نعمان علی خان۔حمیرا گُل خان

یہ 2010 کا آکنا کنونشن تھا، جب میری پہلی مرتبہ مسلم اسکالر نعمان علی خان اور ان کے گھر والوں سے ملاقات ہوئی تھی. ان کی بیگم سے سلام دعا کے بعد ایک بات جو محسوس کی وہ یہ تھی کہ وہ ایک بہت سادہ اور گھریلو سی خاتون تھیں. دو سال قبل، میں نے یہ خبر سنی کہ نعمان علی خان نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی. تقریبا ً ہر دوسرے شخص نے ان کی بیوی کو ہی الزام دیا، کہ وہ نعمان علی خان کی شہرت نہیں سنبھال سکی، وہ حاسد تھی، اور نعمان علی کی خواتین مداحوں کو برداشت نہیں کر سکتی تھیں، لہذا اس کی وجہ سے ان کی طلاق ہوئی۔ حتی کہ آپ نعمان علی خان کے بارے میں جس سے بات کریں، ہر شخص آپ کو ایک مختلف کہانی سنا رہا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ 2016 کے اکنا کنونشن میں، میں نعمان علی خان کے اجلاس میں شرکت کرنا چاہتی تھی اور کمرے کے اندر تک نہیں جا سکی تھی. لوگوں کا بہت بڑا ہجوم کمرے سے باہر تھا۔بے شمار لوگ تھے جو کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور مسلسل ناکام تھے. اپريل 2017 میں، اکنا کنونشن نے نئی تاریخ رقم کی. یہ پہلا موقع تھا جب نعمان علی خان نے کنونشن میں شرکت نہیں کی اور کسی قسم کی کوئی تقریر بھی نہیں کی . جس سے بہت سارے لوگوں کے دل ٹوٹے. تقریبا ً ہر شخص جس سے بات ہو، دو جملوں کے بعد یہی پوچھتا نظر آتا، “ارے، کیا آپ جانتے ہیں نعمان علی خان اس سال اکنا کنونشن میں نہیں آئے. کیا وجہ ہے؟ ” اس وقت تو مجھ سمیت کسی کو وجہ نہیں معلوم تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کے شریک نہ ہونے کی کیا وجہ تھی۔

جون 2017 کے آغاز میں، اسلامی محقق کے بانی اور صدر، یقین انسٹی ٹیوٹ کے امام، عمر سلیمان نے ایک مضمون لکھا تھا. اس مضمون کا عنوان تھا، “جب میں اپنے پسندیدہ استاد کو کرپٹ پاؤں تو کیا کروں؟” اس مضمون میں، انہوں نے اہم مسئلہ کی نشاندہی کی اور موجودہ صورتحال کی طرف ہماری رہنمائی کی.
“To the girls that get approached by their favorite speaker at a conference who quickly starts looking for a secret marriage, please don’t be led down that route. Marriage is meant to be a public celebration that protects your rights. A private nikah that likely doesn’t even meet the conditions for a valid one won’t protect you at all. You don’t know a person from a stage or a YouTube video, Imam Omar Suleiman said.”

افسوسناک بات تو یہ ہے کہ امام عمر سلیمان دراصل نعمان علی خان کے ہی طالب علم تھے اور ان کو اپنے راہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔
دوسری طرف، شیخ یاسر قادری اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ،

“What would happen if my ‘fans’ and ‘admirers’ really discovered my true nature? For sure, they would lose respect in me, and they have every right to do that. Many would feel betrayed and angry, hurt and confused… Yet, in this whirlwind of emotions, ask yourself: does my evil change the Quran and Sunnah? Does my status alter the basics of theology – basics that I might have preached and taught these people? Do my own sins in any way diminish the glory or tarnish the mesmerizing beauty of the life and Sīrah of the greatest human who ever lived (SAW)?
May Allah conceal and forgive my faults, dear brothers and sisters, but if you ever discover my sins, feel free to cut me back down to my true level, as you should have done from day one. I give you full license to be angry at me, disgusted with me, boycott me if I so deserve.

شیخ یاسر قادری نے بھی بہت گہرے خیالات کے ساتھ مسئلہ اور موجودہ صورتحال کی وضاحت کی۔
جی ہاں، میں مانتی ہوں کہ دونوں اسپیکرز نے یہاں کسی کا نام نہیں لیا. اور یقیناً ، ایسا ہی کرنا بھی چاہیے. اس لیے نہیں کیونکہ کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں بلکہ اس لیے کہ مزید حالات نہ بگڑیں. المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ، لوگوں کی پیروی کرتے ہیں. اور بھول جاتے ہیں کہ وہ جس شخص کی دل سے پیروی کر رہے ہیں، وہ شخص سب سے پہلےایک انسان ہے اور ہر انسان غلطی کرتا ہے۔ البتہ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا اس کو چاہیے کہ پھر اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی پیش کرے۔

تقریباً دو سال قبل، میں نے یہ خبربھی سنی تھی کہ نعمان علی خان نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے دو ہفتے بعد ہی اپنے ادارے البیننہ کی سیکرٹری سے شادی کرلی. ذاتی طور پر میں نے اس خبر پر یقین نہیں کیا کیونکہ میرے پاس اس خبر کی سچائی کا کوئی ثبوت نہیں تھا. لیکن فی الحال یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ، “امام کمیٹی نے نعمان علی خان کو روکنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی یہ پیشکش بھی کی کہ وہ ان کے حوالے سے لوگوں میں کوئی بات نہ کریں ، لیکن اس کے لیے نعمان علی کو آج کے بعد کہیں کوئی تقریرکرنے کی اجازت نہیں ہوگی.” نعمان علی خان نے اس معاہدے سے اتفاق کیا اور کچھ عرصہ پہلے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چند تقاریر کیں. یہی عہد شکنی نعمان علی خان کی رسوائی کا سبب بنی۔
لازمی بات ہے نعمان علی خان اس وقت تمام باتوں کو جھٹلائیں گے۔ بھلا چوری کرنے کے بعد کون چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی، ہاں میں چور ہوں۔ لیکن سچ بہرحال کہیں نہ کہیں سے سامنے آ ہی جاتا ہے۔ اپنی ہی فیس بک پوسٹ میں نعمان علی خان نے اپنے معاہدے کا ذکر کرتے ہو ئے کہا۔۔

“As for the ‘agreement’ that these individuals speak of that I’m no longer abiding by, perhaps I can offer some context. I tried to convince this group to allow for senior scholars and leaders from across the country to hear both sides and assist in civil fashion. They knew the presence of neutral parties would compromise their agenda so they threatened to not meet at all if anyone from the outside was allowed, he said,” ……. “Deeply concerned that my whole life work will come to ruin, I was abiding by their demand to not speak in public or teach, I discovered that they continued to disparage me in the vilest of ways. While I was in Mecca for Umrah, they held public gatherings attempting to rip my character to shreds allowing me no opportunity to even defend myself,” Nouman Ali said.

گزشتہ روز ایک اور خبر سننے کو ملی کہ “جب نعمان علی خان کسی خاتون سے شادی کرتے ہیں تو اس عورت کو دو ہفتوں کے بعد طلاق کے کاغذات بھی ساتھ ہی دیتے ہیں۔ اس مسئلے میں کئی کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں جو نعمان علی کے فریب کا شکار ہوئیں.” بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ماشاءاللہ سے نعمان علی خان صاحب خود چھ عدد بیٹیوں کے والد ہیں۔ جی ہاں چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ اگر بیٹیوں کے والد ہوتے ہوئے بھی، ایک مبلغ ہوتے ہوئے بھی اگر ان کو خدا کا، اپنے بچوں کا، خاندان کا، اپنا احترام و وقار یاد نہیں، تو ایسے میں ہم ایک عام آدمی سے کیا اور کیسے کوئی بھلائی کی توقع رکھے؟

اگر ہم متعہ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو، گوگل کی تعریف کے مطابق، متعہ “عارضی شادی، یا نکاح متقہ ہے۔” ایک قدیم اسلامی عمل ہے جو مرد اور عورت کو محدود وقت کے طور پر ساتھ کرتا ہے. تاریخی طور پر یہ استعمال کیا گیا تھا کہ، جو شخص مسافر ہو تو وہ تھوڑے عرصے کے لیے شادی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مسیار بھی اسی طرح کی شادی میں شمار ہوتا ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے بہت سے عالم متعہ اور مسیار دونوں کی اجازت نہیں دیتے. متعہ اور مسیار کے درمیان، متعہ زیادہ برا ہے. کیونکہ اس میں شادی کے اختتام کے لیے پہلے سے طلاق کی تاریخ طے کر لی جاتی ہے۔

According to Shekh Yasir Qadhi, “As Mutah (temporary marriage) is something which is in the news currently let’s hear an expert on the subject. Here we learn temporary marriage is not allowed in Islam. It was something which was allowed in the early days but was later prohibited (forbidden). The Sharia prohibits this type of marriage, said Sheikh Dr Yasir Qadhi.”
.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ طاقت کا کھیل ہے؟ شہرت کا؟ یا شیطانیت کا؟۔۔۔
نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں. سب سے پہلے، ہم سب انسان ہیں. ہم آدم کی اولاد ہیں اور اپنے نفس سے مجبور ہیں. ان تمام حقائق کے بعد، میں جانتی ہوں کہ بہت سے لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے اور شاید انہیں یقین کرنا بھی نہیں چاہیے. کیونکہ ہر انسان کا اپنا ذہن ہے، اپنی رائے ہے۔ لیکن میں ایک بات واضح طور پر جانتی ہوں، اگر آپ میں سے کسی کی بیٹی ایسے کسی بڑے مذہبی مبلغ سے شادی کر کے چند دن میں طلاق لے کر واپس پلٹتی، تو آپ میں سے کوئی اس بات کا انکار نہیں کرتا. لہذا، اپنے مثالی مبلغ کے بتوں کو توڑنا ضروری ہے، کیونکہ سب سے پہلے، وہ ہمارے جیسے ہی انسان ہیں. ان کے پاس بھی ایک عام انسان کا سا “نفس” ہے، ان کو بھی شیطانی خیالات ستاتے ہیں، وہ بھی گناہگار ہوتے ہیں. اگر آپ نعمان علی خان کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتے؛ تونہ کریں، لیکن کم از کم یہ نہ کہیں کہ وہ پانی کی طرح صاف شفاف ہیں. انتظار کریں، کیونکہ درحقیقت صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے. اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم نعمان علی خان کے خلاف دلائل دیتے ہیں یا اس کے حق میں لوگوں کو قائل کرنے کے لیے تاویلیں پیش کرتے ہیں،کیونکہ ایک نا ایک دن تو سچ سامنے آئے گا ہی. لیکن برائے مہربانی یہ نہ کہیں کہ کچھ نہیں ہوا، کیونکہ کچھ تو ہے جو بصارت رکھنے کے باوجود ہم دیکھ نہیں پا رہے یا شاید دیکھنا نہیں چاہ رہے۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *