ریلوے اور مالیاتی خسارہ۔۔محمد سعید

مبالغے اور مغالطے سے بچنے کے لئے اگر ہمارے ریلوے کے شیخ رشید صاحب ذرا گزشتہ سالوں میں پانچ رمضان المبارک سے لیکر پچیس رمضان المبارک تک کے ایکسپریس ٹرینز میں سفر کرنے والے مسافروں کا ڈیٹا نکلوا کر دیکھ لیتے تو انہیں یقیناً اس بات کا بخوبی ادراک ہو جاتا کہ وہ آ بیل مجھے مار کے مصداق سیاسی مخالفین اور ساری دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع فراہم کرنے جا رہے ہیں۔ان دنوں میں نارمل حالات میں بھی ہماری زیادہ تر ٹرینز پچاس سے ساٹھ فیصد خالی دوڑتی پھرتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او،اور پاکستان کے طبی ماہرین کے مطابق چار مئی سے پچیس مئی تک وباء پیک لیول کو چھو کر رہے گی تو ایسے وقت آپ ٹرینز کی آمدورفت کھولنے جا رہے ہیں۔
سکول،کالجز،مدارس اور پرائیویٹ ادارے پہلے ہی بند ہیں،پنجاب میں گندم کی کٹائی کا سیزن لیٹ شروع ہوا تو ایسے میں پندرہ ٹرینز میں کتنے لوگ سفر کرتے؟
سب سے اہم بات یہ کہ جب تک کراچی کا صنعتی زون نہیں کھلے گا ہماری پسنجر ارننگ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔
پشاور سے کراچی کم و بیش بارہ سے تیرہ ہزار لٹر ڈیزل صرف پاور انجن لے لیتا ہے جبکہ اے سی کوچز کے لئے پاور پلانٹ کی کنزمپشن اس کے علاوہ ہے۔
15ٹرینز چلنے کا مطلب 30پاور پلانٹس اور 30لوکوموٹیو پاور انجنز درکار ہوتے،20سے زائد مسافر بوگیاں ٹیکنیکلی لےکر جائی جا نہیں سکتیں۔۔۔۔تو پھر ساٹھ فیصد بکنگ کے ساتھ آپ کس طرح روینیو جینریٹ کرتے ۔ اس حساب سے ہمیں الٹا صرف فیولنگ کے اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا کیونکہ پانچ چھے دن کے بعد پچیسویں روزے تک مسافروں کی تعداد کم ہو جاتی۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم متعدد ٹرینز چلائیں ،ایک ہی پاور انجن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مسافر بردار کوچز کو اٹیچ کرکے روانہ کریں،اسطرح ہم فیول کی بچت کے ساتھ زیادہ مسافروں کو لیجاکر کسی حد تک منافع کما سکتے ہیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ پشاور سے لاہور تک دس سے زائد مسافر بردار کوچز نہیں لگائی جا سکتی اگر میں غلط ہوں تو کوئی متعلقہ شعبے کافرد میری بات کی تصحیح کردے۔ کیونکہ اگر دس سے زائد کوچز ہوں تو بعض جگہ ٹریک کی گولائی اس طرز کی ہے کہ ٹرین ڈی ریل یعنی پٹڑی سے اتر سکتی ہے،اور یہ ایسی مجبوری ہے جس کا حل فوراً ناممکن ہے۔
لاہور سے کراچی تک البتہ بیس کے قریب کوچز جا سکتی ہیں جیسے علامہ اقبال ایکسپریس،عوامی ایکسپریس میں ہوتیں ہیں۔
تمام کوچز میں درمیان والی برتھ ختم کر دی جائے یعنی چھ کی بجائے چار افراد کا کیبن بنا دیا جائےاور سامنے والی سیٹوں کو برتھ میں بدل دیا جائے تو ایک مسافر کوچ میں چالیس سے پینتالیس کے درمیان سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ مسافر بآسانی سفر کر سکیں گے۔

اس وقت ارننگ پوائنٹ آف ویو سے ہمیں اے سی سٹینڈرڈ کلاس ہی چلانی چاہئے ،بزنس کلاس میں مسافر کم اور فیول کنزمپشن زیادہ ہوتی ہے۔
اسی طرح کوشش یہ کی جائے کہ اکانومی کلاس اور اے سی سٹینڈرڈ کلاس پہ مشتمل علیحدہ علیحدہ سپیشل ٹرینز نان سٹاپ چلائی جائیں۔
ریلوے کے روینیو کا سہارا مال گاڑی ہی ہے یہ جتنی زیادہ ممکن ہو چلائی جائیں تو ہی ریلوے خسارے کو کم کر سکتی ہے بصورت دیگر حالات مشکل ترین ہوتے جائیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *