گھنٹی بابا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

زیادہ سمے پہلے کی بات نہیں ،بس یہ نوٹوں کا جنجال نہیں تھا ۔ایک پھیری والا، اپنی بیل گاڑی پر سوار گاؤں میں داخل ہوا۔بیل سبک رفتار ی سے چل رہا تھا اور اس کے گلے میں پڑی گھنٹی کی مد ھر ٹن ٹن، گاؤں والوں کو اُس کی آمد کا بتا رہی تھی ۔گاؤں والے، اکثر پرانے برتن، کپڑے اور اناج وغیرہ دے کر تبادلے میں ضرورت کی اشیاء لے لیتےتھے ۔سب اسے گھنٹی بابا کہتے تھے۔
گھنٹی باباکے برتن دیکھنے میں خاص لگتے اور دیر تک چلتے۔
شیخو کی بیوی، کئی دنوں سے، گھر کی ٹوٹی پھوٹی بیکار چیزیں سمیٹ کر، اس پھیری والے کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔اس نے بھاگ کرپھیری والے کو آواز دی۔اسکے رکتے ہی، اندر سے سامان کی گٹھڑی لا، دروازے میں رکھی۔اور بولی ،بابا! اس سامان کے بدلے مجھے کچھ برتن دے دو۔
بابا پراسرار طریقے سے مسکرایا۔
“کیا لو گی بٹیا؟ ”
شیخو کی بیوی نے بیل گاڑی میں نظر ڈالی تو سارے برتن ہی خوبصورت تھے ۔اس نے کھانے کے لیے تھال اور ایک صراحی لی۔بابا نے اسے دعا دی۔
دودھو نہاؤ۔پوتو پھلو۔اور آگے بڑھ گیا۔

شیخو کی بیوی نے خوشی خوشی کھانا پکا کر، نئے برتنوں میں شیخو کو پیش کیا۔دونوں نے سیر ہو کر کھا یا اور پھر بھی کھا نا بچ گیا۔اسکی بیوی برتن ما نجھنے بیٹھی تو صراحی کو تھوڑا سا رگڑا ہو گا، کہ اس میں سے سفید دھواں نکلا۔جس نے ایک جن کی شکل اختیار کر لی۔
“کیا حکم ہے میری آقا؟” جن بولا
دونوں گھبرا گئے ۔شیخو بولا۔
“کون ہو تم؟ ”
“میں اس صراحی کا جن، شومان ہوں ۔آپ جو خکم کریں، میں پورا کروں گا”
شیخو کی بیوی خیران بھی ہوئی اور خوش بھی ۔وہ برتن چھوڑ چھاڑ، پلنگ پر جا کر لیٹ گئی اور بولی۔
” اے شومان جن! یہ سب برتن دھو دو۔اور گھر صاف کرنے کے بعد، ہمارے پاؤں بھی دبا دو۔اور صبح، میرے اٹھنے سے پہلے، عمدہ سا نا شتہ تیار رکھنا۔”
“جو خکم میری آقا۔”

شومان نے منٹوں میں سارا کام نمٹایا۔اور باری باری انکے پاؤں دبانے لگا۔شیخو کو بھی بڑامزاآ رہا تھا۔جب وہ صبح اٹھے تو مزے کا ناشتہ تیار تھا۔جو خوب مزے لے لے کر کھا یا گیا۔شوما ن نے شام تک گھر کے سارے کام کیے ،کپڑے دھوئے اور جنگل سے لکڑیاں بھی کاٹ لایا ۔
شیخو کی بیوی، کبھی جنگل سے پھل لانے کا کہتی، کبھی جو بورہوجاتی توکہتی، مجھے ناچ کر دکھاؤ۔رفتہ رفتہ، جن تھکنے لگا ،اس نے سوچا،”میں کہا ں پھنس گیا ہوں ،اُسے شیخو کی بیوی پر غصہ بھی آتا۔اب کوئی کام کہتی تو بڑبڑانے لگتا-
شیخو جن کی یہ حالت دیکھ کر اس ے اور چڑاتا،”تم جن ہو اور اس طرح کے کام کرتے ہو۔تم نے میری بیوی کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔پہلے وہ دبلی پتلی اور خوبصورت تھی۔اب وہ چڑچڑی اور جھگڑالو ہو گئی ہے ۔”

“میرے آقا، میں آپکا کام بھی کردوں گا۔آپ حکم تو کریں ۔” جن شیخو کو پسند کرتا تھا
“نہیں ، بہت شکریہ، میں اپنا کام، اپنے ہاتھ سے کرنے کا عادی ہوں ۔”
ایک روز شومان نےروتے ہوئے شیخو کو بتایا
” میرے آقا، میں مجبور ہوں، میرے بھی بیوی بچے ہیں،جنہیں دیکھے کتنے سال بیت گئے ہیں ،گھنٹی والے بابا نے مجھے میری بد تمیزی پہ   اس صراحی میں قید کر دیاتھا اگر آپ اس صراحی کو توڑ دیں۔تو میں آزاد ہو جاؤں گا۔”

شیخو نے کہا، ایک شرط پہ میں تمہیں  آزاد کروں گاکہ تم کبھی کسی کو تنگ نہیں کرو گے ,بلکہ مشکلات میں پھنسے لو گوں کا بھلا کروگے ۔”
جن نے وعدہ کیا توشیخو نے صراحی  کو تو ڑ دیا، جن غائب ہو گیا ۔شیخو کی بیوی نے اس پہ چلّانا شروع کر دیا ۔شیخو نے اسے سمجھایا کہ میرے پاس بھی ایک جن ہے بلکہ تمھارے پاس بھی ہے ۔اگر تم محنت اور لگن سے کام لو گی توتم بھی خوش رہو گی اور دیکھنے والے بھی تمھاری تعریف کریں گے۔
شیخو کی بیوی کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ دوسرا راستہ ہی نہیں تھا ۔
تھوڑے ہی عرصے میں وہ پھر سے پہلے جیسی محنتی اور اسمارٹ ہوگئی۔شیخو بھی خوش۔اس کی بیوی بھی خوش ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *