آئیے قرآن پڑھیں(قسط اوّل)۔۔محمد اقبال دیوان

دیوان صاحب کی فیس بک پر ایک پوسٹ قرآن کریم سے متعلق لگی تو ہم سب کو بہت پسند آئی۔ اس میں انہوں نے مختلف تراجم اور معاون کتب کے سلسلے میں بات کی تھی۔ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کی ممبر زرقا اظہر صاحبہ نے اور دیگر دوستوں نے درخواست کی کہ وہ خالصتاً اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک یا ایک سے زائد اقساط پر مبنی ایک مضمون ایسا لکھیں جس سے
قارئین کے دل میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے سے رغبت پیدا ہو۔ان کے شبہات، خوف اور طبیعت کی رکاوٹ دور ہو۔یہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔دیوان صاحب کی یہ کاوش بصد عجز و دعائے قبولیت کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش
ہے۔سادہ سی کوشش سادہ دل ذوق طلب سے سرشار اور ایمان والوں کو مکالمہ کا نذرانہء برائے راہ نمائی۔
ایڈیٹر: زرقا اظہر
ایڈیٹران چیف: انعام رانا

دیوان صاحب کی فیس بک پر ایک پوسٹ قرآن کریم سے متعلق لگی تو ہم سب کو بہت پسند آئی۔ اس میں انہوں نے مختلف تراجم اور معاون کتب کے سلسلے میں بات کی تھی۔ہمارے ٹیم ممبر زرقا اظہر صاحبہ نے اور دیگر دوستوں نے درخواست کی کہ وہ خالصتاً اپنے ذاتی تجربات پر مبنی ایک یا ایک سے زائد اقساط پر مبنی ایک مضمون ایسا لکھیں جس سے
قارئین کے دل میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے سے رغبت پیدا ہو۔ان کے شبہات، خوف اور طبیعت کی رکاوٹ دور ہو۔

یہ کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔دیوان صاحب کی یہ کاوش بصد عجز و دعائے قبولیت کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش
ہے۔سادہ سی کوشش سادہ دل ذوق طلب سے سرشار اور ایمان والوں کو مکالمہ کا نذرانہء برائے راہ نمائی۔
ایڈیٹر

نوٹ:یہ اقساط ہفتے اور بدھ کو شائع ہوں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورۃ الفرقان،آیت 30

آپ نے دیکھا ہوگا مسلمانوں کے دل میں ماشا اللہ قرآن سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کی فراوانی ہے۔ بالخصوص ہم اہل پاکستان کے دل میں۔یہ بذات خود احسن پہلو ہے مگر اس سے جڑا ایک شدید دکھ بھرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری اکثریت قرآن کو بہت کم سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کو یہ علم ہی نہیں کہ روز ِ قیامت ہماری قرآن سے بے نیازی اور غفلت کی سب سے بڑی گواہی ہمارے رسول اکرمﷺ خود دیں گے جب سورہ الفرقان کی آیت نمبر تیس کے عین مطابق جب وہ اللہ سبحانہ تعالی سے کہیں گے یہ ہے وہ میری امت جس نے قرآن کو ترک کیا۔ اسے قابل التفات نہ جانا اور اس سے فاصلہ رکھا۔

آج ہمارے اس مکالمے کا موضوع پاکستانی مسلمان ہے ،اس لیے جینرک انداز میں وہ ہی مطلوب ہے۔ ہماری قرآن سے دوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ  ایک غالب اکثریت خود قرآن کو نور و ہدایت شفاء قلوب اور راہ نجات کا مینول مان کر بہت کم پڑھتے ہیں۔اتنا کم کہ اپنی صلوۃ میں بھی وہ جو احکامات ہیں اس کے معنی سے بے خبر بس نماز مومناں و عاشقاں مان کر ادا کیے جاتے ہیں۔نہ دعائے قنوت کا پتہ ہے نہ التحیات کے معنی، مقصد و مقام کا علم۔

اکثریت کا کا معاملہ تو کچھ یوں ہے کہ ان غفلت شعاروں کی قرآن پڑھنے کی کوشش کا تعلق یا تو کسی تعزیتی تقریب، کس دل پر بوجھ بنے سانحے یا علالت سے جڑا ہوتا ہے  یا ثواب اور حصول کرامت و وظائف سے۔اس لگاؤ پر کوئی لیبل لگانا اچھی بات نہیں مگر اتنا کہنا لازم بنتا ہے کہ یہ اس عظیم مقصد اور خاتم النبین محمدمصطفے ﷺ کی اطاعت کامل کا تقاضا پورا نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ اوپر آپ سے منسوب گِلہ درست ثابت ہوگا۔
ٍ ہم اپنی زندگی کو قرآن العظیم کی آیت نمبر نو سورہ الاسراء(سورہ بنی اسرائیل) کی روشنی میں دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہمارے قرآن پڑھنے میں اور اس پر عمل کرنے میں شدید کمی رہ گئی ہے کہ کیوں کہ یقیناً”یہ قرآن تو وہ ہی راستہ دکھا تا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے۔ایمان والوں کو یہ یقین دلاتا ہے نیک اعمال کرنے کی صورت میں تمہارے لیے ایک اجر عظیم کی خوش خبری ہے“۔

اسی سسورۃ میں آگے بیاسی نمبر کی آیت میں مذکور ہے ”یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں اس میں اہل ایمان کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔وہ مگر جو ظالم ہیں ان کے لیے اس کی نافرمانی میں خسارہ اور اس میں بھی اضافہ ہی ہے۔“۔

آپ پر دین اور قرآن کی بات بوجھ نہ بنے اور اس کو آپ سہل انداز میں اپنالیں۔ یہ اس مضمون کا مقصد ہے۔

مصنف دیدات صآحب کے دفتر میں۔ ڈربن

پہلے ایک دوست کے گھر کا واقعہ۔۔ خوشحال ہیں، گھر کی بزرگ ان کی بڑی ہمشیرہ ہیں۔ خاندان بھر کی آپابی۔یہ کراچی میں اردو بولنے والا ایک بہت مہذب گھرانہ ہے۔رمضان میں سوئیڈن سے آپا بی کی سب سے چھوٹی بھابھی ولما یہاں آتی ہے۔ خوب رونق رہتی ہے۔گوری، عیسائی،ایک دنیا کی سیاحت سے فیض یاب۔شائستہ،مگر حق گو۔رمضان میں اسے رونق اور سحور و افطار کے کھانے بہت پسند ہیں۔بعد از فطور تا سحری بڑے کنبے کے گپ شپ والے اجتماعاتِ آسودگی، قہوے، کافیاں، شیشہ، ایسا سماں ٹھنڈے ٹھاڑ سوئیڈن میں بھلا کہاں۔۔
ایسے ہی ایک رمضان   میں شاید شادی کو دوسرا برس تھا ،ہماری ولما بھابھی کراچی آئی۔ایک شام بوقت عصر دیکھا کہ آپا بی بڑے حروف والا مصحف رحل پر رکھے بستر پر بیٹھی ہل ہل پڑھتی تھیں۔جس گھر دعوت افطار پر جانا تھا وہاں سے کار کی آمد کسی وقت متوقع تھی۔
ہل ہل کر قرآن پڑھنے پر میاں نظام احمدصدیقی(ان کے NAS) دو دن پہلے کشمیریوں کا ایک جوک سناچکے تھے۔ جس پر انہوں نے آخر میں صرف اتنا کہا تھا کہ How so very mean NAS darling۔

شیخ احمد دیدات کے آستانہء عالیہ پر ڈنر پر مدعو
شیخ احمد دیدات مرحوم کا تحفہ

وہ جوک یہ تھا کہ ایک کشمیری بہو جس کی اپنی ساس سے ایک لمحے نہیں بنتی تھی، اپنی بیٹی کے ساتھ برطانیہ سے گڑھی دوپٹہ آزاد کشمیر آئی۔اعلیٰ الصبح چھوٹی سی پوتی نے جب دادی کو ہل ہل قرآن پڑھتے دیکھا تو ماں سے انگریزی میں پوچھا کہ دادی صبح اٹھ کر کیا پڑھ رہی ہے اور اتنا کپکپا کیوں رہی ہے تو وہ ناہنجار کہنے لگی کہ
She is reading for her final exams and she is afraid of her results(دادی اپنے آخری امتحان کی تیاری کررہی ہے اور اپنے متوقع نتیجے سے خوف زدہ ہے
ولما جاکر آپا بی کے پیچھے بیٹھ گئی۔ ان کے کاندھے سے سر کو ٹکا دیا۔وہ چھوٹا سا اسکارف جو وہ آذان کے وقت سر پر لینے کے لیے گلے میں ڈالے رہتی تھی وہ بھی احتراماً سر پر اوڑھ لیا۔ ولما کو اب ایک پیکر احترام مانو۔

انگریزی میں اپنی نند سے یعنی آپا بی سے پوچھنے لگی کہ وہ اتنا Tremble کیوں کررہی ہیں۔یہ کیا کتاب ہے جو وہ پڑھ رہی ہیں اور یہ کونسی زبان ہے۔آپا بی نے بتایا کہ”وہ احتراماً ہل رہی ہیں۔کتاب قرآن ہے اور زبان عربی“۔۔ولما نے کمال معصومیت سے پوچھا کہ اسے بڑا تعجب ہورہا  ہے کہ انہیں عربی بھی آتی ہے۔یہ تو NAS نے اسے کبھی نہیں بتایا۔ جس پر آپا بی کہنے لگیں انہیں عربی نہیں آتی۔اب سوئیڈن سے درآمد شدہ دلیل کی ماری ،تقدیس سے عاری،ولما کے  لیے عجب لمحہ تفریق تھا۔ کہہ بیٹھی کہ جب زبان ہی نہیں آتی تو پڑھنا کیسا۔اس کی فہم کہاں ہے۔جب کچھ پلے ہی نہیں پڑرہا تو احترام کہاں سے آگیا۔آپا بی نے تاؤ کھاکر ولما کو کمرہ سے دفع ہوجانے کا کہا۔آپا بی کہتی ہیں میں نے کمرہ چھوڑنے کا کہا تھا۔ مجھے تو دفع ہونے کی انگریزی بھی نہیں آتی۔
اگلی صبح ولما ناراض ہوکر اپنے وطن سوئیڈن واپس چلی گئی۔جب آپا بی دو سال بعد بقر عید کے تیسرے دن اللہ کو پیاری ہوگئیں تب وہ واپس پاکستان آئی مگر تدفین اور عرصہء تعزیت کے دوران نہیں،وہی رمضان میں۔

۔قرآن العظیم سے ہماری محبت، لگاؤ، فہم اور عقیدت کا الاؤ شیخ احمد دیدات نے بھڑکایا۔ ہم نے انہیں جب پہلی دفعہ سنا تو ایک ویڈیو تھی۔
How Rushdie Fooled The West.
یہ ویڈیو بہت مدلل انداز میں ملعون سلمان رشدی کی ہرزہ سرائی کا جواب تھی۔آپ یہ ویڈیو لازمی دیکھیے گا۔ اس کا استدلال آپ کے ایمان کو اللہ نے چاہا تو تقویت عطا کرے گا۔
چند ماہ قبل اس کی کتابSatanic Versesنے دنیا بھر میں تہلکہ مچارکھا تھا۔اس میں رسول اکرم ﷺ اور دیگر مذہبی ہستیوں کا تمسخر اڑایا گیا،اور ایران کے لیڈر امام خمینی نے 14 فروری, کو1989, فتویٰ  بھی جاری کردیا تھا کہ سلمان رشدی اور اس کتاب کے پبلشرز کو ہلاک کرنا دین کی خدمت ہوگی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب کے جاپانی مترجم کو چاقو کے وار کرکے ہلاک کردیا گیا اوراطالوی مترجم کو شدید زخمی کردیا گیا۔
اس کتاب پر مختلف ممالک میں پابندی لگ گئی مگر یہ ہمارا موضوع نہیں۔

ہم جب دیدات صاحب سے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ملے تو انہوں فورا ً رات کو ڈنر پر بلالیا۔ کسی طور ہمارے بڑوں سے واسطہ تھا۔چلنے لگے تو سر پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے گجراتی میں کہا کہ”ڈیکرا(بیٹے) دین کو تمہاری اور تمہیں دین کی ضرورت ہے۔ دین کی بات ہو تو بلال کی آذان بن کر رہنا، ابولہب کا رشتہ مت بننا۔چلتے وقت قرآن کا ایک نسخہ بھی تحفتاً دیا۔۔
واپس آئے تو بہت سے بزرگوں کی توجہ رہی۔ان کے ہاں قرآن کا ذکر کم کم تھا۔ویسا نہیں کہ جابجا قرآن کے حوالے ہوں۔ہاں کرامات اور تصرف، سیر الارض کمال تھے۔ہمارا منصب نہیں کہ ان مقامات پر ہم بحث کرکے کسی کی نگاہ سے گریں۔

جامعہ حفصہ کراچی کے قرآن کمپویٹر طالب علم

ہم نےنے واپس آنے کے بعد معلم محترم شیخ احمد دیدات کی مختلف ویڈیوز اور کتابچوں کی مدد سے قرآن کے بارے میں اپنا فہم و بیاں درست کیا۔  اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ خود مدارس کے پڑھنے والے بھی قرآن کی تجوید اور حفظ سے تو واقف ہیں بعض کی تو مہارت کمال ہے مثلاً جامعہ حفصہ کراچی میں ہماری ملاقات ایسے پچاس بچوں سے ہوئی جن کا قرآن کا حفظ کمال تھا۔ایسا کمال کہ آپ انگشت بدنداں رہ جائیں۔

وہ آپ کو بلاتامل قرآن الحکیم میں سے کسی سورہ کی آیت نمبر تین تیرہ ستہ چالیس آپ پوچھیں، بتادیتے تھے ۔یہ پوچھیں کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر19، 80 ،118 کون سی ہے تو اس کا جواب بھی برق رفتاری سے مل جاتا تھا۔ وہ سورہ رحمان کمال حفظ کے طور پر بغیر”فبای اعلی ربکما کے“ اور سورہ مزمل یا چند اور سور تیں Reverse Order میں سنا تے تھے۔ہماری یاداشت بہت ترتیب وار ہوتی ہے۔آپ سے کوئی پوچھ لے کہ اردو یا انگریزی کے حرف تہجی کا سولہواں حرف کون سا ہے تو آپ کو اسے یاد کرنے میں دشواری ہوگی۔ کوئی کہے کہ الف بے پے حرف ”ی“ سے الٹی شروع کرو یا انگریزی کی گردان زی سے الٹی پڑھو تو یہ آسان کام نہیں۔ وہاں تو سپر کمپیوٹر کی تیزی تھی۔

سیدنا اکرم ندوی-برطانیہ
امام ابو حنیفہ پر ندوی صاحب کی کتاب
کارلا پاءور اور ان کی شہر اآفاق کتاب
المحدثات

ہم نے بعد میں ایک نشست میں ان سے چند آیات مقدسہ کے معنی پوچھے تو اس سلسلے میں وہ بھی بے چارے عام قاریوں جیسے نکلے۔ہمیں جن قاری صاحب سے دوبارہ قرآن کی تجوید و حفظ میں مدد لینے کا موقع ملا وہ سورہ اخلاص اور سورہ الفلق کے معنی سے نابلد تھے گو کہ قرآن العظیم کی درس و تدریس سے ان کا نصف صدی کا ساتھ ہے۔
ہمیں لگا کہ قرآن کا  علم   مدرسہ نصاب میں تجوید اور حفظ کے بعد رُک جاتاہے اور علم الحادیث فقہ فتاوی اور دیگر علوم پر توجہ بڑھ جاتی ہے۔یہ وہ تمام علوم ہیں جو رسول اکرم کے بعد معرض وجود میں آئے۔قرآن کے نزول کا عرصہ کل 23 برس ہے جس کا آغاز نبوت کے 40ویں برس میں 22 دسمبر سے ہوا ،تب تک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا سے رخصت  ہوئے 609 بر س ہوچکے تھے۔ اسوقت رسول اکرمﷺ کی عمر 40 برس تھی ۔ یہ سلسلہ 23 برس تک یعنی آپ کے سن وصال 632 عیسوی تک جاری رہا۔

علم حدیث میں اسمائے الرجال کی دنیا بھر میں ,سب سے مقتدر سند مولانا اکرم ندوی کی مانی جاتی ہے۔ وہ سب سے پہلے اعظم گڑھ۔یوپی۔بھارت کے ایک مدرسے سے فارغ التحصیل ہوکر دار العلوم ندوہ پہنچے وہاں سے مصر کی جامعہ الازہر اور وہاں سے کیمبرج اور آکسفورڈ کی جامعات کے شعبہء اسلامیات  کے صدر بنے۔

وہ بھی اس بات سے شدید رنجور ہیں کہ مسلمانوں نے احادیث اور فقہ کو قرآن سے زیادہ توجہ دی، جس کی وجہ سے اختلافی اور فروعی مسائل کو فروغ ملا۔ وہ قرآن سے دور ہوگئے اور غیر اہم مباحث میں الجھ گئے۔امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری کا جنم 810 عیسوی میں ہوا تھا۔یوں رسول مقبولﷺ کہ اور محترم بخاری صاحب کے درمیاں دوصدیاں حائل ہیں۔

مولانا اکرم ندوی جو امام حنیفہ پر بھی دنیا بھر میں ایک سند سمجھے جاتے ہیں وہ اس بات سے ناآسودہ لگے کے یہ فقہ نے دین کو الجھا کر رکھ دیا۔وہ کارلا پاؤر کو ان کی کتاب (یہ بھی زندگی کو بدلنے والی کتاب ہے)اگر سمندر روشنائی ہوتے میں بتاتے ہیں کہ:
اگر سمندر بھی روشنائی بن جاتے۔۔۔محمد اقبال دیوان
قرآن کا سیدھا سادا پیغام ان کے غیر ضروری مباحث میں الجھ گیا۔یہ محترم فقیہان امام ابو حنیفہ،امام مالک، امام شافعی اور امام حنبل یقینا خود بہت دین دار عالم اور باکردار مسلمان تھے۔اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے مگران کے عقیدت مندوں نے ان کے کہے کو قرآن سے زیادہ فوقیت دی۔ان فقیہان کو آپ تجزیہ اور تنقید کی سان پر رکھ کر پرکھیں تو لگے گا کہ ان کے پُرجوش پیروکار اور خطیب ممبر اور تدریس کے ذریعے ان کے بیان کردہ مسائل کو جواز بنا کربہت چھوٹے چھوٹے مسائل میں اُمت کو الجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔یہ عظیم المرتبت ہستیاں ان وضاحتوں کو دین میں رخنہ اور بگاڑ بنانے کے لیے تھوڑی بھیجی گئی۔انہوں نے اپنے انداز سے اپنے معتقدین کو دین سمجھایا۔اس میں حالات، ثقافت اور نجی تفہیم بھی بہت غالب تھی۔

ان پر دھیان دیں تو یہ نماز میں نشست کے انداز سے لے کر جھینگا حلال ہے کہ مکروہ ہے، اس تک میں اختلاف رکھتے ہیں۔ امام حنبل کے فقہی پیروکار جو سعودی عرب اور عرب امارات میں رہتے ہیں ,ان کے فقہہ میں ٹڈی اور گوہ(Monitor Lizard )کھانا ممنوع نہیں جب کہ امام ابوحنیفہ کے ہاں گدھا اور جھینگا دونوں یکساں طور پر مکروہ خوراک ہے یہ فقیہان دین قرآن کی تعلیمات سے ہٹ کر زیادہ شدت پسند اور اسوہء رسول اکرم ﷺ سے جدا اپنے ہی طور پر حد، سزا اور خواتین کے معاملات میں انتہا پسند رویوں کے داعی ہیں۔

یاد رہے کہ حدیث اور امام ابو حنیفہ کے معاملے میں مولانا اکرم ندوی دنیائے اسلام میں سند مانے جاتے ہیں۔ خواتین محدثات کی زندگی پر ان کا کارنامہ اس کمال کا ہے کہ ایک انسائیکلوپیڈیا نما سلسلہء سوانح عمری 57 جلدوں پر مبنی ہے اور امام ابو حنیفہ پر ان کی سوانح عمری سند کا درجہ رکھتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *