عرفان خان کی یادیں۔۔نیّرہ نور خالد

7 جنوری 1967کو جے پور کے ایک نواب گھرانے میں پیدا ہونے والے صاحبزادہ عرفان احمد خان اپنی والدہ کے بہت چہیتے تھے ۔ سعیدہ بیگم خان اور یاسین علی خان نہیں جانتے تھے کہ ایک روز ان کا بیٹا صرف ان کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کا چہیتا بن جائے گا ۔

ان کی والدہ سعیدہ بیگم کو گھر کے کام کاج کرنے کے لیے کوئی پریشانی نہیں ہوئی کیونکہ گھر میں کئی نوکر موجود تھے لیکن ان کا لاڈلا میٹھی روٹی صرف ان کے ہاتھ ہی بنی ہی کھاتا تھا اس لیے وہ روز اس کے لیے ایک میٹھی روٹی ضرور بناتی تھیں ۔ کیونکہ بالفرض اگر کسی دن ایسا نہ ہو پاتا تو ان کا لاڈلا سارا دن کچھ نہیں کھاتا تھا ۔

عرفان کے دو بھائی اور ایک بہن تھی لیکن سعیدہ بیگم کو اپنے اس بچے سے بڑی محبت تھی ۔ وہ ان کوکبھی خود سے الگ نہیں کرتی تھیں

عرفان جہاں پڑھائی میں اچھے تھے وہیں انھیں کرکٹ کا بھی بڑا شوق تھا ۔ ان کا شمار فرسٹ کلاس کرکٹ کے نئے لکھاریوں میں بھی ہو گیا تھا لیکن پھر نا گزیر وجوہات کی بناء پر وہ کرکٹ کو اپنا پروفیشن نہیں بنا پائے ۔ اور بناتے بھی کیسے انھیں تو اپنی اداکاری کے ذریعے امر ہونا تھا ۔

کرکٹ سے توجہ ہٹی تو انھیں اداکاری کا شوق چرایا جس کے لیے انھوں نے دہلی میں موجود نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لینے کا سوچا جب یہ بات انھوں نے گھر پر بتائی تو ان کی والدہ کے علاوہ اور کسی کو اعتراض نہ ہوا ۔ والدہ کو صرف اس بات پر اعتراض تھا کہ اس طرح عرفان کو دہلی جا کے رہنا پڑے گا ۔ لیکن پھرعرفان کا شوق دیکھتے ہوئے وہ اپنے لاڈلے کی خوشی میں راضی ہو گئیں ۔ اور یوں عرفان دہلی چلے آئے ۔

اداکاری سیکھنے اور کرنے میں انھیں کبھی مشکل پیش نہیں آئی اور یہاں سے گریجویٹ ہونے کے بعد فوراً ہی انھیں ٹی وی میں کام ملنا شروع ہو گیا ۔ اسی دوران ان کے والد کا انتقال ہو گیا ۔ وہ عرفان کو ترقی کرتے دیکھ ہی نہ پائے ۔

دور درشن سے لیکر  سٹار پلس تک ہر ٹی وی چینل سے ان کے ڈرامے آنے لگے ۔ یوں عرفان نے اپنی اداکاری کا لوہا منوا لیا ۔ اتنی مصروفیت کے باوجود بھی وہ اپنی والدہ سے ملنے جے پور ضرور جاتے تھے ۔

یہ وہ دور تھا جب انھیں فلموں کی آفرز بھی آنی شروع ہو گئی تھیں ۔ انھوں نے سنہ 1990 میں پہلی فلم کی ۔ کمرشل سنیما دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ انھیں ناقدین نے بھی یکساں پسند کیا ۔ لیکن ہیرو کے رول میں وہ سنہ 2005 میں فلم ’’ روگ‘‘ میں نظر آئے ۔ اس فلم کے بعد انھوں نے مڑ کے نہیں دیکھا اور کامیابی کا مزہ چکھتے چلے گئے لیکن دیگر فلمی ستاروں کی طرح انھوں نے کبھی بھی اس کامیابی کواپنے سر پر سوار نہیں کیا ۔

وہ ہمیشہ یہ ہی کہتے تھے کہ ’’ کامیابی آنی جانی چیز ہوتی ہے ۔ ‘‘ کیونکہ وہ ایک دور یہ بھی دیکھ چکے تھے جب ’’ میرا نائر‘‘ نے اپنی فلم ’’ سلام بومبے‘‘ میں انھیں ایک بہت ہی مختصر سا رول دیا تھا ۔ سکرین پر اس دبلے پتلے سے لڑکے کو کسی نے دیکھا ہی نہیں اور یہ فلم عرفان کے لیے کچھ خاص نہیں کر پائی ۔ لیکن میرا نائر جانتی تھیں کہ ان سے زیادتی ہوئی اور یوں انھوں نے اٹھارہ سال بعد عرفان کو ’’ نیم سیک‘‘ میں بطور ہیرو کاسٹ کر کے یہ قرض اتارا ۔ اس فلم کے اختتام میں عرفان خان مر جاتے ہیں لیکن ان کی اداکاری لازوال تھی ۔ یہ فلم سب کو ہی بے حد پسند آئی لیکن جب عرفان کی والدہ نے یہ فلم دیکھی تو وہ بہت غصہ ہوئیں ، انھوں نے عرفان خان سے کہا کہ:

’’ تُو ذرا اس عورت کو فون ملا کے دے میں پوچھوں اسے میرا ہی بچہ ملا تھا مارنے کے لیے ۔‘‘

ان کی والدہ ان سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ انھیں فلم میں بھی مرتے نہیں دیکھ سکتی تھیں ۔ شاید یہ ہی وجہ ہو گی کہ جب وہ عرفان کو سرطان میں گھلتے دیکھ رہی تھیں تو ان کی خود کی صحت بھی خراب رہنے لگی تھی ۔

سنہ 2001 میں انھیں ایک برطانوی فلم ’’دی وارریئر‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ۔ جبکہ سنہ 2007 میں انھوں نے ’’ اے ماءٹی ہارٹ نامی ہالی وڈفلم میں کام کیا ۔ یوں اب ان پر ہالی وڈ کے دروازے بھی کھل گئے ۔ اس کے بعد بھی انھوں نے ہالی وڈ کی متعدد فلموں اور ٹی وی شوز میں کام کیا ۔ سنہ 1995 میں انھوں نے اپنی کلاس فیلو’’ سوتاپا سکدر‘‘ جو ایک مصنفہ بھی ہیں ان سے شادی کر لی ۔ ان کے دو بیٹے ہیں جن کے نام بابلِ اور آیان ہیں ۔

اب جبکہ ممبئی میں ان کا ایک گھر تھا گاڑی تھی لیکن وہ جب بھی اپنی والدہ سے ممبئی چل کر ان کے ساتھ رہنے کے لیے کہتے تھے وہ ہمیشہ یہ ہی کہتی تھی کہ انھیں اپنے آبائی گھر میں رہنا ہی پسند ہے ۔ اس لیے عرفان وقت نکال کر اپنی والدہ سے ملنے جے پور ضرور جاتے تھے ۔ ان کے دونوں بھائی بھی وہیں رہتے ہیں ۔

زندگی بڑی سبک روی سے چل رہی تھی کہ مارچ 2018 میں خبر آئی کہ عرفان خان بیماری کے باعث بیرونِ ملک علاج کروانے گئے ہیں کچھ دونوں بعد خبر ملی کہ انھیں سرطان جیسے موذی مرض نے چُن لیا ہے ۔ نیورو اینڈو کرائن کینسر میں مبتلا عرفان تقریبا ًایک سال تک لندن میں مقیم رہے ۔ اس دوران ان کا علاج جاری رہا ۔ وہ صرف ایک بار ممبئی آئے اور انتہائی خاموشی سے کچھ دن یہاں گزار کر واپس چلے گئے کیونکہ ان کا علاج چل رہا تھا ۔ اپنے علاج کے دوران انھوں نے اپنے ایک بہت قریبی دوست کو کئی خطوط لکھے جن میں وہ ہمیشہ ہی اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ نہ جانے کیوں انھیں لگتا ہے کہ ان کا ٹائم آ گیا ہے ۔

وہ اس قدر درد میں مبتلا تھے کہ یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے کہ ان کا درد ان کے خدا سے کہیں بڑا ہے ۔ ان کے وہ خطوط جو وہ اپنے دوست کو لکھتے تھے درد میں ڈوبے ہوتے تھے ۔ اس میں وہ ہر سطر کے بعد اپنی تکلیف کا ذکر کرتے تھے ۔ وہ اپنے ان خطوط میں اپنے دوست کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دیتے تھے لیکن جب بھی اپنی والدہ سے ویڈیو کال کرتے تھے انھیں کبھی اپنی بیماری کی سختی سے متعلق کچھ نہیں بتاتے تھے ۔

عرفان کو جب اپنی بیماری سے متعلق پتہ چلا تو انھوں نے یہ بات اپنی والدہ سے چھپائی اور جب ان سے ملنے جے پور گئے تو انھیں یہ ہی کہا کہ وہ اپنی ایک فلم کی شوٹنگ کے لیے لندن جا رہے ہیں ۔ لیکن جب وہاں جا کے انھیں اپنی بیماری کی سنگینی کا پتہ چلا تو انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ وہ والدہ کو اعتماد میں لیکر ان کی بیماری کے متعلق بتا دے ۔ ان کی بیماری سے متعلق جان کر ان کی والدہ اندر سے ٹوٹ گئیں ۔ انھیں ایک چپ سی لگ گئی تھی ۔ وہ جب بھی عرفان کو وڈیو کال کرتیں رونا شروع کر دیتیں شاید یہ ہی وجہ تھی کہ جب عرفان کی طبعیت ذرا بہتر ہوئی تو وہ ان سے ملنے ہندوستان چلے آئے ۔

شاید ان کے چاہنے والوں اور ان کی والدہ کی دعائیں تھیں کہ وہ صحت یاب ہو کر فروری 2019کو واپس ممبئی آ گئے ۔ آتے ہی وہ جے پور گئے اپنی والدہ سے ملے اور یہ دیکھ کر انھیں بڑا افسوس ہوا کہ ان کی والدہ کافی کمزور ہو تی جا رہی تھیں ۔

اسی دوران ان کی سائن کی ایک فلم ’’ انگریزی میڈیم‘‘ابھی تک شروع نہیں ہو سکی تھی وہ جیسے ہی واپس آئے اس فلم کو مزید انتظار کروانا انھیں اچھا نہیں لگا اور وہ اس کی شوٹنگ میں مصروف ہو گئے لیکن متعدد بار اس فلم کی شوٹنگ روکنی پڑی کیونکہ سیٹ پر ان کی طبعیت خراب ہو جاتی تھی ۔ ڈاکٹرز انھیں آرام کا کہتے تھے لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس فلم کو اب مزید انتظار نہ کروایا جائے ۔ یہ فلم مکمل ہوئی ریلیز ہوئی اور یوں یہ عرفان کی آخری فلم بن کر رہ گئی ۔ اس کے بعد اب وہ کوئی فلم سائن نہیں کر رہے تھے نہ جانے کیوں وہ پر یقین تھے کہ اب ان کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ۔

رواں سال کرونا کی وبا آئی ۔ ان کا بڑا بیٹا لندن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔ لیکن جیسے ہی اس وبا نے زور پکڑا انھوں نے اپنے بیٹے کو واپس بلوا لیا ۔ اور ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہوا کیونکہ اس کے فوراً بعد ہوائی راستے بند ہو گئے ۔ اور جو جہاں تھا وہیں محصور ہو کر رہ گیا ۔ عرفان ممبئی میں تھے اور ان کی والدہ جے پور میں لیکن روز ہی ان دونوں کے درمیان بات چیت ہوتی تھی ۔ رواں ماہ سے ہی ان کی والدہ کی طبعیت کافی خراب چل رہی تھی لیکن اس حالت میں بھی وہ اپنے دونوں بیٹوں سے عرفان کی طبعیت کے متعلق پوچھتی رہتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ عرفان انھیں اپنی تکلیف سے متعلق آگاہ نہیں کرتے ۔

25 اپریل کی صبح عرفان کی والدہ کی طبعیت بگڑ گئی اور دوپہر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ عرفان کو ان کی طبعیت کی خرابی سے متعلق آگاہ کیا گیا لیکن ملک میں سخت لاک ڈاوَن ہونے کی وجہ سے وہ جے پور آنے سے قاصر تھے ۔ دوپہر میں انکے بھائی نے انھیں والدہ کے انتقال کی خبر سنائی ۔

عرفان کے لیے اس خبر کو جھیلنا مشکل ہو گیا ۔ وہ جو اپنی ماں کا بہت لاڈلا تھا ان کی شکل بھی نہ دیکھ پایا اور نہ ہی انھیں کندھا دے پایا ۔ وہ اس پہاڑ جیسے غم کو سنبھالنے کے لیے اکیلا تھا ۔ وہ اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے لیکن ان کے بھائیوں نے وڈیو کال کے ذریعے انھیں تدفین کا ایک ایک لمحہ دکھایا ۔

یقیناًعرفان کے لیے یہ غم بہت بڑا تھا ۔ اتنا بڑا کہ 28 اپریل کی رات ان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی انھیں ممبئی کے ایک مشہور ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا ۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کے پیٹ میں انفیکشن پھیل گیا تھا ۔ انھیں آئی سی یو میں صرف ایک لمحے کے لیے ہوش آیا اور جو انھوں نے کہا وہ شاید اس صدی کا سب سے تکلیف دہ جملہ تھا:

’’ امی مجھے لینے آ گئی ہیں ۔ ‘‘

گزشتہ رات سے وہ آئی سی یو میں تھے ۔ ان کے جسم کو کئی نلکیوں نے ڈھک رکھا تھا ۔ لیکن اس بار انھیں تکلیف نہیں ہو رہی تھی کیونکہ وہ بے ہوش ہی تھے، تکلیف نے ان کے ہوش ہی چھین لیے تھے ۔ بالاخر 29 اپریل کی صبح عرفان خان اپنی والدہ کے بلاوے پر ان کے پیچھے پیچھے چل دیئے ۔

ان دونوں ماں بیٹے کے درمیان کیسی محبت رہی ہو گی اسے لفظوں میں لکھا ہی نہیں جا سکتا ۔ مارچ 2018سے تکلیف کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اپریل 2020کو تمام ہوا ۔

عرفان کی وفات کی خبر ملتے ہی ان کے مداحوں سمیت بالی وڈ میں بھی ایک سوگوا ری سی چھا گئی ۔ لیکن لاک ڈاوَن کی وجہ سے بالی وڈ سے کوئی بھی بڑا نام ان کی تدفین میں شریک نہیں ہو سکا ۔ یوں آج دوپہر تین بجے کے قریب ورسووا کے قبرستان میں محض 24 لوگوں کی موجودگی میں عرفان خان کو سپردِ خاک کر دیا گیا ۔

سعیدہ بیگم اور ان کا لاڈلا الگ الگ شہروں کے گورستان میں دفن ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ آج رات یہ دونوں کسی بھی سرحد یا لاک ڈاوَن سے دور ایک دوسرے سے مل کے بہت ساری باتیں کریں گے ۔

ہم میں سے اب کوئی بھی کبھی بھی عرفان کو نہیں دیکھ پائے گا ۔ لیکن یہ ہی کیا کم ہے کہ ایک محبت کرنے والا بیٹے اپنی ماں کی دو دن کی جدائی بھی برداشت نہیں کر پایا اور ان سے جا ملا ۔ شاید ان کی والدہ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ عرفان اب زیادہ جی نہیں سکیں گے اس لیے وہ ان سے پہلے ہی چلی گئیں کیونکہ وہ اپنے سامنے اپنے بیٹے کو منوں مٹی تلے جاتے نہیں دیکھ سکتی تھیں ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *