گالی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

نشہ،ایک مستقل بیماری ہے اور نشہ کرنے والا ایک مستقل ذہنی مریض ۔ پروردگار بیٹیوں کی ماؤں کو سمجھ اور شعور دے کہ وہ رشتوں کے معاملے میں پتھر کی ہو جائیں اوراپنی ممتا کا وزن کبھی جھکنے نہ دیں،تو کتنی بیٹیاں اجڑنے سے بچ جائیں۔
آمنہ چا ئے لے کر بیٹھک کی دہلیز تک پہنچی ،برتنو ں کی کھنکھنا ہٹ سن کر باتیں کرتی اماں اور خالہ حاموش ہو گئیں ۔مجیداں خالہ روئی روئی لگ رہی تھی، آمنہ کی اماں کا چہرہ،فکر اور کشمکش سے تنا ہوا تھا۔آمنہ چائے رکھ کر واپس آگئی ۔گھنٹے بعد جب خالہ جانے لگی تو تو باہری دروازے تک آمنہ پہ واری صدقے ہوتی گئیں۔
آمنہ بڑے بھائی اور بہن کی لاڈلی تھی۔ رات کو بڑے بھائی کے سامنے اماں نے خالہ کی آمد کا مدعا رکھا تو احمد بھیا کی اونچی آواز سے آمنہ کو پتہ چلا کہ خالہ کیوں اتنی محبت جتا رہی تھی
“مجیداں خالہ سمجھتی ہے کہ ہم اس کے نشئ پتر کوجانتے نہیں۔؟
سدا  سے نرم لہجے میں بولنے والے بیٹے کی اونچی آواز سن کرماں لرز گئی۔
“بڑے بول نہ بول احمد پتر، رب کو برا لگتا ہے ،مجیداں قسمیں کھا رہی ہے کہ شکیل نے نشہ چھوڑ کر کام دھندا شروع کر دیا ہےاور اگر کوئی چھوٹی موٹی کسر ہو گی تو شادی کے بعد تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔”
“میں نے تو کسی نشئی کو سدھرتے نہ دیکھا”
احمد بھیا چڑ کر بولے
“پھر بھی آمنہ کی مرضی پوچھ لیجئے گا”
ایک بھری دوپہر اماں نے آمنہ کو بٹھا لیا
“کیا مرضی ہے تیری؟ جیسے تو کہے گی وہی ہو گا”
” اپنی مرضی کریں اماں ،آپ اور احمد بھائی جو کریں گے بہتر ہی ہوگا “۔آمنہ نے جواب دیا
ہر دوسرے تیسرے دن خالہ مجیداں دو چار برادری کے لوگوں کے ساتھ آ دھمکتی، واسطے، ترلے ،منتیں کیا کچھ نہ کر تیں اماں مروت ماری زمین میں گڑی جاتیں ۔
ایک شادی پہ خالہ نے بھری برادری کے سامنے اپنا دوپٹہ اتارا اور احمد کے پیروں میں ڈال دیا۔
ماں بیٹے کو ہاں کرتے ہی بنی ۔
منگنی کےبعد آمنہ نے بھی آ تے جاتے شکیل کو کھوجتی نظروں سے دیکھتی تو اسکا دل بھی کچھ کچھ گھبراتا ،مگر وہ سوچتی کہ اپنی چاہت سے اسے بدل دے گی۔
شادی کے بعد وہ اپنے خدشے غلط ثابت ہونے پر اکثر شکر ادا کرتی ، شکیل سدھر گیا ہے ۔
علی کی پیدائش سے آمنہ کی  زندگی اور مصروف ہوگئی اس نے محسوس کیا کہ شکیل اکثر بلاوجہ وہ چھت پہ ٹہلنے چلا جاتاہے۔ایک شام آمنہ کسی کام سے وہ چھت پہ گئی تو شکیل گھبرا کر کہنے لگا
“میں آ رہا تھا نیچے”
پہلی دفعہ آمنہ کو وہم کے سنپولیے نے ڈس لیا ۔
اور پھر دھیرے دھیرے وہ سنپولیا، ناگ بن گیا۔
اب وہ اسکے سامنے نشہ کرتا ،اور وہ دیکھتی رہتی ۔
علی کی پیدائش اپنے ساتھ بھوک،ننگ اور افلاس لے کے آئی۔ ہفتہ، دس دن بعد ،اماں بھی بہانے بہانے کسی آئے گئے کے ہاتھ ،ہزار پانچ سو بھیجنے لگیں ۔
عورتیں،ہار سنگھار کرتیں تو اسکا دل حسرت بن جاتا۔میکے جاتی تو بھابھی کو بھیا سے جھگڑتا دیکھ کر اسکا دل کرتا کہ اسے چیخ چیخ کر کہے۔
“اسکے پاؤں دھو دھو کر پیوکہ یہ تمہیں کما کر کھلاتا ہے۔تمہارے ناز نخرے اٹھاتا ہے ”
مگر اس نے بھائی اور بھابھی کو کبھی نہیں بتایا کہ شکیل کے جھگڑوں اور گالم گلوچ سے اب اسکی سما عت چٹخنے لگی ہے کبھی کبھی تو اسکا جی چاہتا،شکیل کی زبان نوچ لے۔۔پھرجب پہلا تھپڑ پڑا تو بچا کھچا رشتہ بھی جاتا رہا ۔اس نے بلبلا کر ساس سے شکوہ کیا تو ساس بولی!
“لو، عورتیں تو مار کھاتی ہی ہیں۔مجھ کو شکیل کے ابا نے کئی بار مارا تھا ایک آدھ لگا دی ،تو کیا ہوا؟ ”
وہ آنکھیں پھاڑے ساس کودیکھتی رہی ہر دفعہ میکے جانے پر اماں اسکا چہرہ کھوجتیں تووہ انکے سینے میں منہ چھپا کر ہر دکھ کہہ دیتی ۔ آمنہ کا دکھ چھ ماہ میں ہی اماں کو گھول کر پی گیا۔
جیسے جیسے چار چوٹ کی مار لگتی گئی ،وہ پتھر ہوتی گئی ۔ شکیل حسب ضرورت معافی بھی مانگ لیتا،پر گزرے کل کا بچا درد اور خوف،اسے آنے والے کل پہ یقین نہ کرنے دیتا۔جب درد حد سے گزرا تو دوا بن گیا۔
اماں کی برسی پہ آئی آمنہ واپس نہیں گئی۔
کتنی بار احمد بھائی نے سمجھایا۔مگر اس نے آپی سے صاف کہہ دیا کہ میری ماں کا گھر  اگر اس کے بعد میرا نہیں رہا تو میں کہیں اور چلی جاتی ہوں مگر شکیل کے پاس نہیں جانا ۔ سارے خاندان نے سمجھایا، مگر آمنہ نے خلع لیکر ہی سانس لیا ۔
اس رات میکے آئی آپا کو سمجھ نہ آئی کہ کس دکھ پہ روئیں۔اماں کے مرنے پہ  کہ آمنہ کے اجڑنے پہ۔
آمنہ کے دل پہ نجانے کیسی چوٹ لگی تھی کہ پتھر ہی ہوگئی،بھائی  سے کہہ کر سلائی مشین منگوائی اور دو وقت کی روٹی کمانے لگی۔
ایک شام مشین کا پہیہ گھوم رہا تھا ۔میکے آئی آپا پاس بیٹھی تھیں۔یونہی باتوں میں آہا نے پوچھ لیا،
“آمنہ لڑائی جھگڑے تو تم دونوں کے درمیان تھے۔مگر ایسا کیا ہوا تھا کہ تم نے دوبارہ واپسی کے سارے رستے ہی بند کر دیے، علی کا بھی نہیں سوچا “؟
آمنہ نے ایک لمحہ آپی کو دیکھا اور کہا
“باجی ،گالیاں اور مار کو تو نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا تھا ۔ اگر امی کی برسی والے دن میں گھر چھوڑ کر نہ آتی تو میں نے شکیل کو  غیرت کے نام پہ  قتل کر دینا تھا۔
میں نے اسکی ہر گالی قبول کی کاش وہ یہ نہ کہتا!
تیری ماں کی میت میں۔۔۔۔
اور میں دوزخ پھلانگ گئی۔”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *