• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کرکٹ اور صوبائی مخاصمت(ڈاکٹر ظفر الطاف سے سنی سنائی باتیں)۔۔۔محمد اقبال دیوان

کرکٹ اور صوبائی مخاصمت(ڈاکٹر ظفر الطاف سے سنی سنائی باتیں)۔۔۔محمد اقبال دیوان

ہماری اماں جی اور ہمارے اینکروں کے سنجے لیلا بھنسالی ہمارے ڈکٹیٹر ایڈیٹر رؤف کلاسرا کی ایک ہی خواہش ہے کہ ہم بڑا آدمی بن جائیں۔ کلاسرا جی کو بھی(ان کی طرح کیا کیا برتنے کا شوق نہیں ہے، وی لاگ، ٹوئیٹر، کالم، کتاب اور فیس بک)  اب آپ سنجے لیلا بھنسالی کی جسارت تودیکھیں، باجی راؤ مستانی میں دیپکا کو ناچ کے اسٹیپ بھی کرکے سمجھارہے تھے)۔اماں جی کی خواہش تھی کہ دادا جوناگڑھ کے پولیس چیف تھے۔ ہم کم از کم پاکستان کی آئی ایس آئی کے پہلے سویلین چیف بنیں۔انہیں نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں خرگوش ریس کے دوران سو بھی جائے تو کچھوے نے نہیں جیتنا۔ان کو دکھ تھا کہ ہم چونکہ میمن ہیں، اس لیے ایسا نہیں ہوپارہا۔ ہم نے سمجھایا ایسا نہیں۔ اماں جی ہم چکوال کے ہوتے تب بھی یہ سب کچھ نہیں ہونا تھا۔ہمارے میں Organizational error ہے ۔وہی 404 -page not found والا error ہے۔ فوج میں فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں ۔میمنوں کی فوج والے بہت عزت کرتے ہیں Special Service Group جیسا اہم عسکری ونگ بنانے کا کام سونپ دیا تھا۔ جنرل ابوبکر عثمان مٹھا نے اس یونٹ بٹالین کی تعمیر و تربیت کی۔آئی جے آئی بھی اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل اور ان کے ماتحت جنرل اسد درانی نے ایک میمن یونس حبیب کی مدد سے بنائی۔

ایرر 404

جے کے رولنگ
جینفر لارنس ، گی گی حدید
ڈاکٹر عدنان
ارناب
جیدی

ہمارے مرحوم کز ن مشہور پینٹر رحیم ناگوری اکثر مذاق کرتے کہ خالہ اماں بلاوجہ پاکستان ہجرت کی۔ وہاں ہندو ستان میں ہی رہتے تو اس نے آپ کے ارمان پورے کرنے کے لیے RAW کا چیف بن جانا تھا۔اس پر پڑوسن نفیسہ جو ہم پر حریص ازواجی نگاہ رکھتی تھی ۔ہمیں اور اماں جی کو رجھانے کے لیے میمنی میں کہتی کہ یہ لگ بھی جاتا تھا تو ہندوستانی لوگ کو دھوکہ دے کر ریکھا کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان DEFECT (دھوکہ دے کر ترک سکونت کرنا)کر جاتا۔کلاسرا صاحب کو اس بات کی بہت چنتا رہتی ہے، کہ ہم مزید اچھا، مختصر لکھیں تاکہ ہماری اگلی کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ اور کالمز کا مجموعہ جب لانچ ہو تو برطانیہ کی مشہور ترین اور دنیا کی مالدار ترین مصنفہ جے کے رولنگ ہیری پورٹر کی خالق کی طرح اپنے یوم اجرا سے پہلے انہیں ایمزون کے دو ہزار ٹرک  سارے  امریکہ میں  رائتے کی طرح پھیلا دیں۔ہمارا آٹو گراف بھی تین ہزار ڈالر کا فروخت ہو۔ جینفر لارنس اور گی گی حدید لائن میں لگ کر ہمارے آٹو گراف والی کتاب لاس اینجلس میں خریدتی ہوں۔

یہ سب ہوتے ہوتے وہ دن بھی جلدی سے آئے کہ عمران خان ایون فیلڈ والے اپارٹمنٹ نواز شریف سے چھین لے۔ اس عالم میں لٹے پٹے نواز شریف ہائیڈ پارک کی کسی بنچ پر  ڈاکٹر عدنان کی مدد سے ریزگاری کی طرح اپنے پلیٹ لیٹس گنتے ہوں تو وہ بکواسیا ارناب گوسوامی ان سے پوچھے کہ نیب اور عمران نے سب لے لیا تو آپس کے پاس کیا بچا ہے؟ ایسے میں سابق پردھان منتری جیدی کی طرح اپنا کوٹ سمیٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس کو جواب میں کہیں ”اے لو بٹ بوائز سے پوچھتے ہیں میرے پاس کیا بچا ہے۔ابے میرے پاس ماں ہے، ڈاکٹر عدنان ہے اور سب سے بڑھ کر اقبال دیوان کے تین آٹوگرافس ہیں جو پانچ ہزار پاؤنڈ فی کتاب بکیں گے۔اللہ ہم شریف لوگوں کو ایسے ہی تو نواز تا ہے “۔

میاں داد کی کپتانی سے محرومی کے بعد کا منظر
عمران خان اور مشتاق محمد -ڈریسنگ روم میں
شب کے ہم سفر جانے کدھر کھوگئے

آپ نے دیکھا بیوروکریٹس کتنے چالاک ہوتے ہیں۔ابھی تک مطلب کی بات شروع نہیں کی۔کلاسرا صاحب کا ایڈیٹر الفاظ گن کر بتا رہا ہوگا کہ سر جی وہ دیکھیں چار سو الفاظ ہوگئے اور ابھی تک نہ کرکٹ، نہ پنجابی، نہ ڈاکٹر ظفر الطاف۔ Sirjee we are a bunch of professionals at Naqar Khana. These bloody bureaucrats can not tell us what is quality media.

کلاسرا صاحب کہیں گے یار دیکھ آگے کہیں میرا نام ہوگا کوئی کرکٹ کا ضرور بیان ہوگا۔ کچھ دھیرج بھی رکھو۔ A good story is like a silk saree. It takes time to wrap around.

یہ عین ممکن ہے کہ ساڑھی اور فال کے چکر میں ایڈیٹر صاحب کو Dirty Picture میں Silk Samitha کے روپ میں ودیا بالن یاد آجائے اور وہ ان  کے حسین خیالوں میں کھوکر پھر سے ہمارے مضمون کی شیئرنگ کی صلاحیت کو جانچنے میں لگ جا ئیں۔

دن گزرے کہ اماں جی کی طرح کلاسرا صاحب کو لگا کہ وہ کچھ بھی کرلیں ہمارے جیسا کچھوا درخت پر چڑھنا نہیں سیکھے گا۔ یہ وہ کانٹا ہے جسے مرجھانے کا خوف نہیں۔ سو کہنے لگے۔ اچھا مزید وقت ضائع کیے بغیر یہ باسط علی نے جو کہا ہے کہ جاوید کو کپتانی سے ہٹانے میں عمران خان کا ہاتھ تھا۔۔اس پر ہی کچھ لکھ دیں۔ڈاکٹر صاحب سے پینتیس برس کا ساتھ تھا۔بہت سی باتیں کی  ہوں گی۔کراچی گروپ اور کرکٹ کے لاہوری گروپ کے بارے میں اس کا کوئی ایک آدھ قصہ۔

ڈاکٹر ظفر الطاف کو علم تھا کہ ہم کرکٹ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ہمیں سمجھاتے تھے کہ کرکٹ بہت عظیم فلسفیانہ کھیل ہے۔ ہم چھیڑتے کہ بس سقراط، ارسطو،میکاولی اور ابوریحان البیرونی نے نہیں کھیلا۔کہتے تھے نہیں تم نہیں سمجھو گے یہ وہ واحد کھیل ہے جس میں ایک کھلاڑی بیک وقت گیارہ کھلاڑیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

جن دنوں کراچی ایم کیو ایم کی کامل گرفت میں تھا۔ کراچی کے گلشن میں صرف لاشوں کا کاروبار چلتا تھا۔ایک رات گیارہ بجے لینڈ لائن پر ڈاکٹر صاحب کا فون آیا کہ کیڈبری کون ہے؟ ہم نے کہا”حنیف کیڈبری“ جی۔ تم کو پتہ ہے۔ ہم چپ رہے تو پوچھا ”پتہ کرو یہ اس وقت کہاں ہے؟“ حنیف کراچی کے بڑے بکیز میں تھا۔بچپن سے چاکلیٹ کی مشہور برانڈ کا رسیا تھا لہذا اس کی شناخت ہی کیڈبری بن گئی ۔میمنوں میں ایسی شناخت مروج ہے۔ تانبے کے ایک بیوپاری کو اس کی بیوی بھی عزیز تانبا ہی کہہ کر پکارتی تھی۔ہماری خاموشی کو بھانپ گئے Something Wrong ہم نے بتایا کہ اس کی لاش جنوبی افریقہ سے تابوت میں بند ہوکر آئی تھی۔غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق اس میں کیڈبری کے کچھ پیکٹ بھی ڈالے ہوئے تھے۔ لاش کو بجلی کے آرے سے بھی کاٹا گیا تھا۔اس نے جوئے میں بہت گڑبڑ کی تھی۔ایسی بے ایمانی کالے دھندے میں نہیں چلتی۔You win with a smile, you pay with your life

ڈاکٹر صاحب برملا دوستوں کی محفل میں بتاتے تھے کہ جوئے میں پاکستان ٹیم کو ملوث کرانے کا سہرا کپتان ا آصف اقبال رضوی کے سر تھا۔ آصف اقبال بھارت کی ٹینس  سٹار ثانیہ  مرزا کے رشتہ دار ہیں۔ سن تھا1979-1980۔وہ اور گاؤسکر ممبئی کے بکیز کے رابطے میں تھے۔حیدرآباد دکن میں کوئی ٹیسٹ میچ ہوا تھا۔ٹیسٹ کا ٹاس پاکستان جیت گیا تھا جس پر آصف اقبال نے بطور کپتان ضد کی کہ نہیں ٹاس انڈیا جیتا ہے۔یہ بکیز کی اصطلاح میں کٹنگ کہلاتی ہے۔ایک بال اور رمز پر بھاؤ کھل رہا ہوتا ہے۔ اصل مال کٹنگ اور سائیڈ بیٹنگ میں بنتا ہے۔شاید ٹاس جیتنا پاکستان کے حق میں تھا مگر بکیز کو مار پڑرہی تھی سو گیم یوں بنایا گیا۔

صلاح الدین صلو میاں
محسنہ قدوائی

سن 1999 ا یک مرتبہ پھر ورلڈ کپ کا مرحلہ درپیش تھا۔ ڈاکٹر صاحب اور ہم جہلم میں ایک بہت بڑی بزرگ شخصیت کرنل محمد اختر رضوانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کو بطور منیجر ورلڈ کپ کے لیے ٹیم لے کر جانی  تھی ۔ پریشان تھے۔۔ بزرگ کہنے لگے تمہارا کپتان بہت برا آدمی ہے۔ دیکھنا یہ پیسے کے لیے Victory Throw کرے گا۔ٹیم میں سب سے نیک شعیب اختر ہے اس سے نماز کی پابندی کروانا۔ کپ آپ کا نہیں۔ڈاکٹر صاحب کو بات کچھ جچی نہیں۔سیریز جاری تھی اور اگلا میچ بنگلہ دیش سے ۔ ٹھیک سے کھیلتے تو یہ ایک واک اوور میچ تھا۔ ان دنوں بنگلہ دیش کی ٹیم بہت ماٹھی تھی۔ڈاکٹر صاحب کو سفارت خانے میں موجود کسی افسر نے بتایا کہ سب پاکستانی،حتیٰ  کے ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے بھی انگلستان میں دوستوں سے رقم لے کر بنگلہ دیش پر بھاؤ لگایا ہے بلکہ چند ایک وزیروں نے بھی بنگلہ دیش پر داؤ لگا یا۔ یہ سن کر ڈاکٹر صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔ انہوں نے ہمیں فون کیا کہ ان بزرگ سے پوچھو اور جواب لے کر پہلی فلائیٹ سے لندن آجاؤ۔ہم نے فون پر معلومات حاصل کیں تو کپتان کے حوالے سے بزرگ ناخوش لگے۔ہم بھی نہیں گئے۔ڈاکٹر صاحب پہلے ہی دل گزیدہ تھے۔

آئے تو سب سے پہلے ہم سے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ ہمارے پنجاب کے بوائز اور برائیوں میں تو ملوث ہوسکتے ہیں رقم بنانے کے چکر میں جان بوجھ کر مگر میچ ہارنے میں شامل نہیں۔یہ بہت ولولے اور محنت سے اوپر آنے والے غریب دیہاتی پس منظر کے لڑکے ہیں۔ وقار بورے والے سے آیا تھا۔ باپ کے پاس پیسہ بہت تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ کھلاڑیوں کے نام لیے جوبہت ہی شکستہ معاشی پس منظر سے ابھرے تھے۔کراچی Big Money کا شہر ہے۔ہم چپ تھے۔کہنے لگے بولتے کیوں نہیں۔ ہم نے کہا یہودیوں کی توریت میں کتاب دانیال میں لکھا ہے۔”اس ذلت سے خود کو بچاؤ جو کنگلوں کے ہاتھوں نصیب ہو۔“

ذکر تھا میاں داد کا جنہیں عمران نے کپتانی سے محروم کیا تھا۔میاں داد بہت دل چسپ اور اپنے مزاج کے آدمی ہیں۔ ان میں اور  کپتان میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں Team Man نہیں۔دونوں میں خود پسندی بہت ہے۔

میاں داد اسی 1999 والی ورلڈ کپ والی ٹیم کے انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے۔ اپنے ماتحت کھلاڑیوں سے بے تکلفی بہت تھی۔کچھ دن پہلے تک تو خود بھی کھیلتے تھے۔ زود رنج ہیں۔ چھ سات کھلاڑیوں سے کسی محفل شبینہ میں شدید ناراضگی ہوگئی۔بضد تھے کہ وقار یونس، سلیم ملک، محمد یوسف،اظہر محمود،مشتاق احمد،اعجاز احمد کو باہر کردیا جائے۔۔ چیف سیکرٹری پنجاب خالد محمود پی سی بی کے چیئرمین تھے۔ انہیں پریشانی ہوئی۔سیلکٹرز سے مل کرطے ہوا کہ جاوید میاں داد کو باہر کردیں۔ ڈر یہ تھا کہ میاں داد کو کچھ کہا تو ایم کیو ایم اور کراچی کا پریس طوفان اٹھا دے گا۔صلو میاں سے مشورہ ہوا انہوں نے مشورہ دیا کہ سابق کپتان مشتاق محمد کو کوچ بنا لیں۔پریس اور ایم کیو ایم سے وہ نمٹ لیں گے۔ان کا تعلق ہندوستان کی ایک بہت عالی مرتبت اردو بولنے والی فیملی سے ہے۔ہمشیرہ محسنہ قدوائی کئی مرتبہ بھارت کانگریس کی وزیر رہ چکی ہیں۔ صلو میاں نشست و برخواست کے جملہ آداب سے خوب واقف ہیں۔ پاکستانی ٹیم میں بالر اور بیٹسمین کی حیثیت سے کھیل چکے ہیں۔ منیجر اورسلیکٹر کے طور پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اکثر مواقع پر شامل رہے،صلو میاں نے کہا مشتاق محمد انگلینڈ میں ہیں۔ مقامی معاملات سے بخوبی واقف۔فیصلہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کو منایا جائے۔
صلو میاں کی ڈاکٹر صاحب بہت عزت کرتے تھے۔ان کے لحاظ میں مان گئے۔دبے دبے الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ معاوضہ پچیس ہزار پونڈ سے زیادہ نہ ہو۔
مشتاق محمد سے رابطہ ہوا تو فوراً راضی ہوگئے اور وہ بھی کل چار ہزار پونڈ اور ہر شام وس کی کی ایک بوتل پر۔ معاوضہ انہوں نے خود ہی تجویز کیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کو حنیف برادران سے شدید نفرت تھی۔حنیف محمد نے انہیں آخری ٹیسٹ میں ممبئی میں سن
1960–61 میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے چانس سے محروم کردیا تھا اور اپنے بھائی وزیر محمد کو ضد کرکے بطور اوپنر لے آئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو باہر کرکے ان کی خود کوجگہ پانچویں نمبر پر مڈل آرڈر بیٹسمن شامل کرلیا تھا۔ اس وقت ان کی بات رکھی گئی ۔انہوں نے دھمکی دی تھی کہ بھائی کو اوپنر نہیں لیا تو ہماری طرف سے انکار سمجھو۔حنیف محمد سے بڑا بیٹسمن اور فضل محمود سے بڑا بالر ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی نہ تھا۔
اب یہ سوال کہ کیا کرکٹ بورڈ پر صوبائیت غالب ہے
جی بالکل ہے بلاشبہ، روز اول سے۔

کرکٹ کے چئیرمین صاحبان کے رول آف آنر پر نگاہ دوڑائیں تو بورڈ کا قیام ہی بہت مشکوک حالات میں وجود میں آیا۔ لاہور جم خانہ کے کمیٹی روم میں مئی1949 کی ایک حسین سلگتی ہوئی سازشی شام کو تین چار افراد گورنر پنجاب افتخار ممدوٹ کی سربراہی میں جمع ہوئے۔ جنہیں آناً فاناً بورڈ کا چئیرمین منتخب کرلیا گیا۔ انتظامی امور جسٹس اے آر کانیلس نے سنبھال لیے۔ کاردار صاحب کو بلواکر کپتان بنادیا گیا۔ملک میں مقبول ترین کھیل کے سرکاری ادارے کی مرکزی باڈی کی تشکیل کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو پوچھا تک نہ گیا تھا ،باقی دونوں شرکا ء کو بھی وائس چیئر مین بنادیا گیا۔ سب کے سب لاہور کے تھے۔ کراچی ،سندھ اور پاکستان کے کسی اور صوبے سے کوئی مدعو نہ تھا۔

آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کے  وائس چیئرمن کے عہدے پر ایک دفعہ جنرل ایوب خان بھی شامل تھے۔آج تک اس عہدے پر فائز ہونے والے سربراہان میں جن کی کل تعداد 35کے قریب بنتی ہے۔ یہ عہدہ اہل سندھ کے پاس کل دو مرتبہ رہا ہے یعنی ایک مرتبہ ایک سندھی پیر زادہ عبدالستار ایک دفعہ ایک اردو  سپیکنگ پرنس شہریار خان آف بھوپال کے پاس۔ایک مرتبہ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو بھی اس عہدے پر متمکن ہونے کا شرف حاصل ہوا مگر وہ بنگالی ہونے کے علاوہ ملک کے وزیر اعظم بھی تھے۔باقی بتیس سربراہان کا تعلق پنجاب سے تھا۔

ایک دفعہ ایک چیف جسٹس نسیم حسن شاہ بھی اس اس کے سربراہ رہے جنہوں نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے کا ایک معاوضہ یہ بھی طلب کیا تھا، ایئر مارشل نورخان کی پی سی بی سے چھٹی کروادی ۔ نور خان کے پاس ہاکی اور کرکٹ کے دونوں عہدے تھے۔سرکاری ڈنر میں نسیم حسن شاہ جو چار فیٹ گیارہ انچ کے تحت ان کی پھرتیاں قابل دید تھیں۔بار بار بہانے بہانے سے صدر مملکت ضیا الحق کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ کاردار صاحب نے ایئر مارشل نور خان کو چھیڑا کہ پدا جناب دی راجدھانی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔صبح سے کئی کھلاڑیوں سے مل چکا ہے۔ مجھے بھی بلانا چارہا تھا مگر تم جانتے ہو میں Slimy Characters سے دور رہتا ہوں۔نور خان کاخیال تھا کہ جنرل ضیا ان سے تعلقات کا پاس رکھیں گے۔حکمرانوں کے بارے میں یہ غلطی سبھی کرتے ہیں۔کاردار صاحب نے جتایا بھی کہ بھٹو نے اپنے محسن اور پارٹی کے سب سے قابل ممبر آئی سی ایس مہاجر جے اے رحیم کا جو حال کیا اور ان کو کراچی کے تھانے میں بڑھاپے کے باوجود اختلاف کی بنیاد پر ننگا کرکے جو سلوک کیا اس کے بعد بھی آپ اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں۔اگلی صبح جنرل ضیا الحق کی رضا مندی سے نسیم حسن شاہ   پی سی بی کے چیئرمین بن گئے تھے۔ یہ خبر ناشتے کی میز پر ہم نے، ڈاکٹر صاحب نے اور حفیظ کاردارنے ایک ساتھ اسلام آباد میں سنی۔

پاکستان میں کرکٹ کا جائزہ لیں، سندھ کچھ ایسا ماٹھا بھی نہ تھا۔یہ پنجاب اور باقی صوبوں پر فوقیت رکھتا تھا، سندھ کے پاس سن 1935 میں اپنی کرکٹ ٹیم تھی اور اس ٹیم سے کراچی میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم میچ کھیلنے آئی تھی۔

پاکستان میں کرکٹ ٹیم سے ابتدا میں جڑے اہم بڑے ناموں کا جائزہ لیں اس میں امیر الہی، انور حسین،عبدالحفیظ کاردار،خان محمد،فضل محمود،مقصود احمد، اسرار علی،نذر محمد وقار حسن، محمود حسین،ذوالفقار احمد،خالد وزیر،شجاع الدین، میراں محمد، اسلم کھوکھر اعجاز بٹ آغا سعاد ت، انتخاب عالم اور سعید احمد،کا تعلق پنجاب سے تھا۔ علیم الدین،حنیف، مشتاق محمد مناف، فاروق، رئیس محمد،نسیم الغنی،والئس متھائیس، انتاؤ ڈی سوزا، حسیب الحسن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان میں سے بھی کراچی میں کاٹھیاواڑ سے تعلق رکھنے والے پانچ کھلاڑی،حنیف محمد، مشتاق محمد رئیس محمد، تین بھائی،محمد مناف، فاروق، ہوا کرتے تھے۔اس تناظر میں ٹیم میں پنجاب رنگ ہمیشہ سے غالب تھا۔

دار الحکومت جب کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو پاکستان کی طاقتور بیورو کریسی بھی دو واضح دھڑوں  میں بٹ گئی۔اردو  سپیکنگ بیوروکریسی نے رفتہ رفتہ اپنا دامن تہہ کر پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف موڑ لیا۔سول سروس میں اسے کوئی خاص کشش نظر نہ آئی۔بھٹو کے کوٹہ سسٹم نے سول سروس سے جڑے تفاخر کو اور بھی پامال کیا۔ یہ اوسط سے نچلے درجے کے بے اصول نوجوانوں کی چراگاہ بن گئی۔

ڈاکٹر صاحب سے ہم نے جب بھی پوچھا تو وہ کہتے تھے مظفر حسین صاحب اور سعید جعفری جیسے کراچی پرور آئی سی ایس افسران سول سروس سے رخصت ہوئے تو کرکٹ کے میدان میں بھی ایک خلا آگیا۔اس خلا کو پر کرنے کراچی کی کرکٹ پر سراج الاسلام بخاری عیسی جعفر اور منیر حسین جیسے غیر متعلقہ مگر ریشہ دوانیوں کے ماہر افراد کا قبضہ ہوگیا۔جنہیں کرکٹ سے زیادہ مشرقی پاکستان سے بندر چین ایکسپورٹ کرنے میں دل چسپی تھی۔کرکٹ ایسوشی ایشن کی آڑ میں اس دھندے کو بہت تحفظ مل جاتا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کو یہ سب یوں ناپسند تھے کہ پسندیدہ کھلاڑیوں کی  سکورنگ کا ایوریج اوپر لانے کے لیے اپنی مرضی کے ایمپائر لگاتے تھے۔ انہیں لالچ اور خوف میں مبتلا رکھتے تھے اور سیمنٹ کی وکٹوں  پراچھے کھلاڑی پیدا ہونا بند ہوگئے۔اس کے علاوہ حنیف محمد بھی سازشوں سے بعض نہ آتے تھے ان کے ساتھ حسیب ا لحسن جو ٹیسٹ ٹیم میں  سپنر تھے اور انہیں کے گھر میں رہتے تھے وہ بھی شامل ہوگئے تھے۔ ان دونوں گہرے دوستوں کی ضد ہوتی تھی کہ ہر قیمت پر صادق اور حینف محمد کے بیٹے شعیب کو کھلاجائے۔ ڈاکٹر صاحب اس سے بہت زچ ہوتے اسی طرح کراچی کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ایم کیو ایم کے سہارے بھی ٹیم میں آنا چاہتی تھی۔ کاردار صاحب اور ڈاکٹر صاحب پہلے کسی کا دباؤ لینے والے نہ تھے۔

یہ کاردار صاحب ہی تھے جو بقول ڈاکٹر صاحب میاں داد کو دیکھنے خاص طور پر کراچی سے میرپور خاص گئے تھے۔اس وقت میاں داد کا لباس بھی غریبانہ تھا۔وہ ان کی اپ۔ کیپ کی خاطر ڈاکٹر صاحب جو بورڈ کے آنریری سیکرٹری تھے انہیں دو ٹکٹوں کا کیش دلوایاکرتے تھے۔ہم نے کاردار صاحب اور ڈاکٹر صاحب میں صوبائی تعصب کی ہلکی سی بھی رمق نہیں دیکھی۔ دونوں بہت اصول پرست تھے۔زندگی کا کونسا راز تھا وہ جو ہم سے شیئر نہ کرتے مگر کئی دفعہ ہمیں ٹیم سلیکشن کے وقت باہر بھیج دیا جاتا جہاں کبھی صلو میاں تو کبھی عارف عباسی صاحب کے  سٹاف کے ساتھ ہماری گپ لگتی تھی۔ہم سے ٹیم کا سیلکشن ایک دفعہ بھی ڈسکس نہ ہوا تھا۔ جب ایک کھلاڑی نے اپنے چھوٹے بھائی کو شامل کرنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالا اور ہم نے ڈاکٹر صاحب کی نبض ٹٹولی تو کہنے لگے جب وہ ٹیم میں شامل ہوا تو اس نے پاجامہ پہن رکھا تھا۔اس کا سلیکشن میرٹ پر ہوا تھا اس سے کہو وہ میرٹ پر ہوگا تو خود ہی ٹیم میں آجائے گا۔ ہم نے یہ جواب پہنچایا تو کہنے لگے”تھالے یہ پنجابی اپن میمن لوگ کی بات کبھی نہیں مانیں گے“۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم1979–1980 آصف اقبال کی سربراہی میں جب بھارت کی سیریز ہار کر پاکستان واپس آئی تو کراچی کے تاجروں سے یہ بات باہر نکل گئی کہ آصف اقبال پاکستان
کی طرف سے بکیز کے ہاتھوں مکمل بک چکے تھے۔ کرکٹ میں ہار جیت کے فیصلے ممبئی اوردوبئی کے بکی کیز میدان کے باہر بیٹھ کر کرنے لگے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ ایر مارشل نور خان پر میاں داد کو کپتان بنانے کے لیے بہت دباؤ تھا۔ وہ اور عمران خان دونوں ہی جنرل ضیا الحق کے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سے تھے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت باکمال بیٹسمن تھے۔جاوید میاں داد کا کپتان بننا یوں بہت غیر معمولی تھا کہ وہ محض بائیس برس کے تھے۔

جاوید میاں داد کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان دنوں ٹیم میں بڑے ناموں کی بھرمار تھی۔ منظر نامے میں عمران خان، وسیم باری، وسیم حسن راجہ، سرفراز نواز،اقبال قاسم، ماجد خان، ظہیر عباس موجود تھے۔ان کھلاڑیوں میں اقبال قاسم کے علاوہ ہر شخص خود کو کپتان کے روپ میں دیکھتا تھا۔ان ہی میں عمران خان تھے جنہیں سن 1982, میں نور خان نے جاوید میاں داد کی جگہ کپتان بنادیا۔اس کے پس منظر میں کچھ اہم افراد جن کا تعلق پنجاب میں فوج اور بیوروکریسی سے تھا ان کی درپردہ کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیم میں ایک ہلکی سی بغاوت تھی۔ میاں داد کا کھیل جتنا اعلی پائے کا تھا ان کی روٹس اتنی ہی کمزور تھیں۔ ابھی ان کا ممبئی والا کنکش ایکٹیو نہ ہوا تھا۔

میاں داد کی کپتانی ہمیشہ سے الجھنوں کا شکار رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں بہت اہم کھلاڑی شامل تھے۔
پاکستان میں کپتانی کا دورانیہ دیکھیں تو کوئی خاصا طویل نہیں۔
ہمیشہ سے بوڑد سفارش اور ریشہ دوانیوں کا شکار رہا۔ مال بہت ہوتا ہے تو لٹیرے بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر، جرنیل، چینی والے، صحافی۔۔کس کس کا نام لیں۔

پہلی دفعہ جب عمران خان سن بیاسی میں کپتان بنے تو ان کو دو سال بعد ہٹا کر ظہیر عباس کو کپتان بنادیا گیا تھا۔جب کہ میاں داد اور عمران پاکستان کے کپتان طویل ترین عرصے کے لیے رہے یعنی کل بارہ برس۔ سو باسط میاں کی بات میں وزن نہیں۔ انہیں خصوصی طور پر عمران نے نہیں ٹیم میں ان کی کمزور جڑوں نے کپتانی سے محروم کیا تھا۔

(اس مضمون کی تیاری میں سال کرکٹ سے جڑے دو پیرانہ سال افراد حال سکنہ برطانیہ اور کراچی کی مدد لی گئی)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *