کورونا کا جال اور میرا خیال۔۔مدیحہ الیاس

جب تک کورونا نےہمارے ملک کو ہدف بنایا ، اس سے پہلے ہی بہت سے ممالک اسکا شکار ہو چکے تھے اور کافی حد تک احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی جا چکی تھیں۔۔ جو ایک انتہائی سادہ اور اہم ترین تدبیر تھی ،وہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے صدیوں پہلے بیان فرما دی تھی کہ وبإ زدہ علاقے سے کوئی باہر نہ جاۓ اور وبا زدہ علاقے میں کوئی داخل نہ ہو۔۔ پر ہم بھی تو نام کے مسلمان ہیں نا،ہم نے اپنی ناقص عقل کا استعمال کرتے ہوۓ ناقص ترین فیصلے کیے۔۔ اور خود کورونا زدگان کی بسیں اور جہاز بھر بھر کے پاکستان لاۓ ، انہیں ان کے پیاروں سے ملوایا جو ان سے ملنے کے لیے مرے جا رہے تھے اور اب ان سے مل کے مر رہے ہیں۔۔
پھر انہیں ملک کےکونے کونے میں ایسے پھیلایا جیسے فصل پر امریکی سنڈی والا  سپرے کیا جاتا ہے۔۔ کہیں کوئی حصّہ اس فیض سے بے فیض نہ رہ جاۓ۔۔

پھر ہم نے غریبوں کو بھوک سے بچانےکے ایک ہفتے کے عمل میں مزید کورونا کی افزائش اور خاطر تواضع کی،پھر ہم نے ”مکمل لاک ڈاؤن“ کیا۔۔ جس پہ ہمارے سمارٹ پاکستانیوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن والاعمل کیا۔

پھر ہم نے محدود اور غیر معیاری کِٹس سے کورونا ٹیسٹ کرواۓ اور ان کی بھی منفی رپورٹیں جاری کیں۔ تاکہ جو تھوڑی بہت ڈر خوف کی لہر تھی اس کو ختم کر کے لڑائی کی جاۓ۔پھر ہم نے چائنہ کے امدادی سامان کو مہنگے داموں بیچا۔غریبوں کے امدادی راشن کو دکانوں پہ بیچ کے ایک بار پھر غریب کو بھوک سے بچانے کی ناکام کوشش کی۔

پھر ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کو متعارف کروایا۔۔ جس کا یقینی طور پر مطلب ” نو لاک ڈاؤن “ ہو گا۔
نمازیں ہم سب مسجدوں میں احتیاطی تدابیر کے بغیر پڑھیں گے، کیونکہ ماسک پہننے سے ہمارے پہلے سے ہی شدید کمزور ایمان کو مزید نقاہت کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

پھر ہم کہیں گے کہ کورونا ہمارے درمیان آچکا ہے۔ اب ہمیں ملنساری اور ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اس کے ساتھ اور اسے ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے۔ پہلے یہ نعرہ تھا کہ کورونا سے ڈرنا نہیں ، لڑنا ہے، اب یہ ہو گا”کورونا سے لڑنا نہیں، مرنا ہے”۔۔ کیونکہ سکون تو صرف قبر میں ہے۔

اے ہمارے رب،ہمارے دنیا کے حکمران نے تو قبر کا راستہ دکھا دیا، ہمارا تیرے علاوہ کوئی مددگار نہیں۔
اے اللّٰہ، اگر یہ آزمائش ہے، تو بھی ہمیں اس سے تُو نے ہی بچانا ہے۔اگر یہ ہمارے گناہوں کا عذاب ہے ، تو بھی ہماری نظر تیری الرّحمٰن صفت کی طرف امید سے اٹھتی ہے۔اے الہادی، ہمارے دلوں کو ہدایت کی طرف موڑ لے۔اے رب ذوالجلال،ہم چاہ بھی نہیں سکتے اگر تو نہ چاہے۔ ہمارے دلوں میں ہدایت کی چاہ ڈال دے۔ہمیں تجھے دکھ دے کر  دکھ ہوتاہے ہمارے  رب، ہمیں تجھے خوش کرنے والا بنا دے، ہمیں معاف کر دے،ہم سے راضی ہو جا۔ آمین!

Avatar
ڈاکٹر مدیحہ الیاس
الفاظ کے قیمتی موتیوں سے بنے گہنوں کی نمائش میں پر ستائش جوہرشناس نگاہوں کو خوش آمدید .... 🙂

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *