گھروندا ریت کا(قسط8)۔۔۔سلمیٰ اعوان

موسم تو ستم ڈھانے پر اُترا ہوا تھا۔ اِس شاندار کالج کے لمبے چوڑ ے سرسبزوشاداب ہرسُو طراوت اور تازگی کافرحت آگیں احساس بخشتے لان و موسم کے حُسن اور رعنائی کو اور قاتل بنارہے تھے۔ پچھمی ہوائیں سرو کے بوٹوں اور جامن کے پیڑوں پر سُبک خرامی سے بہہ رہی تھیں۔ نیلا شفاف آسمان چیختے چنگھاڑتے بادلوں سے ڈھپنا ہوا تھا۔ گھنے بادل جو کسی بھی پل زمین پر وارد ہونے کے انتظار میں مَست ہاتھیوں کی طرح جھُولتے جھُومتے پھر رہے تھے۔
ایسے ہوشربا موسم میں وہ سنگِ مرمر کی بنچ پر بیٹھی جلنے کڑھنے اور اپنا خُون آپ ہی پینے میں جُتی ہوئی تھی۔ وہ دیوانی تھی ایسے موسم کی۔سدا ہی چاہتی کہ نیلا آسمان گہری اُودی گھٹاؤں کے پیرہن پہنے رکھے۔ سورج کی شکل نظر نہ آئے۔اُجالے اور اندھیرے کے درمیانی عکس کی چادر فضا پر تنی رہے جاڑوں میں جب موسم کی یہ کیفیت ہوتی۔ اُس کے بہن بھائی سردی سے دانت کٹکٹاتے ہوئے کہتے۔
”خدایااب رحم کر۔ سورج کی صورت دکھا۔“
اُسے غُصہ آتاجھلاّ کر وہ کہتی۔
”کیا تکلیف ہے تمہیں۔ بدذوق کہیں کے۔“
اور و ہ سب پنجے جھاڑ کر اُ س کے پیچھے پڑ جاتے۔
”یہاں کیا کر رہی ہو؟ دفع ہو جاؤ لندن۔ جی بھر کر لُطف اندوز ہونا دُھند اور کہر سے۔“
پر آج موسم کی دلکشی اور حُسن کا اُس پر قطعاً کوئی اثر نہیں تھا۔ گراؤنڈ میں لڑکیوں کے غول گُھوم پھر رہے تھے۔ ہنسی مذاق اور چہلوں کا سلسلہ جار ی تھا۔ لڑکیاں اپنی لابنی گردنوں پر ٹکے سروں کو آسمان کی طرف کرتیں۔ موسم کی دلکشی اور رنگینی کا اعتراف  نگاہوں سے کرتیں اور زبان سے بھی یہ کہنا نہ بھُولتیں۔
”مائی گاڈ! موسم نے کیا غضب ڈھا رکھا ہے۔“
اُسے نفرت تھی اِن لڑکیوں سے جن کے خوبصورتی سے ترشے بال اُن کے شانوں پر ہلکورے کھاتے تھے۔جن کے صبیح چہروں پر لالیوں کے کنول کھِلے ہوتے۔ جن کا پہناوا بے شک سفید یونیفارم ہوتا پر کپڑے اپنی اعلیٰ کوالٹی کا پتہ بُہت دُور سے دیتے۔ اِس پر طرہ مال اور گلبرگ کے درزیوں کی کاریگری جن کی ماہرانہ کانٹ چھانٹ کپڑوں میں جان ڈال دیتی یوں کہ وہ اپنے آپ سے بولنے لگتے۔
وہ جو انجمن کے سیکنڈری اسکول میں آندھی کی طرح اُٹھی اور طوفان کی طرح چھا گئی تھی۔ اِس چوٹی کے کالج میں آکر صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی۔
وہ یہاں ایک امیتاز کے ساتھ آئی تھی۔ صوبے بھر کے درجہ اول اور درجہ چہارم اسکولوں کے لڑکے لڑکیوں کو ایس۔ ایس۔ سی کے امتحان میں مات دے کر اوّل آنے کا اعزاز جیتے ہوئے۔
اِس کالج کا انتخاب اُ س کے بہن بھائیوں کی مشترکہ رائے سے ہوا تھا۔ جب پہلی بار وہ اپنی بڑی بہن جوخود میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی کے ساتھ یہاں آئی تو اُس نے ہر شے کو تعجب اور دلچسپی سے دیکھا۔ گیٹ سے باہر کی سڑک مختلف رنگوں کی کاروں سے اَٹی پڑی تھی۔ دروازے کھُلتے اور نخروں کی پوٹلیوں میں لپٹی لڑکیاں نکلتیں۔ کچھ تو واقعی حسین تھیں، کچھ کو لیپا پوتی نے حسین بنا رکھا تھا۔ خوش رنگ، جدید وضع کے ملبوسات اور اُن سے اُٹھتی مختلف پرفیومزکی بھینی بھینی خوشبو اور اُن کے کھنکتے ہوئے مُسرور قہقہے اُسے بے چین کرنے کے لئے کافی تھے۔
اُ س نے اپنے آپ کو دیکھا تھا۔ گھٹیا سی کاٹن کا لباس جس کی تراش خراش بھی بھدّی اور بدنما تھی۔ اِس لئے کہ کپڑوں کے ذریعے جسمانی اعضاء کی نمائش کو اُس کے گھر میں سخت ناپسند کیاجاتاتھا۔
گزشتہ ایک ہفتے سے وہ جان کنی کے عذاب میں مبتلا تھی۔ کالج کے انتخاب کا مسلۂ جونہی حل ہوا اُس نے جستی ٹین کے صندوق سے اُن تینوں جوڑوں کو نکال کر اپنے سامنے رکھ لیا جو بارہا پہنے اور دھوئے جا چکے تھے جن کے رنگ ورُوپ کوٹھے پر بیٹھی اُدھیڑ عمر کی نائکہ جیسی صورت اختیار کر گئے تھے۔
ایک ایک جوڑے کو اُلٹتی پلٹتی۔ تنقید کی کسوٹی پر پرکھتی اور پھر لہجے میں زمانے بھر کا دُکھ اُنڈیل کر اپنے آپ سے کہتی۔
”یا اللہ آخر ہم اتنے غریب کیوں ہیں؟“
اماں سے کچھ کہنا گویابِھڑوں کے چھتّے میں ہاتھ ڈالنا تھا۔ لیکن جب مسئلے کا کوئی حل نظر نہ آیا۔تب اُس نے سبزی چھیلتی اماّں کے گُھٹنے پکڑ لئے۔
اور اماں نے نہایت بے رحمی اور سنگ دلی کی چھُری اُس کی گردن پر چلا دی یہ کہتے ہوئے۔
”لو ابھی تو چھ ماہ بھی نہیں گزرے تمہیں لیڈی ہملٹن کا سوٹ بنا کر دیا تھا۔ زبیدہ کی شادی پر بنایا ہوا وہ موراکین کا جوڑا کیا ہوا؟ ہاں تمہارے پاس وہ کپڑے بھی تو ہیں جو تمہاری چھوٹی پھوپھی نے دئیے تھے۔ اُ س کا جی چاہا اماں کے ہاتھ سے چھُری چھین کر اماں کو ذبح کر ڈالے یا پھر اپنی تِکّابوٹی کرے۔
اماں کے بات کرنے کا انداز بھی کِسی ظالم مارشل جیسا تھا۔ چھوٹی پھوپھو کا دیا ہوا سوٹ، زبیدہ آپاکی شادی پر بنایا ہوا سوٹ سب اماں کو یاد تھے۔ شاید یہ یا دنہیں تھا کہ یہ کپڑے پھوپھو کی اُترن تھے جنہیں اُنہوں نے کمال شفقت سے اُسے عنایت کیے تھے۔
پھر اُس کا گلا روندھ گیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”اماں وہ سب تو پرانے اور بد رنگے ہیں۔“
”اچھا چل ہٹ میر ی جان نہ کھا۔سوچوں گی۔“
اور اُٹھتے بیٹھتے جب نئے سوٹ کا وِرداُس کی زبان سے ہونے لگا تب اماں کو اُسے کپڑے بنا دینے میں ہی اپنی عافیت نظر آئی۔
جوڑا تو بلاشبہ نیا تھا پر سیا اُس کی بہن نے۔جس نے ستیاناس کر دیا۔ذرافٹنگ نہیں تھی۔اُس نے کہا بھی۔
”آپا آپ نے تو اُسے جھولا بنا دیا ہے۔“
اور وہ نیک پروین محبت سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔
”بس ٹھیک ہے۔ تنگ کروں گی تو خالہ اور نانی باتیں بنائیں گی۔“
“تو بنانے دواُنہیں۔اب اُن کے ڈر سے ہم اپنی مرضی کا کوئی کپڑا بھی نہ پہنیں۔”
اُس کی بہن فارم داخلہ جمع کروا کر باہر آئی تو اُس نے اُس کا ناقدانہ جائزہ لیا۔ وہ بھی ڈھیلے ڈھالے اُس جیسے کپڑ ے پہنے ہوئے تھی۔ ہمیشہ کی طرح اُس وقت بھی اُسے اُس پر سخت غصہ آیا۔
”یہ کم بخت بھی بُدھو ہے۔ ذرا خفّت محسوس نہیں کرتی۔ اب اگر یہ بونگی بنی رہے گی تو ہم اپناحُلیہ کیسے ٹھیک رکھ سکتے ہیں۔“
تب درختوں کے جُھنڈ تلے کھڑ ے ہو کر اُس نے اپنے دل میں دو فیصلے کئے۔
ایک یہ کہ وہ بہترین اور اچھا لباس پہنے گی اور کسی پر اپنی غُربت ظاہر نہ ہونے دی گی۔دوسرے وہ اپنے تعلیمی معیار کو اُونچا رکھے گی۔
پر ہوا یہ کہ ایک وعدہ تو اُس نے بلاشبہ پورا کیا۔ کالج میں وہ بُہت صاف ستھری حالت میں آتی تھی۔ لڑجھگڑ کر اُ س نے عمدہ اور بہترین کپڑے کے دو جوڑے درزی سے سلوائے۔ اُنہیں وہ جس طرح استعمال کرتی وہ دیکھنے والوں کو اُس کے پختہ گھریلو حالات کا پتہ دیتے۔ آندھی اُٹھے، طوفان آئے، بارش برسے یا کوئی اور ارضی یا سماوی آفت کا روبار زندگی کو معطل کر دے۔وہ کپڑوں اورجُوتوں کی طرف سے غفلت نہیں کرتی تھی۔
کپڑوں کو ہر تیسرے دن دھوتی، کلف لگاتی، کوئلوں کی استری سے گھنٹہ بھراُلجھتی اور جب وہ پسینہ پسینہ ہو کر اُٹھتی تو اُس کے بازوؤں میں پڑے دو جوڑے یُوں چمکتے جیسے کسی اُونچے درجے کی لانڈری سے دُھل کر آئے ہوں۔ کچھ ایسا ہی حال جوتوں کے ساتھ تھا۔ آدھ گھنٹہ تو اُنہیں چمکانے میں ضرور صَرف ہوتا۔ جب وہ اتنے چمک جاتے کہ بقول اُس کے کوئی اگر منہ دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا۔ تب اُس کے ہاتھ بُرش کی جان چھوڑتے۔
اماّں کو اُس کے کپڑوں اور جُوتوں سے اِس درجہ انہماک کو دیکھ کر اختلاج قلب ہونے لگتا۔ وہ غصے سے کہتیں۔
”اے میں کہوں تُو وہاں پڑھنے جاتی ہے یا کپڑے دکھانے۔ جب دیکھو دُھلائی جب دیکھو اِستری۔“
اماں کی یہ بات اُس کے تن بدن کو سُلگا دیتی۔ وہ بہتیرا چاہتی کہ خود ہی سُلگے اور حرارت اماں تک نہ پہنچے۔لیکن جانے کیا ہوتا۔ وہ پھٹے ڈھول کی طرح پھٹ پڑتی۔
”تم تو چاہتی ہو من من بھر میل کپڑوں میں پھنسی رہے۔ چیتھڑے لٹکے رہیں اور لوگ ہم پر ترس کھاتے رہیں۔ اماں تمہارا صابن خر چ ہوتا ہے اِ س لئے تم اتنا واویلا کرتی ہو۔“
اور اماں بھنّا اُٹھتیں۔ اُس کا اتنا بے باک اورگُستاخ لہجہ اُنہیں تِلملا کر رکھ دیتا۔
”تم کوئی نئی کالج میں پڑھنے لگی ہو۔ میرے اور بھی بچے ہیں۔۔۔ ماشاء اللہ سارے ہی چوٹی کے کالجوں میں جاتے ہیں۔ پر جتنے پر پُرزے تم نے نکالے ہیں اِس لحاظ سے تو وہ شاباش کے مستحق ہیں۔“
”اماں تم ہزار بار بھی اُن پر دادوتحسین کے ڈونگرے برساؤ تب بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ اگر پاگلوں کی طرح اُٹھ کر چلے جاتے ہیں تو کوئی ضروری ہے میں بھی ویسے ہی جاؤں۔“
بڑ بڑاتی ہوئی وہ کمرے سے نکل جاتی۔
اماں غصّے سے لال پیلی ہوتیں۔ طیش میں پُھنکارتیں۔ جی چاہتا دوری والے ڈنڈے سے اُس کی دُھواں دھار مرمت کر دیں۔ پرگھرکی عورتوں سے ڈرتی تھی پھر ایسی مُنہ زور منہ پھٹ اولاد کیا بعید کہ ہاتھ ہی پکڑ لے۔
دو تین بار اُنہوں نے اُس کی بڑی بہن تہمینہ سے بھی بات کی۔
اُ س نے اماں کی شکایات کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سُنا اور رسان سے کہا۔
”اماں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مت کڑھا کریں۔ بہن بھائی ایک جیسے نہیں ہوتے ہر ایک کا اپنا اپنا مزاج ہے۔اُسے اگر اچھے کپڑے پہننے کا شوق ہے تو کوئی ہرج نہیں۔ باقی اُس کا وقت ضائع ہوتا ہے یہ آپ کا مسئلہ تھوڑی ہے۔وہ جانے اور اُس کا وقت۔“
اماں اب اُسے نالائقی کا طعنہ بھی نہیں دے سکتی تھیں۔ اُ س نے اوّل آکر سارے گلے شکوے دُور کر دیئے تھے۔
اور اعلیٰ درجے کے لانڈری ہاؤس سے دُھل کر آنے والے کپڑوں کی حفاظت کے لئے وہ کیا کیا جتن کرتی اُ س کا اندازہ صرف اُسی کو تھا۔ کالج اور اُس کے گھر کا درمیانی فاصلہ آٹھ نو میل تھا۔ پہلا پیریڈ شروع ہونے سے کوئی دو گھنٹے قبل ہی وہ گھر سے نکل پڑتی۔ بسوں میں اُترتے اور چڑھتے اُسے نہ تو اپنی کتابوں کا فکر ہوتا اور نہ اپنی جان کا۔ آگے پیچھے دائیں بائیں غرضیکہ ہر سمت اُس کی نظریں اپنے کپڑوں پر ہوتیں۔ کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی پوٹلیاں اور بڑی بڑی گٹھڑ یاں اُٹھائے دیہاتی عورتیں بھی بس میں سوار ہوتیں۔اُن کی پکڑ دھکڑ اور کھینچا تانی کے شور شرابے میں اُ س کا جی چاہتا کہ وہ اُنہیں اُٹھا کر کھڑکیوں کے راستے سڑک پر پھینک دے۔ ایسے دنوں میں شامت اعمال سے اگر اُس کے کپڑوں کی کریز خراب ہوجاتی، دوپٹے میں شکنیں پڑ جاتیں، جُوتے کا چہرہ گنوار عورتوں کے پاؤں کی دُھول مٹی سے دُھندلا جاتا۔
تب دو خواہشیں اُس کے دل میں پھڑکنے لگتیں۔پہلی زیادہ طاقتور ہوتی کہ چلتی بس سے چھلانگ مار کر اپنا قصّہ ہی پار کرلے یا پھر اندھی عورت یا مرد کا گلا گھونٹ دے جسکا پاؤں اُس کے جُوتے پر آیا تھا۔
کالج گیٹ پر رنگ برنگی کاروں سے جب وہ لڑکیوں کو اُترتے ہوئے دیکھتی تو اور بھی جل جاتی۔ کڑھ کر خود سے کہتی۔
”ارے اِنہوں نے ایسی کون سی نیکیاں کی ہیں جو اللہ کو اتنی پسند آئی ہیں کہ دولت کی بارش میں نہاتی اور مزے لوٹتی ہیں اور ہم جیسوں نے کیا گناہ کئے ہیں کہ پیسے پیسے کو ترسنا مقّد ربن گیا ہے۔ اللہ کس شان اور طمطراق سے کاروں میں بیٹھتی ہیں۔ ہمارے نصیبوں میں تو بسوں اور سڑکوں پر دھکے کھانا لکھا گیا ہے۔“
درختوں کے جھنڈ تلے کھڑے ہو کر اُ س نے جو دو وعدے اپنے آپ سے کئے تھے اُن میں سے ایک تو اُس نے جی جان سے نبھایا پر دوسراوعدہ وہ پورا نہ کر سکی۔
وجوہات بھی کافی تھیں۔
ایک تو وہ ایکا ایکی اُردو میڈیم سے انگلش میڈیم میں آگئی تھی۔ کونونٹ اور دوسرے انگریز ی اسکولوں کی لڑکیاں جب فراّٹے کی انگریزی بولتیں تو وہ بس دیکھتی رہ جاتی۔ عجیب سی پژمردگی اور احساس کمتری کا احساس اُس کی آنکھوں اور چہرے پر پھیل جاتا۔
دوسرے پڑھائی سے اُس کی وابستگی بھی کم ہوگئی تھی۔ خوش پوش امیر زادیاں اور خوبصورت لیکچرارز اُ س کے حواسوں پر ہمہ وقت مسلط رہنے لگی تھیں۔ وقت کا بیشتر حصہ جلنے، کڑھنے اور ڈینگیں مارنے میں گزرنے لگا۔ میڈیکل اور انجینئر نگ کالجوں میں پڑھنے والے اُس کے بہن بھائی بلاشبہ اُ س کے لئے امتیاز کا باعث بن رہے تھے۔ ماموں بڑے افسر تھے ہی۔ سادہ لوح چچاؤں کو بھی اُس نے اعلیٰ درجے کے افسر بنا ڈالا۔ رہا باپ تو وہ بھی اُس کی زبان کی ہلکی سی جنبش سے فوج میں افسری کی اُونچی کُرسی پر بیٹھ گیا۔
وہ جس ڈگر پر جارہی تھی اُس کا شدید احساس اُسے اُس وقت ہوا جب سا ل اوّل کے نتیجے کی سلپ اُسے ملی وہ جوپورے ضلع میں اوّل آئی تھی پاس تو بے شک ہو گئی تھی۔ اگلی جماعت میں ترقی بھی مل گئی تھی، پر کیسے جیسے چھوٹا بچہ ایڑیاں گِٹے رگڑ رگڑ کر سیڑھیوں کا پہلا پوڈا چڑھے۔
اُس نے رزلٹ کارڈ کو آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے دیکھا اور گھاس پر یوں بیٹھی جیسے میلوں کی مسافت نے تھکا ڈالا ہو۔ حقیقتاًاُس نے سفربھی تھکا دینے والا کیا تھا۔ گزشتہ ایک سال پر محیط اپنے آپ سے لڑتے، جنگ کرتے، اضطراب اور پریشانیوں کی سُولی پر چڑھتے۔ آخر اِن سب کا نتیجہ تو نکلنا تھا اور وہ نکلا۔دل اندر اور باہر ہوتا رہا۔ آنکھیں بھیگتی اور خشک ہوتی رہیں۔ چہرے پر کبھی یاس اور کبھی اُمیدوں کے سائے لہراتے بل کھاتے رہے۔
اور درختوں کے سائے لمبے ہوتے گئے۔
تب وہ اُٹھی آنسوؤں کو ہاتھوں کی نرم ونازک پوروں سے صاف کیا اور گھر چل دی۔ پہلی مرتبہ فوراً کھانے سے فارغ ہو کر وہ کتابیں لے کر بیٹھی اور رات کے دو بجے تک پڑھتی رہی۔
اور پھر وہ آہستہ آہستہ اُوپر اُٹھتی گئی اُوپر اور اُوپر۔ ساتھی لڑکیوں کو حیرا ن کرتی اور پھر ایک دن پہلے کی طرح اُس کا نام نوٹس بورڈ پر سرِ فہرست تھا۔
جو اسٹینڈرڈ اور معیاروہ اپنی کوشش اور جدّوجہد سے حاصل کر سکتی تھی وہ جلد یا بدیر اُس نے اپنی لگن، ہمت اور کوشش کے بل بوتے پر حاصل کر لیا۔ پر دیگر معاملات میں وہ کوری رہی۔گھر پرانی معاشرتی قدروں کو سینے سے لگائے اُن کی حفاظت کا داعی بنا بیٹھا تھا۔
فلم اُس نے کبھی دیکھی نہ تھی۔تنگ نظری کا وہ عالم کہ فلم دیکھنا گویا گناہ کبیرہ تھا۔ اخبارات کے فلمی اشتہاروں والے صفحات پر نظریں دوڑانا معیوب تھا۔ایسے میں اُن کے متعلق اُس کی معلومات بھی صفر تھیں۔ لڑکیاں جب اُونچے اُونچے فلمی کرداروں پر بحث کرتیں تو وہ چپ چاپ بیٹھی اُن کی گفتگو سنتی رہتی۔یااُنکے منہ تکتی۔
لاہور سے باہر کہیں جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ددھیال باڈر کے قریب ایک گاؤں میں ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی۔ بس کبھی کبھی وہاں جانا ہوتا۔ گاؤں کا ماحول کچے گھر اور کھیت کھلیان،وہاں کائنات ہی مختصر تھی۔ کوئی اُن پر کتنا بول سکتا تھا۔
اب جب مری، ایبٹ آباد، سوات، کاغان اور ناران کے دلکش اور دلفریب نظاروں پر زور شور سے باتیں ہو رہی ہوں۔ انگلینڈ، امریکہ اور یورپین ممالک کے تذکرے ہوں۔ گرمیوں میں وہاں جانے اور رہنے کے پروگرام ہوں تو ظاہر ہے وہ ٹک ٹک دیدم ودم نہ کشیدم کے مصداق محض تماشائی ہی بن سکتی تھی یا پھر اپنے آپ اور اپنے گھر گھرانے پر کڑھ سکتی تھی جو وہ کڑھتی تھی جز بز ہوتی تھی۔
ایک دن اُ س کی ایک دوست فرّخ ہنستے ہوئے اُ س کے شانوں پر دو ہتڑ جماکربولی۔
”یار اللہ قسم کنوئیں کی مینڈک ہو۔ کتابی کیڑا ہو۔ بتاؤ نہ آخر تم اتنی ا ن سوشل کیوں ہو؟“
اُسے اپنے بہن بھائیوں پر بھی شدید غصہ آتا۔ کم بخت سب کے سب اوندھے ایک سے ایک بڑھ کر کتابی کیڑے۔
چند اُونچے گھروں کی لڑکیوں نے اُ س کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایابھی پر اُس نے کسی گرم جوشی کا ثبوت نہ دیا۔
اور دیتی بھی تو کیسے ڈینگیں تو بے انتہا مار رکھی تھیں۔ کل کلاں جو اُ س کے گھر آ ٹپکتیں اور ساری قلعی کھُل جاتی تو کس قدر سُبکی والی بات ہوتی۔
اور جب وہ بی۔ ایس۔ سی سے فارغ ہوئی تب تک اُس کے دو بھائی اور بہن یورپ سُدھار چکے تھے۔ سب سے بڑا بھائی کولمبو پلان کے تحت کینیڈا انجینئر نگ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے چلا گیا۔ برٹش کونسل کی طرف سے اُس کی بہن کو وظیفہ مل گیا اور وہ سرجری میں سپیشلائزیشن کے لئے لندن روانہ ہوگئی۔ تیسرے نمبر والا بھائی اورگینک کیمسٹریOrganic Chemistry میں ڈاکٹریت کے لئے امریکہ چلا گیا۔
اور پھر یوں ہو ا کہ وہ لڑکی جو خودکو کنوئیں کا مینڈک سمجھتی تھی۔ ایکسچینج پروگرام کے تحت ڈھاکہ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوگئی۔
ایک بارش برساتی دوپہر کو پی۔ آئی۔ اے کے سبز اور سفید ٹرائی ڈنٹ میں بیٹھی اُس سرزمین کی طرف روانہ ہوئی جس کے باسیوں کو مشرق کے اطالوی کہا جاتا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *