بھولا پھیرے باز۔۔سلیم مرزا

اب ہوتا یہ کہ انگلش فلم ہوتی سوا ڈیڑھ گھنٹے کی اور فلم بین ٹکٹ خریدتا تین گھنٹے انٹرٹینمنٹ کیلئے ۔چنانچہ تمام پنجاب کے سینماؤں نے وقفے سے پہلے تک انڈین گانے چلانے شروع کر دئیے ۔انڈین گانوں کا حصول انگلش فلم ڈسٹری بیوٹر کیلئے چیلنج بن گیا ۔
میں ان دنوں تھائی سے گارمنٹس اور سنگاپور سے STKٹائپ آئی سی کی  سمگلنگ کا کام کرتا تھا، جو دیسی (ڈیک)سٹیریو سسٹم میں استعمال ہوتا تھا ۔
میں نے حساب لگایا کہ انڈین فیچر گانوں کا کام گارمنٹس اور الیکٹرونکس سے زیادہ سودمند ہے ۔
میں نے انڈیا کا ویزہ لگوانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا ۔مجبورا مجھے پرانے پھیرے بازوں کو ساتھ ملانا پڑا ۔
ان میں سے ایک گھوڑے شاہ لاہور کا بھولا بھی تھا ۔
گھوڑے شاہ اور بھولے وسطی پنجاب کے ہر شہر میں پائے جاتے ہیں ۔
بھولا اپنے کام کا پورا مستری تھا ۔
فلم انڈسٹری کو سمجھتا تھا، وہ بمبئی  کے سینما میں فلم دیکھنے جاتا ۔پروجیکٹر آپریٹر کو گھیرتا اور دو چار ہزار کے عوض فلم میں سے پورا گانا پار کروا لیتا ۔
شروع شروع میں بس گانے ہونے چاہیے تھے ۔پھر سینماؤں کی نئے گانوں کی فرمائشیں شروع ہوگئیں ۔
ڈیمانڈ بڑھی تو گانوں کی قیمت بڑھنے لگی ۔
بھولا بغیر ٹکٹ اور ویزے کے سمجھوتہ ایکسپریس میں بیٹھ جاتا تھا ۔ہر چیکنگ اور  سٹیشن پہ اسی  کے چاچے مامے تھے ۔
لگتا تھا سمجھوتہ ایکسپریس بھولے کیلئے ہی چلائی گئی تھی ۔بیچارہ اسی ٹرین میں جل کر فوت ہوا تھا ۔
کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا کہ ہمیں پتہ بھی نہ چلتا اور بھولا بمبئی  سے کھانچے والا اَن لمیٹڈ فون کرتاکہ پاپڑمنڈی بازار میں فلاں کو پیسے دیدیں ۔
صرف بھولے کو لاہور اسٹیشن سے نکالنا میری ذمہ داری ہوتی ۔
ایک بار بھولا میرے لئے دو بوتل میکڈول لے آیا، اس نے کسٹم لائن کراس کرکے مجھے پکڑائیں اور کہا نیفے میں اڑس لو ۔۔اور خود سامان اٹھانے نکل گیا
ذلیل کو پتہ بھی تھا کہ میری شلوار میں الاسٹک ہوتا ہے ۔میں کہاں اٹکاتا ۔۔میں بوتلیں ہاتھ میں پکڑے  سٹیشن سے باہر کار تک آیا ۔
ہماری قوم قانون شکنی کو پسند کرتی ہے ۔مجھے کئی لوگوں نے دیکھا ، یہی سوچا ہوگا ۔کوئی بڑا آدمی ہے جو اتنی دیدہ دلیری سے شراب لیجا رہا ہے ۔حالانکہ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔
تو بات ہورہی تھی گانوں کی ۔پروجیکٹر آپریٹر والا طریقہ زیادہ چلا نہیں ۔پرانی فلموں کا گانا غائب ہوجائے تو پتہ نہیں چلتا ۔مگر نئی فلم کے گانے کی گمشدگی کا فوراً پتہ چل جاتا ہے ۔بھولے کو اب مہیش بھٹ ساجد نڈیا والہ ،ڈیوڈ دھوان پندرہ سولہ پروڈیوسر ساتھ لئے ڈھونڈھ رہے تھے کہ آخر یہ گانوں کا کرتا کیا ہے؟
ایک دن بھولے کا بمبئی سے فون آیا ۔بہت پریشان تھا کہنے لگا
” وکی جی ۔۔کوئی آپریٹر نہیں پھنس رہا ۔ایک کمینے نے تو پولیس بلوالی ۔بڑی مشکل سے بچا ہوں ۔ دہلی، امرتسر میں بھی ٹرائی کر چکا ہوں ۔اب کیا کروں، دولاکھ ہے، پان اور پتی لے آؤں “؟
میں نے کہا صبح کال کرنا، کچھ حل نکالتا ہوں ۔
میں نے فلم ڈسٹریبیوشن کے نظام کا ازسر نو جائزہ لیا ۔اورمجھے جگاڑ مل گیا ۔
بھولے کی کال آئی تو میں نے اسے کہا کہ مجھے بہار، مدراس اور اتر پردیش کے چھوٹے قصبے اور وہاں موجود سینماؤں کے نام چاہئیں ۔یہ نام تمہیں اخبار کے فلمی اشتہار والے صفحے سے مل جائیں گے ۔
بھولے نے بھاگم بھاگ اخبار خرید کر کال کی ۔
میں نے چار چھ سینماؤں کے پیڈ بنائے اور باقی کام بھولا سمجھتا تھا ۔
دودن بعد لیٹر پیڈز بھولے کے پاس تھے ۔
اب بھولا پہلے فلم دیکھتا ۔گانوں کا حساب لگاتا کہ کس سین کے بعد گانا آئے گا ۔پھر دس بیس ہزار ایڈوانس اورسینما کا لٹر پیڈ دیکر فلم ایشو کرواتا ۔
سات  سپول کا وزنی بکسہ اٹھا کر ہوٹل لاتا ۔گانے نکالتا ۔ان کا سپول بنا کر کسی کیرئیر کو پکڑاتا ۔۔میں لاہور  سٹیشن سے وصول کرلیتا ۔
ایک بار تو تبو کے ایک گانے “رک رک رک ارے بابا رک “کی اس کو سمجھ ہی نہ آئی کہ فلم میں کہاًں ہے ۔تو اس نے “وجے پتھ ” پوری فلم ہی بھیج دی ۔
جسے ہم سب نے مل کر سینما میں دیکھا ۔اس میں میرا پسندیدہ گانا “‘راہ میں ان سے ملاقات ہوگئی “بھی تھا ۔
بھولے نے اسی پہ بس نہیں کیا ۔انڈین سینما میں میٹنی شو میں ڈبل ایکس لو  سٹوریز کا رواج بھی تھا۔
بھولا وہ بھی لے اڑا” ینگ لیڈی چیٹر لی ۔الیون ڈے الیون نائٹ اور نائن اینڈ ہالف ویک جیسی فلمیں بھولے کی وجہ سے پاکستان میں چل پائیں ۔میرا ” کم بسنگر ” سے تعارف بھولے نے ہی کروایا تھا ۔
یہ سلسلہ کوئی چار چھ ماہ ہی چل پایا ۔
بمبئی  کے ڈسٹری بیوٹرز نے ایک بار پھر بھولےکو ڈھونڈنا شروع کر دیا ۔
لیکن ہمارے پاس بھی اتنا مال تھا کہ چھ مہینے تک بھولے کو انڈیا جانے کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *