مولانا طارق جمیل: سرکاری دعا گو۔۔ذیشان نور خلجی

یہ شیریں سخن، وہ دلوں کو مسخر کرنے والا لہجہ، یہ گفتار کا غازی، وہ کہ جو بولے تو منہ سے موتی جھڑنے لگیں اور مجھ ایسے عاصی بھی دل تھام تھام رہ جائیں۔ ایک دنیا کہ جس کا دم بھرتی ہو۔ جی ہاں، یہ ہیں آپ سب کے پیارے مولانا طارق جمیل اور جھوٹ نہ کہوں تو میں خود بھی ان کا بہت بڑا مداح۔ بلکہ سچ تو یہ ہے اس دور میں ان جیسا مقرر اور دلوں کو جھنجھوڑنے والا مبلغ شاید ہی کوئی ہو۔ لیکن کیا ہے نا کہ
یہاں رکھنا قدم تم بھی سنبھال کر شیخ جی
یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے مہ خانہ کہتے ہیں
صاحبو ! کیسی نابغہ روزگار ہستی ہو گی جس نے یہ شعر کہا ہو گا۔ سوچتا ہوں اس کے دور میں بھی اہل مذہب یوں ہی اپنی چادر پھلانگتے ہوں گے اور جبہ چاک چاک کرواتے ہوں گے۔
روز صبح جب ناشتے کی ٹیبل پر روزنامہ نوائے وقت کا ایڈیٹوریل پیج کھولتا ہوں تو بے اختیار نظر اس حدیث مبارکہ پر جا ٹھہرتی ہے۔
“بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔”
واقعی مولانا نے بھی تو یہی کیا ہے۔ کیا آج کا میڈیا آمرانہ حیثیت اختیار نہیں کر چکا؟ جس کو چاہے مسند پہ بٹھا دیتا ہے جس کو چاہے تختے پر لٹکا دیتا ہے۔ گزرے سات سال، اک ڈرامہ سا ہی تو رچا رکھا ہے ان ظالموں نے۔ کون نہیں جانتا تھا عمران خان کو۔ ایک سابق کرکٹر، پلے بوائے کے طور پہ مشہور ہونے والا آوارہ منش نوجوان۔ دوسرے بہت سے کھلاڑیوں کی طرح اخلاق باختہ کردار کا حامل، داغ دار ماضی لئے ہوئے۔

ہاں، ایک زکوٰۃ کے پیسوں سے بنایا گیا ہسپتال ہی تو تھا اس کے کارناموں میں۔ لیکن جس کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھوایا گیا پھر میڈیا کی نظروں میں وہی مطعون بھی ٹھہرایا گیا۔ اسی عمران خان کے ہاتھوں بیسیوں کرپشن کے الزامات بھی پھر اسی پہ لگائے گئے۔
جب کہ دوسری طرف اسی میڈیا نے عمران خان کو قائد ثانی اور پاکستانی عوام کا آخری سہارا قرار دے دیا۔ کون نہیں جانتا یہاں صحافی کون ہے اور لفافی کون ہے۔ کون کس کے لئے لکھتا ہے، کون کس کے لئے بولتا ہے۔ سچ ہی تو کہا ہے پھر مولانا نے، کہ یہ میڈیا جھوٹا ہے اور وقت کے اس فرعون کے آگے کلمۂ حق کہہ کر جہاد کا فرض بھی تو ادا کر گئے ہیں۔
لیکن پھر جانے کیوں مولانا نے معافی مانگ لی؟ یہ وقت کے طاغوت کے سامنے ڈٹ جانا تو شیوۂ پیغمبری ہے اور سنا ہے علماء اکرام انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ کسی صاحب علم کو مصلحت کے بارے کچھ علم ہو تو مجھے بھی بتا دے کہ اس کی پھکی کب بیچی جاتی ہے۔ جب اپنا ہاضمہ خراب ہو؟ یا اگلے کی آنکھوں میں ڈالنی ہو؟
خیر ! اس معافی نامے کو نظر انداز کر بھی دیں تو بھی جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ دراصل مولانا خود ہی بد دیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حدیث تو یہ تھی کہ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ اور ہمارا سلطان جسے کپتان کہہ کر ایک رومانوی کردار میں بدل دیا گیا اس کے دور حکومت کا یہ حال ہے کہ اس کے خلاف اٹھتی ہر آواز کو پوری شد ومد سے دبا دیا جاتا ہے پھر چاہے وہ میڈیا ہو یا اپوزیشن۔
کیا آج آپ کو کہیں اپوزیشن نظر آ رہی ہے؟
اور الیکڑانک میڈیا تو دور کی بات، کیا آپ سوشل میڈیا پہ بھی کپتان کے خلاف بات کر کے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
جانے کیوں پھر ان سب کرتوتوں کے باوجود مولانا کو اہل حکم بھا گئے ہیں؟
لیکن کیا ہے نا پیارے طارق جمیل صاحب ! مجھے بھی اندازہ ہے جس کی گود میں بیٹھا جاتا ہے پھر اس کی داڑھی سے نہیں کھیلا جاتا۔
مجھے یاد پڑتا ہے آپ دعا کیا کرتے تھے، میرے مولا ! مجھے اپنا میراثی بنائے رکھنا۔
چلیں ! آج میں بھی آپ کی دعا میں شامل ہوتا ہوں، لیکن ان الفاظ کے ساتھ۔ میرے مولا ! طارق جمیل کو صرف اپنا ہی میراثی بنائے رکھنا، نہ کہ وقت کے حکمرانوں کا۔
اور جاتے جاتے یار لوگوں سے گذارش کروں گا آخر کو مولانا بھی ایک انسان ہی ہیں، غلطی ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ لٹھ اٹھا کر پیچھے ہی پڑ جائے۔ براہ مہربانی درگزر کا معاملہ کیجئے اور جذباتی نہ ہوں۔ ویسے بھی یہ جذباتیات کا شعبہ صرف عمران خان اور مولانا طارق جمیل کے لئے ہی مخصوص ہے۔ اور اگر پھر بھی آپ کو چین نہیں پڑ رہا تو ان کے لئے درباری ملا جیسا قبیح لفظ استعمال کرنے کی بجائے، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے “سرکاری دعا گو” کہنے پر اکتفا کیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *