• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سرمایہ داری کے جوہر میں کوئی ایسی سڑاند موجود ہے جو دولت میں اضافہ کرتی ہے لیکن مصائب میں کمی نہیں ۔۔ناصر منصور

سرمایہ داری کے جوہر میں کوئی ایسی سڑاند موجود ہے جو دولت میں اضافہ کرتی ہے لیکن مصائب میں کمی نہیں ۔۔ناصر منصور

۱۳۴واں یومِ مئی ایک ایسے ماحول میں منایا جارہا ہے جب ساری کرّۃ ارض کرونا جیسی موذی وبا کی لپیٹ میں ہے ۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ محنت کش طبقہ، معاشی ، سیاسی اور سماجی استحصال کا شکار ہوتا ہے لیکن وبائی بحران نے بھی یہ حقیقت آشکار کردی کہ سب سے زیادہ متاثرین میں محنت کش طبقہ ہی شامل ہے ۔ اب تک ۲۰۵  ممالک کے ۳۰ لاکھ سے زائد انسان اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۲ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وبا کے متاثرین کی تعداد تقریباً ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے ۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس وبا سے جاں بحق اور متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد محنت کش طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ قدرتی آفات ہوں یا کہ جنگیں ، متاثر ہمیشہ سماج کے سب سے محکوم حصے ہی کو کرتی ہیں ۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی صنعتی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں سے لیکر ترقی پذیر ریاستیں اس سے نبرد آزما ہونے میں ناکام رہی ہیں ۔ جبکہ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد تشکیل کردہ صحت کا عالمی نظام اپنی بوسیدگی کی وجہ سے زمیں بوس ہوگیا ہے ۔ وبا میں نہ صرف صحت کا ناقص نظام ناکام ہوا ہے ، بلکہ اکثر ریاستوں کے کوتاہ اندیش حکمرانوں کے سیاسی فیصلے بھی کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کاباعث بنے ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ ، اٹلی ،سپین اور ایران جیسے ممالک کی رجعت پسند حکومتوں نے وبا کے ابتدائی دنوں میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا ، جس کے نتائج آج ساری دنیا بھگت رہی ہے ۔ گو چین کی ریاست نے وبا کی ابتداءمیں اس کے وجود سے انکار کیا ، لیکن جلد ہی صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سیاسی درست حکمتِ عملی پر کاربند مکمل لاک ڈوا ن کا اعلان کیا وہیں دوسری جانب وبا سے سائنسی بنیادوں پر نمٹنے کے ٹھوس اقدامات کرکے تین مہینوں کے اندر وبا کو ایک حد تک شکست دینے میں کامیاب ہوگئی ۔ اس سے زیادہ بہتراقدام پڑوسی ملک ویتنام نے کیا ،جہاں ایک مربوط لائحہ عمل کی وجہ سے ایک بھی انسان کو اس وبا کا شکار نہ ہونے دیا گیا ۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ سوشلسٹ نظامِ زندگی کی باقیات رکھنے وا لی ریاستوں نے سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے اعلیٰ صنعتی اظہار کی حامل ریاستوں کو اس وبائی بحران میں کم تر ثابت کیا ہے ۔

آج کی گھمبیر صورتحال کا ایک الم ناک پہلویہ بھی ہے کہ وبائی بحران نے جہاں نوعِ انسان کی بقاءکو خطرہ لاحق کردیا ہے ، وہاں وہ اگر اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوبھی جاتا ہے تو پھربھی ایک بڑا اقتصادی بحران منہ پھاڑے کھڑا ہے ۔ دنیا بھر کی معیشتیں ابھی سے آئی سی یو میں چلی گئی ہیں ، سرمایہ داروں نے اپنا سرمایہ چھپا لیا ہے ۔ ریاستیں اپنی جغرافیائی حدود میں خود کو بچانے کی تگ و دو کر رہی ہیں ۔ بین الاقوامی ادارے خصوصاً اقوامِ متحدہ ، وولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، اورآئی ایل او ، مردہ گھوڑے ثابت ہوئے ہیں ،یہ اور ان جیسے ادارے عالمی بحران کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ وبائی بحران اور اس پر مبنی معاشی بحران نسل ، مذہب ، قوم اور ریاستی حدود کو پھلانگ چکا ہے ۔ اور اس کا جواب بھی عالمی سطح پرعالمگیر ہی ہوسکتا ہے ۔ بڑے بڑے برانڈ جو سالانہ اربوں ڈالر منافع کماتے ہیں انہوں نے جاری آرڈر منسوخ کردیے ہیں ۔ جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرضوں کی منسوخی کے بجائے مزید قرض دیکر غلامی کا شکنجہ مزید کس رہے ہیں ۔ ملٹی نیشنل فارما سیوٹیکل (ادویات) کمپنیوں کی، اس وبا سے فائدہ اٹھانے کے لئے رال ٹپک رہی ہے ۔

آج معاشی بحران کی گہرائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیس کروڑ سے زائد محنت کش بے روز گار ہوچکے ہیں ۔ ایک ارب سے زائد محنت کش اجرتوں میں کمی یا پھر بے روز گاری کے خطرے سے دوچار ہیں ، جو کہ لیبر فورس کا ۳۸ ، فیصد ہیں ۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ دو ارب ستر کروڑ محنت کشوں کو ، ریاستوں کی جانب سے کئے جانے والے لاک ڈاو ں اور ذرائع آمدو رفت میں رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی حقیقی آمدنیوں میں زبردست کٹوتیوں کا سامنا ہے ۔ یہ تعداد عالمی لیبر فورس کا ۸۱  فیصد ہے ۔  یہ تو اُبھرتے ہوئے معاشی بحران کی ابتدائی علامات ہیں ، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے ۔ 1929 اور 1930 کے ”گریٹ ڈیپریشن “ جیسے معاشی بحران کے بعد یہ سب سے بد ترین معاشی بحران ہے جو موت سے بچنے کی شکل میں معاشی طاعون پھیلانے کا باعث بن گیا ہے ۔ سرمایہ دار ریاستوں نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ، دولت مند طبقات کو بچانے کے لئے تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی ریاست نے سرمایہ داروں کے لیے دو کھرب ڈالر کی امداد کا اعلان کیاہے۔ برطانیہ ۳۳۰ ارب پاونڈ کے امدادی  منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے ۔ جرمنی نے ۸۵  ارب یورو ، سرمایہ داروں کی بقاءکے لئے مختص کیے ہیں ۔ جبکہ انہی کی روش پر چلتے ہوئے ہمارے جیسے ممالک کے حکمران بھی دولت مند طبقات کو ہر سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن عوام خصوصاً محنت  کرنے والوں کے لیے ریلیف پہنچانے کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہیں۔

پاکستانی حکومت نے نہ صرف وبا سے عوام کو بچانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا بلکہ اپنی نااہلی کے باعث ۲۲  کروڑ انسانوں کو بے یقینی کی کیفیت سے دوچار کردیاہے ۔ اسکی گومگو پالیسی نے وبا کے خطرناک حد تک پھیلنے کے امکانات پیدا کردیے ہیں ۔ وبا سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بتا رہی ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں بلکہ بڑھ رہا ہے ۔ طبّی شعبے کے ماہرین حکومت کو متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر ٹھوس حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو وبا انسانوں کی غیر معمولی تعداد کو متاثر کرسکتی ہے ۔ ایسے میں ریاست کے صحت سے متعلق اقدامات شرمناک حد تک ناقص ہیں ۔ طبّی عملہ بے سروسامانی کے عالم میں اس وبا سے جنگ لڑ رہا ہے ۔ جبکہ ریاست جو خود کو ” سکیورٹی ریاست “ کہتی ہے ، اس وبا کے سامنے ہتھیار پھینک چکی ہے ۔ اور سکیورٹی کے ادارے ، ایمرجنسی میں مدد کے لئے آگے بڑھنے کے بجائے ، وبا سے لڑتے ہیلتھ ورکرز کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں ۔

یہ بے حس  حکومت شہریوں کو سخت لاک ڈاؤن کے تحت گھر تک محدود رکھنے میں اس لئے ہچکچاتی رہی کیونکہ وہ شہریوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لئے آئینی فرض سے مجرمانہ حد تک غفلت برتتے ہوئے شہریوں کو ضروریاتِ زندگی ، خصوصاً غذائی اشیاءاور امدادی رقم کی بر وقت ترسیل میں ناکام رہی ۔ اس نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے محنت کشوں کو، روزگار اور معاشی مسائل کا بہانہ بنا کر وبا کے سامنے بے یارو مددگار چھوڑ دیا ۔جبکہ سرمایہ داروں کی انسانیت کش ذہنیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک طرف لاک ڈاؤن کے دوران مزدوروں کو اجرتوں کی ادائیگی اور ملازمتوں پر بحال رکھنے کے حکومتی احکامات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے نہ صرف اجرتوں کی ادائیگی سے انکار کیا بلکہ مزدوروں کو جبری برطرف کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ، تو دوسری جانب ریاست سے مراعات کے حصول کے لئے واویلا شروع کردیا۔ سرمایہ داروں نے مختلف مراعات اور معاشی پیکجز حاصل کرنے کے باوجوداب تک بیس لاکھ سے زائد مزدوروں کو جبری برطرف کردیاہے ۔ جبکہ کئی ایک نامور ماہرِ معیشت کا اندازہ ہے کہ بے روز گار ہونے والوں کی تعداد آنے والے دنوں میں ، ایک کروڑ بیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے ۔

حکومت نے صنعت کاروں ہی کے مطالبے پر خصوصی احکامات کے تحت کئی ایک صنعتوں کو ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز)کے تحت پیداواری عمل شروع کرنے کی اجازت دیدی ہے۔  ۔ لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ صنعتی اداروں کی اکثریت ان ایس او پیز سے روگردانی کرتے ہوئے لاکھوں محنت کشوں کی زندگیوں کو دا لگا رہی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب حکومتی ادارے ایس او پیز پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں ۔

یہ ساری صورتحال ایک نئی صف بندی کا تقاضا کر رہی ہے ۔ بحران معاشی ہو یا کہ وبائی آفات کا، سرمایہ داری نظام اور اس پر قائم سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے، اپنی بے رحمی اور انسان دشمنی کاخود ہی پردہ چاک کرتانظر آتا ہے ۔ اور بتاتا ہے کہ منافع کی اخلاقیات نہ صرف انسانوں بلکہ کرّة ارض کی بقاءکو بھی حقیقی خطرے سے دوچار کر رہی ہے ۔عظیم مفکر کارل مارکس نے کہا تھا کہ

” سرمایہ داری کے جوہر میں کوئی ایسی سڑاند ضرور موجود ہے جو دولت میں تو تواتر سے اضافہ کرتی ہے لیکن مصائب کو کم نہیں کرتی“

اسی لئے آج دنیا بھر میں محنت کش ہی نہیں بلکہ ہر ذی شعوراور تاریخ کاادراک رکھنے والاذہن یہ اعلان کر رہاہے کہ کرّة ارض اور نوعِ انسانی کی بقاءکومٹھی بھرمفاد پرست گروہوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔تاریخ بتاتی ہے کہ بحرانی کیفیات ہمیشہ بڑی اور انقلابی تبدیلیوں کے مادی امکانات لئے ہوئے ہوتی ہیں ۔ اس کے تناظر میں محنت کش طبقہ اور عوام کے باشعور حصہ کو متحد ہوکر نہ صرف وبا سے لڑنا ہے بلکہ وبا سے بچانے میں ناکام ہونے والے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی فیصلہ کن معرکہ سرکرنا ہے اور کرّة ارض کے ماحول ، نوعِ انسان اور ہر جاندار کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہیں ۔اور ایسا جہاں تخلیق کرنا ہے جہاں کوئی قوم کسی کی مقروض نہ ہو ، ہر شخص کو صحت اور تعلیم کے بہتر مواقع میسر ہوں۔ ہر شخص کے روزگار اور معقول آمدن کی ضمانت اور ہر شخص کو سماجی تحفظ حاصل ہو ، اور محنت کو سرمایہ پر اور انسان کو منافع پر فضیلت ہو ۔

Avatar
ناصر منصور
محنت کی نجات کے کوشاں ناصر منصور طالبعلمی کے زمانے سے بائیں بازو کی تحریک میں متحرک ایک آدرش وادی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *