یتیم بچوں کا عالمی دن۔۔ندیم کھوہارا

کچھ دن پہلے کی بات ہے میں نے چھوٹے بیٹے اور بیٹی کو پیسے دے کر دکان پر بھیجا کہ جا کر “چیز” لے آؤ۔ کچھ ہی دیر بعد دونوں واپس آ گئے کیونکہ راستے میں ایک بچھڑا کھڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر ڈر گئے۔ میں نے جا کر بچھڑے کو گردن سے پکڑا اور کہا کہ جاؤ اب کچھ نہیں کہے گا۔
بیٹی تو اعتماد سے گزر گئی لیکن چھوٹا بیٹا ابھی بھی جھجھک رہا تھا۔ تب بیٹی نے اپنی معصوم سی زبان میں کہا۔۔۔
“آ جاؤ بھائی۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا پاپا ہیں   ناں”

بیٹی کے منہ سے یہ جملہ ادا ہوا تو میرے ذہن میں بچپن سے آج تک کے ہزاروں واقعات کی جھلک آ گئی جب میرے منہ سے بھی یہی جملہ ادا ہوتا تھا۔

“کوئی بات نہیں ابو ہیں ناں۔۔۔ انہیں بتاؤں گا سب مسائل حل ہو جائیں گے”

اور واقعی جب میں انہیں اپنے مسائل بتایا کرتا تو یا تو وہ خود اس کا حل نکالتے یا پھر کوئی حل تجویز کرتے۔۔۔ اور کچھ نہ  کر سکتے تو دل سے دعا دیتے۔ اور یقین کیجیے وہ مسئلہ حل ہو جایا کرتا۔

باپ کی ذات اولاد کے سر پر ایسا سایہ ہے جو کڑی دھوپ میں بھی آنچ نہیں آنے دیتا۔
اب تو۔۔۔۔ ایک طویل زندگی ہے۔ مسائل کے انبار ہیں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔۔”کوئی بات نہیں ابو ہیں ناں”

سوچتا ہوں کہ اس عمر میں جبکہ میں تیس سے چالیس کے پیٹے میں ہوں والد کے نہ ہونے کا غم اتنا ہے۔ اور عدم تحفظ کا احساس ایسا ہے۔ تو جن کے ماں باپ بچپن میں ہی گزر جاتے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ قدم قدم پر محرومی کا احساس ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا ہو گا۔

جب بھی لفظ یتیم سامنے آتا ہے تو ذہن کے نہاں خانوں سے وہ لمحہ بھی ابھر آتا ہے جب جمعہ کی نماز کے دوران قاری صاحب نے سورۃ والضحیٰ کی تلاوت کی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے”فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ”
تو صف میں کھڑے ایک بزرگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ ایک لمحے کے لیے سب پریشان ہو گئے۔ لیکن قاری صاحب نے تلاوت جاری رکھی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ بزرگ پر رقت طاری ہو گئی ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی میں بزرگ کے پاس جا پہنچا اور سوال کیا کہ آخر وہ اس آیت پر کیوں اتنا روئے۔
نم آلود آنکھوں کے ساتھ انہوں نے جو جواب دیا وہ آج بھی گونج کی مانند سماعت سے ٹکراتا رہتا ہے اور آنکھوں میں نمی لاتا رہتا ہے۔
انہوں نے کہا۔۔۔۔
” بیٹا اس آیت کا ترجمہ ہے۔
“یتیموں پر سختی نہ کرو۔”
اللہ۔۔۔۔اللہ میرے مالک نے کس قدر صاف اور واضح حکم دیا ہے۔ اتنا واضح اور دو ٹوک کہ دل پر ہیبت طاری کر دے۔”
بات کرتے دوران ان کی آنکھوں سے جھلکتے آنسو صاف دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔
“جب بھی یہ آیت آتی ہے تو میرے ذہن میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یتیمی کا وقت ذہن میں آ جاتا ہے۔ وہ جب پیدا ہوئے تو باپ کی شفقت سے محروم تھے۔ شعور تک پہنچے تو ماں بھی ساتھ چھوڑ کر چلی گئی۔ ہائے۔۔”
اتنا کہہ کر وہ ایک بار پھر زار و قطار رونے لگے۔ روتے روتے یہی کہتے جاتے تھے کہ میرے آقا دو جہانوں کے سردار ابتدائے عمر سے ہی یتیمی سے گزرے۔ انہیں اسوہ حسنہ کی ایک مثال قائم کرنا تھی۔ کیسے کیسے دکھ امت کی خاطر انہوں نے جھیلے۔

بزرگ عشق کے اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں ہر سال پندرہ رمضان المبارک کو یتیموں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک میں بے شمار ادارے ہیں جو یتیموں کی کفالت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مخیر حضرات کی کمی بھی نہیں ہے۔ لیکن امسال چونکہ پوری دنیا پر ایک مہلک وائرس سے پھیلنے والی عالمی وباء کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ اس لیے خیراتی اداروں اور مخیر حضرات کی زیادہ تر توجہ کرونا وائرس اور اس سے متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے۔ جو کہ درست اور وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن ایسے میں خبر ہے کہ یتیموں کی خبر گیری رکھنے والے اور ان کا آسرا بننے والے اداروں کو نہ ہونے کے برابر امداد مل رہی ہے۔

اس تحریر کو پڑھنے والے تمام قارئین اور درد دل رکھنے والے متمول افراد سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس پُر آشوب دور میں ان بے سہارا اور یتیموں کا بھی خیال رکھیں جو آپ کی راہ تک رہے ہیں۔ جن کے والدین کا سایہ بچپن میں ہی سر سے اٹھ گیا ہے اور اب دستِ شفقت رکھنے والا کوئی نہیں۔ اس ضمن میں کئی ادارے کام کر رہے ہیں جو آپ کی امداد کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ایک الخدمت فاؤنڈیشن بھی قابلِ ذکر ہے۔ جو کہ وائرس کے حوالے سے فلاحی کاموں میں بھی سب سے پیش پیش ہے۔ اگر ممکن ہو تو آپ الخدمت فاؤنڈیشن کو یتیموں کی کفالت کے لیے خصوصی طور پر امداد دیجیے۔ یقیناً مالکِ کائنات جو کہ یتیموں کے معاملے میں شفقت کرنے کا واضح حکم دیتا ہے آپ سے ضرور راضی ہو گا۔ اور کیا معلوم یہی عمل باعثِ بخشش بن جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو قرآن و سنت کے عین مطابق عمل کرنے اور یتیم و بے سہارا افراد کا خیال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Avatar
ندیم رزاق کھوہارا
اردو زبان، سائنس، فطرت، احساس، کہانی بس یہی میری دنیا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *