سانحہ بشریٰ زیدی(حصہ اوّل)۔۔محمد اقبال دیوان

 (بشری زیدی کے سانحے نے  کراچی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 15, اپریل سن 1985 کو حادثے والے دن کیا ہوا، بطور مجسٹریٹ آن ڈیوٹی،مصنف کی جانب سے آنکھوں دیکھا احوال,نئے زاویے نئی باتیں اور گم نام حقائق پہلی بار منظر عام پر)
…………………………………….
بشری زیدی کی موت کا سانحہ کراچی کو تباہی اور بے لطفی کے موجودہ دہانے تک پہنچانے میں ایک تکلیف دہ سنگ میل کا مقام رکھتا ہے۔15, اپریل سن کو1985 پیش آنے والے یعنی اب سے پینتیس سال پرانے اس کرب ناک سانحے کے محرکات اب تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئے ہیں۔ہم وہ لوگ نہیں جو اپنی تاریخ ٹھیک سے Document اور Curate کریں۔تاریخ ہمارے دل و دماغ پر فلم کے اس  سکرپٹ کی طرح چل رہی ہوتی ہے جس کے منظر نامے اور Cinematography (کیمرے اور فلمبندی کا فن) کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ہم تاریخ کو عقیدہ بنا کر پالتے ہیں اور عقیدت کا روپ دے کر پوجتے ہیں۔

کراچی میں تشدد
سب سے بڑا شہر،سب سے غیر مہذب ٹرانسپورٹ
اللہ مار ڈالنی منی بس اور ہلاکت
بھارت کا رقبہ فساد
منظر نامہ
اخباری تراشے

آئیے ایک بڑے سے برش سے اس منظر نامے کے محرکات کو پینٹ کرلیتے ہیں۔ پہلا محرک تو یہ تھا کہ افغانستان اور ایران میں جس قسم کی جنگ اور انقلاب ظہور پذیر ہورہا تھا اس میں ایک بڑا مسلکی اور فکری تضاد تھا۔ جنرل ضیا کے بعد کراچی کی پہلے سے ریزہ ریزہ سیاست کو مذہب سے جڑی ایک ایسی قیاد ت نے تحویل میں لے رکھا تھا جو خالصتاً وہابی دیوبندی سلفی اور سنی تھی۔ اس سیاسی شگاف کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان جہاد سے پیوستہ کراچی کے سیاسی افق پر مقیم غیر مقامی افراد کا قبضہ تھا۔جیسے مفتی نظام الدین شام زئی،مفتی رز ولی، مولوی اسفندیار،حق نواز جھنگوی۔اس کی وجہ سے بیرونی طاقتوں بالخصوص را خاد جیسے اداروں کو موقع  مل جاتا تھا کہ وہ معمولی مقامی تنازعے کو بھی فرقہ وارانہ فسادات کا روپ دے کر پھیلا وا دیں۔ شہر میں اس کی وجہ سے آگ بھڑکانا آسان ہوتا تھا۔مقامی شیعہ آبادی جن کی اکثریت اردو اور گجراتی بولنے والے افراد پر مشتمل تھی ,ان کی وابستگی ایران سے تھی۔ایرانی انقلاب کی وجہ سے انہیں ایک نئی لائف لائن مل چکی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کراچی کی سیاست پر افغانی اور جنوبی پنجاب کا نسبتا ًپس ماندہ مولوی طاقت کے زور پر قابض ہو کر ان سے کان پکڑ اپنے فیصلے منوائے۔ اسی لیے وہ جہادی گروپس کی ان ریشہ دوانیوں سے تنگ تھے۔ کراچی کے شعیہ فکری اور مالی سطح پر بہت بلنداور قدرے صلح جُو تھے ۔میڈیا، خفیہ اداروں، شو بز،مالیاتی اداروں اور دنیائے فن و ادب میں ان کا بہت مضبوط نیٹ ورک قیام پاکستان سے ہی من مانی کرتا تھا۔
اسی تصادم و تناظر میں وہ کراچی کی آبادی کو جوڑ کر رکھنے کے لیے ایک سیاسی قوت کو سامنے لانا چاہتے تھے جو ان کے تحفظ میں مکمل سیکولر آؤٹ ُلک رکھتی ہو۔
اختر حسین رضوی، رئیس امروہی اور دوسرے ایک عرصے سے اسی تگ و دو میں تھے کہ
وہ ایک سیکولر تنظیم اپنے مقاصد و مسلک کے لیے آگے لائیں۔ دوسرا محرک یہ تھا کہ کراچی کی پولیس اور ٹرانسپورٹ پر بھی غیر مقامی افراد کا تسلط تھا۔منی بس جسے عرف عام میں پیلا شیطان(Yellow Devil )کہا جاتا ہے اس کی چلت پھرت میں زیادہ تر افغانی اور پختون شامل تھے۔ان منی بسوں کے ڈرائیور اور کلینرز زیادہ تر افغان مہاجر ین تھے۔ان کا واحد مقصد اپنی دہاڑی کھری  کرنے کے علاوہ مالک کو مال بھی کماکر دینا تھا۔زیادہ ٹرپس کا مطلب زیادہ کمائی۔  سٹاپ سے  سٹاپ تک وقت کی پابندی نہ ہونے کی صورت میں فی منٹ پچاس روپے جرمانہ ڈرائیور پر عائد ہوتا ہے۔یہ تعلیم سے پرے اور مزاجاً ناشائستہ افراد تھے ۔حریص، میلے،اکھڑ اورغیر مقامی پولیس کو پیسہ دے کر کنٹرول کرنے والے۔ پبلک سیفٹی،سپیڈ، توازن سے قطعی نابلد۔

تیسرا بڑا محرک سندھ کی سیاست تھی۔ کراچی کے مہاجر جنرل ضیا کی مجلس شوری میں اپنے دو ممبران پروفیسر غفور اور محمود اعظم فاروقی کی کوٹہ سسٹم کی توسیع پر مخالفت نہ کرنے کی وجہ سے ناراض تھے۔جماعت اسلامی کو افغانستان کی وجہ سے ڈالر لکڑی کے بکسوں میں ملتے تھے۔ایک بینر ہزار روپے کا ہوتا ہے۔ کشمیر اور یوم القدس جیسے Non- Events پر ان کے شہر میں پانچ ہزار بینر لہراتے تھے۔ کروڑوں روپے کی یہ رقم ظاہر ہے منصورہ کے تیل کے کنوؤں سے تو نہیں آتی تھی۔ان دنوں جماعت اسلامی مولانا طفیل کے زیر ِدست تھی۔ مولانا میاں طفیل شنید ہے کہ جنرل ضیاکے ماموں تھے اس لیے اس وقت کسی شاعر نے کہا تھا ع

فرنچ فلاسفر ،پاسکل
کرشمہ کپور
سر سید گرلز کالج ۔ کراچی
مالکان ٹرانسپورٹ
بشریٰ زیدی سانحے کے تراشے
اخباری تراشے

ہر کام میرا اسلامی ہے،
ماموں بھی میرا حامی ہے۔

کراچی کے میئر،لیاری کے عبدالستار افغانی تھے۔لوگ کہا کرتے تھے کہ کراچی میں وہ واحد افغان تھے جو اتنے سیاہ فام تھے۔ ورنہ افغان کوئلے کی دلالی میں بھی کالا نہیں پڑتا۔مزاج دھیما اور گفتگو سہمی سہمی مگر شائستہ۔ سیاست کی اتنی ہی سمجھ رکھتے تھے،جتنی جماعت اسلامی کو رکھنے کی اجازت ہے۔ایماندار تھے مگر بہکاوے میں جلد آجاتے تھے۔غوث علی شاہ سندھ کے چیف منسٹر تھے۔ایک کائیاں۔ ان ججوں پر خاص نظر رکھا کریں جو پبلک لائف میں میڈیا کی مالدار بیوہ بن کر رہنا چاہتے ہوں۔ اس کا مطلب ہے منصب سے مال بہت کمالیا ہے مگر نام کا ہڑکا بھی لگ گیا ہے۔

چیف منسٹر بنتے ہی کراچی کو دوبئی سمجھ کر سب سے پہلے انہوں نے سب سے پہلے کراچی کی آکٹرائی کی اربوں روپے کی ا ٓمدنی پر نظر بد ڈالی۔ اس پر ڈاکہ ڈال کر اسے اپنی صوبائی حکومت کی تحویل میں لے لیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اشتعال دلانے میں اپنی مثال آپ نورانی میاں کی پارٹی جمعیت علمائے پاکستان کے صدیق راٹھور اور کراچی کے دیگر بلدیاتی نمائندے شاہ صاحب پر چڑھ دوڑے۔

شاہ صاحب،جماعت اسلامی سے کراچی چھیننا چاہتے تھے۔ سات سال پہلے یعنی 1978 بڑی خاموشی سے” علم سب کے لیے“ کا مشن لیے آل پاکستان مہاجر  سٹو ڈنٹس آرگنائزیشن،جامعہ ء کراچی میں قائم ہوچکی تھی۔الطاف حسین اس کے رہبر تھے۔ اس طلبا تنظیم نے بڑی خاموشی سے چھ سال کے اندر مہاجر قومی موومنٹ کا روپ اختیار کرلیا تھا۔

یہ سب محرکات بشری زیدی کے نغمہ ہلاکت میں پس منظر موسیقی بن کر شامل ہوگئے۔15, اپریل 1985 کا دن اگر چپ چاپ گزر جاتا تو کراچی کا معاملہ کلوپیڑا کی ناک جیسا ہوتا۔فرانسیسی ریاض دان پاسکل کا نظریہ ہے کہ تاریخ حادثات کا مجموعہ ہے۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ملکہ کی ناک اگر معمول سے چھوٹی اور کم من بھاؤنی ہوتی تو نہ رومن بادشاہ جولیس سیزر نہ رومن جنرل انطونی کا دل اس پر آتا۔ تاریخ یوں کچھ اور کروٹ لے رہی ہوتی۔پاکستان کی ایک مشہور سیاست کار خاتون بھی اپنی ناک کے نوکیلے پن سے نالاں تھیں اور اداکارہ کرشمہ کپور کی طرح کئی Nose-Jobs کرائے تھے۔
مرحومہ بشری کا سر سید گرلز کالج، اردو بولنے والے مہاجرین کے سب سے باشعور علاقے ناظم آباد نمبر ایک کی مین شاہراہ پر واقع ہے۔یہ علاقہ پھیل کر دوسرے اہم مہاجر علاقے، سامنے رضویہ کالونی، فردوس کالونی، اس کے پار لالو کھیت(موجودہ لیاقت آباد) فیڈرل بی ایریا، پاپوش، نارتھ ناظم آباد اور پھر اورنگی اور نیو کراچی سے جاملتا ہے۔ ان دنوں یہ نوے فیصد علاقہ ضلع وسطی میں شامل ہے۔ایم کیو ایم کا مرکز اسی ضلع میں ہوا کرتا تھا۔

اس لحاظ سے اس علاقے کی مہاجر سیاست اور بود و باش میں وہی اہمیت ہے جو بی جے پی کی سیاست میں Cow-Belt کی۔ 15, اپریل سن 1985 کو صبح آٹھ بجے کے قریب یہ تین پڑوسن سہیلیاں بشری،اس کی بہن نجمہ اور ایک اور لڑکی بس سے اتر کر سامنے کالج جانے کے لیے روڈ کراس کر رہی تھیں کہ روٹ این۔ون کی دو منی بسیں سگنل توڑتی ہوئی انہیں کچل کر فرار ہوگئیں۔بشری ٰ کا موقع پر ہی انتقال ہوگیا۔ نجمہ زخمی ہوئی اور تیسری لڑکی کا نہ نام نہ کوئی تفصیل سامنے آئی۔ خود ڈرائیور کے بارے میں بھی ابتدا میں مشہور ہوا کہ وہ پختون تھا مگر بعد میں کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے کبھی اس کا تعلق آزاد کشمیر اور  کبھی پنجاب سے بتایا گیا۔ ہماری اطلاع یہ ہے کہ اس کا نام راشد حسین تھا اور وہ بہاری تھا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *