انقلابی دانشورعاصم اخوند۔۔سجاد ظہیر سولنگی

سماج میں حقیقی تبدیلی صرف طبقاتی فرق کے ہی خاتمے سے ممکن ہے۔ وہ تبدیلی نظریاتی سیاست کے بغیرادھوری ہے۔ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی ایک لمبی تاریخ ہے۔یہاں بڑے بڑے دانشور جنم لیتے رہے، جنہوں اپنی دانش سے سماجی ناانصافی کے خلاف نظریاتی نرسری کی داغ بیل ڈالی۔ وہ نظریاتی سیاست جو کہ اس خطے کی پسماندہ، مظلوم ومحکوم انسانوں اور محنت کشوں کی بقا کے لیے انقلاب کا سامان تھی۔ انقلابی رفتگان کا یہ قافِلَہ اس وقت تک تو اپنی منزل تک ساتھ ساتھ رہا، جب تک روس کا اکتوبر انقلاب، سوویت یونین کی شکل میں موجود رہا۔ مگر سوویت یونین کے خاتمے سے سوشلزم کا خواب دکھانے والے رفیقانِ انقلاب بھی تتر بتر ہو گئے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے عظیم فلسفے کمیونز م کے افکار اور اس کی سیاست کو روکنے کے لیے 60، 70، اور 80 کی دہائی میں جو قوتیں سرگرم ِ عمل رہیں، وہ سمجھتی تھیں کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے، پاکستان میں سے انقلابی قافلے کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں، انقلاب کے پرولتاریہ کو شکست دے چکے ہیں۔ بہت سے دانشوروں نے اپنے خیالات تبدیل کیے، جو سوویت یونین کے خرچ پر پلتے رہے، اپنی زندگیاں خوشحال بنا ڈالیں۔ جب عظیم انقلاب کے خلاف سامراج نے ڈنکے بجانے شروع کیے، ان دانشوروں اور سوڈو ترقی پسندوں نے اپنی وفاداریوں کا رخ موڑ دیا۔ انسانی بقا کے عظیم عملی فلسفے مارکس ازم اور لینن ازم کے خلاف غیر ضروری خیالی باتیں کرتے رہے، نظریات پر ڈٹے رہنے والے انقلابی قافلے کے بکھرے ہوئے عْشاق کے خلاف تَشہِیر کرتے رہے۔ایسے اَشخاص و گروہ کا مقابلہ اور سامنا کرنے کے لیے ایک بہت بڑاخَلا پیدا ہوا۔ جس کو پْر کرنا بڑا مشکل تھا۔بہت سے لوگ میدان میں آئے، اپنے روایتی دلائل سے ڈرامہ رچاتے رہے، وہ جوابات جو درباری مفکروں کو سید سبط حسن دیا کرتے تھے، ایسے جوابات کا سِلسِلَہ بند ہو چکا تھا۔سبط حسن جو 20 اپریل 1986 ء کی شب ابدی آرامی ہوچکے تھے۔اس ملک میں شاید سامراج کے دانشوروں کویقین آگیا تھا،کہ اب وادی مہران کی سرزمین میں سے ایسی آواز پھر سے نہیں آئے گی، جو کہ عوامی بغاوتوں اور سوشلسٹ تحریک کا دفاع کریگی، ایسا انقلابی جو مارکس، اینگلز، لینن اور اسٹالین کے افکارکیا دلائل کی بنیاد پردفاع کریگا۔ وہ آواز 90 کی دہائی میں دشتِ مہران کے ایک پتلے سے نوجوان عاصم اخوند کی فکری گونج میں تحریر و عمل کی صورت منظر ِ عام پر آگئی۔ آپ کے مارکسی مطالعے نے مارکس ازم اور لینن ازم کے ذریعے عوامی ادب کی شمع جلائی، جس نے نوجوان کے ایک انقلابی و نظریاتی قافلے کی بنیاد ڈالی۔عاصم اور اس کے ساتھی وادی مہران کو سوشلسٹ فکر سے جوڑنے کا خواب لیکر چلے۔
کامریڈ عاصم اخوندکا جنم حیدرآباد میں ہوا، یہ وہی حیدرآباد ہے جہاں بائین بازو کی سیاست عہدِ برطانیہ اور اس کے بعد اپنے وجود کے ساتھ قائم رہی، سوویت یونین کے انہدام اکی وجہ سے اس نظریاتی سیاست کا بہت ہی بڑا نقصان ہوا۔ عاصم اخوند کی سیاسی شروعات بھی اسی سال سے ہوتی ہے، آپ نے سرخ پرچم کے قافلے کو نئی شکل میں جوڑنا شروع کیا۔ آپ نے کارل مارکس کے فکر کا مطالعہ کیا۔اس وقت جو عالمی صورتحال تھی اس کو مارکسی نقطہ نگاہ سے سمجھنا شروع کیا۔ آپ نے سوویت یونین کے انہدام کو مارکسی نظریے سے الگ کرکے کھڑا کیا۔ مختلف نوجوانوں کو اکٹھا کیا، آپ نے  سٹیڈی سرکل، عوامی محفلیں اور نظریاتی بحث کے لیے ایک سازگار ماحول تیار کیا۔ آگے چل کر کامریڈ عاصم اخوند نے 1993 ء میں اپنے فکری احباب کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ “سندھری نائیسانس کلب ” کی بنیاد ڈالی۔ آپ نے سماجی سائنس کے فروغ کے لیے علمی بنیادوں پر نئی نسل میں مارکسی اصولوں کو متعارف کروایا۔ ان کے آگے سوال تھا کہ سوویت یونین ٹوٹنے اور مارکسزم کے کی سچائی کا دفاع کیسے کیا جائے؟ مارکسی افکار کے خلاف سامراج کی طرف سے جاری جھوٹی یلغار کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟۔ عاصم اخوند کی طرف سے بنائی جانے والی یہ انجمن اُس کے خلا کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی۔ 1994 ء کے سال میں آپ نے کارل مارکس کے جنم دن کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی۔ یہ سالگرہ ان لوگوں کے لیے جواب تھی، جو لوگومارکس کے فکر سے لاتعلقی کا اظہار کر کے بیٹھے تھے۔ عاصم کے والدین اسے وہ تعلیم دلوانا چاہتے تھے، جو کہ اسے انسان بنائے یا نہ بنائے لیکن بہت پیسہ بنانے والی مشین ضرور بناتی۔ جو عاصم کے مزاج کے سخت خلاف تھا۔ وہ محنت کشوں کو نظریاتی تعلیم دینے والے عوام دوست فلسفے کوسمجھنا چاہتے تھے، عاصم کے خلاف والدین کی شکایت سندھی ادب کے بہت بڑے مدبر نام، دانشور، فلسفی اور سیاسی استاد سائیں محمد ابراہیم جویو تک پہنچی، جس نے عاصم کی والدین کو سمجھایا اور عاصم نے پھر جاکر جامعہ سندھ کے شعبہ فلسفہ میں داخلہ لیا۔ جہاں آپ نے سماجی سائنس کے اصولوں اور منطق کو علمی بنیادوں پر سمجھنا شروع کیا۔ آپ اپنی سوچ اور فکر میں ایک وسیع مطالعہ رکھنے والے دانشور کی صورت سندھ کے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرتے گئے۔ آپ کے آس پاس انقلابی نوجوانوں کی ٹولیاں بننا شروع ہوگئی۔ ادب، فلسفہ، سماجیات، معاشیات، سیاسیاتاور بَین الاَقوامی کے موضوعات آپ کے مشاغل میں شامل ہوتے گئے۔
فلسفے میں ایم کی ڈگری لینے کے بعد اپ کے ذہن میں ایک تڑپ رہتی تھی کہ مارکس ازم اور لینن ازم کو قریب سے دیکھا جائے۔ اسی خواب کو سینے سے لگائے، آپ عظیم لینن کی دھرتی کی جانب چل پڑے، یہ 1999 ء کے دن تھے کہ دشت مہران کا یہ نوجوان فلسفی ماسکو(روس) پہنچا۔ جہاں انہوں اپنی ایم فل کے لیے فلسفے کے مضمون کا  انتخاب کیا۔ روس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے کچھ اصول بنائے گئے ہیں۔ بیرون ِ طلبہ کو پہلے روسی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ عاصم نے اس زبان سیکھنے کی شرعات کی، جس سلیبس کی مدت 12 ماہ مقرر کی گئی ہے، وہ انہوں نے چند ماہ میں پورا کرکے دکھایا۔ روس میں آپ فلسفے کے بہت بڑے نامور استاد وازیولن کی شارگردی میں رہے۔ عاصم نے ایم فل کے تھیسز کو روسی زبان میں لکھا۔ آپ کے مقالے کا عوان بھی جدلی مادیت ہے۔ مارکسزم کی بنیاد بھی جدلی مادیت پر ہی رکھی گئی ہے۔ روسی زبان جاننے والے عاصم کے اس علمی کام کو اچھے اور بہترین علمی کاموں میں شمار کیا کرتے ہیں۔روس سے واپسی کے بعد آپ نے کمیونسٹ پارٹی میں کام کرنا شروع کیا، جب پاکستان سے روس جانے لگے تو اس وقت آپ نے اپنی اسی پارٹی سے تعلیم کے حصول کے لیے چھٹی کے درخواست کی تھی، جو کہ پارٹی نے منظور کی۔ 2004 ء میں آپ نے حیدرآباد سے سندھی زبان میں ایک نظریاتی رسالے “آدرش” کی شروعات کی، جس کو سندھ کے ترقی پسندوں، کمیونسٹوں اور قوم پرستوں میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ آدرش نے سندھ میں نوجوان نسل کو مارکسزم کے جدید ٹول سمجھائے۔ آپ کے قلم سے لکھی جانے والی تحاریر آج بھی نئی نسل کے ساتھ مارکسی فکر سے جڑنے والے ہر انسان کے لیے نظریاتی تعلیم کا کردار ادا کررہی ہیں۔ عاصم نے آدرش کے ساتھ ساتھ عملی کام بھی سرانجام دیا۔آپ سندھ میں ہونے والے نوجوانوں، محنت کشوں، مزدوروں، خواتین اور کسانو کے جلوسوں میں بھی بھر پور شرکرت کرتے رہے۔
سندھ میں عاصم اخوندکا شمار انقلابی دانشور کے طور پر ہونے لگا۔ آپ کی تحریریں جیسا کہ مادیت کا فلسفہ جس میں انہوں سماجی سائنس کے اصولوں کو عام اور آسان زبان میں سمجھایا۔ آپ کی تحریر جوکہ عام انسانوں کی نمائندگی کرتی ہے، جس کا مقصد تھا کہ عام محنت کش اپنے فلسفہ کو سمجھ کر اپنے حقوق کی جنگ علمی بنیادوں پر سمجھ کر لڑیں۔عاصم اخوند زبان کے مسائل پر بھی سائنسی نقطہ نگا سے سوچا کرتے تھے۔ زبان سے لیکر عالمی سیاست کے تمام حالات سے واقف رہنے والے عاصم سامراج کے تمام ہتھکنڈے ہم جیسے نوجوانوں کو سمجھاتے تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ کیسے عالمی استحصالی طبقات ہمارے جیسے ممالک کے وسائل پر قابض ہیں۔
آپ بلوچستان، انسانی حقوق، عالمی ترقی پسند تحریک پاکستانی ریاست کا تضاد بہت ہی آسان زبان میں سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ سندھ کا یہ نوجوان فلسفی جہاں سماجی سائینس کے اصولوں کے پیش نظر حالات کا تجزیہ کیا کرتے تھے، وہاں پر وہ ملک سے لیکر بیرون ملک میں تخلیق ہو نے والے عوام دوست اور سامرج مخالف ترقی پسند ادب کی بھی اچھی خاصی جان کاری رکھتے تھے۔عاصم مارکس اینگلز، لینن اور اسٹالین کے فکر پر کسی قسم بھی سمجھوتے کے حق میں نہیں تھے،اس پر ڈٹے رہے۔۔
وہ مارکس ازم زندگی کی آخری گھڑیوں میں بھی دفاع کرتے رہے۔لیکن وقت نے ان کی زندگی سے وفا نہ کرسکا۔ 2 ستمبر 2008 ء کی شب ہمارے عہد کے انقلابی دانشور ہمیشہ کے لیے اس دھرتی کوالوداع کہکر جدا ہوگئے ہو گئے۔ آج انہیں بچھڑے ہوئے 12 سال کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن آپ اپنی تخلیقات میں آج بھی بکھرے ہوئے انسانوں کے دکھوں اورانقلابی سوچ اوران کی جدوجہد میں نظر آتے ہیں۔ حیدرآباد کے وہ پس ماندہ علاقے جہاں عاصم اخوند آج بھی ایک نظریاتی دانشور کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں۔ کیوں کے عاصم جیسے اہل قلم کے نظریاتی اور عملی طریقے سے سیکھنے کی ضرورت وقت بہ وقت پڑتی رہے گی۔
آپ سرخ پرچم کی وہ لالی ہیں جو محنت کشوں کی نجات کے فلسفے کی نمائندگی کرتی آرہی ہے۔آئیے ہم آج ان کے جنم دن پر انہیں سرخ سلام پیش کرتے ہوئے اس بات کا عہد کریں کہ ہم محنت کشوں، کسانوں اور مظلوموں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *