• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حکومت کی اندرونی توڑ پھوڑ بمقابلہ سیاسی جوڑ توڑ ۔۔ غیور شاہ ترمذی

حکومت کی اندرونی توڑ پھوڑ بمقابلہ سیاسی جوڑ توڑ ۔۔ غیور شاہ ترمذی

شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں پیشہ ور بُکی اور بڑے طبقات میں پیسہ لگانے کے شوقین بڑے بھاؤ پر شرطیں لگا رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خاں کے اردگرد ایک مخصوص گروپ کی وجہ سے حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے لہذا اس روش سے تنگ آئے ہوئے اتحادی بشمول قاف لیگ اور جہانگیر ترین گروپ تو واضح طور پر بغاوت کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ ان میں مزید ایسے لوگوں کے شامل ہونے کی بھی توقع ہے جن کے بارے میں ابھی کسی کا گمان بھی نہیں ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خاں اور اُن کے پرنسپل سیکریڑی اعظم خان کے رویہ سے نالاں یہ سب گروپ اپوزیشن سے مل کر حکومت کے پیش کردہ بجٹ نامنظور کروانے کی کوشش کریں گے جو دراصل وزیراعظم عمران خاں حکومت پر عدم اعتماد کا ووٹ ہو گا۔ اس گروپ کی طرف سے عدم اعتماد اور بغاوت کی اس صورتحال کا ذمہ دار وزیر اعظم عمران خاں کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خاں کو قرار دیا جا رہا ہے جن کے خلاف پہلے جہانگیر ترین آواز اٹھا چکے تھے اور حال ہی میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدہ سے ڈی نوٹیفائی ہونے والی فردوس عاشق اعوان بھی ’’چُپ‘‘ نہ رہنے کا اعلان کر چکی ہیں۔ اعظم خاں اور تحریک انصاف سوشل میڈیا گروپ کی طرف سے فردوس عاشق اعوان پر دوسر ے الزامات کے ساتھ یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ انہوں نے “کام ڈاٹ” نامی ایک میڈیا ایڈورٹائزنگ کمپنی کو اشتہارات دینے کے عوض ان سے 10٪ کمیشن وصول کیا نیز وزارت اطلاعات اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 4, چار نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کی سفارشات سے منظور ہونے والی 10 کمپنیوں میں اس کو شامل کروایا حالانکہ یہ اس 8 رکنی کمیٹی کی طرف سے منظورکردہ 10 ایڈورٹائزنگ کمپنیوں میں شامل نہیں تھی-

جو احباب حکومتی سرکاری اشتہارات کو بنانے اور انہیں میڈیا پر چلانے کے عمل سے واقفیت نہیں رکھتے، ان کے لئے عرض ہے کہ ہر حکومت ملک بھر میں موجود ایڈورٹائزنگ کمپنیوں سے درخواستیں طلب کرتی ہے تاکہ 2 سال کے لئے حکومت نے جو ایڈورٹائزنگ میڈیا میں کروانی ہے، اس کی تیاری اور نشر و اشاعت کے لئے ان کمپنیوں میں سے 10 کمپنیاں شارٹ لسٹ کی جا سکیں- حکومت کی اس آفر کے جواب میں درجنوں ایڈورٹائزنگ کمپنیاں اپنی پریزنٹیشن اور کوٹیشن بناتی ہیں اور اسے حکومت کی بنائی کمیٹی میں منظوری کے لئے پیش کیا جاتا ہے- چونکہ حکومت کا ایڈورٹائزنگ کا بجٹ بہت بڑا ہوتا ہے اس لئے ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے مابین منتخب شدہ 10 کمپنیوں میں شارٹ لسٹ ہو کر شامل ہونے کے لئے شدید مسابقت بھی ہوتی ہے اور کمیٹی اراکین کو بھی رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- پچھلے سال 2019ء کو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو 18 اپریل کو بطور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات نوٹیفائی کیا گیا- ان کے ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے ہی وزارت اطلاعات کے 4 اراکین اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 4 اراکین پر مشتمل ایک 8 رکنی کمیٹی سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی نگرانی بنی ہوئی تھی- اس کمیٹی نے 19 اپریل یعنی فردوس عاشق اعوان کے بطور معاون خصوصی برائے اطلاعات تعنیاتی کے نوٹیفکیشن ہونے کے اگلے دن ہی یہ وزارت اطلاعات سے ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس میں ان 10 ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کی فہرست جاری کی گئی تھی جن سے وفاقی حکومت نے اگلے 2 سال کے دوران میڈیا ایڈورٹائزنگ کے لئے ڈیل کرنا تھا- جیسے ہی یہ نوٹیفکیشن جاری ہوا تو صرف 2 گھنٹوں میں ہی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے وزارت اطلاعات کو خط لکھا کہ اس فہرست میں کام ڈاٹ تو شامل ہی نہیں ہے- یہ کام ڈاٹ وہ ایڈورٹائزنگ کمپنی ہے جو پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کی ایڈورٹائزنگ سنبھالتی ہے- اس تعارف کے بعد قارئین کو یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ وزارت اطلاعات نے ان 10 کمپنیوں میں سے ایک کا نام نکالا اور ڈاٹ کام کا نام شامل کر دیا- اب جس کمپنی کا نام نکالا گیا، اس نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ پہلے نوٹس میں تو اس کا نام شامل تھا لیکن صرف 2 گھنٹوں میں جاری ہونے والے نئے نوٹس میں اس کا نام کیوں اور کن بنیادوں پر نکالا گیا ہے حالانکہ وہ کمپنی تو پورے مرحلہ میں پریزنٹیشن اور کوٹیشن وغیرہ دے کر شارٹ لسٹ ہوئی تھی جبکہ نئی کمپنی کام ڈاٹ کو کسی بھی مرحلہ میں شامل نہیں دیکھا گیا- اس احتجاجی ایڈورٹائزنگ کمپنی کو پھر طاقت والے خاموش کروانا جانتے تھے لہذا وہاں پر لمبی خاموشی طاری ہو گئی- واضح رہے کہ چونکہ یہ سب ایکشن فردوس عاشق اعوان کے ذمہ داری کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے صرف ایک دن بعد ہوا لہذا وہ اس میں ملوث نہیں تھیں اور نہ ہی اس وقت تک اپنے دفتر پہنچ کر کام شروع کر سکی تھیں-

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ 27 اپریل کی صبح کو انہیں وزیر اعظم عمران خاں کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خاں اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بلوایا اور ان پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے استعفٰی طلب کیا- فردوس عاشق اعوان نے جب استعفٰی دینے سے انکار کیا تو ان دونوں صاحبان نے دھمکی دی کہ انہیں کرپشن الزامات پر ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا اور ان کی کرپشن کہانیوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا سیل کے لوگ اشارے  کے منتظر ہیں- فردوس عاشق اعوان نے اے آر وائی کے اینکر عدیل عباسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انکار پر اعظم خاں نے انہیں کہا کہ وہ ان کے دفتر میں اونچا مت بولیں- وہ 43 دوسری منسٹریز کو بھی ڈیل کرتے ہیں لیکن کسی نے کبھی یوں شور نہیں کیا جیسے وہ کر رہی ہیں- فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اعظم خاں کو صاف کہہ دیا کہ وہ ایک سیاستدان ہیں جو پچھلے 20 سال سے زیادہ عرصہ سے الیکشن لڑ رہی ہیں- انہوں نے عوام میں جانا ہے اور وہ حکومت میں پہلے بھی رہ چکی ہیں- جن دوسرے 43 وزیروں مشیروں کی بات اعظم خاں کر رہے ہیں، یہ پہلی دفعہ حکومت میں آئے ہیں اور شاید وہ اعظم خاں کے غیر آئینی ہتھکنڈوں سے مرعوب ہو جاتے ہوں گے لیکن وہ ہرگز ان دھمکیوں میں نہیں آئیں گی- اس گفتگو کے بعد فردوس عاشق اعوان وہاں سے استعفی دئیے بغیر آٹھ آئیں اور ایک میٹنگ میں پہنچی ہی تھیں کہ ان کی عہدے سے برخواستگی کی خبر ٹی وی چینلز پر چلنا شروع ہو گئی-

فردوس عاشق اعوان کے ڈی نوٹیفائی ہونے کی خبر چلنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ان کی کرپشن کہانیاں بیان ہونا شروع ہو گئیں- خصوصاََ یہ کہا گیا کہ فردوس عاشق اعوان نے کام ڈاٹ کو حکومت کی منتخب شدہ کمیٹیوں میں شامل کروایا اور انہیں بزنس دینے کے عوض 10٪ کمیشن طلب کیا- فردوس عاشق اعوان کا دعویٰ ہے کہ کام ڈاٹ کو ان کی ذمہ داری کے دوران صرف ایک بزنس ملا جو فروری 2020ء میں تھا- اس کے بعد تو کورونا وائرس کی وجہ سے کسی کو بھی حکومتی ایڈورٹائزنگ بزنس نہیں ملا- الزام لگانے والے بتائیں کہ اس بزنس سے انہوں نے کتنے ملین کی کرپشن کی جس کا واویلا مچایا جا رہا ہے- فردوس عاشق اعوان پر دوسرا الزام پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ٹیلی ویژن میں اپنے حلقہ سیالکوٹ کے لوگ بھرتی کروانے کا الزام ہے- انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے ان کی ذمہ داری کے دوران ان محکموں میں بھرتی ہونے والوں کے ڈومیسائل نکلوا کر بتائیں کہ کتنے لوگ سیالکوٹ کے تھے-

فردوس عاشق اعوان کے اس زوردار انٹرویو کی دھمک بہت دور تک پہنچی۔ پہلے تو فردوس عاشق کی ٹیلی فون کالز اور میسجز کا جواب بھی وزیر اعظم عمران خاں نہیں دے رہے تھے لیکن اس انٹرویو کے بعد خود وزیراعظم عمران خاں نے کال کی اور انہیں اعظم خاں کے معاملہ میں خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ فردوس عاشق اعوان نے وزیر اعظم عمران خاں کی فون کال آنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خاں کی بہت عزت کرتی ہیں لیکن وہ اپنے اوپر لگے الزامات کا دفاع کریں گی اور چپ نہیں رہیں گی۔جہانگیر ترین پر لگنے والے الزامات کے بعد ان کی چپ کی وجوہات ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ کاروبار کرتے ہیں اور وہ حکومتی اداروں کے ساتھ مستقل بنیادوں پر ’’پنگا‘‘ نہیں لے سکتے جبکہ فردوس عاشق اعوان کے اس طرح کے معاملات نہیں ہیں۔ان کی سیاسی زندگی کی بقاء کا دارومدار الیکشن لڑنے پر ہے۔ اگر وہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کی ٹرولنگ کے جواب میں خاموش رہتی ہیں تو وہ اگلے الیکشن میں اپنے ووٹرز کے پاس نہیں جا سکتیں-

تحریک انصاف کی اندروانی توڑ پھوڑ کے درمیان ہی اپوزیشن نے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ ظاہر کیا ہے۔اپوزیشن کی اس سیاسی چال کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف وکیل اور سیاسی راہنما ساجد تھیم کا کہنا ہے کہ آج کی تاریخ میں تحریک انصاف کی عمران خاں حکومت کی تین سب سے بڑی خامیاں اگر کسی بھی سیاسی شعور رکھنے والے پاکستانی سے پوچھیں تو وہ ان کی نشاندہی یوں کرے گا کہ:

1۔ کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی۔ حکومتی نظام کے تہس نہس ہونے کا ثبوت۔

2- معاشی صورتحال کی شدید ابتری اور کورونا وائرس کے حملوں کے باوجود بھی آئی ایم ایف، ورلڈ بنک وغیرہ سے قرض معاف کروانے کے لئے دوست ممالک چین وغیرہ کی مدد سے مؤثر لابنگ کرنے میں ناکامی-

3- تمام اپوزیشن جماعتوں سے شدید ترین محاذ آرائی-

ساجد تھیم صاحب کے تجزیہ کے ناقدین اور تحریک انصاف کے حامیوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنی حکومت کی ان تمام خامیوں کو اپنی خوبیاں بیان کر کے پیش کریں- ان کا کہنا ہے کہ:

1۔ آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد صحت کا سارا نظام تو صوبوں کے پاس ہے، اس لئے وفاقی حکومت کا کردار صرف مشاورتی نوعیت کی حد تک محدود رہ جاتا ہے- وفاقی حکومت نے مگر اس کے باوجود بھی چین سے وافر مقدار میں کورونا وائرس کے علاج کے سلسلہ میں حفاظتی کٹس، ماسک، گلوز، سینی ٹائزر، فیس شیلڈ، آئی سی یو وارڈز کا سامان اور وینٹی لیٹرز منگوا کر صوبوں کے حوالہ کر دئیے تھے- (یہاں تحریک انصاف کے دوست ایک تصحیح کر لیں کہ چین سے آنے والا یہ سارا سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی -NDMA- کے حوالہ کیا گیا تھا نہ کہ صوبوں کے- اس کے بعد یہ NDMA کے بابو لوگوں کی مرضی تھی کہ کس سول ہسپتال کو یہ مل سکا اور کس کو نہیں)- تحریک انصاف کے دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ لاک ڈاؤن پر عمل کروانا بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے- میرے انصافی دوست اس سوال کا جواب دینے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہیں کہ جب سندھ حکومت 12 مارچ سے ہی سخت لاک ڈاؤن کم کرفیو کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی تھی تو پھر یہ 26 مارچ کو کیونکر لگایا گیا، وہ بھی طوعا” و کرہاً اور سندھ کی پیپلز پارٹی حکومت کو سینکڑوں صلواتیں سنانے کے بعد-

2۔ معاشی صورتحال میں ابتری کو تو انصافی دوست تسلیم ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ پچھلے 72 سالوں کے گند اور کرپشن کی صفائی کے بعد وہ معاشی نظام میں اصلاحات کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شرح  نمو میں شدید کمی اور افراط زر میں شدید زیادتی ظاہر ہو رہی ہے- اب تحریک انصاف نے ان معاملات کو تقریباً سدھار لیا ہے اور بہت جلد عوام دیکھیں گے کہ ملک کیسے صحیح ٹریک پر چڑھتے ہوئے ترقی کی منازل دن دگنی اور رات چوگنی رفتار سے طے کرتا ہے- آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دوسرے اداروں سے کورونا وائرس کی وجہ سے الٹتے پلٹتے معاشی نظام کی بنیاد پر قرض معافی کی کوششیں نہ کرنے کے الزام کو انصافی دوست بچگانہ الزام کہتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے دئیے گئے قرضوں کی معافی اس طرح نہیں ہوا کرتی اور تحریک انصاف حکومت کی کوششوں سے آئی ایم ایف نے پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرض اور اس پر لاگو سود ایک سال کے لئے ملتوی کر دیا ہے- مگر انصافی دوست اس اطلاع پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے 25 ممالک کے قرض معافی کی درخواستوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے- وہ یہ سن کر بھی کوئی جواب نہیں دیتے کہ آئی ایم ایف کہتی ہے کہ پاکستان کی طرف سے کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے معیشت کے شدید متاثر ہونے کی وجہ سے قرض معافی کی کوئی درخواست مقررہ تاریخ کے اندر موصول نہیں ہوئی-

3۔ اپوزیشن جماعتوں سے شدید محاذ آرائی کے سوال پر انصافی دوست کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی بنیاد ہی کرپشن کے خلاف جدوجہد اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے اصولوں پر مبنی ہے- وہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کی لیڈرشپ پچھلے 72 سالوں سے ملک پر قابض رہی ہے اور خصوصاً تحریک انصاف حکومت کے قیام سے پہلے 33 سالوں کے دوران دونوں جماعتوں نے کرپشن کی انتہا کر دی تھی- اس لئے وزیر اعظم عمران خان ان سے اس وقت تک کسی قسم کی مصالحت نہیں کریں گے جب تک ان دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ لوٹی ہوئی ملکی دولت واپس قومی خزانہ میں جمع نہیں کرواتے- اس ضمن میں انصافی دوست کسی عدالت، قانون اور اصول کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ جب تک کوئی الزام ثابت ہی نہ ہو تو کسی کو چور، ڈاکو کیسے کہہ سکتے ہیں- انصافی دوست اس سوال کا بھی جواب نہیں دیتے کہ ان ہی دونوں پارٹیوں کے وہ ممبران کیسے پاک، صاف اور ایماندار ہو جاتے ہیں جو تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں یا تحریک انصاف حکومت کی حمایت کرنا شروع کر دیں-

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے معاملے پر قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے جو پیر کو تین بجے سہ پہر شروع ہوگا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اجلاس ایک دن کے وقفے سے جاری رہے گا جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں کی میٹنگ میں طے ہوا ہے کہ اس اجلاس میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی اور اسے صرف کورونا وباء اور اُس کا مقابلہ کرنے کی پالیسیاں بنانے تک ہی محدود رکھا جائے گا۔چونکہ اس اجلاس میں کسی اور معاملہ پر بحث کی گنجائیش نہیں ہے لہذٰا اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وفاقی حکومت کی کورونا سے نمٹنے میں ناقص کارکردگی پر شدید تنقید کی توقع کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو اس اجلاس کے دوران ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرنے اور حکومت کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا بھی وقت ملے گا۔ اس مہینے کے اختتام پر جو بجٹ اجلاس ہو گا، اُس کے بارے میں سیاسی پنڈت تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا اس اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتیں حکومتی نشستوں سے وزیراعظم عمران خاں کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خاں کے رویہ سے دلبرداشتہ اراکین کو اپنی حمایت کے لئے تیار کر سکیں گی؟۔ ماحول تو یقیناً  بنا ہوا ہے مگر اپوزیشن جماعتوں میں ابھی تک مشترکہ حکمت عملی بنانے کے ضمن فقدان نظر آ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی قیادت جب تک اس ضمن میں باہم مل کر نہیں بیٹھتی، اُس وقت تک حکومت کے خلاف کسی بڑے فیصلہ کے بارے میں کئے گئے تمام تجزئیے اور تبصرات بے معنی رہیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *