ
سورہ القلم کی آیات

سورہ الحجر کی آیت نمبر پندرہ کے مطابق آپ کو ذمہ داریوں کا دائرہ کار بڑھ گیا ہے۔حکم آگیا ہے کہ
”جو حکم آپ کو ملا ہے۔اس کے مطابق پیغام الہی کو عام کردیں اور مشرکین سے منہ  پھیر لیں “

ایک مجلس برپا ہوتی ہے۔کفار مکہ کے بڑے جمع ہیں۔ صدارت کا ذمہ ولید بن مغیرہ کے سپرد ہے جو سیدنا خالدؓ کا باپ تھا۔دولت کی وہ فراوانی کہ مکہ کا بل گیٹس سمجھ لیں۔ اس کے اونٹ مکہ میں ہر طرف سے مال لے کر داخل ہوتے تھے۔ مال اتنا کہ سارا عرب ایک سال مل کر غلاف کعبہ کے اخراجات اٹھاتا اور اگلے سال یہ تن تنہا اس غلاف کی لاگت برداشت کرتا تھا۔اللہ ستار العیوب ہے مگر
دو موقع پر اس نے ولدیت کے حوالے سے کچھ عجیب انکشاف قرآن میں کیا ہے۔ اللہ کسی کا عیب بیان کردے تو پھر کون ہے جو اسے چھپاپائے گا۔

پہلی مثال تو سورہ ہود کی آیت نمبر چھیالیس میں موجود ہے،سیدنا نوح علیہ سلام پریشان ہیں۔طوفان ہر سو موجیں مار رہا ہے۔ بیٹا ڈوب رہا ہے۔ با پ کی بات تب بھی نہیں مان رہا ۔سیدنا نوح ؑ گھبراکر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مالک میرے بیٹے کو بچا لے۔ اللہ کریم کیا جتا رہا ہے:
(نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں۔وہ تو غیر صالح اعمال کا نتیجہ ہے۔جس بات کی حقیقت سے واقف نہ ہو اس کے بارے میں مجھ سے سوال مت کرو)۔(بیان کی شائستگی اور اختصار ملاحظہ ہو۔ غیر صالح اعمال کا نتیجہ کہہ کر سارا معاملہ ہی ایک طرف کردیا)

قرآن کے Impersonal ہونے اور کسی کو حسب نسب کی رعایت نہ بخشے جانے کا ثبوت آپ یہاں سے بھی نقل کرسکتے ہیں۔
دوسری مرتبہ وہ حسب نسب مال و منال اور شخصی تکبر کی جڑ کیسے کاٹ رہا ہے وہ سورہ القلم کی آیات نمبر نمبر گیارہ تا پندرہ ہیں۔عرب جن کے ہاں حسب نسب کا تفاخر بہت نمایاں تھا۔ اس معاشرے میں کسی کو زنیم یعنی زنا کی اولاد پکارنا بہت بڑی گالی تھی۔ یہاں رک جائیں۔
وہ جو مجلس برپا ہوئی اس میں مکہ کے سبھی جید اور نمائندہ افراد شامل تھے۔سیدنا ابو طالب کے ذریعے کی گئی پیش کش اس سے قبل رد کی جاچکی تھی۔ دعوت اسلام سے یہ سب تنگ آچکے تھے۔ ان سب کا ارادہ خاتم النبین، سید المرسلین کے خلاف راست اقدام کا تھا۔ یہ مجلس اسی سلسلے کی پہلی سازش ہے۔۔

یہ مجلس یوں بھی اہم تھی کہ مکہ میں حج کے لیے وفود کی آمد شروع ہونے والی تھی۔ان کا خیال تھا کہ اگر رسول اکرم کی باتوں نے ان وفود پر اپنا اثر ڈال لیا تو وہ بہت کمزور پوزیشن میں آجائیں گے۔آپ کا پیغام ایک دفعہ پھیل گیا تو اسے روکنا آسان نہ ہوگا۔

ولید کی سربراہی میں اسٹریٹجی کی بات ہونی تھی۔حلف لیا گیا کہ وہ رسول اکرم محمد ﷺ کی مخالفت میں یک زباں ہوں گے۔ اب بس یہ طے کرنا باقی تھا کہ ان پر الزامات کون سے عائد ہوں کے ان کی پوزیشن کمزور پڑ جائے۔کسی نے کہا سب سے مناسب تو یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ پر کاہن(غیب دان، نجومی) ہونے کا الزام لگائیں۔ ولید بلا توقف کہنے لگا نہیں۔ آپ ﷺ کا ذخیرہ الفاظ اور آپ ﷺ کا طرز تخاطب بہت باوقار و تمکنت آمیز ہے۔ کاہن ایسے نہیں ہوتے۔

الرحیق المختوم
مدینہ المنورہ میں قرآن میوزیم
مطالعہ قرآن کے انداز

ایک بدبخت نے تجویز دی کہ آپ ﷺ پر مخبوط الحواس اور فاتر العقل ہونے کا بھی الزام لگا یا جاسکتا ہے۔اس پر ولید گویا ہوا کہ نہیں آپ ﷺ تو بہت مدبر، ہوش مند اور خود آگاہ اور خوش گفتار ہ ہیں۔ایک جانب سے صدا آئی کہ پھر یوں کرتے ہیں کہ آپ ﷺ شاعر ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ولید نے اسے بلا تردد رد کرتے ہوئے یہ وضاحت پیش کی کہ ہمیں رجز،(وہ شاعری جس سے جنگی
جذبات بھڑکیں جیسے ابوسفیان کی بیوی اور سیدنا معاویہ ؓ کی والدہ ہندہ بنت عتیبہ کی نظم

نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقِ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم طارق کی بیٹیاں
نَمْشِی عَلَی النَّمَارِقِ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قالین کے سوا ہم کب قدم رکھتی ہیں۔
الدُرُّ فِی المَخَانِقِ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موتی ہمہ وقت ہماری گردنوں میں حمائل رہتے ہیں۔
وَالمِسْکُ فِی المَفَارِقِ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مشک کو بھی ہمارے بالوں سے الجھنے میں مزا آتا ہے
إنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقِ،۔۔۔۔۔۔۔اگر تم جنگ میں پیش قدمی کرو تو ہماری بانہیں تمہیں سمیٹنے کو بے تاب ہیں
أوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقِ،۔۔۔۔۔۔۔اور اگر جنگ میں پیٹھ دکھاؤ گے تو ہم تم سے نفرت کریں گی
فِرَاقَ غَیْرَ وَامِقِ.۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ مرد نہیں جن کے لیے ہمارے دل میں محبت موجزن ہو(ترجمہ مصنف)

ہجز(lampooning) قریض(قصیدہ گوئی) مقبوض(تفاخر اور قبضے کی شاعری) اور مبسوط(انبساط و طربیہ) شاعری کی تمام اصناف کو ہم سب جانتے ہیں۔آپ ﷺ کی کسی بات میں غلو اور یاوہ گوئی کا شائبہ بھی نہیں۔انہیں شر پسندوں میں سے کسی نے گرہ لگائی کہ پھر ہم انہیں جادوگر کہیں تو کیسا رہے گا؟۔
ولید بن مغیرہ نے کہا نہیں جادو اس کے منصب و معیار کا نہیں۔ ہم نے جادوگر، ان کا جادو، ان کا جھاڑ پھونک اور عملیات بھی دیکھے ہیں۔وہ شریں گفتار اور پراثر من ہوہنی ہستی کا مالک ہے۔سو ہم کہیں گے اس کی باتیں اور اللہ سے منسوب کرکے جو کلام آپ ﷺ بیان کرتے ہیں وہ یقینا ً جادوکا سا اثر رکھتا ہے۔ ایسا اثر جو انسان کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے(یہ ہے وہ قرآن جس کی گواہی بدترین دشمن دے رہا ہے)۔اس کلام کا اثر اتنا دیرپا اور بھرپور، فی الفور اورغالب آجانے والا ہے کہ اس کی وجہ سے گھرانے تقسیم ہوجاتے ہیں۔ کنبے قبیلے میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔
”الرحیق المختوم“ کمال کی کتاب ہے۔ رسول اکرمﷺ کی حیات بابرکات پر بیسویں صدی میں اس سے اچھی کتاب شایدہی کوئی اور لکھی گئی ہو۔سیدنا صفی الرحمن مبارک پوری بنارس کے ایک مدرسے کے استاد تھے۔ یہ کتاب دنیا بھر میں عربی زبان میں لکھی جانے والی کتابوں میں سعودی عرب میں پہلے نمبر کی تصنیف مانی گئی۔۔صفی الدین مدظلہ رقم طراز ہیں کہ:
”ولید اس مجلس میں وہ بہت گہرے تفکرات میں ڈوبا رہا۔ بنو مخزوم کے سردار کے اس سے کچھ بن نہیں پارہا تھاقرآن کی سورہ مدثر میں مذکور ہے کہ۔”18۔اس نے سوچا۔ اس نے قیاس باندھا۔19۔وہ غارت ہو۔20۔اس نے کیااندازہ لگایا وہ غارت ہو۔21۔اس نے پھر دیکھا۔22۔۔اپنی پیشانی پر بل ڈالے۔منہ بنایا۔23۔ پلٹا۔اور تکبر دکھایا۔ 24۔آخرکار کہنے لگا ارے یہ تو نرا جادو ہے۔پہلے سے نقل ہوتا آیا ہے۔یہ ایک انسان کا کلام ہے۔

دوسری مثال یہ ہے کہ اس بدبخت کی حرکات و گفتگو سے ہمارے نبی محترم اکثر بہت شدید رنجور ہوجاتے تھے۔ اسی لیے سورہ ال قلم کی آیت نمبر گیارہ سے پندرہ میں اس کے بارے میں قرآن العظیم کیا کہتا ہے۔
۱۱۔بے وقار، کمینہ، عیب گو،چغل خور۔12۔بھلائی سے روکنے والا اور حد سے گزر جانے والا۔13۔گردن کش(سخت گیر) اور ولد الزنا۔14۔اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے۔15۔جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے وقتوں کے قصے ہیں۔ اس موضوع کو اللہ نے سورہ ال مدثر میں آیات نمبر گیارہ سے۔۔۔۔۔
یوں چھیڑا ہے ۱۱۔ مجھے اور اسے تنہا چھوڑ دو کیوں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ہے۔12۔ اسے بہت سا مال بھی دے رکھا ہے13 اور حاضر باش فرزند بھی۔14۔ صرف یہی کچھ نہیں بہت کشادگی بھی عطا کی ہے۔15۔ اس پر بھی یہ مزید طلب کی آس لگائے بیٹھا ہے۔16۔ نہیں نہیں وہ ہماری آیات کا مخالف ہے۔17۔میری جانب سے اس کی بربادی قریب قریب ہے۔۔
ہم نے کہا تھا نا کہ قرآن Human Agents کو رد کرتا ہے بجز ان کے جنہیں اللہ نے بطور نبی اور رسول بنا کر دنیا میں خود بھیجا ہو۔یوں دین میں کسی گھرانے یا فرد کی برتری اسے منظور نہیں اسی کتاب الرحیق المختوم سے دین کے حوالے سے آپ کی پہلا دعوتی خطاب ہے۔ابتدا ہی سے بتادیا جارہا ہے کہ کسی کو کوئی فوقیت نہیں یہ پیغام موجود ہے۔ عمل کرو۔ صلے کی امید مجھ سے نہیں اللہ سے رکھو:
”اے بنی قریش اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کیوں کہ  میں  تم سب کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔البتہ تم سے نسبت و قرابت کے تعلقات ہیں جنہیں میں  باقی و تر و تازہ رکھنے کی کوشش کروں گا۔(الرحیق المختوم کا یہ حوالہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری سے منسوب ہے)
اس قسط میں ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اگلی قسط میں یہ بتائیں گے کہ ایک عام مسلمان بالخصوص وہ جو سن ستر کے بعد کا مسلمان ہے اس کی قرآن سے دوری کا اسباب کیا ہیں اور وہ کوشش کرکے کس طرح قرآن کے مطالعے کو تقویت دے سکتا ہے۔

(دعا کی درخواست کے ساتھ جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آئیے قرآن پڑھیں(قسط سوئم)۔۔محمد اقبال دیوان

  1. تفسیر ابنِ کثیر – سورۃ نمبر 11 هود
    آیت نمبر 45

    أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَـقُّ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰكِمِيۡنَ ۞

    ترجمہ:
    اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے

    تفسیر:
    نوح ؑ کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب
    یاد رہے کہ یہ دعا حضرت نوح ؑ کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میری اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کردیا گیا ؟ جواب ملا کہ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ (وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۚ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ 27؀) 23۔ المؤمنون :27) یعنی تیرے اہل کو بھی تو کشتی میں چڑھا لے مگر جس پر میری بات بڑھ چکی ہے وہ بوجہ اپنے کفر کے انہیں میں سے تھا جو میرے سابق علم میں کفر والے اور ڈوبنے والے مقرر ہوچکے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض لوگوں نے کہا ہے یہ دراصل حضرت نوح ؑ کا لڑکا تھا ہی نہیں کیونکہ آپ کے بطن سے نہ تھا۔ بلکہ بدکاری سے تھا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی کا اگلے گھر کا لڑکا تھا۔ یہ دونوں قول غلط ہیں بہت سے بزرگوں نے صاف لفظوں میں اسے غلط کہا ہے بلکہ ابن عباس اور بہت سے سلف سے منقول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا کاری نہیں کی۔ پس یہاں اس فرمان سے کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں یہی مطلب ہے کہ تیرے جس اہل کی نجات کا میرا وعدہ ہے یہ ان میں سے نہیں۔ یہی بات سچ ہے اور یہی قول اصلی ہے۔ اس کے سوا اور طرف جانا محض غلطی ہے اور ظاہر خطا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ اپنے کسی نبی کے گھر میں زانیہ عورت دے۔ خیال فرمائیے کہ حضرت عائشہ ؓ کی نسبت جنہوں نے بہتان بازی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ کس قدر غضبناک ہوا اس لڑکے کے اہل میں سے نکل جانے کی وجہ خود قرآن نے بیان فرما دی ہے کہ اس کے عمل نیک نہ تھے عکرمہ فرماتے ہیں ایک قرأت (آیت انہ عمل عملا غیر صالح) ہے مسند کی حدیث میں ہے حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ 46؀) 11۔ ھود :46) پڑھتے سنا ہے اور (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53؀) 39۔ الزمر :53) پڑھتے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال ہوا کہ (آیت فخانتا ھما) کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس سے مراد زنا نہیں بلکہ حضرت نوح ؑ کی بیوی کی خیانت تو یہ تھی کہ لوگوں سے کہتی تھی یہ مجنون ہے۔ اور حضرت لوط کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ جو مہمان آپ کے ہاں آتے اپنی قوم کو خبر کردیتی۔ پھر آپ نے فرمایا اللہ سچا ہے اس نے اسے حضرت نوح کا لڑکا فرمادیا ہے۔ پس وہ یقیناً حضرت نوح کا ثابت النسب لڑکا ہی تھا۔ دیکھو اللہ فرماتا ہے (ونادی نوح نبنہ) اور یہ بھی یاد رہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا کاری نہیں کی ایسا ہی حضرت مجاہد سے مروی ہے۔ اور یہی ابن جریر کا پسندیدہ ہے۔ اور فی الواقع ٹھیک اور صحیح بات بھی یہی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *