کائنیٹک آئسوٹوپ ایفیکٹ ۔ زندگی (10) ۔۔وہاراامباکر

کیا آپ نے کبھی ڈھلوان پر چڑھائی میں سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا ہے کہ پیدل چلنے والے آپ سے آگے نکل رہے ہوں؟ جب زمین ہموار ہو تو ایسا نہیں ہوتا تو پھر چڑھائی پر سائیکل چلانے میں اتنا زور کیوں لگتا ہے؟ تصور کریں کہ آپ سائیکل سے اتر کر اسے اپنے ساتھ چلائیں تو مسئلہ واضح ہو جائے گا۔ چڑھتے وقت آپ کو نہ صرف اپنا بوجھ اٹھا ہے بلکہ سائیکل کا بھی۔ جب زمین ہموار تھی تو یہ مسئلہ نہیں تھا لیکن چڑھائی کے وقت اس کا وزن آپ کے خلاف کام کر رہا ہے۔ آپ کو زمین کی کشش کے خلاف اسے بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اور یہ وجہ ہے کہ ریسنگ سائیکل بنانے والے اس کا وزن کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی چیز کا وزن اس کی حرکت کی مشکل میں بڑا فرق ڈالتا ہے لیکن سائیکل کی یہ مثال بتاتی ہے کہ اس فرق کا انحصار اس پر ہے کہ ہم کس قسم کی حرکت کی بات کر رہے ہیں۔

اب تصور کریں کہ آپ نے معلوم کرنا ہے کہ دو آبادیوں کے درمیان کی سڑک کس قسم کی ہے۔ ہموار ہے یا پہاڑی۔ لیکن آپ یہ سفر نہیں کر سکتے۔ ایک ممکنہ طریقہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان آبادیوں کے درمیان ڈاکیے سائیکل پر جاتے یہں جو یا تو ہلکی سائیکل چلا سکتے ہیں یا بھاری۔ اب آپ کو یہ کرنا ہو گا کہ ایک ہی جیسے پیکٹ بھجوائیں۔ کچھ کے پاس ہلکی سائکل ہو اور کچھ کے پاس بھاری۔ اگر بھاری سائیکل والے پیکٹ پر لگنے والا وقت بہت زیادہ ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ راستے میں چڑھائی ہے۔ اس انجان راستے کے بارے میں ڈاکیوں کا لگنے والا یہ وقت آپ کو ڈھلوان کے بارے میں انفارمیشن دے دیں گے۔

ایک عنصر کے ایٹم کئی وزن رکھتے ہیں۔ مثلا، ہائیڈروجن میں ایک پروٹون ہوتا ہے۔ اس کے تین آئسوٹوپ ہیں۔ ایک میں کوئی نیوٹرون نہیں۔ ڈیوٹریم، جس میں ایک اضافی نیوٹرون ہے۔ ٹریٹیم جس میں دو نیوٹرون ہیں۔

ہر آئسوٹوپ کی کیمسٹری تقریباً ایک ہی ہے۔ مثلا، کسی بھی آئسوٹوپ سے پانی بنا ہو، ویسی ہی کیمیائی خصوصیات رکھتا ہے۔ لیکن اگر کسی خاصیت میں فرق زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس کے کئی مکینزم ممکن ہیں۔ مثلاً، بھاری ہونا کوانٹم ٹنلنگ پر بہت فرق ڈالے گا۔ کیونکہ اس کے امکان پر بہت فرق پڑے گا۔ اگر ان سے کئے گئے تجربات سے آنے والا فرق زیادہ ہو تو ہمیں شک ہو جائے گا کہ یہاں کوانٹم ٹنلنگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ لیکن ابھی کیس مکمل نہیں ہوا۔

اگر کوانٹم ٹنلنگ موجود ہے تو پھر ایک اور اثر درجہ حرارت کی وجہ سے پڑے گا۔ اور وہ یہ کہ کم درجہ حرارت پر ری ایکشن کا ریٹ کانسٹنٹ ہو جائے گا۔

کلنمین اور ان کی ٹیم نے ADH انزائم پر تجربے سے معلوم کیا کہ اس ری ایکشن میں کوانٹم ٹنلنگ ایفیکٹ کے مضبوط شواہد ہیں۔ اس کے بعد کلنمین کے گروپ نے توجہ دوسرے انزائم کی طرف کر دی۔ اور ایسے ہی نتائج نکالے۔ اور یہ اثرات عام درجہ حرارت پر نظر آتے ہیں۔ اور یہاں نتائج بہت واضح ہیں۔

اب انزائم اس درجہ حرارت پر کوانٹم کوہرنس کیسے برقرار رکھتی ہیں؟ یہ موضوع تنازعے سے ابھی خالی نہیں ہے۔ ہم کافی دیر سے یہ تو جانتے ہیں کہ انزائم ری ایکشن کے دوران ساکن نہیں ہوتیں لیکن مسلسل وائبریٹ کرتی ہیں۔ مثلا، کولاجنیز کے جبڑے بانڈ توڑتے ہوئے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ لیکن اب کوانٹم بائیولوجی کے محققین کا کہنا یہ ہے کہ وائبریشن کا بنیادی فنکشن ایٹم اور مالیکیول کو اتنا قریب لانا ہے کہ ذرات (الیکٹرون اور پروٹون) کوانٹم سرنگ بنا لیں۔

تو پھر اس کا کوانٹم بائیولوجی میں کوانٹم کو اسٹیبلش کرنے میں کیا کردار ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر زندہ خلیے میں بائیومالیکیولز بنانے اور ختم کرنے میں انزائم کا کردار ہے۔ یہ دریافت کہ انزائم ذرات کو ایک جگہ سے غائب کر کے دوسری جگہ نمودار ہونے کا کام پروموٹ کرتی ہیں، زندگی کے اسرار میں روشنی ڈالنے کا نیا پہلو ہے۔ انزائم ایکشن کو سمجھنے میں ابھی کئی غیرحل شدہ سوالات ہیں (جیسا کہ پروٹین موشن کا فنکشن)۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ ابھی تک انزائم ری ایکشن کو ابھی تک اتنا سمجھ لینے کے باوجود ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں جہاں ہم شروع سے کوئی مصنوعی انزائم بنا سکے ہوں جو قدرتی انزائم کی طرح رفتار تیز کر سکیں۔ رچرڈ فائنمین کے مشہور فقرے “جو بنایا نہیں، اسے سمجھا نہیں” یہاں پر اہم ہو جاتا ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ اگر کسی انزائمولوجسٹ سے پوچھا جاتا کہ کیا اس عمل کو کلاسیکل کیٹالسٹ مکینزم سے سمجھا جا سکتا ہے تو جواب اثبات میں ملتا لیکن اب اس میں کوئی شک نہیں کہ انزائم کے فنکشن میں کوانٹم ٹنلنگ کا ہاتھ ہے۔

اب اگلا سوال؟ اس کی اہمیت کیوں ہے؟
کلنمین، سکرٹن اور دوسرے سائنسدانوں کی تحقیق کو تو اب عام قبولیت مل چکی ہے لیکن ایک اور تنقید جو کی جاتی ہے، وہ یہ کہ اگر یہ ایفیکٹ ہیں تو اتنے اہم نہیں۔ چونکہ بائیومکینیکل پراسس اتنے چھوٹے سکیل پر کام کرتے ہیں تو ایسا تو ہونا ہی تھا۔ لیکن بڑے سکیل پر اس کا کوئی خاص مطلب نہیں۔ کسی حد تک یہ تنقید درست ہے۔ کوانٹم ٹنلنگ کوئی جادو نہیں۔ یہ کائنات میں اس وقت سے ہے جب سے کائنات ہے۔ یہ کوئی ایسا حربہ تو نہیں جسے زندگی نے “ایجاد” کیا تھا۔

لیکن جو ناگزیر نہیں تھا، وہ زندہ خلیوں کے گرم، گیلے اور مصروف ماحول میں ان کی موجودگی تھی۔

زندہ خلیے غیرمعمولی طور پر پرہجوم جگہیں ہیں جو پیچیدہ مالیکیولز سے پیک ہوئی ہیں جس میں مسلسل ہنگامہ جاری ہے۔ اور یہ ہنگامہ کوانٹم کوہرنس کی نازک حالت کو ختم کر دیتا ہے اور اس وجہ سے ہمیں روزمرہ کی دنیا “نارمل” لگتی ہے۔ اس ہنگامہ خیز ماحول میں کوانٹم کوہرنس برقرار نہیں رہتی۔ اس متحرک مالیکیولر سمندر میں کوانٹم ٹنلنگ کی موجودگی کی دریافت بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ اور خاص طور پر پروٹون جیسے بھاری ذرے کا سرنگ بنانا جو الیکٹران سے تقریباً دو ہزار گنا بھاری ہے؟ آج سے صرف پندرہ سال پہلے اس دعوے کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا جاتاا۔

بائیولوجی میں ان کا پائے جانا ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی خاص اقدام لیتی ہے کہ کوانٹم اثرات سے فائدے اٹھائے جا سکیں تا کہ خلیے کوانٹم اثرات کا فائدہ اٹھا سکیں۔ لیکن کیا اقدام؟ آخر زندگی کوانٹم رویے کے دشمن، ڈی کوہرنس، کو کیسے دور رکھتی ہے؟ یہ کوانٹم بائیولوجی کا سب سے بڑا اسرار ہے لیکن ایسا جس پر سے آہستہ آہستہ پردہ سرک رہا ہے۔ (اس بارے میں بات بعد میں)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے جائیں، ہم اپنی آبدوز کی طرف واپس آتے ہیں جو ہم مینڈک کی دم میں چھوڑ آئے تھے۔ جہاں پر کولاجینیز انزائم غائب ہوتی دم کی ایکٹو سائٹ تھی۔ اس انزائم کے جبڑے دوبارہ کھلے۔ کولاجن کی زنجیر ٹوٹ گئی اور یہ اگلے پیپٹائیڈ بانڈ کی طرف چلی گئی۔ اب ہم اس کے جسم میں جلدی سے ایک ٹور کر کے ترتیب سے ہونے والی ایکٹیویٹی دیکھ لیں جس کئی دوسرے انزائم کر رہے ہیں جو زندگی کے لئے اتنا ہی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ہم نے کولاجن کے نئے ریشے بچھائے جاتے ہوئے دیکھے جیسے ٹرین کی پٹری بچھائی جا رہی ہو۔ یہ نئے بالغ مینڈک کے جسم کو سپورٹ کریں گے۔ غائب ہو جانے والی دم سے آنے والے خلیے بھی اپنی نئی جگہ پر فِٹ ہو گئے۔ یہ نئے ریشے وہ انزائم بنا رہے ہیں جو ٹوٹے ریشے کے امینو ایسڈ کے اجزاء کو جوڑ کر انہیں باندھ کر نیا ریشہ بنا سکتی ہیں۔ ٹور اختتام پر پہنچ رہا ہے اور ہمارے پاس ان کو دیکھنے کا ابھی وقت نہیں لیکن ہر سائٹ پر اسی طرح کی کوریوگرافی نظر آ رہی ہے جس کا ہم پہلے نظارہ کر کے آئے تھے۔

زندگی کے بائیومالیکیول ۔۔ فیٹ، ڈی این اے، امینو ایسڈ، پروٹین، شوگر ۔۔۔ مختلف انزائم کے ہاتھوں بن رہے ہیں، ختم ہو رہے ہیں۔ اس بڑھتے مینڈک کا ہر ایکشن اسی طریقے سے ہو رہا ہے۔ مثلاً جب اس مینڈک نے مکھی دیکھی تو آنکھ سے دماغ کو پیغام پہنچانے والے اعصابی سگنل میں نیوروٹرانسمٹر انزائم کا ایک گروپ مدد کر رہا ہے۔ جب اس نے زبان نکالی اور مکھی کو پکڑ لیا تو پٹھوں کے سکڑنے میں ایک اور انزایم مائیوسین ہے جو پٹھوں کے خلیوں میں ہے۔ جب مکھی مینڈک کے معدے میں داخل ہوئی تو انزائم کی فوج اس کے ہاضمے کی رفتار کنٹرول کرے گی اور اس میں غذائیت خارج کرے گی۔ نئے انزائم اس غذائیت سے مینڈک کے ٹشو بنانے میں مدد کریں گے یا ریسپائیریٹری انزائم توانائی حاصل کریں گے۔

ہر ضروری عمل ۔ خواہ مینڈک میں ہو یا کسی اور جاندار میں ۔۔ ہمیں زندہ رکھتا ہے اور اس کو یہ انزائم ممکن بناتے ہیں، ٹھیک رفتار پر رکھتے ہیں۔ ان کی بنیادی ذرات کو کوریوگراف کرنے کی اہلیت زندگی برقرار رکھنے کے لئے لازم ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے کوانٹم دنیا کے عجیب قوانین میں جانا پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *