انسداد دہشتگردی عدالت میں گواہی۔۔عزیز اللہ خان

یہ 1991 کی بات ہے تھانہ سہجہ میں نے بہت محنت کی جس کی وجہ سے ہر میٹنگ میں SSP رحیم یار خان اور DIG بہاولپور رینج کی طرف سے ہزاروں روپے نقد انعام اور تعریفی اسناد ملا کرتی تھیں۔اس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفسر حسین کرار خواجہ اور میرے ڈی ایس پی حلقہ افسران عبدالمجید باجوہ اور اسلم شہاب کی مہربانی بھی شامل تھی جو میرے اچھے کام کی وجہ سے مجھ پر کرتے تھے
کُچھ عرصہ بعد SSPحسین کرار خواجہ کا تبادلہ رحیم یار خان سے لاہور ہوگیا اور ان کی جگہ چوہدری محمد اسلم SPتعینات ہو گئے۔چوہدری اسلم PSP افسر نہ تھے بلکہ وہ پولیس میں ASI بھرتی ہوئے تھے اور ترقی کرتے ہوئے ایس پی بن گئے تھے وہ کھیلوں کی بنیاد پر بھرتی ہوئے اور کھیلوں کی وجہ سے ہی جلد ترقی یاب ہوتے رہے۔چوہدری اسلم صاحب باکسنگ کے کھلاڑی تھے اُن کے رہنے سہنے اور اُن کی ملازمت کا سٹائل بھی ایک باکسر جیسا تھا غُصہ بھی اُن کو بُہت جلدی آتا تھا اور کسی کی بھی باتوں کا جلدی اعتبار کر لیتے تھے۔
باقی محکمہ جات کی طرح محکمہ پولیس میں بھی یوں تو بُہت سی بُرایاں ہو سکتی ہیں مگر ایک بری بات یہ بھی تھی اور ہے کہ ضلع میں آنے والا ہر نیا افسر ماتحت ملازمین کی کھوج میں رہتا ہے کہ کون کون سے ماتحت ملازمین سابقہ افسر کے قریب ہوتے تھے ایس پی حسین کرار خواجہ میرے کام کی وجہ سے مجھ پر بہت مہربانی کرتے تھے جس کی وجہ سے چوہدری اسلم ایس پی کے کان بھی بھرے گئے اور انھوں نے بھی وہی کیا جو ا س طرح کے باقی پولیس افسران کرتے ہیں۔
ایک دن مجھے بذریعہ ریڈر ایس پی پیغام موصول ہوا کہ کل SPصاحب تھانہ سہجہ کا ملاحظہ  کریں گے تیاری کرلیں۔محکمہ پولیس میں ایس ایس پی ،ڈی آئی جی یا کسی بھی بڑے افسر کا کسی بھی تھانہ کا ملاحظہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تھانہ کے ریکارڈ میں بے شمار ایسے نقائص پائے جاتے ہیں جن کو دور کرنا کسی بھی پولیس ملازم کے بس کی بات نہیں ہے اگرآپکا افسر آپ سے خوش ہے تواسے ریکارڈمیں خوبیاں ہی خوبیاں نظرآئیں گی اور اگر آپکا افسر آپ سے ناراض ہے تو پھر یہ ساری خوبیاں خامیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس پر وہ افسر کوئی بھی سزا دے سکتا ہے اور اسکی دی گئی سزا سے پولیس ملازمیں کا مستقبل برباد ہو سکتا ہے۔کیونکہ کسی بھی رینک پر ترقی کے وقت سزا اور انعام کو ضرور دیکھا جاتا ہے
اگلے روزتقریباََشام چار بجے ایس پی چوہدری اسلم صاحب تھانہ سہجہ تشریف لے آئے میں نے انھیں خود سلامی دی بڑے زور سے سلوٹ بھی کیا مگر ان کے موڈ سے لگ رہا تھا کہ وہ مجھ سے ناراض ہیں اور شاید میرا اس تھانہ پر آج آخری دن ہے۔میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ تھانہ سہجہ کی عمار ت سرکاری نہ تھی بلکہ ایک نجی عمارت کرایہ پر لے کر تھانہ بنایا گیا تھا ایک پُرانی اور بوسیدہ عمارت پر ایک ایس ایچ او اپنی جیب سے کتنا خرچ کر سکتا ہے اور کیسے ٹھیک کرا سکتا ہے ؟ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا اور جس کا مجھے پہلے سے اندازہ تھا تھانہ ناقص صفائی کی پاداشت میں مجھے لائن حاضر کردیا گیا۔میں نے بھی خدا کا شُکر ادا کیا کہ اگر پوسٹنگ رہ جاتی تو شاید کوئی بڑا نقصان ہو جاتا میں نے بھی اس کو غنیمت جانا اور فوری طور پر پولیس لائن حاضری کر لی

محکمہ پولیس میں ترقی کے لیے علیحدہ علیحدہ کورسز ہوتے ہیں ابتدائی پروبیشنرز کورس کے بعد اب مجھے انسپکٹر کی پرموشن کے لیے اپر کلاس کورس کرنے جانا تھا۔میرے بیج میٹ یہ کورس پہلے کر چکے تھے میرا اس کورس پر بھی نمبر آنے والا تھا۔لائن حاضری کے کچھ دن بعد میں اپر کلا س کورس کے لیے منتخب ہوگیا یہ کورس 6ماہ کا تھا جو مجھے سہالہ میں کرنا تھا۔میری فیملی میرے ساتھ خانپور میں رہ رہی تھی میں نے اُنکو ملتان اپنے سسرال کے گھر چھوڑا اور خود سہالہ راولپنڈی ٹرینگ کے لیے روانہ ہوگیا۔
اپر کلاس کورس کی ٹرینگ بھی ابتدائی کورس سے زیادہ مختلف نہ تھی فرق بس اتنا تھا کہ ڈریل سٹاف اور باقی سٹاف اب ہم سے وہ سلوک نہیں کرتاتھا جو پروبیشنرز کورس میں کیا جاتا تھا۔اب محکمہ پولیس میں مجھے اب تقریباََ 9سال ہو چکے تھے۔پولیس والے پولیس والوں سے کیسے رعایت لیتے ہیں اس بات کا بھی با خوبی اندازہ تھا۔ان دنوں میرے پاس 86 ماڈل ٹیوٹا کرولا ہوا کرتی تھی دوران ٹرینگ سہالہ میں کار نہیں رکھی جا سکتی تھی مگر میں نے اپنے “زور بازو “سے وہاں کار رکھی ہوئی تھی جس کا مجھے بہت فائدہ ہو ا۔ریزرو انسپکٹر (RI) اکثر مجھے سرکاری کام کے سلسلہ میں اسلام آباد، روالپنڈی لے جاتا تھا۔ اس کام کے بدلے میں تین چارچھٹیاں لے کر جسے عرف عام میں “آوٹ سٹیشن ڈیوٹی “کہتے ہیں ملتان چلا جاتا تھا۔اس دوران مختلف عدالتوں سے شہادت کے سمن بھی موصول ہوتے تھے۔سہالہ روالپنڈی سے کسی بھی شہادت کے لیے رحیم یار خان جانا بُہت مشکل ہوتا تھا
ایک دن مجھے عدالت انسداد دہشت گردی کا سمن موصول ہوا کہ بروہی بلوچ گینگ کیس کی تفتیش کرنے پر میری عدالت میں شہادت ہے یہ وہی کیس تھا جس میں میں اپنے ملازمین کر ساتھ عبدالقیوم عرف قوما قصائی کو گرفتار کرنے لاہور گیا تھا بروہی گینگ کے ان ملزمان سے اسلحہ اور تانبا کی تاریں برامد ہوئی تھیں تانباکی تار، چار اُونٹ اور ٹرک برآمد کر کے میں محرر تھا نہ کے حوالے کر کے آیا تھا جبکہ ملزمان کو مقدمہ میں چالان کر کے کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں بھجوا دیا گیا تھا کیونکہ اس میں سرکاری تار چوری ہوئی تھی

انسداد دہشتگردی عدالتیں نئی نئی بنی تھیں جو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتی تھیں اور جج صاحبان کا روایہ بہت سخت ہوتا تھا۔انھیں شاید یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ پولیس والوں کو دبا کے رکھنا ہے اور جتنی بے عزتی ہوسکے وہ کرنی ہے تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیداہو۔میں نے اکثر عدالتوں میں یہ نوٹ کیا کہ جو جج پولیس والے کی زیادہ بے عزتی کرتاہے اس جج کی اتنی ہی دہشت ہوتی ہے۔ کیونکہ پولیس ملازم کو عدالت میں بے عزت کرنا سب سے آسان کام ہے
میں مقررہ تاریخ کو صبح صبح بہاولپور پہنچ گیا تھانہ سہجہ کے ملازمین اور پرائیویٹ گواہ بھی حاضر تھے انتظار کے بعد اپنی باری آنے پر عدالت میں پیش ہوئے تو جج صاحب نے بڑے سخت لہجے میں پوچھا مال مقدمہ اونٹ،تاریں اور ٹرک کدھر ہے؟جج صاحب کہ اس سوال پر میں سٹپٹا گیا میرے وہم گمان میں میں بھی نہ تھا کہ جج صاحب مجھ سے مال مقدمہ کا سوال کریں گے میں نے فوری اپنے حواس پر قابو پایا اور ڈرتے ہوئے بولا “جناب میں سہالہ ٹرینگ پر گیا ہوا ہوں مجھے نہیں پتہ موجودہ ایس ایچ او بتا سکتا ہے “جج صاحب نے حکم دیا کہ کل ہر صورت میں مال مقدمہ پیش کیا جائے ورنہ خیر نہیں ہو گی پولیس والوں کو دوران ملازمت کیا مشکلا ت درپیش آتی ہیں اور وہ کیسے ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں نہ تو عدالتیں سمجھتی ہے نہ افسران بالا کو اسکا احساس ہے
مسروقہ تاریں،مال مقدمہ اونٹ ٹرک پر لاد کر خانپور سے بہاولپور آنا کتنا مشکل کام ہو سکتا ہے جج صاحب کو شاید اس بات کا کوئی اندازہ نہ تھا مگر حکم تو پھر حکم ہوتا ہے -اسی روز میں خانپور کے لیے روانہ ہوگیا تاریں اور ٹرک تو تھانہ پر موجود تھے مگر اُونٹ کسی زمیدار کے پاس عارضی سُپرداری پر کھڑے کیے گئے تھے محرر تھانہ سے معلوم کیا کہ اونٹ کس زمیدار کے پاس کھڑے کیے گئے ہیں وہاں پُہچنے پر پتہ چلا کہ اُن چار اونٹوں میں سے ایک اونٹ مرگیا تھا جبکہ تین اُونٹ موجود ہیں تین اونٹ،تاریںاور ٹرک بڑی مشکل سے لے کر اگلے روز صُبح عدالت میں پیش ہوگئے سارا دن اور پوری رات سفر کرتے گزری تھکن سے بُرا حال تھا مگر میری مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی تھی جج صاحب نے ایک نیا سوال اٹھا دیا چوتھا اونٹ اگر مر گیا تھا تو اسکی رپٹ روزنامچہ میں درج کیوں نہیں کی گئی اور سرکو محفوظ کیوں نہیں کیا گیا؟؟ اگلے روز سپردار کو بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم ہوا۔ساتھ تمام مال مقدمہ بھی دوبارہ پیش کرنے کا حکم ہوا
رات کو اونٹوں کو کہاں رکھنا تھا اُن کی خوراک کا انتظام کہاں سے کرنا تھا میں نے کہاں ٹھہرنا تھا اس مقد مہ کے گواہان جو روزانہ کی بنیاد پر حاضر ہوتے تھے کو کہاں ٹھہرانا تھا۔اس کا ذکر نہ تو تعزیرات پاکستان اور نہ ہی مجموعہ ضابطہ فوجداری میں لکھا ہوا ہے۔مگر پولیس ملازمین یہ سب کام اپنی جیب سے کرتے ہیں اور سکاری طور پر ان کو کُچھ نہیں ملتا۔۔
اگلے روز سپردار کو عدالت میں پیش کیا گیا جس نے اُونٹ مرنے کی تصدیق کی اور روزنامچہ میں رپٹ نہ لکھوانے کی تحریری معافی طلب کی بقیہ تین زندہ اونٹ مال مقدمہ پیش ہوئے کیونکہ اونٹ کے مرنے کی رپٹ روزنامچہ میں درج نہ تھی اور نہ ہی اونٹ کے سر کو محفوظ کیا گیا تھا جس پر جج صاحب نے SPرحیم یار خان کو قصوروار پولیس ملازمین کو شوکاز نوٹس دے کر سزا دینے کا حکم بھی فرمایا ٹرینگ پر ہونے کی وجہ سے میری جان چھوٹ گئی۔سات دن تک روزانہ کی بنیاد پر کیس کی شُنوائی ہوتی رہی تمام گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے فیصلہ ہوا تو جج صاحب نے تمام ملزمان کو بری کردیا میں نے بھی سُکھ کا سانس لیا مجھے لگا جیسے میں بھی ان ملزمان کے ساتھ اس کیس میں بری ہو گیا ہوں۔سات دن کی ذہنی اذیت اونٹوں کو رکھنا خود ہوٹل میں رہنا اور باقی اخراجات میں نے اپنی جیب سے ادا کیئے اور پھر واپس سہالہ روانہ ہوگیا جہاں ٹرینگ میرا انتظار کررہی تھی۔
مختلف مقدمات میں پولیس ملازمین اپنی جائے تعیناتی سے گواہی دینے یا امثلہ جات پیش کرنے عدالتوں میں آتے ہیں آج بھی یہ ملازمین اُسی طرح ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اب تو جدید دور ہے اگر یہ گواہی ویڈیو کانفرنس یا واٹس آپ پر لے لی جائے تو اخراجات کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی بچت ہوسکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *