• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اک زندہ معجزہ اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی ناکامی۔شہباز حسنین بیگ

اک زندہ معجزہ اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی ناکامی۔شہباز حسنین بیگ

ماضی کے جھروکوں سے جھانکنےکا سفر بعض اوقات زمانۂ حال کی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو آشکار کر دیتاہے۔۔ماضی کی تاریخ سے حقائق کو اخذ کرنا مشکل ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں ۔پاکستان کا قیام اک معجزہ ہے ۔بات تو دقیانوسی سی لگتی ہے کیونکہ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ۔دن کے وقت بھی جگنو پرکھنے کی ضد جو کرنے لگے ہیں ۔آج کے زمانے میں ویسے بھی کرامات اور معجزات کی بات کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔معجزے کی توجیح پیش کرنا مشکل ترین عمل ہے۔مگر چند پہلو ہیں ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا کہ پاکستان  کا قیام کسی معجزے سے کم ہر گز نہیں ۔قائداعظم محمد علی جناح مذہبی عالم بھی نہیں تھے ۔ان کا طرز زندگی لباس زبان و بیان برصغیر میں  موجود عام لوگوں  سے مکمل جداگانہ تھا۔علماء کرام کے بیان کردہ شخصی خاکوں سے یکسر مختلف ستر سال بعد بھی پاکستانیوں کی اکثریت انگریزی زبان سے واقف نہیں ۔

اندازہ کیجیے قیام پاکستان کی تحریک کے دوران لوگ کیسے قائداعظم کی تقریر لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر سن لیتے تھے ۔وقت آنے پر ان کا ساتھ بھی دیتے تھے۔قائداعظم کے مقابل کثیر تعداد میں شعلہ بیان لفظوں کے دریا بہانے والے مذہبی رہنماؤں کی فوج موجود تھی۔کیسے کیسے جید عالم دین ۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے خوش الحان خطیب، مولانا ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی اور لاتعداد مذہبی عالم اور رہنما جن کا زبان و بیاں رہن سہن لباس حلیہ الغرض مکمل طرز زندگی عوام جیسا تھا۔تمام مذہبی سیاسی  رہنماؤں کی مخالفت کے باوجود  انگریزی زبان بولنے والا عربی زبان سے ناآشنا انگریزی لباس میں  ملبوس قائداعظم محمد علی جناح کامران و کامیاب ہوا۔پاکستان وجود میں  آگیا ۔مذہبی سیاسی جماعتیں ناکام ہوئیں ۔عوام نے قائداعظم کی شخصیت پر اندھا اعتماد کیا۔ان کے موقف  کی زبان سے عدم واقفیت کے باوجود تائید کی ۔جبکہ لوگ پوری پوری رات احرار اسلام اور دوسری مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے سحر انگیز خطاب سن کر وقت آنے پر دوسرے کان سے نکال کر ہوا میں اڑا دیتے۔

تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم کی سیاسی اور مذہبی شدید مخالفت کے باوجود مذہبی سیاسی قیادت کی ناکامی دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔قائداعظم کے نصب العین کی کامیابی کی عالی توجیح پیش کرنا مشکل امر ہے۔البتہ جب ترجیحات اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ پاکستان کا قیام اک زندہ معجزہ ہی نظر آتا ہے۔۔ماضی آپ کے سامنے ہے حال میں ہم مشاہدہ کر رہے ہیں  کہ مذہبی سیاسی جماعتیں تب بھی ناکام تھیں اور آج بھی ناکامیاں ان کا مقدر ہیں ۔مگر آفرین ہے مذہبی سیاسی قیادت پر ان کے فہم و ادراک پر ستر سالوں کی ناکامیوں  سے رتی برابر بھی کچھ حاصل کیا ہو !

انسان اپنی ناکامی سے سبق حاصل کرتا ہے ۔مگر یہ نابغے ابھی تک غلط نظریات کا منجن بیچنے پر بضد ہیں ۔آج تلک ان کی سیاست عوامی مسائل سے لاتعلق ہے۔عوام کیا سوچتی ہے کیا چاہتی ہے ۔اس بات کا ادراک نہ ان کو پہلے ہوا نہ اب ہونے کی امید نظر آتی ہے۔۔معاشرے کے مسائل کیا ہیں ۔لوگ چاہتے کیا ہیں؟اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی تمنا نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔عوام کے مسائل سے  آشنا ہوئے بغیر کیسے ان کا منجن   کوئی خریدے گا۔جس کے اجزائے ترکیبی سالوں سے رتی بھر تبدیلی لانے کی زحمت ان مذہبی سیاسی جماعتوں کو گوارہ نہیں ۔اس ملک کے باشندے اور ان کی خواہشات کی تشخیص کیے بناء کامیابی ان کا مقدر کیسے بنے گی۔اس سوال پر مذہبی سیاسی جماعتوں کو ٹھنڈے  دل سے غور و فکر کرنا ہو گا۔ورنہ ان کو پذیرائی ملنا ناممکنات میں  سے ہے۔

مذہبی سیاسی قیادت کی  سوچ  کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔کہ کسی بھی ایک واقعہ پر ان کی رائے میں 360ڈگری کا تضاد پایا جاتاہے۔نائن الیون کا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے ۔پاکستان میں مذہبی سیاسی قیادت اس کو مجاہدین کا کارنامہ قرار دے کر بغلیں بجاتی ہے۔جب اس کا شدید ردعمل متاثرین کی جانب سے آتا ہے ۔تو دوسرے ہی لمحے مجاہدین کے کارنامے کو فراموش کر کے نیا تضاد اختیار کرتے ہوئے نیا نظریہ پیش کر دیتے ہیں کہ جناب نائن الیون کا واقعہ یہودیوں کی سازش ہے ۔انہی تضادات اور اس قسم کی مختلف النوع باتوں  کے کارن  ناکامی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے ۔معاشرے سے جڑی ہر سہولت کی پہلے ٹھوک بجا  کے مخالفت کرتے ہیں ۔سالوں بعد اس کی افادیت کا ادراک جب کھلتا ہے۔تب اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں ۔مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔۔موجودہ دور میں عوام کے مسائل کیا ہیں ان کی ضروریات کیا ہیں ،اس کو بھول کر صدیوں سے چلے آرہے فروعی مسائل پر دست و گریباں ہیں ۔ایسے میں ناکامی ہی  نصیب  ہو گی ۔ابھی نہیں تو کبھی  نہیں کی بنیاد پر خود احتسابی کے عمل سے گزر کر ہی یہ مذہبی سیاسی جماعتیں کامیابی کی منزل کا سفر  طے کر سکتی ہیں ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *