دائرے کے مسافر۔۔عبدالولی

اورنگ زیب شاہ جہاں کا بیٹا تھا۔ اس کی ولادت اگر چہ ایک شاہی گھرانے میں ہوئی تھی تاہم وہ بنیادی طور پر ایک عالم تھا۔ شاہ جہاں اورنگزیب کے بجاۓ اپنے بڑے بیٹےداراشکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ مگر اورنگ زیب اس پر راضی نہیں تھا۔ وہ تخت چاہتا تھا۔ وہ نظامِ حکومت چاہتاتھا۔چنانچہ پہلے اس نے 1658ء میں اپنے باپ شاہ جہاں کو تخت سے معزول کرکے اسے آگرہ کے قلعے میں قید کردیا اور اگلے ہی برس1659ء میں اپنے بھائی داراشکوہ کو قتل کردیا ۔ یوں وہ تقریباً 50 سالوں تک ہندوستان کا حکمران رہا۔

اورنگ زیب کے پاس دو مواقع  تھے ۔ایک یہ کہ وہ وقت کا حکمران بن کر سیاست کے گورکھ دھندے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  اُلجھ جاۓ (جیساکہ اس نے کیا)۔ اور دوسرا یہ کہ وہ ایک عالم کی حیثیت سے اپنا ایک نسبتاً اہم کردار ادا کرکے آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن جاۓ اور سیاست داراشکوہ کے حوالے کردے۔ ایسے میں تخت و تاج سے محرومی کے باوجود بھی اسے بہت سے وسائل حاصل رہتے۔ وہ سرکاری سرپرستی میں علم کی ترویج اور ترقی کے لیے بڑا اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ تاہم اسں نے ایسا نہیں کیا اور تخت اور تاج کو سینے سے لگاتے ہوۓ خود کو سیاست کی پیچیدگیوں کی نظر کردیا۔

اورنگ زیب ہی کے زمانے میں یورپ میں جدید علوم کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اس دوران ان علوم کی  ترقی کے اثرات ہندوستان کے ساحلوں تک پہنچ چکے تھے۔ تاہم اسی دوران وقتی سیاست میں مصروف مغل حکمران علم کی اہمیت اور ترقی سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ شاہ جہاں نے ہندستان میں تاج محل بنایا تھا۔ اورنگزیب کے لیے موقع تھا کہ وہ یہاں علم کے محل کی تعمیر کرے۔  سکول ، کالج اور یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھے۔ وہ سیاست کے بجاۓ ایجوکیشن پر توجہ دے کر ہندوستان میں جدید علمی انقلاب کی بنیادیں رکھ سکتا تھا ۔ اورنگ زیب قلم کے ذریعہ جو فائدہ قوم کو پہنچا سکتا تھا وہ تلوار اور سیاست کے ذریعے سے پہنچانے میں قاصر رہا ۔ دوسری جانب بہت جلد یورپ اس راز کو جان گیا تھا کہ تلوار کی سیاست سے زیادہ علم کی سیاست اہمیت رکھتی ہے لہذا وہاں کے عالموں نے علم کی ترویج اور ترقی کے لیے خود کو وقف کرتے ہوۓ علم کی آبیاری اور ترویج کے لیے شب و روز محنت کی۔ اسی زمانے میں یورپ میں ایسی عالی شان علمی درسگاہوں کی بنیادیں رکھی گئیں  جن کا آج دنیا میں بہت نام اور مقام ہے۔جبکہ دوسری طرف اسی دوران ہمارے یہاں عیش و عشرت اورتخت و تاج کے لیے باپ، بھائی اور بیٹوں تک کو مارا جارہا تھا ۔

اگر اورنگزیب بادشاہ کا رول اداکرنے کے بجاۓ ایک عالم کا رول اداکرنے پر راضی ہوجاتا تو وہ اتنا بڑا کام کرسکتا تھا کہ آئندہ آنے والی کئی صدیوں تک آنے والے علماء کے لیے وہ مشعل راہ کا کام دیتا۔مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔ غلطی کا امکان ہر جگہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور کسی بھی شخص سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔ تاہم دانش مندی یہ ہے کہ غلطی سے سیکھا جائے اور غلطی سے سیکھنا یہ ہے کہ غلطی کو دہرایا نہ جاۓ۔ ایک بار غلطی کا ارتکاب غلطی کے  زمرے میں آتا ہے جبکہ غلطی کی  مسلسل تکرار ،گناہ اور جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ افسوس ہمارے معتبر رہنما جو عرصہ دراز سے معاشرے کی نیّا کو پار لگانے کےدعویداربھی ہیں،اس راز سے نا آشنا ہیں۔ وہ تکرارکے اس گناہ کے بار بارمرتکب ہورہے ہیں۔ وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجاۓ انھیں مسلسل دہرا رہے ہیں ۔ وہ آج بھی اسی روایتی ناکام اور نامراد درویش کا شکار ہیں۔ زندہ قومیں اور عظیم رہنما ہمیشہ تاریخ سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور آگے بڑھتے رہتے ہیں اور جلد ہی ایک نئی  تاریخ رقم کردیتے ہیں۔ جبکہ ماضی کی اسیری میں قید لوگ تاریخ کو مسلسل دہراتے رہتے ہیں۔ وہ محو سفر تو ہوتے ہیں لیکن سفر کٹتا نہیں ان کا ۔وہ جہاں ہوتے ہیں وہی رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ دائرے کہ مسافر ہوتے ہیں اور دائرے کا مسافر دائرے میں ہی رہتا ہے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ چاہیے وہ ایک فرد ہو ،ایک عالم ہو ،یا پھر وہ ملک کا حکمران ہی کیوں نہ ہو۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *