کتاب زندگی ہے۔۔سیّد عارف مصطفیٰ

پاکستان میں کتب بینی کو بھی یقیناًً  کار ثواب سمجھا جاتا ہے اسی لیے  وطن  ِ عزیز میں پرہیز گاروں اور کتاب پڑھنے والوں کی تعداد ایک جتنی ہی ہے۔ جو کوئی منش من کو نہ بھاتا ہو ،لیکن ملنے و بیزار کرنے بار بار چلا آتا ہو، آپ اسے دو تین کتابیں دے کر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کو کہیے انشاءاللہ، پھر آپ نہ دیکھیں گے قمر کی صورت ۔۔گو بعضے کتاب بیزار لوگوں کے خیال میں کتاب کی ضرورت یا تو طالبعلم کو ہوتی ہے یا ردی فروش کو تاہم اس کے باوجود وطن عزیز میں معتبر نظر آنے کے لیے ہاتھ میں ہر وقت کسی نہ کسی کتاب کو تھامے ہونا خاصا مجرب ہے ۔کتاب جتنی ضخیم ہو اعتبار و وقار میں بھی اسی قدر اضافہ یقینی ہوتا ہے، البتہ زیادہ معتبر نظر آنے کے لیے ٹیلی فون ڈائریکٹری کو کور چڑھاکےتھامنا کسی قدر پُرخطر تجربہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ جو مصنف و محقق نامی موذی مخلوق ہے ،وہ اپنی کتاب کے بل پہ آپ کے ان لمحات کو بھی چھین لینا چاہتی ہے کہ جو آپ فکر ِ کائنات میں غلطاں رہ کر گزار سکتے تھے،یہاں کائنات سے مس کائنات مراد لینا مناسب نہیں مگر بہت زیادہ نا مناسب بھی نہیں ۔

صاحبو! ایک ہمارےبچپن کا وقت تھا کہ جب ہرطرف کتابوں کی بہار تھی اور لائبریریاں کھچا کھچ بھری رہتی تھیں ، اب یہ صورت ہے کہ خاطر خواہ تنہائی مطلوب ہے ،تو سیدھے لائبریری کا رخ کیجیے، کہ جہاں بس تین چار ہی چہرے نظر آئیں گے ،جو دراصل دائمی بیروزگار یا مستقل مزاج عاشق ہیں، اوّل الذکر طبقہ گھر والوں کے طعن وتشنیع سے بچنے کے لیے وہاں دن بھر پناہ گزیں رہتا ہے ،اور دوسرا طبقہ وہاں بیٹھا بہت آرام سے خیال ِ یار میں ڈوبا رہتا کیونکہ وہاں اسے کسی روک ٹوک یا رقیب سے نوک جھونک کا ذرا بھی دھڑکا نہیں ہوتا ۔۔۔ کتاب بیزاری کے اس دور میں آج کل لائبریریوں میں جو لوگ دیکھنے میں آتےہیں ان میں سے زیادہ ترکے ہاتھوں میں عام طور پہ اخبارات و رسائل ہی پائے جاتے ہیں ۔ شاذ  ہی کوئی کتاب تھامے بیٹھا ہوتا ہے جن کے اوپر یا نیچے سے آپ انہیں ادھر اُدھرنظریں دوڑاتے ہی پائیں گے، ایک دو تو صرف انہی نشستوں پہ شست باندھے ملیں گے ،کہ جو باہر کے رُخ کھلے ہوئے دروازے کی سیدھ میں ہیں اور جہاں سے قریبی بس  سٹاپ بھی احاطہء نگاہ میں رہتا ہے۔ وہاں ایک آدھ نہایت بوسیدہ سے گدھ نما بزرگ بھی ہمہ وقت کسی ایک ہی جگہ دھرے ملیں گے کہ جن کی شناختی علامت ہی نہایت دلجمعی سے کسی موٹی تازی سی کتاب کی جڑوں میں بیٹھےرہنا ہوتاہے۔۔

گو کہ اب عام رواج کتابوں کو پڑھنے کے بجائے کتابی چہرے پڑھنے کا بن چکا ہے، لیکن چند لوگ پھر بھی ایسے ہیں جوکتابیں پڑھنے سے اب بھی باز نہیں آتے،مرزا معقول کے نزدیک یہ لوگ وہ ہیں جو اس شدید خطرے کے عالم میں بھی بیٹھے غرق مطالعہ ہوتے ہیں کہ جب ان کا سفینہ ء حیات غرق ہورہا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیے کتب بینی ایک نشے   جیسی لت ہےاور مطالعے کا ہر اصلی شائق اس میں لت پت ہے۔ گویا بعضے پھر بھی ایسے ہیں کہ اب بھی کتاب دوستی کا دم بھرتے ہیں   اور ان کے لیے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ترمیم کے بعد یوں ان کی نذر کیا جاسکتا ہے کہ   ۔۔

لکھوائی ہے رقیبوں نے رپٹ جاجا کے تھانے میں

کہ اکبر کتاب پڑھتا ہے اس زمانے میں ۔۔۔

کتابوں کی کم خریداری کی ایک وجہ ان کی قیمتوں کا عام آدمی کی دسترس سے نکل جانا بھی ہے اور کتاب دشمن رویہ بھی ۔۔۔اگر عام آدمی کو بفضل خدا یا بوجہ بیگم کی غفلت، چند سو روپے فاضل میسر آجائیں تو وہ ان سے کوئی وقیع کتاب خریدنے کے بجائے ہمیشہ شینواری ٹائپ ہوٹل کی مٹن کڑاہی  یا باربی کیوکھانے کو لپکتا ہے ، ویسے بھی علم یہ ہے کہ اب کتاب کو وی آئی پی شناخت دے کے اسے خاص آدمی تک محدود کیا جارہا ہے اور یوں سمجھیے کہ آج کل کتابوں کی مہنگائی کا جو مسئلہ ہے وہ درحقیقت انکی نئی دیدہ زیب طباعت اور چکنے گرد پوش سے جڑا ہے۔بلاشبہ آج کل مضبوط تحریر کتابوں کو اتنا مربوط نہیں کرتیں  جتنی ایک مضبوط جلد ، مرزا معقول اس باب میں اضافی یہ کہتے ہیں کہ اب ہر کتاب پہ ایک چمکیلے سے چکنے سے گرد پوش کی موجودگی اتنی ہی ضروری سمجھی جاتی ہے جتنی کہ مصنف کے جسم پہ پوشاک ، لیکن پوشاک کا نہ  ہونا تو آج کل پھربھی قابلِ  برداشت ہے۔۔۔ خیر چھوڑیے یوں سمجھیے کہ دیدہ زیب و شاندار گرد پوش ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر کتاب کے اندر کچھ اچھا نہ  ہو تو کم ازکم باہر تو کچھ بہتر ہو۔۔۔ پرنٹنگ کے لیے بھی آف سیٹ سے کم ہرگز گوارا نہیں اورقیمتی پیپر کے استعمال کے بغیر چارہ نہیں خواہ 50 گرام کے صفحے پہ شائع ہونے والی تحریر پانچ گرام کی ہی کیوں نہ ہو۔

ہمارے خواجہ صاحب کتاب کی ابتری کے جواز میں یوں فرماتے ہیں کہ “موبائل کتاب کی نوخیز سوکن ہے جبکہ کمپیوٹر اس کا شوخ و شنگ جوان بھتیجا ، ان دونوں رنگینوں کے آنکھ مٹکے نے بیچاری کتاب کے حالات سنگین بنا دیے ہیں اور اسے طاقِ  نسیاں پر پہنچا دیا ہے” ۔۔۔ لیکن ان کے اس بیان پہ میں شینٹوزا کا حوالہ دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس نے کہیں کہا تھا کہ ” کتاب درحقیقت ایک بہت فائدے کی چیزہے، اس نے تو افراد ہی نہیں بہت سی اقوام کی بھی حالت ہی بدل دی ہے۔۔۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی جدت  نے نئے حقائق کو جنم دیا ہے جنہوں نے کتاب کی اہمیت پہ   بہت ہی کاری ضرب لگائی ہے۔” لیکن میں اس سے ایک قدم آگے بڑھ کے یہ کہتا ہوں کہ   اب اس معاشرے میں اہلِ  علم و ادب ادیبوں کے لیے جلد ہی وہ بدترین وقت آنے والا ہے کہ وہ اپنی غیر نصابی کتب صرف گن پوائنٹ پہ ہی پڑھواسکیں گے۔۔ لیکن پھر بھی کچھ نا کچھ لوگوں کےمقدر میں رتبہء شہادت ہی آئے گا۔ ویسے بھی ٹی وی ،موبائل اور کمپیوٹرنے تواب اس ‘اصلی با تصویر’ ادب کو بھی یتیم کر چھوڑا ہے کہ جو اپنے فروغ کے لیے تکیوں پہ تکیہ کرتا تھا اور زیرتکیہ سانس لیتا تھا۔۔۔۔

وجہ جو بھی ہو ہمارے ملک میں لےدے کے ایکسپو کا کتب میلہ ہی وہ مقام ہے کہ جہاں سال بہ سال کثیر کتابیں اورکتاب چہرے ایک ساتھ دستیاب ملتے ہیں اور وہاں نظر آتے رنگین ملبوسات کے صدقے بہت سی میچنگ کتب بھی خرید لی جاتی ہیں ، گو ملک بھر میں کتب فروشی کے بہتیرے بازار بھی ہیں لیکن ان سے قطع نظر عمومی طور پہ کتاب دشمن ماحول بڑھتا جارہا ہے اور لگتا ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ ادیب و شاعر اپنی کتاب چرانے والے کی بلائیں لیں گے اور جو کوئی بھی فرد زائد از نصاب کتاب پڑھتا پایا گیا اسکی یا تو فی الفور نظر اتاری جائے گی یا پھر نفسیاتی ہسپتال کی ایمبولینس طلب کرلی جائے گی ۔۔۔۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہمارے ملک میں اسمبلی کے حاضری سے پُر لگاتار دو اجلاس ہوجانا اتنا غیر یقینی نہیں جتنا کہ کسی کتاب کا سال بھر میں دوسرے ایڈیشن شائع ہونے کی خوشخبری تک پہنچ جانا ۔زیادہ تر علمی و تحقیقی کتب کا تو پہلا ایڈیشن ہی آخری ثابت ہوتا ہے اور اشاعت بھی ہزار دو ہزار کتب سے سمٹ کر دو سو تین سو تک محدود ہوگئی ہے اور اب ان میں سےنوے فیصد کتابیں دوستوں و اقرباء کے گھر یا دفتر پہ اچانک پہنچ کے تحفے میں دے دی جاتی ہیں ، اچانک اس لیے پہنچا جاتا ہے کہ کہیں پہلے سے آمد کی اطلاع پاکے وہ کہیں سٹک نہ جائے ۔۔۔ یہ یقینی امر ہے کہ آج کل کسی کتاب کا ایک برس پرانا نسخہ کسی کتاب فروش کے پاس نہ ملے تو پان فروشوں سے بھی پوچھ لینا مناسب بلکہ بہت مفید رہتا ہے ” ۔ اب تو عام مشاہدے کی بات ہے کہ اشاعت کے چند ہی دنوں بعد مطلوبہ نئی نکور نتھ بردار کتاب کسی نا کسی ٹھیلے پہ سیروں کے حساب سے مل ہی جاتی ہے لیکن ان ٹھیلوں کے مستقل مہمانوں میں سبھی وہ نہیں جو کہ الفاظ والی تحریر کے اسیر مطالعہ ہوتےہیں، بقول تابش بہتیروں کا ذوق مطالعہ بڑا تفتیشی و مشاہداتی ہوتا ہے اور وہ صرف “اصلی، باتصویر” کی ٹیگ والی کتب کے ہی رسیا ہوتے ہیں۔

کیونکہ انسانی معاشرے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اسی لیے کتاب کےبھی دشمن ہوتے ہیں جو کہ ڈھونڈے بغیر ہی مل جاتے ہیں ۔ ان میں سے بعضے کتابوں کو لائبریری میں نہیں رہنے دیتے اور کئی اپنے گھر میں ۔۔۔ اگر دادا عالم فاضل یا ادیب و شاعر تھے تو ان کا پوتا ان کے سوئم کے اگلے دن ہی کباڑی کا ٹھیلہ دروازے پہ منگوا کر ان کا سارا خزانہء علم فٹا فٹ عام عوام کی دسترس میں پہنچادینے میں‌دیر نہیں لگاتا جہاں سے یہ انبار پان فروشوں اور پنساریوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے ۔ اکثر خواتین بھی کتابوں سے دشمنی کا رویہ رکھتی ہیں، کیونکہ ان کی دانست میں کتابیں انکے شوہروں کو انکی غیبت اور چغلیوں سے محفوظ کرتی ہیں، اور ان کےمجازی خداؤں کو زیادہ سیانا بناتی ہیں، لیکن بدگمان نہ ہوں سبھی تو ایسی نہیں ہوتیں ،کیونکہ اکثر تو صوفوں اور پردوں کے شیڈ سے میچنگ کرتی ہوئی کتابیں لا کر اپنے ڈرائنگ روم میں سجاتی ہیں اور انکی حفاظت دل وجان سے کرتی ہیں، مجال ہے کہ کسی کا ہاتھ انہیں چھوجائے۔۔۔ یہاں کتابوں پہ زوال کی ایک وجہ اور بھی سمجھ میں آتی ہے جوعام تو نہیں لیکن بہرحال کئی گھرانوں میں محسوس کی جا سکتی ہے اور وہ یہ وجہ ہے کہ متعدد سابق حسینائیں نوخیزی میں رضیہ بٹ کےپڑھے گئے ناولوں اور پروین شاکر کی شاعری کا ہیرو ہاتھ نہ  لگنے پہ دائم روگ پال لیتی ہیں اور پھر بڑی مستقل مزاجی سے یہ روگ زندگی بھر کے لیے تھمائے گئے اپنے متبادل ہیرو کو منتقل کرنے میں لگی رہتی ہیں۔۔۔ ایسا متبادل ہیرو اس حسن سلوک کو زیادہ نہیں جھیل پاتا اور کچھ ہی عرصے میں اپنی  تابڑ توڑ ناقدری کے بعد اپنے حلیےسے یکسر بے نیاز ہوکر اپنے جغرافیے میں ایک بےلگام توند اور سر پہ فحش سا گنج ابھارے پھرتا نظر آتا ہے۔۔۔

فی زمانہ کتب بینی کا ذوق اس ابتر حالت کو پہنچا ہواہے کہ ایک بار پھر اکبر الہ آبادی یاد آتے ہیں جو آج اگر زندہ ہوتے تو اپنے ایک مشہور شعر کو اب یوں رقم کرتے ۔۔۔۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام،

وہ کتاب بھی پڑھتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔۔

لیکن ان سب سفاک حقائق کے باوجود جیسے تیسے کرکے بیچاری کتاب ہمارے ارد گرد اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور اکثر اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔مضمون کے شروع میں مَیں نے بتایاتھا کہ شینٹوزا نے کہیں کہا تھا کہ ” کتاب ایک بہت فائدے کی چیزہے، اس نے تو میری حالت ہی بدل دی ہے”۔۔۔  کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ شینٹوزا کون ہے ، یہ میرے ذہن کی پیداوار ایک کردار ہے اور بس ۔۔ مجھے آپ کو اس سے یعنی ایک فرضی مگر غیرملکی ادیب سے مرعوب کرنا مطلوب تھا سو کرلیا کیونکہ مجھے بھی معلوم تھا کہ میں پکڑا نہیں جاؤں گا کیونکہ مجھے بخوبی علم ہے کہ آپ کا مطالعہ کتنا کم اور غیرملکی ناموں سے مرعوب ہونے کی عادت کس قدر پختہ ہے ، اگر میں اسے کوئی دیسی نام دیتا تو آپ اس قول کو نری بکواس کے سوا بھلا اور کیا گردانتے۔۔۔

لیکن آخر میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان سب منفی باتوں کے باوجود کتاب اب بھی ایک متحرک معاشرے کی زندگی ہے، اسی لیے یہ ترقی یافتہ اقوام کے طرز زندگی کا اب بھی اہم حصہ ہے کیونکہ اانہیں بخوبی معلوم ہے کہ کتاب کے ورق ورق میں مستور اک نئی تجلی اور بھرپورپیغام بندگی ہے۔ مجھ سے مت پوچھو کتاب میں کیا ہے ، یہ پوچھو کتاب میں کیا نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ اس میں بہت کچھ ہے بلکہ شاید سبھی کچھ ہے لہٰذا کتاب ہی زندگی ہے۔یارواہل ِ دل کا سننا شرط ہے کیونکہ کتاب کلام کرتی ہے ، شرفِ  انساں کو سلام کرتی ہے ، کتاب سماج کا نور ہے اسکی زندگی ہے۔۔۔۔۔ اندر کے کانوں سے سنو ، بلاشبہ کتاب چیختی ہے، سسکتی ہے کراہتی ہے، گاہے ہنستی ہے، مسکراتی ہے گدگداتی ہے، کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔ کتاب قد نہیں مرتبہ بڑھاتی ہے، وحشت مآبوں کو انساں بناتی ہے ۔اچھے ڈھنگ سے جینا سکھاتی ہے، کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔ کتاب جاگتی ہے جگاتی ہے، کھلی آنکھوں سپنے دکھاتی ہے، انگلی پکڑ کر نئی دنیاؤں میں لیجاتی ہے، کئی ان دیکھے سفروں پہ ساتھ جاتی ہے یوں کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔۔ درحقیقت کتاب کرن ہے اجالا ہے روشنیوں کو گوندھ کر نئے سورج چڑھاتی ہے، کتاب چنگاری ہے، شعلہ ہے بھڑک کےالاؤ بن کر گرمی بڑھاتی ہے، پھر اس میں کیا شک ہے کہ کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *