جل جلال۔۔علی محمد فرشی

سمندر نے کروٹ بدل کر کہا:
کن گمانوں کی لہروں پہ چلتے،مچلتے ہوئے جارہے تھے
یہاں میرے قدموں میں گرنے سے پہلے!

نمک چکھ لیا تم نے میرے بدن کا
تو کہنے لگے ہو:
’’نہیں ، میں نے ایسا تو چاہا نہیں تھا
مجھے تو پہاڑوں سے جھرنے کی صورت نکلنے
نئی ناب ندی میں ڈھلنے
کھلے سبزہ زاروںمیں چلنے کی عادت تھی
اب میں کہاں آ گیا ہوں ؟
یہاں۔۔۔!زہر کے اس گڑھے میں!
سمندر جسے دنیا کہتی ہے
جس میں ، نہ میٹھی ہنسی ہے، نہ کوئی سہانی کہانی
جو ہر موڑ پر ایک حیرت پری سے ملے،

(علی محمد فرشی اور ستیہ پال آنند 1996)

ہر جہت مسکرائے، ہرے گیت گائے
نہ رستہ ہے
جس پر قدم آگے رکھیں
تو منظر نئے لہلہاتے ملیں
موسموں کے بدلتے ہوئے پیرہن جھلملاتے ملیں
اب یہاںہر طرف کھاری پن کا ذخیرہ ہے
یکسانیت ہے
جسے تونے عظمت کہا، موت ہے
مجھ کو مرنا نہیں تھا
اگر تو بتاتا
کہ عظمت کی صورت ہے اک ،موت بھی!
تو یقیناًمیں اس پر بھی کچھ غور کرتا
کہ انجام ہے، موت ہی ہر نفس کا
ترے پاؤں میں آکے گرتا
میں خود رقص کرتا ہوا
گنگناتا ہوا‘‘

’’میں نے خود تم کو بھیجا تھا لمبے سفر پر
سو اک دن تمھیں لوٹ کر
میرے دامن میں آنا ہی تھا
تم نہیں جانتے موت کی چا ل بازی
نہیں جانتے زندگانی کی عشوہ طرازی
یہاں میرے دامن میں ہے دائمی زندگی !

اب تھکن کی شکایت اُتارو
مری نرم آغوش میں اپنے پاؤں پَسارو
ابھی کچھ دنوں میں
تمھیں پھر اُدھر ہی روانہ کروںگا
جدھر سے ابھی آرہے ہو

چلو اب۔۔۔ ذرا مسکرا دو
وہ نغمہ سنا دو
جسے تم نے سینے کا قیدی بنا یا ہوا ہے
ذرا اپنے پنجرے کا دروازہ کھولو
پرندے کو آزاد کر دو
کہ وہ چہچہائے
فنا اور بقا کے سروں کو ملائے‘‘

(ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے نام)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *