آئیے قرآن پڑھیں(قسط دوم)۔۔محمد اقبال دیوان

دیوان صاحب کی فیس بک پر ایک پوسٹ قرآن کریم سے متعلق لگی تو ہم سب کو بہت پسند آئی۔ اس میں انہوں نے مختلف تراجم اور معاون کتب کے سلسلے میں بات کی تھی۔ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کی ممبر زرقا اظہر صاحبہ نے اور دیگر دوستوں نے درخواست کی کہ وہ خالصتاً اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک یا ایک سے زائد اقساط پر مبنی ایک مضمون ایسا لکھیں جس سے قارئین کے دل میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے سے رغبت پیدا ہو۔ان کے شبہات، خوف اور طبیعت کی رکاوٹ دور ہو۔یہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔دیوان صاحب کی یہ کاوش بصد عجز و دعائے قبولیت کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔سادہ سی کوشش سادہ دل ذوق طلب سے سرشار اور ایمان والوں کو مکالمہ کا نذرانہء برائے راہ نمائی۔

پہلی قسط کا آخری حصہ برائے یاد دہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان  رسائل فقیہان پر دھیان دیں تو یہ نماز میں نشست کے انداز سے لے کر جھینگا حلال ہے کہ مکروہ ہے، ان جزئیات تک میں اختلاف رکھتے ہیں۔ امام حنبل کے فقہی پیروکار جو سعودی عرب اور عرب امارات میں رہتے ہیں ان کے نزدیک ٹڈی اور گوہ((Monitor Lizard کھانا معیوب نہیں۔یہ فقیہان دین قرآن کی تعلیمات سے ہٹ کر زیادہ شدت پسند اور اسوہء رسول اکرم ﷺ سے جدا اپنے ہی طور پر حد، سزا اور خواتین کے معاملات میں انتہا پسند رویوں کے داعی ہیں
یاد رہے کہ حدیث اور امام ابو حنیفہ کے معاملے میں مولانا اکرم ندوی دنیائے اسلام میں سند
مانے جاتے ہیں۔ خواتین محدثات کی زندگی پر ان کا کارنامہ اس کمال کا ہے کہ ان کی تحقیق پر مرتب شدہ ایک انسائیکلوپیڈیا نما سلسلہء سوانح عمری 57 جلدوں پر مبنی ہے اور امام ابو حنیفہ پر ان کی سوانح عمری سند کا درجہ رکھتی ہے۔

موطا امام مالک اور اس کے موضوعات
موطا امام مالک اور اس کے موضوعات

دوسری قسط کا آغاز

پچھلی قسط میں ہم ایک بحث کو تین اطراف سے ایک نقطے پر سمیٹنے کی کوشش کررہے تھے کہ احادیث اور فقیہان دین سے اس قدر شدید لگاؤ قرآن کے مطالعے کی راہ میں کیوں کر رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک سب سے بڑی وجہ ہماری ان کی ہستی سے عقیدت مندی ہے۔
پہلی رکاوٹ: شخصیت پرستی اور عقیدت مندی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے ان ائما کرام کے علمی مباحث کو وجوہ اختلاف بنالیا ہے حالانکہ آپ کے لیے امر باعث حیرت ہوگا کہ مسلسل تین عباسی خلفاء (جعفر المنصور، ہادی اور ہارون الرشید) کی یہ کوشش رہی کہ امام مالکؓ ابن انس– AH سن 93 ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور 84برس کی عمر پاکر سن 179ہجری میں اللہ سبحانہ تعالی کو پیارے ہوگئے۔
یہ وہ زمانہ ہے کہ جب خاتم الانبیا سرور کونین کو جہان فانی سے رخصت ہوئے نصف صدی سے زائد کا عرصہ ہوچلا تھا۔ تینوں عباسی خلفا بضد رہے کہ امام مالک ؓان کی یہ  تجویز مان لیں کہ موطا امام مالک نامی کتاب احادیث و مسائل جو انہوں نے چالیس برسوں میں مرتب کی تھی اسے وہ قرآن کے بعد واحد مستند کتاب ہونے کی سند جاری کردیں۔
اس سند کہ اجرا کے بعد اسے ایکStandard Code of Procedureمان کر ایک متحدہ مذہب کی بنیاد رکھی جائے۔ دنیا بھر کے مسلمان جو اس خلافت و نظامت کا حصہ ہیں وہ مالکی فقہ کی پیروی کریں۔ان میں پُر جوش حاکمین میں خلیفہ جعفر المنصور تو اس حد تک آگے نکل گیا تھا کہ اس نے آپ سے اجازت مانگی کہ وہ ان رسائل کو بطور احکامات تمام عالم اسلام میں پھیلا دینا چاہتا ہے اور جو اس سے روگردانی کا مرتکب ہو اس کو موت کے گھاٹ اتاردیا جائے۔

”موطا“جس کے مطلب شاہراہء آزمودہ ہوتا ہے اس کایہ نام اس لیے رکھا گیا کہ ان تمام جلیل القدر اصحاب جنہوں نے احادیث مرتب کیں ان میں امام مالک اوّلین تھے۔ مدینے میں ہی قیام رہا۔ عرب تھے،رسول اکرم اور ان کے صحابیان عالی مرتب کا قریب ترین زمانہ پایا اور عربی النسل تھے۔یوں آپ کو بعد میں آنے والے ان تمام محدثین اور فقہا پررسول اکرمﷺ کے بعد تیسری جنریشن ہونے کے حساب سے فوقیت رہی۔آپ نے اصحاب رسول کی دوسری جنریشن کو خود ان احادیث اور احکامات پر عمل کرتے دیکھا تھا۔ ان ہی کے مشاہدات اور تعلیمات کو بنیاد بنا کر آپ نے یہ عظیم مجموعہ ترتیب دیا۔ آپ کے وضع کردہ رسالے کے بارے میں ایک اور بہت اعلی ٰ مرتبت فقہیہ سیدنا امام شافعیؒ کا کہنا تھا کہ قرآن کے بعد وہ اس کتاب کو دین کی سب سے مستند کتاب مانتے ہیں (اس بات کو ذرا دھیان میں رکھیں)

ان خلفاء کی متواتر پیشکش کے جواب میں آپ کا جواب بہت کمال کا ہے۔ اس میں آپ کی بردباری، معاملہ فہمی،علمی مرتبے، رواداری، فہم دین اور Inclusiveness پر مبنی اعلیٰ ظرفی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

آپ نے ان حکام عباسیہ کو جتادیا کہ دین کی تفہیم میں علماء کا اختلاف اللہ کی رحمت ہے۔فکر انسانی کا فروغ ہے۔یہ کوئی باعث فساد و نزاع برپا کرنے کا جواز نہیں۔آپ نے اسے سمجھایا کہ رسول اکرمﷺ کے زمانے سے خلفائے راشدین اور بعد تک دین مختلف صحابہ اور اور علما کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچا ہے۔ان نیک دل مسلمانوں نے انہیں جزو ایمان بنا کر اپنا لیا ہے۔وہ سچے اور نیک دل پیروکار رسول ہیں۔

ان کی عبادات کے طور اطوار میں اور مسائل کی تفہیم میں اگر حالات، واقعات، زبان اور ثقافت کی وجہ سے کوئی چھوٹا موٹا اختلاف ہے تو اسے نظر اندا زکرنا دین کی خدمت ہے۔ دین کی اصل تعلیم توحید الہی اور قرآن کے احکامات کی پیروی اور اطاعت رسول سے متصادم نہیں تو اسے نظر انداز کیا جائے۔ ایسی تمام باتیں جو میری تعلیمات سے مختلف ہیں ، ان کا تلوار کے ذریعے منوانا نرا فساد ہوگا۔ اس اختلاف کو اللہ کا انعام اور دین کے فروغ میں معاون مانیں ،سمجھیں۔خلیفہ منصور جو اپنے رویوں میں شدت پسند تھا وہ یہ دلیل سن کر اپنے ارادوں سے باز رہا۔

امام شافعی کا مزار مصر
اسراءیل کی قومی لائبریری میں ان دنوں دسویں صدی کا قرآنی نسخہ
ترکی میں قرآن کے قدیم ترین نسخے کا ورق-پہلی صدی
خوبصورت رحل
صحاح ستہ

جس بات کو ہم نے یاد رکھنے کا کہا تھا۔ وہ یہ ہے کہ موطا امام مالک کی تشریح و ترویح میں سب سے بڑا اور مستند کام تو ان کے شاگرد یحی بن یحی اللیثی کا ہے جس نے اسے اندلس  سپین میں عام کیا مگر حیرت ناک طور پر ان کے دیگر شاگردوں نے بھی مختلف مقامات پر اپنے اپنے طور پر اس مجموعے کو مرتب کیا ،کمال کی بات یہ ہے کہ مدارس عالم اسلام ایسے تیس نسخوں کو مستند مانتے ہیں جب کہ ان میں بھی آپس میں اختلاف ہے۔ تو اے ایمان والو ان احادیث اور فقیہان کی تعلیمات کو آپ Procedural Assistance کے طور پر مانو کہ وضو کن باتوں سے ٹوٹتا ہے، کیا سمندر کے پانی سے وضو حلال ہے؟ میت کو کیوں کر غسل دینا ہے،روزہ کھولنے اور بند کرنے کے کیا اوقات ہیں۔عدت کے مسائل کیا ہیں؟ کیا عورت بغیر محرم کے حج کرسکتی ہے وغیرہ وغیرہ مگر اس کو دین کی اثاث اور Basic Document مت مانیں۔آپ کا آئین دین،قرآن الحکیم ہے۔ آپ کا فرض صرف قرآن سے جڑا رہنا ہے۔یاد دہانی اور بات میں مزید وزن ڈالنے کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر وہ ہر روشن دل کو لرزا دینے والی آیت دہرا دیں کہ روز قیامت ہماری قرآن سے بے نیازی اور غفلت کی سب سے بڑی گواہی ہمارے رسول اکرمﷺ خود دیں گے جب سورہ الفرقان کی آیت نمبر تیس کے عین مطابق جب وہ اللہ سبحانہ تعالی سے کہیں گے”یہ ہے وہ میری امت جس نے قرآن کو ترک کیا۔ اسے قابل التفات نہ جانا اور اس سے فاصلہ رکھا۔کہیں بھی اس آیت میں یہ اشارہ نہیں کہ مسلمانوں کا رب کائنات سے گلہ حدیث کی کتاب اور فقہہ پر عمل نہ کرنے سے کیا جائے گا۔یاد رکھیں دین اسلام کی تکمیل رسول اکرمﷺ کے خطبہء حجۃ الوداع کے دن سورہ المائدہ کی آیت نمبر تین کہ”آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کی۔تمہارے لیے دین اسلام کا انتخاب کردیا“۔ کی روشنی میں ہوچکی ہے۔۔یہ جو صوفیا پاک و ہند کی زندگی سے جڑے ارشادات، مشاہدات اور تعلیمات ہمیں ملفوظات کی صورت میں ملتے ہیں یہ بے حد دل چسپ ہیں۔یہ صوفیا بہت محبت کرنے والے، عجز و نیاز سے سرشار،جاہ و منصب سے پرے، انسان۔ دوست بزرگ ہوا کرتے تھے۔ انہیں میں سیدنا نظام الدین اولیا کے سلسلے سے جڑے چوتھی نسل کے ایک خرقہ پوش یا سجادہ نشین حضرت سید محمد بندہ نواز گیسو دراز ؒ ہواکرتے ۔ ان کا”جوامع الکلام“نامی مجموعہء ملفوظات جو ایک معتقد سید محمد اکبر حسینی فرزند شاں نے لکھے
اس مجموعے میں ایک محفل کا مکالمہ درج ہے۔ جہاں امام شافعیؒ کا ذکر ہے۔
یاد رہے کہ امام شافعیؒ سیدنا امام مالکؒ کے شاگرد تھے۔آپ کا زمانہ بھی رسول اکرم سے ڈیڑھ سے دو صدی بعد کا ہے یعنی امام بخاری ؒ کے ہم عصر سمجھیں۔آپ کی تربیت میں امام ابو حنیفہ ؒکے ایک باکمال شاگرد ال شعبانیؒ کا بھی ہاتھ ہے۔یوں آپ کی ذات اقدس میں امام مالک، امام ابو حنیفہ کا رنگ غالب ہے۔
رفتہ رفتہ علم کی شاہراہ پر گامزن ہوکر جب وہ مکہ المکرمہ آئے تو انہیں اپنے دونوں اساتذہء گرامی امام مالک اور امام ابو حنیفہ کی تعلیمات میں کچھ کمی محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنا ایک مذہب (عربی میں فقہی طریقہ) ترتیب دیا۔حضرت سید محمد بندہ نواز گیسو دراز کا ارشاد ہے کہ دونوں فقیہان محترم یعنی ابو حنیفہ اور اور امام شافعی کی رسائل کا موازنہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دو مختلف پیغمبروں کی شریعت کی بات ہورہی ہے۔

گھانا میں نماز۔کھلے ہاتھ
ملاءشیا میں مرد اور خواتین کا اجتماع صلوت
ملاءشیا میں مرد اور خواتین کا اجتماع صلوت

ہم آپ کو بتادیں کہ چاروں فقہیان میں روح ایمان اور بنیادی عقیدے پر کوئی اختلاف نہیں۔ یہ تمام مقتدر اور جنت مکانی،بزرگان دین، زندگی میں مختلف مسائل کے بارے میں جو احادیث اور روایات موجود ہیں ان کو سامنے رکھ کر اپنے علمی مباحث سے اصول وضع کرتے ہیں۔ ان چاروں بزرگان ملت نے کسی سے نہیں کہا کہ وہ ان کی پیروی کریں۔ ان کے سامنے جب کوئی مسئلہ بیان ہوتا تھا تو یہ اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتے تھے جو بعد میں رسائل کی صورت میں جمع کرلی گئی۔ پیروکار جس خطے میں غالب تھے وہیں یہ طریقہ اختیار ہوگیا۔ اب ٹورنٹو یا برمنگھم کی مساجد میں ان کو سر پھٹول کا ذریعہ بنا کر دین کا مذاق اڑایا جائے تو یہ ان بزرگوں سے زیادہ چندے اور چودہراہٹ کا مسئلہ ہے۔آپ کو مختلف ممالک میں مسلمان جہاں آباد ہیں اسلام کا بہت ہی مقامی رنگ بھی دکھائی پڑتا ہے۔

ایک سندھی سینٹر صاحب کی بہت آرزو تھی کہ ملائشیا کے مہمان ان کے ساتھ اندرون سندھ دو تین مزار بھی دیکھ لیں۔ان معتدل مزاج مہمانوں کو اصرار کرنے پر بہت برا لگا اور کہنے لگے ہم یہاں آپ کو زراعت پر مشورے دینے آئے ہیں اپنا ایمان برباد کرنے نہیں۔ یہ شافعی مذہب کے پیروکار تھے۔

حنفی مذہب (فقہہ)سے جڑے افراد ترکی وسطی ایشیا پاک وہند چین اور مصر میں آباد ہیں۔

مالکیوں کی غالب اکثریت افریقہ عرب ممالک اور خلیج فارس کی ریاستوں میں شافعی فقہ کے پیروکار کردوں میں ملائشیا، انڈونیشیا یمن، مصر،صومالیہ، مشرقی افریقہ اور جنوبی ہندوستان میں پائے جاتے ہیں،اور حنبلی سعودی عرب اور امارات میں موجود ہیں۔

اکرم ندوی سے جب صحافی کارلا پاؤرنے پوچھا کہ لوگ مختلف فقہ اور اہم علماء کی تقلید کو کیوں لازم جانتے ہیں قرآن کو کیوں ترجیح نہیں دیتے تو ان کا جواب یہ تھا کہ”اس میں طبیعت کی کاہلی اور سستی، عقیدت اور جان چھڑانے کا پہلو شامل ہے۔ہمیں ان سے اتفاق ہے۔

سورہ عنکبوت

غور کریں توتقلید،تحقیق سے ہر طور آسان ہے۔کم محنت کی طلب گار ہے۔اکثریت کا یہ بھی خیال رہتا ہے عربی مادری زبان نہیں۔ہم کہاں سمجھ پائیں گے۔ جب کہ اللہ قرآن کریم میں سورۃ القمر کی آیت نمبر سترہ میں ایک کمال کا نقطہ بیان کرتا ہے کہ ”ہم نے اس قرآن کو تمہارے لیے بہت آسان بنادیا ہے پس تم میں ایسا کون ہے جو ہدایت اور علم حاصل  کرے“۔

کارلا پاؤر کو قرآن کے بارے میں سمجھاتے ہوئے مولانا ندوی کہنے لگے فقہ اور احادیث پر غیر ضروری مباحث کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قرآن سے دوری نے ایک ایسی سوچ کو جنم دیا ہے جو سخت گیر اور Judgemental ہے۔جہاں سزا تفہیم حالات اور اصلاح قلب پر حاوی ہوگئی ہے۔قرآن میں سرقے یعنی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کا صرف ایک دفعہ بیان ہے یہ سزا بھی وہ ریاستی ادارہ دے سکتا ہے جو اس کی کفالت میں دیانت سے ذمہ دار رہا ہو۔لیکن اس امر کا بار بار ذکر ہے طہارت قلب،درگزر،صلہء رحمی اصلاح قلب، اختیار کرو۔اللہ نے تو دین میں جسے فوز العظیم یعنی Highest Reward کہا ہے ۔یہ سب وہ اعمال ہیں جن کو اختیار کرنے سے تزکیہء نفس کا حصول ممکن ہوتا ہے۔سورہ الشمس کی آیات نمبر نو اور دس میں اس پاکیزگی روح اور قلب کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
”جس نے قلب کو پاک کیا وہ مراد کو پہنچا اور جس نے قلب میں برائی پالی وہ خاک میں روندا گیا ہوا۔
دین کے معاملے میں عمومی طور پر اپنی ذاتی کاوش میں ہماری گھبراہٹ اور جھجک کو اللہ نے یوں بھی رَد کیا کہ وہ ہم جیسے سالکان بے بساط کو سورہ العنکبوت کی آیت نمبر 69 کے ذریعے جتاتا رہتا ہے کہ
”جو ہماری راہ میں جدوجہد کرے ہم اس کے لیے اپنے راستے سہل بنادیتے ہیں۔اللہ صالحین اور نیک عمل کرنے والوں کا ساتھ دینے والا ہے “۔

مولانا ندوی کا کہنا یہ بھی تھا کہ اگر ہم ان چاروں اماموں کو نہ مانیں تو دین پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کی اس بات سے مسلمان بہت الجھن محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے کسی سے پچھلے دنوں سُنا کہ محمد بن قاسم سندھ میں اسلام کیسے پھیلا سکتا ہے کیوں وہ یہاں 712 میں  آیا تھا ،اور امام بخاری اس کے ایک سو آٹھ سال بعد 820 ء میں پیداہوئے تھے تو ہم نے ان سے ہنس کرپوچھا۔ نجاشی کا، اہل روم، اہل ایران اور بیت المقدس کے لوگوں کا خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق ؓ مسلمان ہونا مانتے ہو، تو ہنسنے لگے۔

سیدنا اکرم ندوی گلہ مند تھے کہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو صرف خاص خاص انداز میں پڑھتی ہے اس انداز کو آپ انگریز ی کی اصلاح میں sloppily (اردو میں اس کا ترجمہ کوئی مناسب نہیں مگر بے ڈھنگا پن سمجھ لیں)۔ وہ چنیدہ سورتیں پڑھتے ہیں۔ اپنی من پسند آیات سے تاویلیں گھڑتے ہیں۔

اس سے قبل کے ہم آپ کو دوسری رکاوٹ کی طرف لے جائیں۔ پہلی تو آپ سمجھ ہی گئے ہیں کہ قرآن بالمقابل احادیث اور فقہی مسائل پرسے شدید لگاؤ ۔۔یہ شخصیت پرستی ہے۔
قرآن کا سب سے بڑا اعجاز ہی اس کا Impersonal ہونا ہے۔

اس اہم نکتے پر اور دیگر اسباب جو مسلمانوں کی اکثریت کو قرآن کے براہ راست مطالعے اور اس کے نتیجے میں عمل صالح کی تشکیل ترتیب اور تعمیل سے روکتے ہیں ان پر گفتگو ہوگی۔ ہم جس طرح  ایک عام کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے عادی ہیں ان سے یہ قرآن العظیم کیوں کر مختلف کتاب ہے ان سب وجوہات کو اللہ کی رضا شامل رہی تو ہم تیسری قسط میں بیان کریں گے۔

(دعائے ہدایت کی درخواست کے ساتھ جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *