• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں۔۔محمد اقبال دیوان

اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں۔۔محمد اقبال دیوان

پہلی دفعہ The Case of Exploding Mangoes ”(قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا ‘)’نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتناء نہ جانا۔پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی دیسی کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ پہلے خوشونت سنگھ تھے۔ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے اور مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ”اگر گورنر جنرل کی بیوی کے بچہ پیدا ہو تو کتنے گن کا سیلوٹ فائر ہوتا ہے۔موصوف جواب میں کہنے لگے ایسے موقعے پر گورنر جنرل سمجھدار ہو تو اسے اپنے اے ڈی سی کو فائر کرنا چاہیے۔

پاکستانیوں نے اب ایک اور خاتون سے اللہ اللہ کرکے  دل باندھ لیا ہے وہ ہیں،اروندھتی رائے۔ اس دکھیاری کو بھی یہ کٹھور قوم کسی خاطر میں نہ لاتی مگر اب کیا ہے وہ ایک ہی ہندوستانی ہے جو امریکہ میں رہ کہ مودی جی کی انگریزی میں چھترول کرتی ہے۔پاکستانیوں کو اس کی بات سمجھ آتی ہو یا نہ ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
آخر سنی لیونے کو بھی تو وہ بغیر سمجھے جسمانی حوالوں سے پسند کرتے ہیں۔سو یہ رعایت کشمیر کے حوالے سے وہ اروندھتی رائے کو بھی خوش دلی سے بخش دیتے ہیں۔

”قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا “اردو میں شائع ہوئی تو مختلف شہروں کی دکانوں پر اچانک کورونا وائرس کی طرح لوگ آئے۔ گاڑیاں قیمتی، انداز ہلکا، اسلحہ جدید،گفتگو کم، چٹے چولے، سر پر جناح کیپ،کپتان سینڈل۔ملازمین سے کتاب کی کاپیاں گاڑیوں  میں رکھوائیں اور پیسے کاہے کے۔ چل د دیے وہ ان کو تسلی دیے بغیر۔دکاندار وں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو جواب ملا ”کہنا خان آیا تھا۔ شاہ رخ خان“۔

انتھونی
Bangladesh – A legacy of blood ہ

ہم نے دکاندار سے کہا بھائی میاں ہماری کتابیں بھی لوڈ کروادیتے۔ پہلے بھی تم نے ہمیں کون سے بیچ کر پیسے دینے ہیں۔ کہنے لگے نہیں وہ صرف آموں کی پیٹی والی کتاب کی کھوج میں ہیں ،حالانکہ
زبیدہ آپا کا دسترخوان اور گھریلو ٹوٹکے ،نمرہ احمد کے ناول اور آپ کی کتابیں اس کے ساتھ رکھی تھیں۔

دکاندار سسرا کھوج میں لگا رہا کہ اس کتاب میں ایسا کیا ہے کہ اتنا من دُکھی ہوا۔آموں کی پٹیاں پھٹنا اتنا ہی  بُرا لگتا ہے تو اسلام آباد میں جبڑہ چوک کا نام بدل کر سرمہ سرکار چوراھا رکھ دیں۔اس کی طرف آنے والی شاہراہ کو مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطر خیابان ہیما مالنی پکارنا شروع کردیں۔

ہم نے بتایا کہ تم نے نہیں سمجھنا۔۔۔
اب جو نقطہ بیان کرنے جارہے ہیں اس ایک سرے کو مضبوطی سے تھام کے رکھیں۔سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔اگر کوئی سانحہ ہو تو اسے بھی حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔یہ ہم نہیں امریکی صدر روزولیٹ کہا کرتے تھے

اندھا حافظ

Anthony Mascarenhas کراچی میں سرکاری اخبار مارننگ نیوز میں ملازم تھے۔ Mascarenhas پرتگالی نام ہے اور اسے مس کے رین ئیس پکارا جاتا ہے۔گوا کہ پرتگالی سن ستر کے وسط تک کراچی میں موجود تھے۔ اکثریت عیسائی کیتھولکس کی ہوتی تھی۔ کراچی کے دفاتر نائٹ کلبوں اور  سکولوں میں ان کے دم سے رونق تھی۔بااصول جرات مند اور بہت امن پسند لوگ تھے۔ان انتھونی صاحب نے بنگلہ دیش پر ایسی کتابیں لکھیں کہ اس میں مغربی پاکستان کے ادارے اور افراد ان کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں بہت بھیانک کردار کے مالک دکھائی دیے.۔ جب یہ مضامین لندن کے اخبارات میں چھپنا شروع ہوئے تو انہیں لگا کراچی یا پاکستان میں کہیں بھی ان کا رہنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے اس لیے وہ ترک ِ سکونت کرکے برطانیہ چلے گئے۔بے نظیر صاحبہ ان دنوں لندن آکسفورڈ میں تھیں اور ان کے رابطے انتھونی صاحب کے خاندان سے خاصے خوشگوار تھے۔ کراچی کے گوا نیز عیسائیوں کا کراچی کے مشنری تعلیمی اداروں پر قبضہ تھا۔اس بات کو خارج الامکان نہیں سمجھا جاسکتا کہ سابق وزیر اعظم صاحبہ اور انتھونی یا ان کی اہلیہ کراچی گرامر  سکول میں ہم مکتب یا ہم جماعت ہوں۔ یوں بھی بے نظیر صاحبہ ایک ملنسار، خوش مزاج خاتون تھیں۔

انتھونی صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام Bangladesh – A legacy of blood ہے ۔ اس کتاب میں ایک عجب کردار مذکور ہے۔ ایک پیدائشی نابینا بزرگ کا۔ان کا نام تو اللہ جانے کیا تھا۔ بہاری تھے سبھی لوگ انہیں اندھا حافظ کہتے تھے۔چٹاگانگ۔ بنگلہ دیش کی ایک گنجان آباد غریب بستی”حالی شہر “میں ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ان بزرگ کی آشیر باد اور روحانی تقویت سے یہ اہم ترین سیاسی قتل ممکن ہوا۔ یوں شیخ مجیب الرحمن کو قتل کرنے کے منصوبے کے یہ سب سے اہم غیر فوجی کردار تھے۔
خان فیملی چٹاگانگ کی ایک معتبر فیملی تھی۔ اس کے سربراہ عبدالقدیر خان، ایوب خان کی کابینہ میں وزیز صنعت تھے۔ اس گھرانے کو حافظ جی سے کچھ خصوصی ارادت تھی۔
یوں سمجھیں وہ ان کے Patron Saint تھے۔

مجیب،7مارچ1971
عبدالرب
بھٹو،مجیب ڈھاکہ،جنوری1971
شیخ مجیب رہائش،اور اہلِ خانہ کا قتل
sheikh-mujib-dead- part one 1

مجیب الرحمن قتل کیس کے دو مرکزی کردار یعنی میجر دیوان عشرت اللہ سید فاروق رحمن اور خوندکر رشید احمد کی بیگمات جو آپس میں سگی بہنیں تھیں وہ اے کیو خان کی بھتیجیاں ہوتی تھیں ۔ ڈھاکہ میں ان دونوں کے بنگلے کنٹونمٹ میں ساتھ ساتھ تھے۔میجر فاروق کی ایک زمانے میں بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے انتھونی صاحب کو لندن میں بتایا تھا کہ
”وہ ہمیں گھاس کھانے کا کہتے تو ہم یہ بھی کرلیتے۔ وہ کہتے کہ زمین کو اپنے ہاتھوں سے کھود لو۔ ہم اس پر بھی تیار تھے مگر دیکھو تو اس ظالم نے ہمارے ملک کا کیا حال کیا “۔۔

دسمبر 1970میں جنرل یحیی خان نے قومی انتخابات کروائے۔ قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں سمیت کُل 313 میں سے مجیب کی عوامی لیگ 168نے اور ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 84نشستیں جیتیں۔یوں ان نتخابات نے ملک کو ایک واضح مغرب مشرق شناخت میں بانٹ دیا۔جب عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی میں دیر ہوگئی تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
مجیب صاحب کے چھ نکات کو بنیاد بناکر اسے پاکستان کی مرکزی حیثیت کے خلاف ایک بڑا حملہ مانا گیا۔ مغربی پاکستان کی سیاسی اکائیاں فوجی اور سویلین بیوروکریسی جو ہر طور اپنے آپ کو مشرقی پاکستان میں حاکم کے روپ میں دیکھناچاہتے تھے ،ان کے لیے عوامی لیگ کو اقتدار سونپنے کا سیدھا سچا مطلب ایک ملک دو سرکار تھا۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دن پہلے آپریشن سرچ لائٹ لانچ ہوا تو 26 مارچ1971 کومجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کردیا۔شیخ مجیب کی گرفتاری اور فوج کشی اس وقت ہمارا موضوع نہیں۔

وہ جنوری1972 میں پاکستان سے نو ماہ بعد رہائی پاکر لندن کے راستے ڈھاکہ آئے تھے۔جیسا فقید المثال پہلے مجیب کا اور بعد میں امام خمینی کا ہوا وہ ایشیا ہی نہیں ،دنیاکی تاریخ میں  بے مثال ہے۔
تاریخ کا سفر بھی عجب ہے۔ ساتھیوں کے مظالم، کرپشن اور اقربا پروری کی بنیاد پر جس پلٹن میدان میں مجیب نے اپنے چھ نکات پیش کیے تھے جنہیں ان کا دستور آزادی مانا جاتا ہے۔اسی پلٹن میدان میں عبدالرب جو ایک  سٹوڈنٹ لیڈر اور مکتی باہنی کے سرگرم رکن تھے ،جنہوں نے بنگلہ دیش کا پرچم سب سے پہلے لہرایا تھا، وہ سات ماہ کے اندر 17 ستمبر سن 1972  میں اسی اسٹیج سے کھڑے ہوکر کہہ رہے ،عوامی لیگ پاکستانی حکمرانوں سے بدتر ثابت ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش کا آئین مجیب نے ویسے ہی بنایا جیسے بھٹو نے بنایا۔اپنے اقتدار کو دوام لینے کے لیے۔دونوں کا سن تشکیل بھی ایک ہی مارچ سن 1973 پاکستان کا آئین بھی اسی سال منظور ہوا تھا۔اپنی من پسند بیوروکریسی ، پاکستان کی سول سروس کو برباد کرکے مختلف ذرائع اور کوٹا سسٹم کے ذریعے بھرتی کرکے وہ قائم کرچکے تھے۔ دونوں وزرائے اعظم اپنے اپنے ایوان ہائے اقتدار میں متکبر اور بے خوف تھے۔

مجیب کی بربادی کی داستان کا آغاز ویت نام کے شہر ہنوئی میں ہوا۔ نئے سال کی آمد پر ویت نام میں امریکہ نے ہنوئی پرCarpet- Bombing کی تو ،بنگال کا باشعور طالب علم طبقہ بھڑک اٹھا۔احتجاج کی لہر اُٹھی۔پولیس فائرنگ سے امریکہ انفارمیشن سینٹر کے باہر دو طالب علم مرگئے۔مجیب خود بھی طالب علم تھے۔ان ہی نوجوانوں نے انہیں ایوان کی اس منزل پر پہنچایا تھا۔ پولیس کی بربریت اور طلبا کی ہلاکت کا بنگالی سیاست پر بہت منفی اثر ہوا۔

نوجوان فوجیوں کے اس گروپ نے جس کی سربراہی میجر فاروق کررہے تھے، بہت سوچ بچار کے بعد طے کیا کہ بنگلہ بندھو کو مارنے کا وقت آگیا ہے۔میجر فاروق اور میجر رشید نے طے کیا۔مجیب کے گھرانے کے تین افراد کو مارنا تمام مسائل کا حل ہے مجیب، بھانجے فضل الحق مونی۔ بہنوئی عبدالرب سرنی بت۔

ہر رات ملازم کے  روپ میں میجر فاروق رحمن  دھان منڈی میں وزیر اعظم کے گھر کا  جائزہ لیتا، پورا ایک سال یہ ہوتا رہا۔ہندوستان نے مجیب کو وراننگ بھی دی تھی مگر وہاں یہ سمجھا گیا تھا کہ بغاوت کا خطرہ بریگیڈئیر اور اس سے بڑے رینکوں میں ہے۔ مجیب کی ویسے تو سرکاری رہائش گاہ کا نام” گونو بان “مگر ان کا بنی گالا 32 دھان منڈی والا گھر تھا۔گونوبان کو وہ بطور کیمپ آفس استعمال کرتے تھے۔

میجر فاروق کو سات سے گیارہ اپریل1975 تک چٹاگانگ کے نزدیکی قصبے میں فوجی مشقیں کرنی تھیں۔ ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس میں دو روز کی تاخیر ہوئی تو حضرت بیگم سے ملنے سسرال پہنچ گئے جنہیں اُن کے اِن خوفناک عزائم کا علم تھا، وہ انہیں لے کر حالی شہر اندھے حافظ جی کے پاس پہنچ گئیں۔
کوئی سوال کرتا تو حافظ جی اس کا ہاتھ تھام کر وائبریشنز کی مدد سے پیشن گوئی کرتے تھے۔۔ حافظ جی ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے اور پھر گویا ہوئے کہ تم تو بہت خطرناک ارادے بنائے بیٹھے ہو۔
کامیابی ملے گی بشرطیکہ تم تین اصولوں کی پابندی کرو ورنہ بربادی۔۔۔۔
اپنے لیے کچھ نہیں صرف اللہ اور اسلام کی رضامندی کی خاطر یہ قدم اٹھا رہے ہو،ڈرنا نہیں ہے۔

افراد اور اوقات کار کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کرنا ہے۔ تین ماہ انتظار کرو انتشار میں اضافہ ہوگا۔کچھ افراد بھی ایک جگہ جمع ہورہے ہیں۔ مرنے والے بھی مارنے والے بھی۔

سات جون کو مجیب الرحمان صاحب نے بنگلہ دیش کرشک سرامک عوامی لیگ (بخشل) کی بنیاد رکھ دی۔
یہ انہیں تاحیات صدر بنا کر ایک پارٹی  سٹیٹ بنانے کا منصوبہ تھا۔اس دوران مجیب کے ہاتھوں ستائے ہوئے دو افسر جنہیں پارٹی افراد سے الجھنے پر فوج سے فارغ کردیا گیا تھا وہ بھی اس مختصر گروپ کا حصہ بن گئے یعنی میجر شرف الحق ڈیلم اور میجر نور۔
جب میجر فاروق کو سن گن ملی کہ ممکن ہے مزید تاخیر ان کے لیے بہت برے نتائج پیدا کرے اس نے اپنی بیوی فریدہ کو چٹاگانگ بھیجا کہ وہ اندھے حافظ سے ملے۔گھر کی سواری نہ لے ،بازار میں  ادھر اُدھر چکر لگا کر کسی خاموش سے کونے سے بے بی ٹیکسی پکڑے (جسے بنگلہ دیش میں بے بی ٹیکسی کہتے ہیں وہ ہمارے ہاں کا رکشہ ہے۔۴۱ اگست1975گیارہ بجے سے جو یہ سفر شروع ہوا تو ٹیکسی کئی مرتبہ خراب ہوئی۔دو بجے کے قریب وہ وہاں پہنچی۔ٹیکسی والے نے معافی کی بجائے جب کرایہ بھی ستائیس ٹکے مانگے تو دونوں میں کچھ سرد گرم الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔

بینظیر ،سکھر جیل

اس دن چٹاگانگ کے ساحلی شہر میں گرمی اور  کافی حبس تھا۔ حالی شہر کی بستی بھی کوئی صاف ستھری نہیں۔حافظ جی کے کمرے میں ایک رسی پر کپڑے ٹنگ رہے تھے۔ وہ خود فرش پر بنیان اور تہہ بند باندھے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ فریدہ بی بی کو دو باتوں نے چونکا دیا۔ کمرے میں ایک عجب جن کی بھری طمانیت تھی۔باہر کے ماحول سے بے اثر۔کمرے میں ایک عجب پُراسرار مدہوش کرنے والی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔حافظ جی فریدہ کا ہاتھ تھام کے بیٹھے رہے۔

اردو میں کہا اس بد بخت کا وقت ختم ہوگیا ہے۔جو کرنا ہے جلدی اور بے حد رازداری سے کریں۔ مشن پر جانے سے پہلے وہ اور ان کے ساتھی سورہ یسین اور آیت الکرسی پڑھ کرنکلیں۔

کہنے لگے کل جمعہ کا مبارک دن ہے فجر کی نماز کے وقت یہ سب چار ٹولیوں میں جائیں۔ میجر فاروق البتہ اس ٹولی میں نہ ہو جو مجیب کے دھان منڈی والے گھر پر جائے۔ وہاں ہر طرف خون ہے۔۔ فون لائن خراب تھی۔فاروق سے بات بمشکل ہوپائی ،جو پیغام تین بجے ملنا تھا وہ سات بجے مل پایا وہ بھی اس کے والد صاحب کے توسط سے۔

آپ نے وہ سرا تو نہیں چھوڑا نہ جو ہم نے تھامنے کو کہا تھا۔یہ تو یاد ہے نا کہ مارچ سن ۱۹۸۱ایم آر ڈی بنانے کی پاداش میں بے نظیر کو سکھر جیل میں قید کیا گیا تھا۔1984 رہائی ملی تو وہ بغرض علاج پہلے جینواسوئزرلینڈ گئیں ا اور پھر لندن۔وہاں جب اپنے پرانے دوستوں سے ملیں جن میں ہمارے وہ کراچی کے صحافیAnthony Mascarenhas بھی شامل تھے۔اب آپ تو جانتے ہی ہیں سیاست دان ہر وقت آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایوان اقتدار کے حریص ہر در پر کیسے جھک جھک جاتے ہیں یہ منظر آپ نے اکثر دیکھا ہوگا۔ بے نظیر صاحبہ کو بھی روحانیت سے بہت لگاؤ تھا کبھی ایبٹ آباد کے تناکے والے بابا تو کبھی سائیں پیر حسین شاہ صاحب کے پاس پہنچ جاتی تھیں،صاحبان رسائی سے مل کر بہت خوش ہوتی تھیں۔جنرل ضیا کے دورے سے پہلے یا بعد وہ ا پنے صحافی دوست کے مشورے سے پہلے ڈھاکہ پہنچیں اور پھر چٹاگانگ تشریف لے گئیں شنید ہے کہ اس دورے میں ان کی ملاقات اندھے حافظ سے بھی ہوئی تھی۔سوال یقیناً وہی ہوگا کہ میں وزیر اعظم کب بنوں گی۔اب یہ بزرگ لوگ بعض دفعہ بہتAbstract اور غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔ اس سرے کو بھی تھام کر رکھیں۔۔

غیاث الدین تغلق نے جب بنگال کی فتح سے واپسی پر سیدنا نظام الدین اولیا کو اپنی آمد سے پہلے دہلی خالی کرنے کو کہا تو آپ نے جواب دیا ،ہنوز دہلی دور است۔اللہ کا کرنا یوں ہوا  کہ صبح جب بادشاہ دہلی کی طرف روانہ ہونے کو تھا ،تو لشکر میں ایک ہاتھی بدک گیا اور آپس میں ہاتھیوں کی ایک یلغار کی وجہ سے سائبان گر پڑے اور غیاث الدین کچل کر مارا گیا۔

اب آپ کے خیال میں حافظ جی نے بے نظیر کے سوال پر سن 1985 میں چٹاگانگ بنگلہ دیش میں کیا کہا ہوگا؟۔۔
انہوں  نے کہا تھا:
”جب آموں کی پیٹیاں پھٹیں گی تو میری بچی تم بھی وزیر اعظم بنوگی “۔
ایسا ہوا نا کہ وہ وزیر اعظم بنیں۔

ہم نے کہا تھا نا کہ بزرگ اور امریکی صدر بہتAbstract اور غیر مربوط باتیں کرتے ہیں۔یاد ہے نا امریکی صدر فرینکلن روزولٹ نے کہا تھا سیاست میں حادثے نہیں ہوتے۔ہاں اکثر سانحوں کو
Palatable بنانے کے لیے حادثہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *