ارتقا ۔ ایڈاپٹو میوٹیشن ۔ زندگی (20)۔۔وہاراامباکر

تاریخ کے عظیم سائنسدانوں میں ایک نام جس کی ناقدری شاید سب سے زیادہ ہوئی ہو، لامارک کا ہے۔ لامارک حیاتیات کے ماہر سائنسدان تھے۔ بائیولوجی کا لفظ بھی انہی کا بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے ارتقا کا نظریہ سائنسی بنیادوں پر ڈارون سے پچاس سال پہلے پیش کیا۔ انہوں نے خیال پیش کیا کہ جاندار اپنے اجسام کو ماحول کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ ان کا مذاق ان کی اپنی زندگی میں، موت کی رسومات کے وقت اور ان کے انتقال کے بعد صدیوں تک اڑایا جاتا رہا ہے۔ ان کا مذاق اڑانے کی سب سے مشہور مثال زرافوں کی گردن کی دی جاتی رہی ہے کہ ہرن اپنے گردن کھینچتے رہے، یہاں تک کہ وہ گردن لمبی ہو کر زرافے کی گردن بن گئی۔

ہر نئے خیال کی طرح لامارک کے خیال میں کمزوریاں تھیں۔ ڈارون نے ارتقا کا نظریہ پیش کیا جو ارتقائی عمل کی بہت بہتر وضاحت کر دیتا تھا۔ چناوٗ کا طاقتور آئیڈیا اس کی بڑی کامیابی تھی لیکن چناوٗ ارتقا کی کہانی کا ایک نصف ہے۔ نیچرل سلیکشن کو کامیاب ہونے کے لئے ویری ایشن کی ضرورت ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدا میں نیچرل سلیکشن اور جینیات کے ملاپ سے ہونے والا بائیولوجی کی تاریخ کا سب سے اہم ملاپ نیوڈاروینین سنتھیسز کہلایا۔ لوریا اور ڈیلبروک کے 1943 میں بیکٹیریا پر کئے گئے تجربات نے میوٹیشن کے رینڈم ہونے کی طرف اشارہ کر دیا۔ رینڈم میوٹیشن اور سلیکشن بائیولوجی کا کارنر سٹون آئیڈیا بن گیا۔

ڈی این اے کا ڈبل ہیلکس دریافت ہوا۔ پروٹون کوڈنگ کا علم ہوا۔ اس سے ساٹھ سال بعد ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے ایک گروپ نے یہ پیپر پبلش کیا کہ ڈی این اے بیس میں میوٹیشن کا سورس کیا ہے۔ ڈی این اے کی کاپی اور بعد میں پروف ریڈنگ کے بعد کاپی کی غلطیاں دور ہو جانی چاہیئں لیکن غلطیاں ٹھیک کرنے کی مشینری سے جو پروٹون بھاگ نکلتا ہے، اس کی وجہ کوانٹم ٹنلنگ ہے۔ اور یہ میوٹیشن ہیں جو ارضی زندگی کے ارتقا کا انجن ہیں۔

لیکن یہاں پر ایک مسئلہ ہے؟ اس آئیڈیا کو ٹیسٹ کیسے کیا جائے؟ میوٹیشن کے دوسرے ذمہ دار جیسا کہ کیمیکل یا شعاعوں سے اثر کو تو آن یا آف کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹنلنگ کو کیسے ٹیسٹ کیا جائے؟

اس ہائیپوتھیسز کو جانچنے کا ایک طریقہ تو کوانٹم پیمائش ہے جو کوانٹم اور کلاسیکل انفارمیشن کا فرق ہے۔ کلاسیکل انفارمیشن کو جتنی بار بھی پڑھ لیا جائے، اسکو فرق نہیں پڑتا۔ کوانٹم انفارمیشن میں ایسا نہیں ہے۔ پیماش سے سسٹم متاثر ہوتا ہے۔ جب انزائم کوڈنگ پروٹون کو “دیکھ” رہی ہے تو یہ کوانٹم پیمائش ہے۔ جینیاتی کوڈ سب سے زیادہ بار اس وقت پڑھا جاتا ہے جب اس سے جینیاتی انفارمیشن کاپی کر کے پروٹین بنانے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ اس عمل میں کچھ جینز کو دوسروں سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل کوانٹم ہے تو پھر جو جینز زیادہ پڑھی جائیں، وہاں پیمائش زیادہ ہونے کی وجہ سے پرٹربیشن زیادہ ہو گی اور میوٹیشن کا امکان زیادہ ہو گا۔ کئی سٹڈیز اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ یونیورسٹی آف اٹلانٹا کی سٹڈی بتاتی ہے کہ جو جینز زیادہ پڑھی جاتی ہیں، ان کی میوٹیشن میں امکان نہ پڑھی جانے والی جینز میں تیس گنا تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ چوہوں کے خلیوں پر سٹڈی نے بھی ایسے ہی نتائج دئے اور پھر انسانوں میں ہونے والی سٹڈی سے بھی یہی معلوم ہوا۔ یہ کوانٹم مکینکل پیمائش کے ایفیکٹ کے مطابق ہے لیکن معاملہ طے کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اس کی دوسری وضاحتیں بھی ممکن ہیں جن میں کوانٹم مکینکس کی طرف رخ نہ کرنا پڑے۔ ہمیں کچھ ایسا درکار ہے جو کچھ ایسا دکھائے جس کی وضاحت کوانٹم مکینکس کے بغیر نہ کی جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ایسا تجربہ نامور ماہرِ جینیات جان کیرنز کا ہے۔ جان کیرنز کی کئی یادگار تحقیقات ہیں۔ مثلاً، انہوں نے ڈی این اے کی تقسیم کے عمل کے آغاز کا مکینزم دریافت کر کے دکھایا تھا کہ یہ تقسیم کا عمل ایک جگہ سے شروع ہو کر کروموزوم پر ویسے سفر کرتا ہے جیسے پٹڑی پر ٹرین۔ اس کے بعد بیکٹیریل وائرس کے مالیکیولر بائیولوجی میں کردار پر واٹسن کے ساتھ ملکر کتاب لکھی۔ اور پھر انہوں 90 کی دہائی میں توجہ لوریا اور ڈیلبرک کے 1943 میں بنائے گئے تجرباتی سیٹ اپ کی طرف کی۔ اس میں کمزوری نکال لی اور ایک نیا سیٹ اپ بنایا۔

اگر میوٹیشن کا عمل مکمل طور پر رینڈم ہے تو اس سے پیشگوئی یہ ہوتی ہے کہ وراثتی تبدیلیوں کی رفتار یکساں رہے گی۔ ماحول کے مطابق ویری انٹ کو فطری چناوٗ کا عمل چن لے گا۔ ماحولیاتی سٹریس ایک آرگنزم کی تبدیلیوں کی رفتار پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔

جان کیرنز کا تجربہ یہ جانچنے کے لئے تھا کہ بیکٹیریا کا میوٹیشن ریٹ مشکل ماحول میں کیسا ہوتا ہے۔ ان کے تجربے نے ثابت کیا کہ مشکل ماحول میں میوٹیشن کا ریٹ بھی نہ صرف بڑھ جاتا ہے بلکہ میوٹیشن بھی منتخب جینز میں ہوتی ہیں۔ یہ نتیجہ لامارک کے نظریے کو واپس ارتقا کی بحث میں لے آتا تھا۔ نہیں، یہ گردن لمبی نہیں کر رہے تھے لیکن ماحول کے چیلنج کا مقابلہ وراثتی تبدیلیوں کی رفتار کی صورت میں دے رہے تھے جو منتخب جگہ پر میوٹیشن تھی۔ اور اس طریقے سے یہ ارتقا کے دوسرے حصے، نیچرل سلیکشن، کو کام کرنے کے لئے مواد فراہم کر رہے تھے۔

کیرنز کے تجربات جلد ہی کئی دوسرے سائنسدانوں نے دہرائے اور یہی نتائج ملے۔ ان کی کوئی وضاحت روایتی جینیات اور مالیکیولر بائیولوجی میں نہیں ہے۔ کوئی ایسا مکینزم علم میں نہیں جو انفرادی بیکٹیریا (یا کسی بھی اور مخلوق) کو یہ صلاحیت دیتا ہو کہ وہ میوٹیشن کی جگہ اور رفتار کا انتخاب کر سکے۔ یہ مالیکیولر بائیولوجی کے مرکزی ڈوگما کے مطابق نہیں۔ اگر کیرنز کے نتائج واقعی درست ہیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے خلیوں کے پاس یہ اہلیت ہے کہ وہ جینیاتی انفارمیشن کا بہاوٰ الٹا سکیں۔ ماحول سے ڈی این اے پر اثر ہونے کے لئے راستہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچر میں شائع ہونے والے کیرنز کی نتائج تہلکہ خیز رہے اور جریدے کو نتائج کی وضاحت کی کوشش کرنے کے لئے آنے والے خطوط کا انبار لگ گیا۔ بائیولوجی کو ایڈاپٹو میوٹیشن کا نیا لفظ مل گیا۔

کیرنز کے نتائج کی وضاحت کن فزیکل پراسسز کے ذریعے ممکن ہے؟ بائیولوجسٹ عام طور پر فزکس میں تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ بیکٹیریل جینیات کے ماہر جان جو کوانٹم مکینکس کی کتاب پڑھ رہے تھے۔ وہ اس سے بھی واقف تھے کہ لوڈن نے کس طریقے سے وضاحت کی تھی کہ جینیاتی کوڈ کوانٹم حروف میں لکھا ہے۔ اگر لوڈن ٹھیک تھے تو کیرنز کے بیکٹیریا ایک کوانٹم سسٹم تھے۔ اور اگر یہ بات درست تھی تو کیا کوانٹم پیمائش کی پرٹربیشن کیرنز کے نتائج کی وضاحت کر سکتی تھی؟

کیرنز کے نتائج میں عجیب کیا تھا؟ کیرنز نے جو چیز تجرباتی طور پر دکھائی تھی، وہ صرف میوٹیشن کی رفتار نہیں تھی۔ ایڈاپٹو میوٹیشن صرف اس ماحول میں ہوتی ہیں جہاں پر اس میوٹیشن کا ہونا مفید ہو۔ مثلاً، کیرنز نے تجربات کی سیریز میں یہ دکھایا تھا کہ بیکٹیریا کی آبادی میں لیکٹوز کو ہضم کرنے والی میوٹیشن اس وقت ہوتی ہے جب خوراک کے لئے صرف لیکٹوز میسر ہو۔ اور ان نتائج کی وضاحت کسی طور پر کلاسیکل مالیکیولر بائیولوجی سے نہیں ہو پاتی۔ لیکٹوز کی موجودگی میوٹیشن کو میوٹیشن کی رفتار پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

اگر لوڈن کے خیال کے مطابق جینز کوانٹم انفارمیشن سسٹم ہیں تو پھر اس کی وضاحت ممکن ہے۔ جان جو اپنا خیال یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس لے کر گئے۔ فزکس اور بائیولوجی کے ماہرین کا اس مکینزم پر مشترکہ پیپر 1999 میں بائیوسسٹمز کے جریدے میں پیپر شائع ہوا۔ (لنک پوسٹ کے آخر میں)۔ اس کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی کیونکہ اس وقت تک کوانٹم بائیولوجی مین سٹریم میں نہیں تھی۔ حتیٰ کہ، ابھی انزائم ایکشن کے بھی کوانٹم مکینکل ہونے کا علم نہیں تھا۔

کیرنز کے نتائج کو تیس سال ہونے کو ہیں۔ ان کی کلاسیکل طریقے سے وضاحت کے خیالات بھی پیش کئے گئے۔ اس کو جانچنے کے لئے جان جو نے تجربات بھاری پانی کے ساتھ ڈیزائن کئے۔ یہ کائنٹیک آئسوٹوپک ایفیکٹ سے کی جانے والی جانچ ہے۔ اگر کوئی اثر کوانٹم مکینکل ہو تو عام ہائیڈروجن اور بھاری ہائیڈروجن کے نتائج خاصے مختلف ملیں گے۔ اگرچہ ابھی معاملہ طے نہیں ہوا لیکن نتائج ایڈاپٹو میوٹیشن کے عمل کے کوانٹم مکینیکل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ میوٹیشن کی محض ایک وجہ نہیں ہوتی۔ ایڈاپٹو میوٹیشن ان میں سے ایک مکینزم ہے)۔

وراثتی کوڈ کوانٹم مکینیکل ہے۔ کوانٹم جین کلاسیکل سٹرکچر اور فنکشن کا پروگرام رکھتا ہے۔ یہ ہر جراثیم، جانور اور پودے کا فنکنشن ہے جو آج تک کبھی بھی زندہ رہا۔ یہ ہائی فائی کاپی کلاسیکل سٹرکچر میں نہ ہو سکتی۔ اور یہ عمل اربوں برس سے جاری ہے۔ زندگی شروع ہی نہ ہو سکتی اگر زندگی کوانٹم دنیا میں اپنا کوڈ رکھنے کا حربہ دریافت نہ کرتی۔ کیا جینیاتی میوٹیشن میں بھی کوانٹم مکینکس براہِ راست کردار ادا کرتی ہے؟ وہ عمل جس کے بغیر ارتقا ہی نہ ہو سکتا؟ یہ بحث اگرچہ ابھی طے نہیں ہوئی لیکن ارتقا کا لڑکھڑاتی چال کے بجائے ممکنات کی سپیس میں کھوج کرنے کا تصور ہمیں بائیولوجی کے ایک بڑے سوال میں پیش رفت میں مدد کر سکتا ہے۔

زندگی آخر شروع کیسے ہوئی؟

(جاری ہے)

ایڈاپٹو میوٹیشن کیا ہیں؟
https://en.wikipedia.org/wiki/Adaptive_mutation

ایڈاپٹو میوٹیشن کے مکینزم پر
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/10400270

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *