پاکستان میں احمدی ہونا ایسا ہے ۔۔۔ مبارکہ منور

نوٹ: ادارہ مکالمہ آزادی اظہار رائے کے تحت ہر طبقے کی رائے شائع کرنے کی ادارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ کالم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اختلاف رائے کی صورت میں کمنٹس میں مہذب طریقے سے اپنی رائے پیش کریں۔ مزید برآں مکالمہ پلیٹ فارم جوابی مضمون کے لیے حاضر ہے۔

جب راشد صاحب نے “پاکستان میں احمدی ہونا کیسا ہے؟” مضمون لکھا تو مجھے بھی اپنے گزرے وقت کے واقعات یاد آئے جب ہمیں کافر سمجھا اور پکارا گیا۔ اس حوالے سے بچپن کی پہلی یاد جو ذہن میں ابھی تک محفوظ ہے وہ ایک دوکان سے چیز لیتے ہوئے کا تجربہ ہے جب دوکان دار نے مجھے میری مطلوبہ چیز دیتے ہوئے اپنی دوکان میں موجود دوسرے شخص سے کہا کہ “یہ قادیانیوں کی لڑکی ہے” اور اس دوسرے شخص نے مجھے جن نظروں سے دیکھا اس کی اذیت آج بھی یاد ہے۔ اس دن مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ احمدی تو ہم ہیں لیکن قادیانی ہونا بھی ہماری شناخت ہے۔

بچپن ہی کی بات ہے گرمیوں کے دن تھے شام کو قریباً مغرب کے وقت بچے گلی میں کھیل رہے تھے جن میں میں بھی تھی۔ ہماری ہمسائی نے غالباً نیاز کے چاول بنائے تھے۔ وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر بچوں کو آوازیں دینے لگیں کہ آکر چاول کھا لیں۔ دوسرے بچوں کی دیکھا دیکھی میں بھی ان کے گھر چل دی۔ صحن میں کمزور طاقت کا ایک زرد بلب جل رہا تھا جو آنے والی رات کے اندھیرے کے سامنے اپنی کمزوری کا آپ اقراری تھا۔ فرش پر چادریں بچھا کر بچوں کو بٹھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سب بچے اپنی اپنی پلیٹ ملنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خاتون خانہ میں سے ایک خاتون میری طرف اشارہ کرتے ہوئے دوسری کو کہنے لگی یہ تو قادیانیوں کی لڑکی ہے ناں؟ دوسری خاتون نے مجھے دیکھا اور احتیاطاً یا کسی اور وجہ سے جھکتے ہوئے دوسری خاتون سے قریب ہو کر کچھ کہنے لگیں لیکن اس سے زیادہ وہاں بیٹھنا اب میرے بس میں نہیں تھا اور میں بغیر کچھ کھائے وہاں سے آٹھ آئی۔ گھر آکر امی کو سب حال سنایا امی نے میرے وہاں سے اٹھ آنے کے فیصلے کو سراہا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کچھ دیر بعد والد صاحب گھر آئے تو میں نے انہیں بھی بتایا کہ آج ہمارے ہمسائے میں بچوں کو چاول کھلائے گئے۔ میں اس سے آگے مزید کچھ نہیں بتا سکی اور چپ ہو گئی۔ میرے چپ ہونے پر والد صاحب نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ جب امی نے دیکھا کہ یہ بات کو یہیں ختم کر رہی ہے تو انہوں نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا اصل بات بتاؤ جو تم کہنا چاہتی ہو۔ اس کے بعد انہوں نے خود ہی پوری بات بتائی تو اس دن جماعت سے امتیازی رویے کے ایک اور تجربہ کے علاوہ مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم اپنی ماں سے تو بآسانی کہہ جاتے ہیں لیکن والد صاحب سے کہنے کی ہمت نہیں پڑتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنے اندر کا حال جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ ستاری سے پردے ڈالے ہوئے ہیں اسے نوشتہِ دیوار بنا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

پاکستان کے گلی کوچوں میں دیواروں پر مردانہ کمزوری کے احوال جس دیدہ دلیری سے لکھے ہوتے ہیں اس کی داد الگ سے بنتی ہے۔ جب مرد حضرات مردانہ وار سرِ عام دیوار کی جڑ میں بیٹھ کر بغیر کسی احساس ندامت کے اپنا یورین خارج کرتے ہیں تو دیوار پر لکھے تلخ سچ کو تسلیم کرنے کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس مسئلے کے مستقل بیان کے علاوہ دیواروں کو بدلتے حالات کے مطابق مختلف سیاسی، سماجی، معاشرتی، اور مذہبی نعروں کا بھی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لکھنے والے بارہا اپنے اندر کا زہر دیواروں پر احمدیت مخالف نعرے لکھ کر نکالتے ہیں جن میں قادیانی کافر، بھاگ قادیانی گولی آئی، قادیانیوں سے لین دین بند ہے، قادیانی کا داخلہ ممنوع ہے وغیرہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

ایک دفعہ سردیوں کا موسم تھا۔ میرے ساتھ ایک اور خاتون بھی تھیں۔ ہم دو خواتین کو لنڈے کی دکان میں ایک جیکٹ پسند آگئی جو کہ سامنے ہی لٹک رہی تھی۔ میں نے دکان دار سے کہا بھائی ذرا جیکٹ تو دکھانا۔ صاحبِ دکان نے سنی اَن سنی کر دی میں نے دوبارہ کہا تو جواب دیا” نہیں ہے”۔ میں نے حیرت سے جیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ارے بھائی وہ سامنے جو لٹک رہی ہے؟ تو وہ شخص سرد موسم میں بھی خاصی گرمی سے گھوما اور زور سے اپنے ہاتھ ہلا ہلا کر شدت سے کہنے لگا کہ “ہم قادیانیوں کو سودا نہیں دیتے”۔ جہاں لنڈے کی جیکٹ بیچنے تک میں عقیدے کا بغض آڑے آئے اس دیس میں ایمان داروں کی قوت ایمان کا اندازہ آپ اس مثال سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔

اس طرح کے چھوٹے موٹے سینکڑوں واقعات ہیں جنہیں لکھنے بیٹھیں تو ختم ہی نہ ہوں۔

۲۰۰۸ کی بات ہے حیدرآباد سے کچھ آگے کوٹری کے علاقے میں ہماری جماعت نے ایک عبادت گاہ بنانی چاہی۔ کام شروع ہوا تو مولویوں کو بھنک پڑ گئی اور طیش میں آگئے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے احمدیوں کو اپنی عبادت گاہ  بنانے  کی اجازت مل جائے۔ منبر سے صبح شام مولوی اس مسجد کی تعمیر کے خلاف درس دینے لگے۔ جمعے کا دن ہوتا تو چہار جانب سے خطبہ جمعہ میں خطیب کی سپیکر پر مرزا قادیانی مرزا قادیانی ہی کی صدائیں آتیں۔ آخر مولوی کی محنت رنگ لائی سرِ شام جلوس نکلنے لگے اور بآواز بلند احمدیت مخالف نعرے لگنے لگے۔ یہ جلوس کالونی کی سب گلیوں میں چکر لگاتے، انہی گلیوں میں جن میں احمدی گھرانے بھی تھے۔ احمدیوں کا گھر سے نکلنا دوبھر کردیا گیا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ عبادت گاہ  کی تعمیر رک چکی تھی لیکن مولوی کا دل ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ جلوس بدستور نکلتے اور شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ آخر ایک رات جلوس نے احمدی گھروں پر حملہ کر دیا۔ دیوار و در پر وہ پتھراؤ کیا کہ مضبوط آہنی دروازوں کی شکلیں بگڑ گئیں۔ دیواروں پر نصب آرائشی سیمنٹ کی جالیاں اپنا وجود کھو بیٹھیں۔ کمروں کی کھڑکیوں پر لگے شیشے چٹخ کر گرتے رہے۔ بعض احمدیوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ دونوں جانب سے کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ دوسرے فریق کے ممبر تو جلد رہا ہو کر اپنے گھروں کو واپس آ گئے لیکن ہمارے لوگوں کو عرصہ تک قید و بند میں ہی رکھا جس کی وجہ سے بعض افراد کی ملازمتیں بھی جاتی رہیں۔

اس رات جن گھروں پر شب خون مارا گیا ان میں سے ایک گھر ہمارا بھی تھا لیکن یہ ایسا نقصان نہیں تھا جس کا ازالہ ممکن نہ ہو۔ وہ داستانیں تو ابھی بیان ہی نہیں ہوئیں جب 28 مئی 2010 کو احمدی ہونے کے جرم میں عبادت گاہ  میں 86 افراد کو قتل کردیا گیا۔ ابھی تو گوجرانوالہ  کے اس قصے کا احوال ہی نہیں لکھا جس میں ایک احمدی گھر کو آگ لگا دی گئی تو گھر میں موجود دو بچیوں سمیت ایک خاتون دم گھٹنے کی وجہ سے قتل  ہوگئیں۔

کیا اس تکلیف اور ان نقصانات کا ازالہ ممکن ہے؟

تو میرے بھائی پاکستان میں احمدی ہونا ایسا ہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”پاکستان میں احمدی ہونا ایسا ہے ۔۔۔ مبارکہ منور

  1. Bibi apko Rashid Ali ka mazmoon “Rabwah Mai musalmano ka rehna ksa hai” zuror perh lain .. Ahmadi k hathon Rabwah Mai Jo Muslim k sath hota hai voh bhi biyan kr deti Jo medical college Mai students k sath Kia voh Bryan kr deti to shyed yeh dukhi Atma na banti

  2. آپ کی تحریر موضوع بحث پر کسی مکالمے سے کم نہیں ۔لوگوں کے مختلف گالم گلوچ اور نا زیبا الفاظ پر مبنی کمنٹس آپ کے مضمون پر بطور تبصرہ لکھے جائیں گے.لیکن اس پر آپ کو قطعاً حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ بد قسمتی سے ہمارا قومی مزاج بن چکا .دوسرے ہمارے عوام الناس کی بد قسمتی ہے کہ ’’ سچ تو کسی صورت سننا ہی نہیں۔‘‘
    خدا کا شکر ہے کہ ’’ مکالمہ‘‘ جیسے اس پلیٹ فارم پر ابھی تک ہم سب اپنی آپ بیتی لکھ پا رہے ہیں، شاید کسی صاحب اختیار کو ہوش آجائے اور وہ قومی قبلہ کا رخ درست کرنے کی کوشش کرے۔ کاش کہ ایسا ہو جائے!

    ایک دعائیہ شعر، آپ کی نذر ہے..

    یا رب العالمین! تیرے لطف سے رہیں
    محفوظ ’’مومنین‘‘ سے ’’ کفار‘‘ اس برس ۔

    شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *