بُک ریویو: نتھینیل ہاتھورن “سکارلٹ لیٹر۔۔۔جمال

یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو گنہگار کو ڈھکے چھپے نہیں رہنے دیتا۔ اس معاشرے کے مذہب  کا اصول تو یہ ہے کہ دوسرے کے عیوب اور برائیوں کی پردہ پوشی کی جائے لیکن ان لوگوں کی مذہبیت اس رواداری کی قائل نہیں بلکہ وہ اس گناہ کی تشہیر کو اپنے معاشرے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

قدرت نے انسان کو جو جذبے بخشے ہیں ان پر پابندیاں لگانے والے معاشروں میں کوئی ایسا شخص پیدا ہو جائے جو اس پابندی کو توڑ دے اور معاشرے کے قوانین سے بغاوت کر دے تو ایسے شخص کو کیا سزا ملتی ہے اس کا ایک جواب “ہیسٹر” کی صورت میں ملتا ہے جس نے ایک متشدد دیندار معاشرے میں اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں ایک بچی کو جنم دیا اور اس کے  معاشرے کی جانب سے اسے ہمیشہ کے لئے یہ سزا دی گئی کہ جب تک وہ زندہ ہے اپنے سینے پر سرخ دھاگوں سے کڑھا ہوا ایک لفظ “A” آویزاں کر کے پھرے  “A”جو “Adulteress” یعنی زانیہ کا مخفف ہے، تاکہ اس معاشرے کے دیندار لوگوں کی مذہبی انا کو تسکین ملتی رہے۔

اپنے سینے پر اپنے گناہ کا اعلان سجائے چلتی پھرتی جیتی جاگتی عورت کے حوالے سے یہ کہہ سکیں کہ گناہ کی سزا دی جا چکی ہے اور یہ عورت وہ ہے جس نے زنا کیا اور اب یہ عورت ہمیشہ اس گناہ کے دہکتے ہوئے سرخ نشان کو اپنے سینے پر لٹکائے نمائش کرتے ہوئے عبرت کی ایک علامت بن کر معاشرے کی پاکیزگی اور دینداری کا اعلان کرتی رہے گی۔ کیونکہ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو گنہگار کو ڈھکے چھپے نہیں رہنے دیتا۔ اس معاشرے کے مذہب کا اصول تو یہ ہے کہ دوسرے کے عیوب اور برائیوں کی پردہ پوشی کی جائے لیکن ان لوگوں کی مذہبیت اس رواداری کی قائل نہیں بلکہ وہ اس گناہ کی تشہیر کو اپنے معاشرے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
یہ عورت ہیسٹر۔۔ یہ معاشرہ ، نتھینل ہاتھورن کے عظیم ناول” سکاٹ لیٹر” کے کردار ہیں۔

“سکارلٹ لیٹر’ایک متعصب مقتدر مذہبی معاشرے کی کہانی ہے جس میں چلنگورتھ ہیسٹر ،پرل اور ایک پادری جیسے انسان بستے ہیں ۔چلنگورتھ ایک خشک مزاج بدہیئت ادھیڑ عمر طبیب ہے ۔جڑی بوٹیوں کی تلاش میں نکلتا رہتا ہے۔ہیسٹر اس کی بیوی ہے ۔ جوان خوبصورت اور شائستہ۔۔ پادری اس شہر کا وہ فرد ہے جسے لوگ کرامت والا پادری کہتے ہیں۔ اسے خداوند مسیح کا مظہر سمجھتے ہیں۔ اس کے زرد اور حسین چہرے پر سارا علاقہ مرمٹا ہے۔۔ چلنگورتھ اپنی بیوی ہیسٹر کو چھوڑ کر طویل عرصے کے لئے غائب ہو جاتا ہے۔اس کی عدم موجودگی میں پادری اور ایسٹر جو اپنے اپنے جذبات کو دبائے بیٹھے ہیں ایک دن جذبات کی طغیانی میں بہہ جاتے ہیں ۔وہ فطرت کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں ۔۔۔فطرت جو بڑی جابر ہے اپنا آپ منواتی ہے ۔۔انسانوں کے صبر و ضبط کے بندھن تنکے کی طرح بہا لے جاتی ہے۔۔اس ملاپ اس فطری تقاضےکے پورے ہونے کے نتیجے میں ہیسٹر ایک بچی کی ماں بنتی ہے۔ اس کے ہاں جو بچی پیدا ہوتی ہے وہ اس کا نام پرل رکھتی ہے۔ اس کا باپ کرامتوں والا  پادری ہے – اس گناہ کی پاداش میں ہیسٹر کا دیندار معاشرہ اسے یہ سزا دیتا ہے وہ اپنے سینے پر ہمیشہ سرخ رنگوں سے کڑھا ہوا “A” کا نشان آویزاں رکھے، تاکہ لوگوں کی نظروں میں وہ ہمیشہ ایک حقیر زانیہ کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اپنے گناہ کی تشہیر کرنے پر وہ مجبور ہے۔ کیونکہ وہ اس معاشرے میں رہتی ہے ،جو بڑا طاقتور ہے۔۔ وہ کسی کو یہ نہیں بتاتی کہ اس بچی کا باپ کون ہے ۔وہ ایک محنتی شائستہ عورت ہے۔ اس کا شوہر اسے چھوڑ کر لاپتہ ہوچکا ہے۔ اپنا پیٹ پالنے کے لیے وہ کام کرتی ہے پورا معاشرہ اس کے گناہ کی سزا تو دے سکتا ہے لیکن اس کی کفالت کا انتظام نہیں کر سکتا اس کے جذبات اور فطری تقاضوں سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اسے لالچ دیا جاتا ہے اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔لیکن وہ پرل کے باپ کا نام نہیں بتاتی ۔

اس کے سینے پر “A” کا سرخ دہکتا ہوا انگارہ ہمیشہ کے لئے اس کی ذلت کی نشانی بناکر رکھ دیا گیا ہے اسے مرتے دم تک اسی طرح اس انگارے کی جلن کے ساتھ زندہ رہنا ہے ۔۔دوسری طرف کرامت والا پادری روح کی اذیت میں مبتلا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اصل گنہگار تو وہ ہے یہ سزا تو اسے ملنے چاہیے تھی۔ لیکن وہ بزدل ہے۔۔ اپنے گناہ کا اعتراف نہیں کر سکتا۔ اور پھر ایک دن وہ خبیث بوڑھا چلنگورتھ واپس آجاتا ہے -وہ بہت گھٹیا بہت جھوٹا انسان ہے۔ جو کام کوئی دوسرا نہ کر سکا وہ نفرت اور انتقام کی وجہ سے خود کرنا چاہتا ہے۔ اب اسے تلاش ہے اس شخص کی جو پرل کا باپ ہے جس نے اس کی بیوی کے ساتھ گناہ کیا۔وہ سراپا انتقام ہے۔وہ طبیب ہے لیکن جسم کے فطری تقاضوں کو نہیں سمجھتا۔ پھر وہ ایک دن پادری تک جا پہنچتا ہے ۔وہ جان لیتا ہے کہ یہ پادری جو رات کے آخری پہر اپنے جسم پر کوڑوں کی بارش کر تا ہے یہی وہ شخص ہے جو پرل کا باپ ہے ۔پادری روح کی اذیت میں مبتلا ہے وہ اپنے آپ کو سزا دیتا ہے ۔راتوں کو اپنے آپ کو کوڑے مارتا ہے چیختا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ نفس کشی اور عبادت میں مصروف ہے۔ وہ پہنچا ہوا ہے ،وہ “saint” ہے۔ حالانکہ وہ انسان ہے جو بھٹک گیا ہے۔ جسے فطرت نے ورغلایا تھا اور اب وہ جیتے جی جہنم سے بھی بڑے عذاب میں مبتلا ہے۔

اور پھر چلنگورتھ اس کا تماشائی ہے ۔اسے دیکھتا ہے اس کی اذیت سے خوش ہوتا ہے۔
آخر پھر ایک دن پادری ہمت کرتا ہے ۔پورا شہر جمع ہے ۔جہاں وہ مرنے سے پہلے اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے۔ جب وہ اپنا چوغہ اتارتا ہے تو لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دل کے عین اوپر “A”کا لفظ دہک رہا ہے۔ پادری مرتے مرتے چلنگورتھ کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے ‘خدا تمہیں معاف کرے تم نے بھی بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے” پادری جس حقیقت کو پالیتا ہے وہ بہت بڑی اور سفاک ہے۔پھر وہ اپنی بیٹی کی طرف مڑتا ہے اور بجھتی نگاہ سے دیکھتے  ہوئے  کہتا ہے۔۔
“My little Pearl ,dear little Pearl..
Will you kiss me now….. Pearl kissed his lips …
پادری کے کردار کے اردگرد یاتھون نے ایک ایسا ہالہ بنا اور تیار کیا ہے کہ پادری کے اس اعتراف کے باوجود شہر کے لوگ اسے گناہگار نہیں سمجھتے۔۔بلکہ وہ اسے بھی پادری کی کرامات میں سے ایک کرامت سمجھتے ہیں کہ اس نے ہیسٹر کے گناہ کا کفارہ ادا کر دیا اس نے اپنے سینے پر دہکتا ہوا نشان “A” کوڑوں کی ضربوں سے بناکر دراصل ہیسٹر کے لیے آخرت کی نجات حاصل کرلی ۔
سکارلٹ لیٹر’ میں پاردی اور ہیسٹر کی بچی کا نام ہاتھورن نے پرل رکھا ہے ۔
صاف شفاف بے داغ موتی عصمت اور عفت کی علامت ۔۔۔

بشکریہ ستار طاہر مرحوم ۔۔” دنیا کی سو عظیم کتابیں”

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *