جو چلا گیا مجھے چھوڑ کے۔۔محمد اقبال دیوان

(مہمان تحریر)
وضاحت: ہم نے یہ کہانی انسٹاگرام پر# quarantinestories @humansofnyکے ہیش ٹیگ کے سائے تلے انگریزی میں پڑھی۔ ایک کیفیت میں اسے لکھا سو بقول جگرمرادآبادی ع
عشق کی داستان ہے پیارے

میرا نام کیا ہے اس کی چنتا مت کریں۔اس کا نام وائن تھا۔ آپ کا ایک مسئلہ ہے۔اکثر چھپ چھپ کے پیتے ہیں اس لیے دماغ ہر وقت نشے میں ڈول رہا ہوتا ہے۔ارے وہ انگریزی والی وائن (Wine) نہیں۔نہیں نہیں وہ پنجابیوں والا وائن بھی نہیں۔آپ کو فوراً میاں چنوں کے سرسید احمد خان، غلام حیدر وائن یاد آگئے۔ سن 90سے 93تک پنجاب کے چیف منسٹر ہوتے تھے۔
یہ نہ سمجھیں اگر ہم گورے امریکنوں میں بٹر،ڈوگر، آرائیں اور ٹوانے نہیں ہوتے تو وائن بھی نہیں ہوتے۔

آپ کو آپ کے وائن مبارک، مجھے اپنی آہیں
کوئی ان سے کہہ دے ہمیں بھول جائیں

وائن جی کی شوخیاں

میرا دوست ہم گوروں والا Wayne تھا۔کیا کہوں ۔۔ہر کسی کا کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔ میرا صرف وہ تھا۔میرا جگر، میری جان۔
آپ کسی کو یوں پیار مت کیجیے گا۔ ایسا کوئی آپ کو چھوڑ کر چلا جا تا ہے تو جینا بے مقصد اور خودکشی کرکے مرنا خود پر ایک بھیانک تنقید اور ایک اوچھی بزدلی لگتا ہے۔وہ چلا گیا تو مجھے اپنی دوست کی ایک خالہ کی دو نصیحتیں یاد آتی ہیں ،میری طرح عشق کے ہاتھوں ایسی برباد ہوگئی تھی ۔وہ کہا کرتی تھی۔۔۔
ایک تو ہم عورتوں کو ہمیشہ Love me little, but love me long کے فلسفے پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں فائدہ رہتا ہے۔محبت میں عورت فارمولا۔ ون کی فراٹے بھرتی فراری بن جائے تو
حادثے کے بعد سنبھلنا مشکل ہوتا ہے اور دوسری وہ ہم متاں جوگیوں (پنجابی میں فہم و فراست میں ناپختہ) کو سمجھاتی تھی ع
گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہو
اس میں رونے کی اک جگہ رکھنا
اب اسے کون بتائے کہ مت بھی ہو اور عشق بھی ہوجائے تو عشق سب سے پہلے مت کو ماردیتا ہے۔

آئیں وائن کی بات کریں، پتر کسی ماں دا تے میرا لگے ہانی۔اونچا لمبا قدتھا،چھورا بھی وہ حد تھا۔

مال متروکہ

 

ہم جب پہلی بار ملے تو میں بھی کوری تھی کنواری تھی۔ مان لو ماں پیو کے گھر سے بھون کے اُتاری تھی۔۔
زندگی سے بھرپور،ایسا لگتا تھا کہ اس بھرے پرے وجود میں ایک بچہ تھا۔ وہ بچہ جس نے بڑا ہونے کو لازم نہیں سمجھا ۔ ایک کھلنڈرا لڑکا جسے زندگی کی اونچی لمبی گھاس میں چھپ کر آنکھ مچولی کھیلنے میں مزہ آتا تھا۔
۔ اللہ قسم جینے کی جو امنگ، من بھاؤنی ترنگ میں نے وائن میں دیکھی،وہ انت تھی۔اسی سے میں نے یہ سیکھا کہ اپنی زندگی اگر آپ نے نہیں جینی تو پھر اسے کوئی بھی نہیں جی پائے گا۔ ہم کبھی کار یا پیدل کہیں جارہے ہوتے تو راستے پرکوئی چھوٹا  سا وجود یا کوئی منظر اس کی توجہ یوں کھینچ لیتے تھے کہ وہ رک جاتا تھا۔زندگی کی بھاگ دوڑ میں لوگ ان باتوں کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔وہ ایسا نہ تھا۔ لمحہ لمحہ جینا جانتا تھا۔

آپ تو جانتے ہیں امریکہ میں Hired-help جیب میں بہت بڑاشگاف ڈال دیتی ہے۔ دوستوں کو علم ہوتا تھا کہ حضرت وائن صاحب ہر فن مولا ہیں۔ شل نہ (سندھی میں اللہ نہ کرے) بھولے سے دوست کہے۔برسات آنے کو ہے، برف پڑنے کو ہے وائن جی پلیز ہماری چھت ٹھیک کردو۔حضرت ترنت جاپہنچتے۔مجھے ایک دن کاکہہ کر جاتے تھے واپس آتے تو کبھی تو مہینہ پورا لگ جاتا۔
رک کر گھر کا پورانقشہ بدل دیتے تھے۔اسے اتنے ہنر اور کام آتے تھے۔ ایک دن ایک شاداب ویرانے میں اسے کسی کی متروکہ کار مل گئی جسے لاپرواہی سے Junkہونے کے لیے چھوڑ دیا تھا
۔ حضرت نے اسے محنت کرکے یوں دلہن بنادیا۔ ہم اس میں بیٹھ کر سیر کو نکلتے تو بہت سی گردنیں مڑکر آنکھیں ہم پر مرکوز ہوجاتی تھیں۔
ہاں اس میں ایک بہت بڑا عیب تھا۔پیاروں کا عیب بیان کرنا آسان نہیں مگر میں بتائے دیتی ہوں۔وہ اپنی صحت کے بارے میں بہت لاپرواہ تھا۔ہسپتال، ڈاکٹر کی طرف جانے میں اسے جھاپٹے(گجراتی۔ کوڑے لگنا)آتے تھے۔

ایک دن مجھے اسے لے کر مجبوراً ہسپتال جانا پڑا تو وہاں جو کچھ دیکھا سنا اور سامنے آیا اس سے لگا کہ ہماری دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔اسے پھیپھڑوں کا سرطان تھا اور وہ سارے بدن میں پھیل چکا تھا۔ہم دونوں میں بغاوت اور حوصلہ بہت تھا۔ سوچا ہم ہر شے پر محبت اور سلیقے سے غالب آجاتے ہیں۔ اس چیلنج سے بھی نمٹ لیں گے۔

ایسا نہ ہوا۔ ہم ہار گئے۔۔۔۔ ڈاکٹروں نے بتادیا کہ اس دھرتی پر وہ اب چند ہفتوں کا مہمان ہے۔کینسر اسے ٹیکنکل ناک آؤٹ کرنے والا ہے۔اس کی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد اسے جلادیا جائے۔

ایک شام میں اس کی  بانہوں میں سمٹ کر چرس کے سونٹے بھرتی تھی کہ کہنے لگا میری موت کے بعد میری راکھ کا کیا کروگی۔میں بتاتا ہوں تم کیا کرنا۔اس نے جیب سے وہ vial نکالی جس میں ہم چرس رکھتے تھے۔کہنے لگا ”اس جیسے بہت سے وائل جمع کرکے رکھنا میں بتاؤں گا“۔

میں نے اس کے منہ پر ہاتھ  رکھ دیا۔ اس میں یہ بات کرنے کا حوصلہ تھا۔ مجھ میں نہ تھا۔ مجھے لگا وہ بھی اداس ہے ،کہنے لگا”بس جی چاہتا ہے کہ زندگی کے54 برس پورے کرکے سالگرہ کے بعد دنیا چھوڑ دوں“۔

مجھے اکیلا چھوڑ  کر دنیا سے چلا گیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے مرد کی موت کا   سوگ منانا اس کی توہین ہوگی۔سو ہم دوستوں نے اس کی تقریب وفات برپا کی۔اسے Chesapeake Bay کے کیکڑوں کا گوشت بہت پسند تھا۔ ان کو مین ڈش بنا کر ایک ڈنر کا اہتمام ہوا Kentucky, کا مینڈولن اورگٹار کا بلیو گراس میوزک کا اہتمام کیا۔موسیقی کی یہ جانر(Genre) اس کو بہت من بھاؤنی لگتی تھی۔
تمام شرکاء میں اس کی وصیت کے عین مطابق ایک ایک وائل تقسیم کیا گیا۔ شیشے کے اس ننھے سے مرتبان میں اس کی راکھ موجود تھی ۔ان سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ اس وائل کو جب بھی کسی
آخری انجام تک پہنچائیں ۔ اس کا احوال مجھ سے ضرور شیئر کریں۔

سب نے وعدہ کیا بھی اور نبھایا بھی، میں آپ سے کیا عرض کروں ، اس کے کچھ چاہنے والے بیت المقدس میں اسے دیوار گریہ لے گئے۔کسی من چلے نے اسے اُن دنوں، دو خاموش آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں میں ان مرتبانوں کو انڈیل دیا کہ وہ ان کے نئے سیال آتشیں اظہار کا حصہ بن جائے۔ایک نے پیرس کے مشہور عجائب گھر Louvre قدیم رومن سنگ مرمر کے تابوت (sarcophagus) پر بکھیر دیا۔ اس راکھ کے حصے میں کئی سمندر بھی آئے۔

ایک وائل کا قصہ یوں ہوا کہ وہ کہ ہمارا دونوں کا ایک مشترکہ دوست کسی جرم میں بند ہوگیا اور جارجیا کی جیل میں جہاں وہ بند تھا یہ وائل بھی اس کا رفیق سلاسل رہا۔ وائن کو یہ بات اچھی لگی ہوگی۔وہ ایک ایسی روح تھا جو کسی طور ایک پنجرہء استخواں (ہڈیاں) میں مقید رہنے کے لیے پیدا نہ ہوا تھا۔
اے لو میں نے سب کابتادیا مگر اپنے وائل کے انجام کا بتانا بھول گئی۔میں نے اس انگلی میں جہاں اس سے وابستگی کی انگشتری جگمگاتی تھی ٹیٹو کی سیاہی میں محبت کی وائن کی راکھ کی روشنائی شامل کی اور اس کا بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی پرخود ہی ٹیٹو بنالیا۔
آپ کو بتاؤں ایسا میں نے کیوں کیامجھ سے پیار کی یہ دکھ بھری نشانی روز اتاری چڑھائی نہیں جاتی۔ یوں بھی میں کون سی بگاٹی یا لمبورگھینی ہوں کہ  ایک ٹیٹو سے میرا شو خراب ہوجائے گا۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *