• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کوئی ہے جو وزیراعظم کو بتائے؟ ۔۔محمد اظہار الحق

کوئی ہے جو وزیراعظم کو بتائے؟ ۔۔محمد اظہار الحق

خاتون عمر رسیدہ تھی! مجھ سے اور میری اہلیہ سے بھی زیادہ معمر! نحیف بھی!
ہم دونوں نے جہاں تک ممکن تھا، اس کا خیال رکھا۔ جہاز بھرا ہوا تھا۔ کبھی کبھی خوش قسمتی سے دو نشستیں ایک ساتھ خالی مل جاتی ہیں مگر اُس دن یہ لاٹری بھی نہ نکلی۔ عمر رسیدہ خاتون کو کھانا نہ بھایا۔ ایئر ہوسٹس سے کہہ کر دوسرا منگوا کر دیا۔ پندرہ گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ کہنا آسان ہے مگر پندرہ گھنٹے اکانومی کی نشست پر بیٹھنا سزا سے کم نہیں! خاتون جب بھی کروٹ بدلنے کی کوشش کرتی اس کے منہ سے ایک خفیف سی ہائے نکلتی!پندرہ گھنٹے بعد جہاز دبئی کے ہوائی اڈے پر اترا۔ یہاں بارہ گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ بارہ گھنٹے یعنی صبح سے شام تک! شاید غالب بھی کسی ایسے ہی ٹرانزٹ میں تھے جب کہا ؎
کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
بارہ گھنٹے بعد اسلام آباد کی پرواز میں بیٹھے۔ مزید ساڑھے تین گھنٹے۔ گویا سڈنی سے اسلام آباد تک تیس گھنٹے کا نسخہ!!سفر کی یہ مدت ”اتحاد‘‘ اور ”ایمیریٹ‘‘ کے جہازوں سے آنے جانے میں ہے۔ اگر تھائی ایئر لائن سے براستہ بنکاک آئیں تو دورانیہ کم ہوگا مگر وہ بھی چھبیس گھنٹے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کہ بنکاک میں بھی بارہ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے!کیا یہ چھبیس یا تیس گھنٹے ناگزیر ہیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! چند دن پہلے ایک خصوصی پرواز لاہور سے میلبورن گئی تاکہ پاکستان میں پھنسے ہوئے آسٹریلیا کے شہریوں کو واپس وطن پہنچایا جائے۔ اس پرواز کا کل دورانیہ صرف بارہ گھنٹے کا تھا۔
آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانی تارکین وطن کا المیہ یہ ہے کہ ان کا کوئی والی وارث نہیں! قومی ایئر لائن کا جہاز ایک زمانے میں بنکاک تک جاتا تھا۔ اب وہ بھی نہیں! ترقیٔ معکوس ہو رہی ہے۔ اب صرف احساسِ تفاخر باقی رہ گیا ہے کہ ایک زمانے میں ہماری ایئر لائن میں جیکولین کینیڈی سفر کرتی تھیں۔ پدرم سلطان بود! آج ہمارے پلّے کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں سوائے ان فخریہ داستانوں کے کہ فلاں ٹاپ کی ایئر لائن کو اُڑنا ہم نے سکھایا تھا اور فلاں کو تربیت ہماری ایئر لائن نے دی تھی! وہی انداز کہ ہزار سال پہلے ہمارے ہاں بھی سائنسدان تھے جو ایجادات اور دریافتیں کیا کرتے تھے!
تازہ ترین صورت احوال یہ ہے کہ پاکستانی تارکین وطن نے حکومت پاکستان سے اور آسٹریلیا میں تعینات پاکستانی سفیر سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی ایئر لائن کی باقاعدہ سروس شروع کی جائے!یہ مطالبہ غیر معقول نہیں! ہرگز نہیں! آسٹریلیا میں اس وقت تقریباً نوے ہزار پاکستانی تارکین وطن مقیم ہیں۔ انہیں ملنے کے لئے اور ان کے پاس کچھ عرصہ رہنے کے لئے جو متعلقین آتے ہیں انہیں بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ سے بڑھ جاتی ہے! ہفتے میں ایک فلائٹ میلبورن سے اور ایک سڈنی سے بآسانی آغاز کی جا سکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہفتے میں دو دو فلائٹیں بھی بزنس کے نقطۂ نظر سے نفع کا سودا ثابت ہوں گی! مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مطالبات پر کوئی غور کرے گا؟ دوسرے ملکوں کی طرح آسٹریلوی تارکین وطن نے بھی عمران خان اور ان کی پارٹی کے لئے انتھک کام کیا تھا۔ دامے، درمے، سخنے، ہر طرح سے حمایت کی۔ انجمنیں بنائیں۔ کینویسنگ کی۔ ووٹ دیئے۔ یہ تحریک انصاف کی حکومت سے اور کچھ مانگتے بھی نہیں۔ اگر ان کے لئے یہ حکومت کچھ کر سکتی ہے تو یہی ایک مطالبہ ہے جو پورا کر دے۔ یہ مسافر تیس تیس گھنٹے کی اذیت اور دوسری ایئر لائنوں کی محتاجی سے چھوٹ جائیں۔
آسٹریلیا کے تارکین وطن کا جو مطالبہ معروف ادیب اور سفر نامہ نگار طارق مرزا کی وساطت سے دیکھنے میں آیا ہے اس میں پاکستانی سفیر سے بھی اس ضمن میں مدد مانگی گئی ہے! یہ بھی خوب رہی! ہمیں نہیں معلوم ان دنوں وہاں کون صاحب اس منصب پر فائز ہیں مگر ماضی میں اس عہدے پر براجمان افسران براؤن صاحب ہی ثابت ہوئے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون سفیر تھیں۔ وہ اپنی ہی ہوا میں رہتی تھیں۔ جو نیچے سے بابو نے لکھ دیا یا بتا دیا، اسی کو پتھر پر لکیر سمجھ لیا۔ وہاں کے کچھ احباب نے جب اس سلسلے میں اُس وقت رابطہ کیا تو وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا تھے۔ اُن کا خوشگوار طرزِ عمل حیرت کا سبب بنا۔ مسئلہ نہ صرف سُنا، حل کرنے کی کوشش کی اور پھر ٹیلی فون کر کے آگاہ بھی کیا۔ یہ وہ وصف ہے جو ہمارے اکثر بیورو کریٹس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت مند سے خود رابطہ کرنے میں تزک و احتشام کم نہیں ہوتا، زیادہ ہوتا ہے۔ جناب جلیل عباس جیلانی کا طرزِ عمل بھی اس حوالے سے مثالی رہا۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ آسٹریلیا میں متعین پاکستانی سفرا میں مقبول ترین سفیر تھے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ سیکرٹری خارجہ کے طور پر بھی وہ ہر ای میل کا جواب دیتے تھے اور واپس کال بھی کرتے تھے۔ یہ اس کالم نگار کا ذاتی تجربہ ہے۔ اس کے بعد پھر وہی لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور! کچھ ماہ پہلے چند لوگ موجودہ سیکرٹری خارجہ سے ملنے کے خواہش مند تھے۔ یہ وہ بدقسمت تھے جن کے بیٹے اور قریبی اعزہ شام اور عراق میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ کردُوں کی تحویل میں ہیں اور کچھ دوسرے گروہوں کے قبضے میں! موجودہ سیکرٹری خارجہ سے بات تک نہ ہو سکی۔ اس کالم نگار نے بھی کوشش کی مگر موجودہ سیکرٹری خارجہ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ کچھ معلوم نہیں یہ پاکستانی وہاں کس حال میں ہیں۔ اگر وزارت خارجہ کے پاس ایسے پاکستانیوں کے لئے وقت نہیں جو دوسرے ملکوں میں یا نو گو ایریاز میں مقید ہیں تو وزارت خارجہ کم از کم یہ تو بتا دے کہ متعلقین کس کے پاس جائیں؟ کہاں فریاد کریں؟ دنیا کے معزز ممالک اپنے کسی بھی شہری کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑتے۔ ہم پاکستانیوں نے ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں۔ برطانیہ ہی کی مثال لے لیجئے۔ پاکستانی نژاد برطانویوں کے لئے برطانیہ کا سفارت خارجہ ہمیشہ سرگرم کار رہا اور مصیبت میں ہمیشہ ان کے کام آیا۔ سنگاپور میں جب ایک امریکی لڑکے کو بید مارنے کی سزا کا اعلان ہوا تو امریکی صدر نے خود سنگاپور کے صدر کو فون کیا اور یوں سزا چھ بید سے کم کر کے چار بید کر دی گئی!
کیا آسٹریلیا میں تعینات پاکستانی سفیر، پاکستانی تارکین وطن کی اس معاملے میں، یعنی براہ راست پروازیں شروع کرنے کے معاملے میں مدد کریں گے اور کیا اوپر کی سطح پر کچھ سلسلہ جنبانی کریں گے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا! مگر امید مثبت رکھنی چاہئے!
ایئر انڈیا کی دہلی سے براہ راست سڈنی میلبورن اور پرتھ کے لئے پروازیں ایک عرصہ سے چل رہی ہیں، بجا کہ بھارتی تارکین وطن کی تعداد، پاکستانی تارکینِ وطن سے زیادہ ہے مگر پاکستانی تارکینِ وطن کی تعداد اتنی کم بھی نہیں کہ قومی ایئر لائن کو براہ راست پرواز شروع کرنے میں گھاٹے کا امکان ہو۔ ابتدا میں صرف سڈنی سے براہ راست لاہور یا اسلام آباد کے لئے پرواز شروع کی جا سکتی ہے۔ آغاز ہو تو سہی!
کوئی دوزخ، کوئی ٹھکانہ تو ہو
کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو
اپنے ملک کو اکثر میدانوں میں دوسروں سے پیچھے دیکھ کر کلیجہ شق ہونے لگتا ہے! ایمیریٹ ایئر لائن کے ایک افسر نے بتایا کہ سال میں کئی بار افرادی قوت کی بھرتی کے لئے ایمیریٹ کا ادارہ بھارت کے چکر لگاتا ہے‘ امیدواروں کے انٹرویو لیتا ہے اور ملازمتیں پیش کرتا ہے۔ ایسا پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیوں نہیں ہو رہا؟ اس لئے کہ متعلقہ ادارے جذبہ و جوش سے عاری ہیں! حب وطن کے لئے کام کرنے کی سپرٹ مفقود ہے۔ تہتّر برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ اس سے کم عرصہ میں بھی کئی ملک اندھیروں سے نکل کر روشنی میں نہا رہے ہیں۔ خدانخواستہ ہمارا حال اُس دو سالہ چوہے کی طرح نہ ہو جس نے ہاتھی کا دو سالہ بچہ دیکھ کر صفائی پیش کی تھی کہ عمر تو میری بھی اتنی ہی ہے مگر میں ذرا بیمار شیمار رہا ہوں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *