سوفٹ پاور اور ارطغرل غازی ۔۔اورنگ زیب وٹو

سوفٹ پاور کی اصطلاح سب سے پہلے ایک امریکی سیاسی مفکر جوزف ناۓ نے 1980 میں متعارف کروائی اور مفادات کے حصول کے لیے فوجی قوت کے ساتھ اس سوفٹ پاور کا استعمال بھی ضروری ق رار دیا۔سوفٹ پاور کسی بھی ملک یا قوم کی وہ قوت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مقاصد کو بِنا فوجی طاقت کے استعمال کیے حاصل کرتا ہے۔سوفٹ پاور کسی ملک کی خارجہ پالیسی، میڈیا، فلم،ادب، آرٹ اور فنون کا ایسا اظہار ہے جس کے ذریعے کسی دوسرے فریق تک اپنے نظریات موثر انداز میں پہنچانے اور اپنا بیانیہ کامیاب بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اکیسویں صدی میں سوفٹ پاور کسی بھی ملک کے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔بڑی طاقتیں اپنے نظریات اور مفادات کو دوسرے ممالک کے عوام تک میڈیا کے مختلف ذرائع  سے پہنچاتی ہیں۔ امریکہ کی ہالی ووڈ فلم انڈسٹری ہو (جسے دنیا کی سب سے بڑی متھ میکنگ فیکٹری بھی کہا جاتا ہے)یا برطانوی مشہور زمانہ جاسوسی کردار جیمز بانڈ،کورین پاپ میوزک ہو یا ہندوستانی فلمی صنعت،یہ تمام پلیٹ فارم اپنے ملک کی طاقت ،تاریخ، سیاست، فلسفہ حیات، اخلاقی اقدار اور نظریات کو پھیلانے کےلیے استعمال ہوتے ہیں۔بیسویں صدی کے دوسرے حصے میں ہالی ووڈ میں بننے والی پروپیگنڈہ فلموں نے نازی جرمنی اور کمیونسٹ نظریات کے خلاف بے شمار فلمیں بنائیں اور دنیا کو اپنی عینک پہنا کر اپنے دشمنوں کے چہرےدکھاۓ۔بھارت میں بھی فلم کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا اور 1971 کی جنگ میں اس سوفٹ پاور نے فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔میدان جنگ میں اترنے سے پہلے بھارت سینما کے ذریعے پوری دنیا کےسامنے پاکستان کے خلاف کامیاب پروپیگنڈا مہم کے ذریعے عالمی راۓعامہ اپنے حق میں ہموار کر چکا تھا۔ہندوستانی فلموں کی سینما میں ریلیز سے پہلے چند منٹ پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لیے مختص کیے جاتے اور مبالغہ آمیز کہانیوں کے ذریعےمغربی پاکستان کو طالع آزما اور غاصب ثابت کیا جاتا۔حالیہ سالوں میں بھارت میں انتہا پسند حکومت نے تاریخ بدلنے کا ذمہ بھی فلم انڈسٹری کو دیا ہے جس نے پدماوت جیسی فلمیں بنا کر مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اسی طرح کورین پاپ میوزک دنیا بھر کے ماس کلچر کو متاثر کرتا نظر آتا ہے۔حال ہی میں معروف ناول نگار اور ادیب فاطمہ بھٹو کی کتابNew Kings of the World:Dispatches from Bollywood,Dizi and K-Pop شائع ہوئی ہے جس کا موضوع بھی سوفٹ پاور اور اس کے عالمی کلچر پر اثرات ہیں۔
فاطمہ بھٹو نے سوفٹ پاور کی وضاحت کے لیے مشرق سے تین اہم چیزیں چنی ہیں جن میں ترک ڈرامہ،بالی ووڈ،کورین پاپ میوزک شامل ہیں۔یہ کتاب پاکستان میں لاہور اور کراچی سے چھپ چکی ہے۔

اب آتے ہیں ترکی کے مشہور زمانہ ڈرامےارطغرل غازی کی طرف جس کی شہرت اور مقبولیت نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔پاکستان کا قومی ٹی وی چینل ،وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر اس ڈرامے کو نشر کرنے جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث چھڑ چکی ہے۔

یہ ڈرامہ اس کہانی کا ایک حصہ ہے جو آج سے قریباً ایک ہزار برس پہلے شروع ہوئی۔ارطغرل غازی ایک قبائلی سردار اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان کا باپ تھا۔غازی نے جن فتوحات کی بنیاد رکھی وہ اگلی آٹھ صدیوں تک پھیلتی چلی گئیں اور عثمانی سلطنت دنیا کے تین براعظموں تک پھیل گئی۔عثمانی سلطنت نے ایشیا،یورپ اور افریقہ کو زیرنگیں کر لیا اور صدیوں تک دنیا کی واحد سپر پاور کہلاتی رہی۔عثمانی سلطنت اپنے نکتہ عروج یعنی فتح قسطنطنیہ( 1452) سے لے کر اپنے زوال یعنی پہلی عالمی جنگ میں شکست تک (1920) مسلمانوں کا مذہبی،سیاسی اور ثقافتی مرکز رہا۔سلطنت عثمانیہ کا سلطان دنیا بھر کے مسلمانوں کا مذہبی رہنما اور خلیفہ کہلاتا تھا۔پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر تباہ حال سلطنت کے ایک فوجی رہنما مصطفیٰ کمال نے انگریزوں اور یونانیوں کو شکست دے کر ایک مختصر لیکن آزاد ملک ترکی کی بنیاد رکھی۔کمال نے ترکی کو ایک جدید اور سیکولر ریاست بنانے کے لیے ماضی کی تمام نشانیوں کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔کمال نے خلافت کو ختم کیا،ترکی کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا،ملک کا نظام حکومت یورپی طرز پر استوار کیا،پردے پر پابندی لگائی،ترکی زبان کا عربی رسم الخط ختم کرتے ہوۓ رومن حروف تہجی رائج کیے،ترکی ٹوپی کی جگہ ہیٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا۔مصطفیٰ کمال اور اس کے بعد آنے والے فوجی حکمرانوں نے ”کمال ازم“ کو سختی سے نافذکیے رکھا اور ترکی کو اپنے عظیم الشان ماضی سے الگ کرنے کی کوشش ہوتی رہی۔سلطنت عثمانیہ کے حامیوں اور اسلام پسندوں نے کمال ازم کے خلاف سخت مزاحمت کی اور انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرتے رہے مگر سیکولر فوج نے اسلام پسندوں کو تشدد کے ذریعے دباۓ رکھا۔ترکی اس سارے عرصے میں ترکی یورپ کا مرد بیمار کہلاتا رہا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں ترکی رجب طیب اردوان کی قیادت میں بہت بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرا اور اسلام پسندوں کو نئی زندگی ملی۔اردوان اپنی پالیسیوں کی بدولت پوری اسلامی دنیا میں مقبول ہو گئے اور اسلام پسند ترکوں کو سلطنت عثمانیہ کا احیاءنظر آنے لگا۔ترکی کے سیکولر حلقے اور فوج اردوان کے طرز حکمرانی اور مذہب پسند نظریات سے سخت خائف ہیں اور اس کا ایک مظاہرہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے موقع پر دیکھا گیا۔ترک سماج دو حصوں میں بٹا ہوا ہے اور یہ نظریاتی لڑائی ترک ڈراموں اور فلموں میں بھی نظر آتی ہے۔اس لڑائی کا آغاز 2008 میں بننے والی ایک ڈاکومنٹری فلم ”مصطفیٰ“ سے ہوا جس میں جدید ترکی کے بانی کو شرابی،تنہائی پسند اور بے راہ رو دکھایا گیا۔فلم کے ڈائریکٹر کے مطابق وہ اس فلم میں بانی کی زندگی کا ذاتی اور انسانی پہلو دکھانا چاہتے تھے۔اس فلم نے بے حد مقبولیت حاصل کی اور تنازعات کی وجہ بنی۔ترکی کے ”کمالسٹ“ حلقوں کی طرف سے اس کا جواب سلطان سلیمان قانونی کی زندگی پر بننے والے ایک ڈرامے ”میرا سلطان“(پاکستانی نام) میں دیا گیا جس میں سلطنت عثمانیہ کی سب سے بڑی شخصیت کو ذاتی زندگی میں ظالم،عیاش اور اقتدار کا بھوکا قرار دیا گیا۔اس ڈرامے نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ستر سے زائد ممالک میں دیکھا گیا۔ترکی کے اسلام پسند حلقوں نے اس ڈرامے کی سخت مخالفت کی اور پورے ملک میں مظاہرے کیے گئے۔رجب طیب اردوان نے اس ڈرامے کو تاریخ پر حملہ قرار دیا لیکن یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ کی مقبولیت کا باعث بھی بنا۔اس نظریاتی جنگ کا اگلا پراجیکٹ ”غازی ارطغرل“ ہے جسے بے حد محنت اور بے مثال مہارت سے بنایا گیا ہے۔یہ ڈرامہ 146 ملکوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا ہے اور اسلام پسند اسکی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔ترک ڈرامے کی رسائی دنیا میں ستر کروڑ ناظرین تک ہے اور یہ ڈرامہ اسلامی اور ترکی تاریخ کو دنیا کے سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔پوری دنیا کے اسلام پسند رہنما اور عوام اس ڈرامے کو بے حد پسند کر رہے ہیں۔ترکی میں اس ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھ کر ہی نیویارک ٹائمز نے اسے ترکی کے عوام کی سوچ کا عکاس قرار دیا ہے۔رجب طیب اردوان ترکی کو ایک عالمی قوت بنانا چاہتے ہیں اور اسلامی دنیا سے ان کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔غازی ارطغرل ”سوفٹ پاور“ کے استعمال کی پالیسی کا حصہ ہے جس سے نہ صرف وہ دنیا تک اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر موجود کمالسٹ حلقوں کو بھی بھرپور جواب دیتے نظر آتے ہیں۔

Aurangzeb Watto
Aurangzeb Watto
زندگی اس قدر پہیلیوں بھری ہےکہ صرف قبروں میں لیٹے ہوۓ انسان ہی ہر راز جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *