• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نورالدین جہانگیر سلطنت مغلیہ کا چوتھا فرمانروا۔۔مہرساجدشاد

نورالدین جہانگیر سلطنت مغلیہ کا چوتھا فرمانروا۔۔مہرساجدشاد

نورالدین جہانگیر اپنے والد جلال الدین اکبر کی وفات کے بعد24اکتوبر 1605ء کو تخت نشین ہوا۔ شہنشاہ اکبر بے اولاد تھا ابوالفضل کے مشورے سے ایک بزرگ شیخ سلیم چشتی سے دعا کی گزارش کی تو انہوں نے دعا دی کہ اللہ تمہاری آرزو پوری کرے تمہیں تین بیٹوں سے نوازے۔ 30اگست 1569ء میں جےپور کی راجپوت راجکماری جودھا بائی عرف مریم زمانی کے ہاں اسکی پیدائش ہوئی بزرگ کے نام پر ہی سلیم نام رکھا گیا، اکبر اسے پیار سے شیخوبابا کہا کرتا تھا، اکبر نے خوشی میں خزانوں کے منہ کھول دئیے، قیدی رہا کئے اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے مزار پر پیدل حاضری سے اپنی منت پوری کی۔ اسکے بعد دو اور بیٹے مراد اور دانیال پیدا ہوئے۔

شہنشاہ اکبر کو اپنے ان پڑھ ہونے کے نقصانات کا اندازہ تھا اسی لئے بیٹوں کی تعلیم کا عمدہ بندوبست کیا، قابل ترین اساتذہ نے عربی فارسی ترکی ہندی سنسکرت ریاضی جغرافیہ موسیقی اور تاریخ کی تعلیم دی۔ شہزادہ سلیم ذہین تھا جلد ہی امور سلطنت میں بھی دلچسپی لینے لگا، نو سال کی عمر میں دس ہزار پیادہ فوج کا منصب دار بنا اور الہ آباد کی جاگیر کا مالک بنا۔ جلال الدین اکبر کے تینوں بیٹے سلیم ، مراد اور دانیال تینوں کثرت سے شراب نوشی کرتے تھے، اکبر انہیں اس عادت سے نہ روک سکا اور عین شباب میں شہزادہ مراد اور شہزادہ دانیال کثرت شراب نوشی سے جان سے گئے لیکن شہزادہ سلیم نے پھر بھی اپنی عادت نہ بدلی اوردو دفعہ کشید کی ہوئی شراب کے ایک دن میں 20 پیالے پی جاتا، اسکی یہ حالت ہو گئی کہ آخری عمر میں خود شراب کا پیالہ منہ تک نہ لے جا سکتا تھا۔ شہزادہ سلیم رنگین مزاج تھا عیش و عشرت اور رنگرلیاں منانے کا عادی تھا، اس نے متعدد نکاح بھی کئے، کئی خفیہ اور کئی منظر عام پر آئے، اسکی پہلی شادی سولہ سال کی عمر میں راجہ بھگوان داس والئ امبر کی بیٹی مان بائی عرف شاہ بیگم سے ہندو اور مسلم دونوں طریقوں سےہوئی، 17 سال کی عمر میں دوسری شادی راجہ اودھے سنگھ کی بیٹی سے ہوئی، تیسری شادی ایرانی رئیس خواجہ حسین کی بیٹی سے ہوئی، چوتھی شادی راجہ گیسو داس کی بیٹی سے ہوئی، پانچویں شادی اپنے استاد قائم خان عرب کی بیٹی سے کی، اسکی چھٹی شادی تخت نشینی کے بعد مہرالنساء بیگم (نورجہاں) سے ہوئی۔

شہزادہ سلیم کو اپنے باپ اکبر سے یہ شکایت تھی کہ اسے ولی عہد کے شایان شان عزت نہیں دی گئی، اسے خدشہ تھا کہ شہنشاہ اکبر اس کی بجائے اپنے پوتے یعنی سلیم کے بیٹے خسرو کو ولی عہد بنانا چاہتا ہے۔ اسکے باغیانہ رویوں سے تنگ آ کر شہنشاہ اکبر نے اسے گرفتار کرنے کیلئے ابوالفضل کو بھیجا جسے شہزادہ سلیم (جہانگیر) نے قتل کر دیا نتیجتاً  اکبر نے اپنے پوتے خسرو کو جانشین مقرر کر دیا لیکن پھر شہزادہ سلیم نے سوتیلی ماں سلیمہ بانو بیگم کی کوششوں سے اپنی دادی کے ہمراہ شہنشاہ اکبر کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگی اور صلح کی، لیکن تعلقات اچھے نہ ہو سکے۔ شہزادہ خسرو اپنے دادا اکبر کے مذہب کا حامی تھا یہی وجہ اس کے شہنشاہ بننے میں رکاوٹ بنی اور حضرت مجدد الف ثانی کے مرید امراء جن میں شیخ فرید، عبدالرحیم خانخاناں، سید صدر جمال، اور نہایت خان نے شہزادہ سلیم سے عہد لیا کہ اگر وہ تخت نشین ہو گا تو اسلامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے گا اور اپنے سیاسی مخالفین کو معاف کرے گا، اس عہد کے بعد شیخ فرید نے شہنشاہ اکبر سے صلح کروا کے اسکی دستار بندی اور خاندانی تلوار دے کر باقاعدہ جانشین مقرر کروایا۔

اکبر کی وفات کے بعد وہ نورالدین جہانگیر بادشاہ غازی کے لقب سے تخت نشین ہوا اور کئی روز تک جشن منایا، قیدیوں کو رہا کیا، اپنے نام کا سکہ جاری کیا، مخالفین سے نرمی برتی، ابوالفضل کے بیٹے کو دوہزاری منصب پر ترقی دی، جشن نو روزہ بھی اٹھارہ دن تک عیش وعشرت سے منایا گیا اور بادشاہ نے رنگ رلیاں منائیں۔ لیکن سلطنت میں جو فوری اصلاحات نافذ کیں وہ کچھ یوں تھیں۔

چونگی اور دیگر علاقائی جاگیردارانہ محاصل منسوخ کر دئیے۔ سڑکیں مساجد کنویں اور سرائیں تعمیر کروانے کا حکم دیا۔ شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کی فروخت اور استعمال پر پابندی لگا دی ( یہ پابندی عوام کیلئے تھی) وراثت کے قوانین پر سختی سے عمل کا حکم دیا۔ سرکاری شفا خانے ہر شہر میں بنانے اور مفت علاج کا حکم دیا۔ جمعرات ہفتہ اور اتور کو جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگا دی۔ مجرموں کے ناک کان کاٹنے کی سزائیں منسوخ کر دیں۔ بعد ازاں لاہور تا آگرہ سڑک کے دونوں جانب سایہ دار درخت لگائے گئے، ہر کوس کے فاصلہ پر ایک کوس مینار اور ایک کنواں تعمیر کروایا۔ ایک زنجیر عدل دریائے جمنا کے کنارے سے قلعہ آگرہ کے شاہی محل تک بندھوا دی تاکہ کوئی بھی اسے کھینچ کر بادشاہ کو اطلاع دے سکے، یہ تیس گز لمبی چار من وزنی خالص سونے سے بنی زنجیر تھی جس کیساتھ 60 گھنٹیاں شاہی محل میں تھیں۔ بادشاہ خود اس فریادی کی فریاد سنتا۔

شہنشاہ اکبر نے تمام شمالی ہندوستان جنوبی ہندوستان کا ایک حصہ ، کابل اور قندھار پر قبضہ مضبوط کر رکھا تھا، راجپوتوں کی حمایت حاصل کر کے داخلی مسائل کو کم کر دیا تھا یوں جہانگیر کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہ تھا، لیکن اسے تخت نشین ہوئے چھ ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ اسکے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی، لاہور پر قبضہ کرنے کی ناکامی کے بعد جالندھر کے قریب بھیرودال پر جنگ میں خسرو کی شکست اورایک بڑی خونریزی کیساتھ اس بغاوت کا اختتام ہوا۔ جہانگیر نے شہزادہ خسرو کو گرفتار کر کے ایک ہندو سردار انی رائے کی نگرانی میں دے دیا، جسے بعد ازاں شہزادہ خرم (شاہجہاں) نے قتل کردیا۔

شہزادہ سلیم (جہانگیر) اور نورجہاں کی شادی ایک الگ داستان ہے مختصر یہ کہ شاہ ایران کے ایک گورنر خواجہ شریف کا بیٹا غیاث الدین اپنے بیوی بچوں کیساتھ جلاوطن ہو کر دربدر ہوتا ہوا دربار اکبر تک پہنچ گیا، اسکی بیوی شاہی محلات میں داخل ہو گئی اور بیٹی مہرالنساء جو جاذب نظر حسین تعلیم یافتہ فنکارانہ ذوق کیساتھ ذہانت جرات اور تنظیمی صلاحیت سے مالا مال تھی وہ بھی محلات میں مقبول ہو گئی۔ یہاں شہزادہ سلیم سے اسکا تعارف ہوا جب اس نے پھول توڑنے کیلئے اپنے دو کبوتر مہرالنساء کو پکڑائے ایک کبوتر اڑ جانے پر سلیم نے پوچھا یہ کیسے اڑ گیا تو مہرالنساء نے معصومیت سے دوسرا بھی ہاتھوں سے چھوڑ دیا اور کہا کہ یوں اڑ گیا اس بے ساختہ پن پر شہزادہ سلیم فدا ہو گیا۔

مرزا غیاث نے شہنشاہ اکبر کے دباو پر اپنی بیٹی کی شادی ایرانی مہاجر علی قلی خان سے کر دی جو مغل فوج میں کماندار تھا جسے اکبر نے بردوان کا صوبہ دار بنا کر بنگال بھیج دیا اور یوں مہرالنساء اور شہزادہ سلیم جدا ہو گئے، لیکن یہ محبت چنگاڑی بنی رہی اور بادشاہ بنتے ہی اس نے علی قلی کو راستہ سے ہٹانے کیلئے سازش سے اس کا مقابلہ شیر سے کروایا لیکن وہ شیر کو مار کر شیرافگن کا خطاب بھی لے گیا اب شہنشاہ جہانگیر نے اپنے خاص آدمی قطب الدین کو بنگال کا گورنر بنا کر بھیجا اور علی قلی پر غداری کا الزام لگا کر اسے قتل کر دیا، اسکے خاندان کو نظر بند کر کے آگرہ بھیج دیا۔ شہنشاہ جہانگیر نے شادی کا پیغام بجھوایا لیکن مہرالنساء نے انکار کر دیا آخر چار سال کی محنت اور چالوں کے بعد وہ اپنی ماں کے زریعے مہرالنساء کو منانے میں کامیاب ہوا۔ مئی 1611ء میں انکی شادی ہو گئی شہنشاہ جہانگیر نے اسے پہلے نور محل اور پھر نورجہاں کا خطاب دیا۔

نورجہاں نے بادشاہ کی دیوانگی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اسکے باپ مرزا غیاث کو اعتمادالدولہ اور بھائی ابوالحسن کو آصف جاہ کا خطاب ملا، 1622ء تک وہ اپنے والد کے زیر اثر رہی اور ریاست کے امور میں بہت بڑے مسائل نہ ہوئے لیکن اسکے بعد نورجہاں نے سیاسی اختیارات پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے بھائی آصف جاہ سے بھی تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ آصف خان کی بیٹی کی شادی شہنشاہ جہانگیر کے بیٹے شاہ جہاں سے ہوئی جبکہ نورجہاں کی بیٹی (جو شیرافگن علی قلی سے تھی) لاڈلی بیگم کی شادی شہنشاہ جہانگیر کے چھوٹے بیٹے شہریار سے ہوئی، نورجہاں اپنے داماد کو شہنشاہ بنوانا چاہتی تھی جبکہ آصف خان اپنے داماد شاہجہاں کو تخت پر دیکھنا چاہتا تھا اس چپقلش نے چند سالوں میں مغلیہ سلطنت کے جاہ و جلال کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں،اس سے پیشتر شہزادہ خسرو کے قتل میں بھی نورجہاں کا اہم کردار تھا، اسی طرح مہابت خان اور شہزادہ خرم کی بغاوتیں بھی نورجہاں کی سازشوں کا نتیجہ تھیں۔ شاہی دربار میں خوف و ہراس پھیل گیا جو شخص ذرا نمایاں ہوا یا شہنشاہ کے سامنے حالات کی درست آگاہی پیش کرنے کی کوشش کی وہ نورجہاں کی سازش کا نشانہ بنا، حتی کہ حضرت مجدد الف ثانی بھی اس کے عناد سے نہ بچ سکے، سلطنت تباہی کے کنارے آ پہنچی۔

جہانگیر کے دور کے آخری سالوں میں نورجہاں نے شاہجہاں کو حکم جاری کروا دیا کہ وہ قندھار چلا جائے وہ صورتحال سے اگاہ تھا کہ اسے دارالحکومت سے دور بھیجنے کا مقصد تخت پر قبضہ ہے اس لئے اس نے قندھار جانے سے انکار کر دیا۔ 1623ء میں شاہجہاں اور شاہی فوج میں تصادم ہوا اور اسکا اہم حامی راجپوت راجہ بکرم اجیت مارا گیا۔ شاہجہان کو دکن فرار ہونا پڑا ، نہایت مشکل وقت گزار کر بالآخر بنگال اور بہار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا، اودھ پور اور الہ آباد پر حملہ کیا اور شکست کھائی، شاہجہاں کو کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو اس نے اپنے باپ شہنشاہ جہانگیر سے معافی مانگ لی، اسکی خوش قسمتی تھی کہ مہابت خان کی قوت بڑھتی جارہی تھی جسے روکنے کیلئے نورجہاں نے بھی اسکی حمایت کی اور اسے معاف کردیا گیا۔

مہابت خان شہزادہ پرویز کا حامی تھا نور جہاں نے اسے راستہ سے ہٹانے کیلئے حکم جاری کروایا کہ وہ برہان پور میں شہزادہ پرویز کو چھوڑ کر دارلحکومت آ جائے، یہاں آ کر مہابت خان پر بنگال سے حاصل کردہ مال غنیمت میں بددیانتی اور غبن کے الزامات لگا دئیے گئے اسکے داماد کیساتھ بھی نورجہاں نے توہین آمیز سلوک کیا، مہابت خان نے دلبرداشتہ ہو کر پانچ ہزار راجپوت سواروں کیساتھ شہنشاہ جہانگیر پر حملہ کر دیا جو اس وقت کابل جارہا تھا، شاہی خیمے کو گھیر کر جہانگیر کو قید کر لیا گیا۔ نورجہاں نے وہاں فوج کیساتھ آ کر جنگ کی کوشش کی لیکن دریائے جہلم کے کنارے فوج پھنس گئی کیونکہ راجپوت سپاہی ان پر تیر برسا کر دریا پار کرنے سے روک دیتے شاہی فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ وہ ٹھٹھہ کی طرف بڑھے تو شاہجہان نے ان کا خزانہ لوٹ لیا مہابت خان کیلئے بغیر وسائل لڑنا مشکل تھا اس لیے وہ دکن کی طرف چلا گیا یوں شہنشاہ جہانگیر کو اسکی قید سے رہائی ملی، دکن جا کر مہابت خان نے شہنشاہ جہانگیر سے صلح کا معاہدہ کر لیا۔

نورجہاں شہنشاہ جہانگیر کی وفات کے اٹھارہ برس بعد تک شاہی قلعہ لاہور میں قیام پزیررہی، شاہجہان نے سالانہ دو لاکھ روپے وظیفہ مقرر کیا۔ اسکے معمولات میں روزانہ شوہر کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے جانا اور غریب یتیم لڑکیوں کی تعلیم اور شادی کا اہتمام کرنا شامل تھا۔ نورجہاں نے اپنی زندگی میں اپنے اخراجات سے لاہور میں اپنے بھائی کے مقبرے کے قریب مقبرہ تعمیر کروایا اور وہیں دفن ہوئی۔ نورجہاں نے گلاب کا عطر، پان میں چونے کا استعمال، چاندنی کا فرش، نئے دلفریب فیشن، لباس کے نئے ڈیزائن، ریشم سوتی کپڑوں اور زیورات کے نئے نمونے تخلیق کئے اور دربار شاہی کو آراستہ کر کے اسکی شان اور دلکشی میں اضافہ کیا۔

جہانگیر کے دور کے دسویں سال پنجاب میں ایک نہایت مہلک وبا پھیلی اور لاہور بھی اسکی زد میں آیا، سارا علاقہ اجڑ گیا ہزاروں گاؤں برباد ہوگئے، یہ بیماری تقریباً دو سال تک رہی، اسے کوئی خاص قسم کا زہر کہا گیا جس کی وجہ سے فضا میں بیماری پھیل گئی۔
شہنشاہ نور الدین جہانگیر اپنے باپ اکبر کے دین الہی پر تو نہ تھا لیکن وہ کیا مذہب رکھتا تھا اس پر کثیر آراء ہیں۔ اس نے حضرت مجدد الف ثانی کی مخالفت پر انکو قید بھی کیا۔ حضرت میاں میر جو لاہور کے صوفی بزرگ تھے انکی عقیدت اور انکے علم و فضل کی وجہ سے شہنشاہ جہانگیر ان سے ملاقات کرنے کا بہت خواہشمند تھا اور عمر کے آخری وقت خود لاہور نہ جا سکنے کی وجہ سے میاں میر کو اپنی حکومت کے چودھویں سال آگرہ تشریف لانے کے دعوت دی، دوراندیش بزرگ نے دعوت قبول کی اور بادشاہ کو پندونصائح کئے، بادشاہ نے تعظیم کی اور تحائف میں ہرن کی کھال جائے نماز پیش کی۔
مارچ 1628ء میں گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر طبیبوں نے صحت افزا مقام کشمیر جانے کا مشورہ دیا، وہاں بادشاہ کی دمہ کی بیماری شدید ہو گئی، کمزوری اس قدر ہو گئی کہ اٹھا کر پالکی میں بٹھایا جاتا، انگوروں کی شراب کے چند قطروں کے سوا کچھ کھا پی نہ سکتا تھا۔ اس مایوس کن صورت حال میں وہ واپس آگرہ کیلئے روانہ ہوا، راجوری کے مقام پر صحت سخت خراب ہو گئی، کئی روز زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد 28اکتوبر 1628ء کو شہنشاہ جہانگیر کی وفات ہو گئی، اور انکی خواہش کے مطابق دریائے راوی کے کنارے نورجہاں کے باغ میں انکو دفن کیا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *