کرونا ایک وحشیانہ حقیقت۔۔۔طاہر یاسین طاہر

دنیا اس وقت ایک وائرس ،جسے کرونا وائرس کا نام دیا گیا ہے، اس کی وحشت ناکیوں کا سامنا کر رہی ہے۔گریٹ ڈیپریشن کے بعد دنیا پھر سے ایک ہیجان انگیز عالمی وبا کا سامنا کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کیا ہیں؟ گرد بیٹھے گی تو سامنے آئیں گے کہ کتنے کرونا کا شکار ہوئے اور کتنے اس وبا کے باعث بیروزگاری اور افلاس کی اندھی راہوں میں گم گشتہ ہو گئے۔ سب جانتے ہیں کہ ،کرونا دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا۔ جب چین میں کرونا وائرس کے مریض بڑھنے لگے تو جنوری 2020 میں چین نے اس خلاف اقدامات اٹھانا شروع کیے۔ چین نے ووھان شہر کو لاک ڈائون کر دیا۔عالمی میڈیا میں یہ خبریں شہ سرخی بننے لگیں کہ ووہان میں موت کا رقص جاری ہے،اور چین اموات کی اصل تعداد دنیا سے چھپا رہا ہے۔ چین نے البتہ ایک طرف اپنی ریاستی صلاحیتوں کو اس وبا سے نمٹنے پر لگایا تو دوسری جانب یہ کوشش کی کہ ووھان شہر میں نہ کوئی داخل ہو سکے اور نہ کوئی ووھان شہر سے باہر جا سکے۔ چین اپنی لاک ڈائون کی حکمت عملی میں بہت کامیاب رہا۔ مگر وائرس ووھان سے نکل کر دنیا کی ” سیر” کر رہا ہے۔عالمی میڈیا پر یہ خبریں بھی شائع ہوئیں اور ابھی تک اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ یہ وائرس چین کی گوشت مارکیٹ سے پھیلا، اس وائرس کا سبب چمگادڑ ہے۔ جبکہ چین نے الزام عائد کیا امریکی فوجی چین میں مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران یہ وائرس چین لے کر آئے۔ یعنی چین کا دعویٰ یہ رہا کہ کرونا وائرس امریکہ کی کسی لیب میں تخلیق ہوا اور پھر اسے چین میں فوجی مشقوں کے دوران منصوبہ بندی سے پھیلایا گیا۔
ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ کرونا وائرس نے ووھان سے نکل کر ایران،اٹلی، سپین، امریکہ،پاکستان،برطانیہ و روس سمیت ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یورپ بری طرح اس وائرس سے متاثر ہوا اور ایک ایک دن میں اٹلی، فرانس،اور سپین میں دو دو ہزار اموات ہونے لگیں۔اسی طرح امریکہ اور برطانیہ میں بھی کرونا وائرس سے ہزاروں اموات ہوئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے اب تک سب سے زیادہ اموات امریکہ میں ہوئی ہیں۔اور سب سے زیادہ متاثرہ افراد بھی امریکی شہری ہی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے چین پر الزام عائد کیا کہ یہ وائرس چین کی ووھان بائیو لیب میں تخلیق ہوا ،اور پھر وہاں سے دانستہ اسے دنیا بھر میں پھیلایا گیا۔الزام تراشیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تلخ ہوتا جائے گا۔
عالمی و مقامی اعداد و شمار ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ بدل رہے ہیں، جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 43 لاکھ سے زائدہے جبکہ دو لاکھ 97 ہزار سے زائد افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد36717 ہو چکیہے جبکہ 770 افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ 275 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔13 مئی کوپاکستان میں چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کرونا کے 2468 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ان میں سے سب سے زیادہ1362 پنجاب میں ،جبکہ731 سندھ میں سامنے آئےتھے۔عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کووڈ 19 کبھی بھی ختم نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا۔”ایچ آئی وی بھی ختم نہیں ہوا ہے مگر ہم نے اس وائرس کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے”
جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے تو سرکاری اعدا و شمار کے مطابق پاکستان میں 1332 نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 758سامنے آئے ہیں جبکہ پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 330 کیسز اور 9 اموات ہوئی ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں ان نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی تعداد 13 ہزار 561 تک پہنچ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مزید 9 اموات سے مجموعی تعداد 223 تک پہنچ گئی جبکہ 4636 افراد صحت یاب بھی ہوگئے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 63 نئے کیسز کا اضافہ ہواہے جس کے بعد دارالحکومت میںمجموعی کیسز کی تعداد 759 سے بڑھ کر 822 ہوگئی ہے۔اس امر میں کلام نہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اوربالخصوص گزشتہ چند دنوں میں جس رفتار سے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں یہ بات پاکستان جیسے ترقی پذیر اور معاشی و سیاسی طور پر کمزور ملک کے لیے بہت خطرناک ہے۔
وفاقی حکومت شروع دن سے اس معاملے پر کنفیوژ نظر آئی۔ کبھی کہا گیا کہ لاک ڈائون نہیں کریں گے،کبھی کہا گیا کہ ایس او پیز بنائیں گے، لیکن بہر حال حکومت کو لاک ڈائون کرنا پڑا۔اگرچہ اس حوالے سے سندھ حکومت نے سب سے پہل کی، اور دلیرانہ فیصلے بھی لیے۔ مثلاً پی ایس ایل کے میچز بغیر تماشائیوں کے کرائے۔ یہ بالکل اچانک تھا،کیونکہ ایک دن پہلے پی ایس ایل کے میچر میں تماشائی موجود تھے جو میچزلاہور میں ہوئے تھے۔مگر کراچی میں ہونے والے میچز کے لیے یہ ایس او پیز جاری ہوناکہ میچز بغیر تماشائیوں کے ہوں گے صورتحال کی سنگینی کے بہتر ادراک کی مثال ہے۔بعد ازاں مارچ کے تیسرے ہفتے کے آخر آخر پنجاب اور وفاق میں بھی لاک دائون کر دیا گیا، پی ایس ایل کے میچز کینسل کر دیے گئے۔

یہ سب اس امر کی نشاندہی تھی کہ ملک میں وائرس داخل ہو چکا ہے اور تیزی سے پھیل بھی رہا ہے مگر تعلیم و صحت چونکہ ہماری کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں اس لیے ہم پر سکتہ طاری ہو گیا۔پاکستان کے پاس ٹیسٹنگ کٹس نہیں تھیں جو بعد میں چین نے دیں، اسی طرح پاکستان میں روزانہ کی بنا پر ٹیسٹنگ کا تناسب بھی بہت کم رہا ، اب جب کہ ٹیسٹنگ میں اضافہ ہوا تو مریض روزانہ ہزاروں میں سامنے آنے لگے ہیں۔پاکستان کے حوالے سے البتہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ کرونا سے اموات کی شرح کم جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح زیادہ ہے۔یہ ایک جزوی بات ہے، اصل چیز یہ ہے کہ کرونا ایک وحشت ناک حقیقت ہے اور ہم اس وقت اس کے رحم و کرم پر ہیں۔
شنید ہے کہ حکومت پھر سے لاک ڈائون کی طرف جا رہی ہے کیونکہ 9 مئی سے سمارٹ لاک ڈائون کے بعد لوگوں نے عید شاپنگ کے لیے یوں بازاروں کا رخ کیا کہ رہے نام اللہ کا۔ نہ دکاندار کسی ایس و پیز پر عمل کر رہے ہیں، نہ خریدار اور عام شہری۔یہاں تو یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ کرونا یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ اللہ کے بندو، اگر یہ سازش تھی تو یہ سازش فی الحال کامیاب ہو چکی ہے۔ اگرچہ میں اس تھیوری کو نہیں مانتا، کیونکہ اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ،یورپ و برطانیہ اور کمیونسٹ چین و روس میں ہوئی ہیں۔حکومت اس سے زیادہ کچھ نہیں کرے گی، زیادہ سے زیادہ مزید چندہ مانگنے کی درخواست ۔

ہم میں سے ہر انسان کو بحثیت پاکستانی شہری اور انسانی سماج کا حصہ ہونے کے،انفرادی سطح پر بھی کچھ ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ پہلی ذمہ داری تو یہی ہے کہ عالمی ادارہ صحت،محکمہ صحت پاکستان اور محکمہ صحت کے ماہرین کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔سماجی فاصلہ قائم رکھا جائے، ابھی تک اس وائرس کے علاج کی کوئی دوا ایجاد نہیں ہوئی۔وائرس قدرتی عمل ہے یا کسی بائیو لیب میں تخلیق کیا گیا؟دنیا کی معیشت اور آبادی کو بل گیٹس کنٹرول کرنا چاہتا ہے یا نہیں؟ زندہ بچ گئے تو ایسی بے شمار باتوں پر بحث ہوتی رہے گی۔ فی الحال احتیاط ہی اس وحشت ناک وبا کا علاج ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *