لاک ڈاؤن کا خاتمہ اور امتحانات کی منسوخی۔۔آغرؔ ندیم سحر

کالم لکھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تو جن خبروں نے اپنی جانب متوجہ کیا ان میں سب سے نمایاں لاک ڈاؤن ختم ہونے‘مارکیٹیں کھلنے اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی اطلاعات تھیں۔مزید یونیسیف کی رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات نے بھی اپنی جانب توجہ مبذول کروائی جس کے مطابق کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش میں ریکارڈ اضافہ ہوگا اور ان میں بھی سب سے زیادہ پاکستان اور بنگلہ دیش متاثر ہوں گے۔یعنی دنیا بھر میں 116ملین بچے پیدا ہوں گے،جنوبی ایشیا میں 29ملین جبکہ مارچ سے دسمبر تک پاکستان میں پانچ ملین بچے پیدا ہوں گے۔بھارت میں بیس ملین بچے پیدا ہونے کی خوش خبری سنائی گئی اور اس کی وجہ کرنٹائین ڈیز بتایا گیا ہے۔خیراگرمیں لاک ڈاؤن پر بات کروں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور ہم پہلے دن سے اس بات کا شور ڈال رہے ہیں کہ پاکستانی قوم کو لاک ڈاؤن کبھی بھی گھروں میں نہیں روک سکتا اور اس کا مظاہرہ ہم نے بارہا بازاروں اور سڑکوں پر دیکھا بھی جہاں لو گ بلاضرورت بھی مٹر گشت کرتے نظر آئے لہٰذا جہاں کرونا کی تعدادمسلسل بڑھ رہی ہے یعنی ہفتے کے روز محض ایک د میں پاکستان میں دو ہزار نئے کیسز ریکارڈ ہوئے تو ایسے میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کیا کچھ ہوگا‘شاید اس کا ہمیں اندازہ نہیں۔لاک ڈاؤن ختم ہو گیا‘اب جو عوام پچھلے دو ماہ سے گھروں میں مقید تھی وہ ایک دم باہر آئے گی جس کا اندازہ شاید وزیر اعظم کو بھی ہے اسی لیے انھوں نے بار بار ایس او پیز بنانے کا ذکر بھی کیا لیکن مجھے لگتا ہے کہ حالات اب مزید خراب ہو جائیں گے اگر ہم نے ایس او پیز پر سختی سے عمل نہ کروایاتو کہیں ایسا نہ ہو کہ رمضان کے بعدہمیں دوبارہ سے لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے اور اگر واقعی ایسا ہوا تو دوسری دفعہ لگنے والا لاک ڈاؤن پہلے کی نسبت زیادہ سخت اور خطرناک ہوگا۔پاکستانی قوم کو واقعی پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی اور یہ بات آپ اگلے چند روز میں خود دیکھ لیجیے گا کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں عوام کس طرح باہر نکلتے ہیں یعنی یوں نظر آئے گا جیسے یہ لوگ صدیوں کے قیدی تھی‘ایک دم رہائی ملی ہے اور بازاروں اور گلیوں میں بھاگ نکلے۔میں لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی جب بازاروں اور سڑکوں کی طرف نکلا تو مجھے قطعاً کسی بھی طرح کی احتیاط نظر نہیں آئی۔یکم رمضان سے لے کر نو مئی تک مسلسل بازار لوگوں سے بھرے رہے اور بنِا کسی احتیاط کے لوگ خریداری کرتے رہے ،اور حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں۔اب لاک ڈاؤن ختم ہوگیا‘ٹریفک بھی کچھ دنوں تک بحال ہو جائے گی‘وزیر ریلوے بھی بار بار یہی شور ڈال رہے ہیں کہ ریلوے کو بحال کیا جائے کیونکہ ریلوے نہیں چلے گی تو ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے لیے اکاونٹ میں کچھ نہیں رہا ،لہٰذا ٹرینیں بحال کریں تاکہ خسارہ ختم ہو سکے سو اگلے چند دنوں میں ٹرینیں بحال ہو جائیں گی اور یوں دیکھیے گا کہ اگلے محض دس دنوں میں (اللہ نہ کرے)کرونا اس ملک میں کیسے تباہی مچاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو سمجھانا اور سنبھالنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس”عقل مند“ قوم کو جس کام سے روکا جاتا ہے یہ وہی کام اس لیے کرتی ہے کہ ہم دیکھیں تو سہی کہ ہمیں روکا کیوں گیا اور ایسے میں اپنا ہی بیڑا غرق کر بیٹھتی ہے۔
مزید جس خبر نے انتہائی پریشان کیا وہ محکمہ تعلیم کا تمام تعلیمی بورڈز کے امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان تھا جسے یقیناً  حکومت کو تبدیل کرنا پڑے گا۔کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی تعلیم کا جس قدر نقصان ہوا میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگلے کئی سال ہم اس کے آفٹر شاکس برداشت کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ملک کبھی بھی ایسے فیصلے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم نے آج تک آن لائن نظامِ تعلیم کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی،ہم نے آج تک اپنے تعلیمی ڈیپارٹمنٹس کو ماڈرنیٹ نہیں کیا اور آج جب آن لائن تعلیم کی ضرورت پڑی تو ملک کے ننانوے فیصد بڑے تعلیمی ادارے بھی ”صفر“ہو گئے اور اس کا نقصان کس قدر ہوا،اس کا اندازہ ان سٹوڈنٹس سے پوچھا جا سکتا ہے جنہیں آن لائن لیکچرز کے نام پر پچھلے ایک ماہ سے لالی پاپ دیا جا رہا ہے۔ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ ہمارے پاس آن لائن نظامِ تعلیم کا کوئی واضح روڈ میپ نہیں اور شاید اگلے کئی سال تک یہ ممکن بھی نہ ہو سکے۔جس قوم نے پچھلے ستر برس سڑکیں بنانے‘برج تیار کرنے اور انڈر پاس بنانے پر فخر محسوس کیا ہوا،اسے آن لائن نظامِ تعلیم کی اہمیت کا خاک اندازہ ہوگا۔کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تعلیمی میدان میں کس قدر نئے امکانات لے کر آئے اور پاکستانی حکمران ہمیشہ موٹروے‘میٹرو‘ اورنج لائن،سڑکیں اور انڈر پاس جیسے منصوبوں پر محنت کرتے رہے کیونکہ ہماری اپنی ملوں اور فیکٹریوں کا سوال تھا لہٰذا وہی کیا جو ہماری تاجر اور سرمایہ داراذہان نے سوچا یا مشورہ دیا۔اس ملک پر پچھلے ستر سال یا تو تاجروں اور سرمایہ داروں نے حکومت کی یا پھر آمروں نے سو ایسے حکمرانوں سے کیا توقع کہ تعلیمی میدان میں کوئی نئی اصلاحات لائی جائیں گے۔ اب حکومت یہ واضح کرے کہ امتحانات کی منسوخی کے بعد یونیورسٹیز میں میڈیکل‘انجینئرنگ کا میرٹ کس بنیاد پر بنے گا؟یا نویں پاس کیے بغیر دسویں میں اور بارہویں پاس کیے بنا یونیورسٹیز میں کس بنیاد پر بھیجا جائے گا؟۔یقیناً  کوئی قابلِ قدر لائحہ عمل نہیں ہوگا کیونکہ میں وزیر تعلیم شفقت محمود کئی جگہوں پر یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ”میں کوئی ایجوکیشنسٹ نہیں ہوں“لہٰذا جناب وزیر تعلیم صاحب خود ماہرِ تعلیم نہیں تو وہ یقینا ً وہی کریں گے جو ان کے مشیران کہیں گے مگر بطور استادیہ واضح کر رہا ہوں کہ ہمیں آخر کار یہ فیصلہ بدلنا ہوگا اور اگر ایسا نہ کیا تو اگلے کئی سال اس فیصلے کے نقصانات ہمیں جھیلنے پڑیں گے اور محکمہ تعلیم جو پہلے ہی بیساکھیوں پہ چل رہا ہے یہ مکمل طور پر بیٹھ جائے گا۔ لہٰذا حکومت اس ملک پر رحم کرے اور سب سے پہلے تمام تعلیمی اداروں کو پابند کرے کہ اگلے چند سالوں تک تعلیمی اداروں میں آن لائن نظامِ تعلیم شروع کیا جائے تاکہ دوبارہ کسی بھی ہنگامی صورت میں تعلیمی نقصان سے بچا جائے اور مزید یہ بھی شرط عائد کر دے کہ وہی تعلیمی ادارہ چل سکے گا جس کے پاس بہترین آن لائن سسٹم موجود ہوگا۔ورنہ گلی محلوں اور پلازوں میں بننے والے ادارے اور یونیورسٹیاں بند کر دی جائیں کیونکہ ان کا مقصد تعلیم کا فروغ نہیں بلکہ پیسہ اکٹھا کر نا ہوتا ہے اور ایسے تعلیمی تاجروں کو سختی سے حکم دیا جائے کہ سرمایہ داری بہت ہو گئی،اب تعلیمی میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتاتو اس کے لیے سختی سے لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

آغر ندیم سحر
آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *