• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا وائرس کے علاج میں ایک اہم پیش رفت۔ گڈ بائے آئی سی یو+ وینٹی لیٹرز؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

کورونا وائرس کے علاج میں ایک اہم پیش رفت۔ گڈ بائے آئی سی یو+ وینٹی لیٹرز؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابھی تک ماہرین کو مکمل طور پر یہ نہیں معلوم کہ کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ اس کی علامتیں کیا کیا ہیں؟۔ اس کا مشرق اور مغرب کے خطوں میں کیا فرق ہے؟۔ اس کے پھیلاؤ کے نمونوں اور حقیقت میں پھیلاؤ کے درمیان کتنا فرق ہے؟۔ سگریٹ پینے والوں اور نہ پینے والوں پر کیا اثر ہے؟۔ عورتوں اور مردوں کی اموات کی تعداد میں اتنا زیادہ فرق کیوں ہے؟۔ ویکسینیشن کب تیار ہوگی اور اس کا علاج کیا ہوگا؟۔ اور ایسی نامعلوم باتوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ مگر ان تمام سوالات کے بیچ اٹلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کے علاج کے سلسلہ میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اگر اُن کے طریقہ علاج پر عمل کیا جائے تو مریض کو وینٹی لیٹر پر پہنچنے سے پہلے حتیٰ کہ گھر پر ہی رہنے کے باوجود بھی اُس وقت تک صحت یاب رکھا جا سکتاہے جب تک ہمارا جسم میں موجود اینٹی باڈی نظام اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا۔ یورپ اور امریکہ میں کورونا وائرس کے حملوں میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ جتنے لوگ بھی اس بیماری کے نتیجہ میں وینٹی لیٹر پر گئے، اُن کی اکثریت زندگی کی بازی ہار گئی۔ جتنے لوگوں میں بھی کورونا سے صحت یابی کا ریکارڈ دستیاب ہے، اُن میں شاذ ونادر ہی کوئی ایسا مریض ہوتا ہے جو وینٹی لیٹر پر جانے کے بعد بھی بچ جائے۔

کالم نگار:غیور شاہ ترمذی

نیو یارک ٹائمز اور دنیا کی سب سے بہترین 20 یونیورسٹیوں میں شامل Yaleامریکن یونیورسٹی سے منسلک معروف میڈیکل جریدہ medRxiv میں چھپنے والی ایک رپورٹ (https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2020.04.17.20057125v1) میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے 50 مریضوں کا جب پوسٹ مارٹم کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ نمونیہ سے نہیں مرے تھے کیونکہ اِن کے پھیپھڑوں کے سیل ختم نہیں ہوئے تھے مگر کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس نے ان مرحومین کے جسم میں موجود مدافعاتی نظام کے ردعمل کو ضرورت سے زیادہ بڑھا دیا تھا۔ اس ردِعمل کے نتیجہ میں پھیپھڑوں کے سیلز کی حفاظت کے لئے اینٹی باڈی نے زیادہ ردِعمل دیا اور اس کے ساتھ ساتھ خون گاڑھا ہونا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے دوسری بیماریاں جیسے سانس کی نالی کی تنگی، ہارٹ اٹیک، فالج ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے گئے۔ جب خون گاڑھا ہوتا ہے تو اس میں لوتھڑے بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ لوتھڑے خون کی گردش کے ساتھ جب ایسی نالیوں میں پہنچتے ہیں جو تنگ ہوں یا سکڑی ہوئی ہوں تو وہاں خون کی سپلائی رک جاتی ہے۔ یہ کہیں بھی ہو سکتا ہے جیسے دل کی نالیاں، پھیپھڑوں کے سیلز، دماغ کو خون پہنچانے والی نالیاں وغیرہ۔ دراصل جب کوئی نامعلوم وائرس انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے اور ہمارا مدافعاتی نظام اس نئے وائرس کو پہچاننے میں دیر کر دے یا اسے نہ پہچان سکے تو ہمارے اینٹی باڈی ہمارے جسم کے عضلات پر حفاظتی تہہ چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ان عضلات میں خرابیاں پیدا کر دیتی ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ ہمار ا جسم کے قلعہ کے اندر گھس آنے والے نامعلوم دشمن کے خوف سے حفاظت پر معمور ہمارے فوجی اپنے ہی لوگوں کو مشکوک سمجھ کر ان پر حملہ کر دیتے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد اب یورپ اور امریکہ کے معالجین ویکسین بننے کے وقت تک اینٹی وائرس تھراپی والے علاج کی بجائے لوتھڑے بننے کے عمل کو روکنے اور عضلات پر سوزش ہونے جیسی علامات کا علاج کرنے کی طرف زیادہ فوکس کر رہے ہیں۔ اس طریقہ علاج کو فوری طور پر شروع کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ گھروں پر رہتے مریضوں کے لئے بھی یہ موزوں ہے کیونکہ مریضوں کے علاج کے نتائج گھروں پر ہسپتالوں کی نسبت زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ مرض کے اگلے مراحل میں جب مریض پر بے ہوشی طاری ہو جائے یا مرض بگڑ جائے تو اِس کے نتائج اتنے سودمند نہیں ہوتے۔ جریدہ لکھتا ہے کہ اگر چین نے اس تحقیق کو پا لیا ہوتا تو وہ گھروں پر علاج کرنے میں کوشش کرتے نہ کہ آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز میں۔ یہ خون کی رگوں میں بکھرے اور پھیلے ہوئے لوتھڑوں (THROMBOSIS) کا مرض ہے لہذٰا اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اینٹی بائیوٹکس، جسم کے اندرونی حصوں پر سوزش کا خاتمہ کرنے کی ادویات اور خون میں لوتھڑے بننے کا علاج کرنے والی ادویات کا استعمال کرنا چاہیے۔

اٹلی کے پرگامو (Pergamo) ہسپتال سے منسلک امراض خون کے سپیشلسٹ کے مطابق اُن کے یہاں 50 پوسٹ مارٹم کیے گئے، جبکہ میلان میں 20 کیے گئے تھے۔ اس کے مقابلہ میں چین نے صرف 3 پوسٹ مارٹم کیے تھے۔ اس لئے چین کے مقابلہ میں اٹلی کے ماہرین کی طرف سے کی گئی تحقیق کے نتائج زیادہ بہتر اور حقیقی ہیں کہ کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس نے جسم کی نالیوں میں خون کے لوتھڑوں کو پھیلا دیا، لہذ اپھیپھڑوں کے ٹشوز میں نمونیہ ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسے صرف مرض کی تشخیص میں بہت بڑی غلطی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے چھاتی کے ایکسرے میں نظر آنے والی سوزش، سوجن وغیرہ نمونیہ کی وجہ سے نہیں بلکہ خون کی نالیوں میں جابجا بکھرے اور پھیلے ہوئے لوتھڑوں کے مرض کی وجہ سے ہے۔ لوگ شریانوں میں خون جمنے (thrombus) کی وجہ سے آئی سی یو میں پہنچے، بہت سے رگوں میں جمے ہوئے خون کی وجہ سے یا ہمارے مدافعاتی نظام کی اوور ایکٹنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی جلدی بیماری lupus کی وجہ سے بھی پہنچے۔ ان علامات میں جسم میں نالیاں داخل کرنے سے اور بے ہوشی سے ہوش میں لانا بے فائدہ رہے گا، اگر شریانوں میں خون جمنے کے عمل کا پہلے علاج نہیں کیا جائے گا۔ اُس پھیپھڑے کو وینٹی لیٹر پر ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا، جہاں شریانوں میں پھنسے لوتھڑوں کی وجہ سے خون کی سپلائی ہی نہیں پہنچ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر 10 میں سے 9 مریض اس لئے جانبر نہیں ہو سکے، کہ اُن کا مرض سانس کی تنگی سے متعلق نہیں بلکہ دل اور خون سے منسلک رگوں سے متعلق تھا۔ یہ بہت سی رگوں میں جمے ہوئے خون کے لوتھڑوں کی وجہ ہے، نہ کہ نمونیہ جس سے اتنی اموات ہوئیں۔

لوتھڑے کیسے بنتے ہیں؟۔ میڈیکل کالجز میں پڑھائے جانے والے والے اعضاء کے نارمل اور ابنارمل فنکشنز والے مشکل نصاب کے مطابق جسم کے عضلات میں سوزش یا سوجن شریانوں میں خون جمنے کے عمل کی ترغیب دیتی ہے۔ گزشتہ ماہ مارچ کے وسط تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اور خصوصاً چین سے ملنے والی معلومات کہتی تھیں کہ کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے سوزش اور سوجن پیدا ہونے سے روکنے والی ادویات استعمال نہ کی جائیں۔ ان دنوں اٹلی میں سوزش اور سوجن سے بچانے اور انفلوئنزا کی طرح اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے کا جو طریقہ علاج استعمال کیا جا رہا ہے، اُس کے نتیجہ میں ہسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بہت سی اموات حتیٰ کہ 40 کے پیٹے میں لوگوں کی اموات میں یہ ہوا کہ انہیں 10 سے 15 دنوں تک بخار کی شکایت رہی تھی اور جس کا صحیح طریقہ سے علاج نہیں کیا گیا۔ کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس سے پیدا ہونے والے سوزش اور سوجن نے ہر چیز کو تباہ کیا جس سے شریانوں میں خون جمنے کی شروعات ہوئی۔ کیونکہ اصل مسئلہ کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس نہیں ہے بلکہ ہمارے مدافعاتی نظام کا ردعمل ہے جو ہمارے ہر اُس سیل کو تباہ کر دیتا ہے جہاں کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس داخل ہوتا ہے۔درحقیقت گٹھیا نما ورم والے وجہ المفاصل مرض (rheumatoid arthritis) کے شکار لوگ کبھی کورونا وائرس وارڈز میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ وہ ہارمون سے تیار کی ہوئی دوا کارٹزون (cortisone) استعمال کرتے ہیں جو کہ سوجن، سوزش کے علاج کے لئے بہترین دوا ہے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج کل اٹلی میں کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور اِسے گھر پر ہی قابل علاج بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گھر پر اچھی طرح علاج کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر اضافی بوجھ ڈالنے سے بچا جا رہا ہے بلکہ شریانوں میں خون جمنے کے خطرہ سے بھی محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ چھوٹی چھوٹی شریانوں میں خون جمنے کو ایکو کارڈیوگرام (echocardiogram) والے ٹیسٹ میں بھی بمشکل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ ویک اینڈ کے دوران بہت مشکل سے سانس لینے والے اور نارمل سانس لینے والے 50 مریضوں کی علامات کا تقابلہ جائزہ لیا گیا اور صورتحال اس تھیوری کی سپورٹ میں بہت واضح ہو گئی ہے۔

اس اہم تحقیق کے بعد ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی نارمل زندگی کی طرف پلٹ سکیں اور اپنے اُن تمام روزمرہ کاروبار زندگی کو بھی کھول سکیں جو لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی وجہ سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ شاید یہ اتنی جلدی ممکن نہ ہولیکن یہ وقت اس تحقیق کی اشاعت اور اسے پھیلانے کا ضرور ہے تاکہ ہر ملک میں صحت سے متعلق ماہرین اپنی معلومات کو بھی سامنے لا سکیں اور جب تک کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس سے بچاؤ کی ویکسین منظرِ عام پر نہیں آتی تب تک ہونے والے بے جاء اموات سے بچا جا سکے۔ یہ کنفرم ہو چکا ہے کہ اٹلی میں کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے طریقہ کار اس تحقیق کے حساب سے بدل رہا ہے۔ اٹلی کے ماہرین امراض یعنی پیتھالوجسٹ سے حاصل ہونے والی قیمتی معلومات کے مطابق اب انہیں وینٹی لیٹرز اور آئی سی یو کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ارباب اختیاران کو بھی دوبارہ سوچنا چاہیے اور اس تحقیق کے مطابق ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور آئی سی یو کے سامان کی فوری خریداری کے عمل پر دوبارہ سے غوروخوض کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ نارمل حالات میں بھی ہمارے پاس وینٹی لیٹرز اور آئی سی یو کے سامان کی شدید کمی ہے مگر اس ہلاکت خیز کووِڈ 19 (COVID-19) وائرس کی تباہ کاریوں کے دوران چھوٹی چھوٹی شریانوں میں خون جمنے کے علاج کے لئے ضروری ادویات اور ٹیسٹنگ مشینوں کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *