• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سینتالیسواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سینتالیسواں دن)۔۔گوتم حیات

پچھلے دس، بارہ سالوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ میں شہر میں ہونے والی کسی بھی سماجی، سیاسی، ثقافتی یا ادبی تقریب میں شرکت نہیں کر سکا۔ کیونکہ گزشتہ سینتالیس، اڑتالیس دنوں سے چار سُو سناٹا ہے۔ وبا کی وجہ سے شہر میں ہر قسم کی تقریبات کی ممانعت ہے۔ آپ اپنے گھر پر بیٹھ کر کسی بھی قسم کی آن لائن تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی مہربانی سے ہر چیز آن لائن ہو چکی ہے۔ ان دنوں ملک کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے “سنگِ میل پبلیکیشنز” نے “قرنطینہ میں گفتگو” کے عنوان سے مختلف ادیبوں سے آن لائن انٹرویو (سیشن) کا انعقاد کیا ہے۔ وبا کے دنوں میں جب ہر کوئی گھر پر بیٹھ بیٹھ کر عاجز آگیا ہے تو ایسے لوگوں کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اس وقت کو کسی ایسی سرگرمی میں گزاریے جو آگے چل کر آپ کی سوچ کو وسعت دے سکے۔ کیونکہ عالمی ماہرین کے مطابق اب زندگی ویسی نہیں رہے گی جو کرونا کی وبا سے پہلے تھی۔ موجودہ نظام اور آنے والے دنوں اور سالوں میں حالات بتدریج تبدیلی کی جانب گامزن ہوں گے۔ ریاستوں کے حکمرانوں کو بھی عوامی فلاح و بہبود کے سلسلے میں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا۔ صدیوں سے رائج جنگجوعانہ طرز عمل ترک کر کے عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے فیصلے کرنے ہوں گے۔ اس چیز کے حصول کے لیے ہمیں حکمرانوں کی سوچ کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کے زاویوں کو بھی پرکھنا ہو گا۔

جب ہم سوچ کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کے لیے سب سے پہلی شرط یہی ہے کہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور اس مطالعے کی روشنی میں غوروفکر کیا جائے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں “سنگِ میل” کے پروگرام “قرنطینہ میں گفتگو” کا ذکر کیا تھا، تو میں اپنے پڑھنے والوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اس سیریز میں نشر ہونے والی “گفتگو” کو ضرور سنیں۔ یہ ہم سب کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ اگر کسی نے ابھی تک “قرنطینہ میں گفتگو” کی یہ “سیریز” نہیں دیکھی تو وہ پہلی فرصت میں یُوٹیوب یا فیس بُک پر “سنگِ میل” کے پیج پر جا کر اس کو دیکھے، خصوصاً “اصغر ندیم سید” کی گفتگو کو سب سے پہلے سنے۔

میری نظر میں “اصغر ندیم سید” صاحب نے ایک گھنٹے کی گفتگو میں مختلف موضوعات پر اپنی عالمانہ رائے دے کر ہمارے ذہنوں کو بیدار کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سیریز میں مستنصر حسین تارڑ، ناصر عباس نئیر، امجد اسلام امجد اور کئی دوسرے لکھاریوں کی “گفتگو” بھی نشر ہو چکی ہے۔ ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ “قرنطینہ میں گفتگو” کے ان سب پروگراموں کو یُوٹیوب پر بھی باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

میں اب اصغر ندیم سید کی ایک نظم کے چند اشعار یہاں نقل کر رہا ہوں۔ اس نظم کا عنوان ہے “مسافر ساٹھ برسوں کا”، یہ نظم پاکستان کے ساٹھ برس مکمل ہونے پر لکھی گئی تھی، لیکن حالات ابھی بھی نہیں بدلے۔ پاکستان سمیت ہندوستان، بنگلہ دیش کی عوام آسائیشوں سے محروم، تعصب، تنگ نظری اور تنگ دستی کی بھیڑ میں، گھنے عافیت بھرے سائے کی تلاش میں آج بھی حیران و پریشان کُو بہ کُو ماری ماری پھر رہی ہے۔۔۔

“مسافر ساٹھ برسوں کے بہت حیران بیٹھے ہیں
کہ اب تاریخ کے برگد کے نیچے مذہبوں کے اور عقیدوں کے کئی تاجر مورخ بن کے بیٹھے ہیں
کبھی تاریخ کے برگد کے نیچے صوفیا، سنتوں، ملنگوں اور بھگتوں کا بسیرا تھا
مگر اب تو وہاں بازار ہے، منڈی ہے، ہر اک فلسفے اور فکر کی معجون بکتی ہے
کہیں مذہب کے تاجر ہیں، کہیں خوابوں کے سوداگر
بہت ہی بھیڑ ہے اور شور ہے
مسافر دیکھ ! سب کچھ ہے اس برگد سرائے میں
مگر سایہ نہیں ہے، پیڑ کا سایہ
بہت محروم ہیں ہم پیڑ کا سایہ نہیں ملتا”۔

اس وقت مجھے کراچی لٹریچر فیسٹیول دوہزار بیس کے دو سیشن یاد آرہے ہیں۔ میں مختصراً ان کو باری باری یہاں پر بیان کر رہا ہوں۔
اس بار کراچی لٹریچر فیسٹیول میں افروایشیائی ادب، تراجم اور پاکستانی ادب کے بارے میں آدھے گھنٹے کا سیشن منعقد کیا گیا تھا۔ اس سیشن کے میزبان وحید نور تھے اور مقررین میں میڈم زاہدہ حنا اور محترمہ حوری نورانی تھیں۔ مختصر مدت کے اس سیشن میں دونوں مقررین نے سیر حاصل گفتگو ہم سننے والوں کی نظر کی۔
اس سیشن کو اگر میں مختصر لفظوں میں بیان کروں تو بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ

“عصرِ حاضر میں تخلیق کیا جانے والا افروایشیائی ادب اور ان کے تراجم پڑھنے والوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان تراجم کا معیار اعلیٰ ہے اور اردو میں ترجمہ کیا جانے والا یہ ادب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ لوگوں کا یہ کہنا کہ موجودہ زمانے میں اچھے تراجم نہیں ہو رہے اور پاکستانی ادب میں اہم تخلیقات منظرِ عام پر نہیں آرہیں۔۔۔ یہ سراسر بےبنیاد باتیں ہیں۔ ہمیں ان بے معنی باتوں سے نکل کر اپنا رشتہ ادب کی کتابوں سے جوڑنا ہوگا اور نئی تخلیقات کو سراہنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے بغیر کسی تعصب اور تفریق کے۔ آدھے گھنٹے کے اس سیشن کی ریکارڈنگ یوٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہی سینٹرل ایشیاء پر ہونے والے ایک سیشن کے دوران “ٹینا ثانی” ہم سے اگلی نشست پر براجمان انتہائی انہماک سے محترم افتخار صلاح الدین کی پریزینٹیشن سن رہیں تھیں۔ افتخار صاحب نے سینٹرل ایشیاء اور خصوصاً ازبکستان پر اپنی کامیاب پریزنٹیشن سے ہم سب کو بے انتہا متاثر کیا۔ اس پریزنٹیشن میں تصویروں کی مدد سے سینٹرل ایشیاء کی ہزاروں سال کی تاریخ و تہذیب کو ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پریزنٹیشن کا وہ حصہ میرے لیے حیران کن تھا جب انقلاب روس کے بعد اس خطے کو ایک نئے انداز سے استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور اس استحصال میں وہ لوگ شامل تھے جو اپنے آپ کو مظلوموں کا سب سے بڑا ہمدرد اور مسیحا بنا کر پیش کر رہے تھے۔
سیشن کے اختتام پر ہم نے ٹینا ثانی کو اپنی طرف متوجہ کیا اور انہیں بتایا کہ ہم ان کی گائی ہوئی غزلوں اور گیتوں کے دیوانے ہیں۔ اس دوران ٹینا ثانی نے ہم سے مختصر تعارف کے بعد سینٹرل ایشیاء پر ہونے والی پریزنٹیشن کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان سے کہا۔۔
“میرے خیال میں یہ پریزنٹیشن مکمل طور پر ٹھوس شواہد پر مبنی تھی۔ ایک گھنٹے کے مختصر سے دورانیے میں کسی بیرونی خطے کے بارے میں اتنی مکمل باتیں کہہ دینا ایک آرٹ ہے اور افتخار صاحب نے بخوبی اس کا حق ادا کیا ہے۔ میرا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی باتیں بہت سے تقلید و روایت پرست کمیونسٹوں کے ذہنوں پر کاری ضرب لگانے کا اثر رکھتی ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں عقلیت پر مبنی علمی و ادبی باتوں سے “اٹل سیاسی نظریات” رکھنے والے لوگوں کو خوف آتا ہے۔ میری اس بات پر ٹینا ثانی کا چہرہ مسکراہٹ سے چمک اُٹھا تھا”

اس مختصر سی گفتگو کے بعد ہم نے ٹینا ثانی کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ تصویروں کے دوران میں نے ٹینا ثانی سے کہا کہ مجھے آپ کی گائی ہوئی غزل “لرزش لہو کو درد کی زیبائی دے” بیحد پسند ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ اس غزل کے پہلے مصرعے کو آٹوگراف کے طور پر مجھے ابھی لکھ کر دیں، جس پر ٹینا ثانی نے کہا کہ
“مجھے بھی یہ غزل پسند ہے اور اس غزل کا میں وہ شعر لکھوں گی جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے”، میں نے کہا ہاں ضرور آپ اپنی پسند کا ہی شعر آٹوگراف کے طور پر لکھ دیں۔ اس وقت میرے پاس قلم نہیں تھا میں نے اپنی دوست سے قلم مانگا تو اُس نے فوراً مجھے دے دیا۔ اس کے بعد ہماری ہر دلعزیز ٹینا ثانی نے مندرجہ ذیل شعر لکھا؛

چلتے میں اپنی چاپ کو رستوں میں سُن سکوں
اتروں تو شہرِ ہجر میں تنہائی دے مجھے!

اس آٹوگراف کے بعد میں نے “ٹینا ثانی” سے دوست کا قلم لے کر اپنی شرٹ کی جیب میں حفاظت سے رکھ دیا، اُس کو واپس نہ دینے کے لیے۔ میرے لیے یہ قلم اب ایک قیمتی شے بن چکا ہے کیونکہ اس سے ٹینا ثانی نے مجھے آٹوگراف دیا تھا۔ یہ قلم ابھی بھی میرے پاس موجود ہے۔
اس قسط کے اختتام پر میں ٹینا ثانی کی گائی ہوئی اپنی پسندیدہ غزل کے اشعار پڑھنے والوں کے نام کر کے اجازت چاہوں گا۔

لرزش لہو کو،درد کی زیبائی  دے مجھے

تُو خواب ہے تو حرف کی رعنائی دے مجھے!

پھرتا ہوں بوند بوند گہر کی تلاش میں

تُو پانیوں میں سیپ کی سچائی دے مجھے

سب عکس روشنی کی چکا چوند لے گئی

کھولی ہے میں نے آنکھ تو بینائی دے مجھے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *