مُلا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو۔۔ابرار خٹک

ہاں!آپ لوگ اس کرّ ہ ارض پر جس دنیا کا خواب دیکھ رہے ہیں ،یہ تہذیب ناآشنا ان سے بے بہرہ ہیں۔لمبی عباؤں ، قبائیوں کے یہ خاک نشین ، داڑھی و مسواک کے دور میں رہنے والے زمانہ ناشناس، خود کو منبر و محراب کے وارث کہنے والے’’انتہا پسندوں ‘‘ سے آپ کی اس دنیائے رنگ و نور،جذبات ہائے جاں فزا ء کو خطرہ ہے۔آج جب کہ دنیا موت سے گھروں اور قرنطینوں میں پناہ ڈھونڈ رہی ہے ،ان کو اب بھی مسجدوں،اذانوں، پنج وقتہ نمازوں ،روزوں،تراویح اور نہ جانے اور کن کن چیزوں کی پڑی ہے۔کسی نے کہا ان کو اپنی کمائی کی فکر ہے ،کوئی کہتا ہے’’ جب عباسی دور میں دشمن سر پہ کھڑا تھا ،یہ لوگ اسی قسم کے مباحثو ں میں پڑے تھے کہ میں نے ۶ نہیں بلکہ ۳ فٹ ، فاصلے کی بات کی تھی‘‘ اور کسی نے کہا’’ آپ کا وجود ویسے بھی اس معاشرے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ فقط بوجھ ہیں اور بوجھ ٹلتا ہے تو اچھی بات ہے۔‘‘

آپ کا تعلق کسی بھی شعبے ،مکتبہ ٔ فکر،مذہب رنگ ونسل سے ہے،اعتدال،توازن ،غیر جذباتی تجزیہ و تنقید آپ کا حق ہے کہ اس کا فائدہ علم اورعوام کوپہنچتا ہے، مگر اپنے بغض،کج ذہنی کی آڑ میں کسی طبقے کو تنقیص،تضحیک کا نشانہ بنانا قرین انصاف نہیں ۔ آپ کے ہاتھ میں قلم ، مائیک اور میڈیا ہو تو آپ دنیا کواپنی قلم کاری”لفاظی”شعبدہ بازیوں او رکرتبوں سے ضرورمتاثر کرسکتے ہیں مگر حقیقت کی دنیا آپ کی سطحی ، جذباتی اورمصنوعی اداکاری سے بڑی مختلف ہوتی ہے۔کرونا یا سائنس و ٹیکنالوجی و دیگر مسائل کی آڑ میں مذہب و عقیدے کو نشانہ بنانا ان جغادریوں کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے ،جن کی پیدائش ا یسے نظریات کے بطن سے ہوئی ہے ،جو زمین پر کسی بھی الہامی مذہب کا عمل دخل نہیں مانتے۔

آپ بھول رہے ہیں کہ غلطی تعبیر و تشریح میں ہوسکتی ہے، دین میں نہیں  کہ دین کائنات کی ہر شے و مخلوق بشمول آپ کے جسم کی طرح فطری ہے نہ کہ  مصنوعی،اور کوئی بھی انسان غلطی سے  مبرّا نہیں ۔کوئی بھی علمی فیصلہ ،تعبیر و تشریح اٹل نہیں ہوسکتی ،اس میں ترمیم،تنسیخ کی گنجائش بہر حال موجود ہوتی ہے۔مسجد و محراب کا مقصد محض صوم و صلوٰۃ کی پابندی نہیں بلکہ معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی نظام حیات کو حرکت و دوام بھی دینا ہوتا ہے۔انتہائی ایمرجنسی،پھیلاؤ،صورت حال کی کشیدگی کی صورت میں ہر وہ آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے ،جس میں انسانی زندگی کی بقا کی ضمانت ہے۔تاہم اس کا اطلاق ممکنہ طور ہر مقام پہ ہونا چاہیے تاکہ ہر انسان کی زندگی بچائی یا محفوظ بنائی جاسکے۔ قومیں اس قسم کے تعمیری مباحث سے نہیں بلکہ نااہل قیادت سے تباہ ہوتی ہیں۔ اقتدار و شہرت کے ہوس پرستوں ہی سے اس ملک کو نقصان پہنچا ہے۔علما کی کمزوریوں کا حساب رکھنے والے بھول رہے ہیں کہ انھوں نے تو ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر مملکت کا ساتھ دیا۔آج بھی منبر و محراب والوں کو قوم کی بھوک و پیاس،راشن و دوا کی فکر ہے۔ اپنی موت و حیات سے بے پروا ،یہ ملا و عالم صر ف مسجد ہی نہیں بلکہ دروازوں، گلیوں، دیہاتوں، بازاروں،چوراہوں،کھیت کھلیانوں اور سب سے بڑھ کر ہسپتالوں میں بھی انسانوں ،جانوروں کی خوراک، دوا،ماسک اور نہ جانے اور کن کن ضروریات کی فکر کررہے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ میراجسم میری مرضی ،پچاس تولے سونا اور مفٹ بائیک بانٹنے والے، ٹی وی شوز میں لڑکیوں سے بغلگیر ہوکر لاکھوں ،کروڑوں انسانوں کو اخلا ق باختگی، ،برابری و آزادی کے پیغام اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے والے،آج ایسے غائب ہوچکے ہیں ،جیسے زمین پر ان کا وجود ہی نہ تھا؟

یہی ملا و عالم تھا ،جس نے حکومت اور سکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑے ہوکر پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف ایسا بیانیہ تشکیل دیا ،جس نے مملکت کو مزید خوں ریزی ور تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسلامی نظریاتی کونسل سے لے کر پاکستان کے ہر وفاق ،معتبر مدرسے و دارلعلوم تک نے فتاوی ٰ کے ذریعے (باوجو د حسن اختلاف کے ) حکومت و معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا ہے۔دنیا میں جدید و قدیم سائنسی تصورات و ایجادات کی کامیابیوں پر نظر رکھنے والے آگاہ ہیں کہ ہر کامیابی کے پیچھے ناکامیوں کی طویل داستان ہوتی ہے ،مگر نظر ہمیشہ کامیابی ہی پر رکھی جاتی ہے۔ لاؤ ڈ سپیکر ، پرنٹنگ پریس پر پابندی لگانے والے و دیگر مختلف فتوؤں کو بار با راچھالنے ، علما و مدارس کو موردِالزام ٹھہرانے والے بھول جاتے ہیں کہ ان فتوؤں کو تبدیل کرنے والے بھی یہی ملا و عالم تھے ، انہی علما نے تعبیر و تشریح، استنباط و اجتہاد کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی کو رواج دیا ۔ یہاں یہ دانشوراپنے وہ سارے لیکچر ،جو یہ لوگوں کو مثبت سوچ،وسعت نظری،برداشت،اختلاف رائے اور اعتراف علم و عظمت پر دیتے ہیں ،بھول جاتے ہیں۔
جو تیری زلف تک پہنچی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جو میرے نامہ ٔ سیاہ میں تھی

آپ کی دنیا کا ہیولہ ’’آزاد خیالی  کی مٹی سے تیار ہواہے،جس میں کسی مذہب ،الہامی کتاب اور ان سے کشیدہ اخلاقیات کو عمل دخل نہیں۔اس کی بنیاد انسان کی اندھی خواہشات ہیں۔آپ کی دنیا کی مثال ایک ایسے کارخانے کی سی ہے جس میں خواہشات کی مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔اس کا وژن یہ ہے کہ دنیا کا ہر انسان اس کا صارف بن جائے۔مذہب،الہام،روحانیت ،خدائی قوانین اور اس قبیل کے جتنے تصورات ہیں ،ان کو جزو ی و کلی لحاظ سے متنازعہ بنا کر لوگوں کی برین واشنگ کرنا، ان کو ان کے تمدن ،ثقافت و روایات اور سب سے بڑھ کر درج بالا تصورات و حقائق سے متنفر کرکے ’’دنیائے رنگ و نور اور جذبات ِ دل ا فزا‘‘ کا اسیر کرنا ہے۔

ہاں ان علماکا  وجود بوجھ ہے اس معاشرے کے لیے،بالفاظ دیگرآپ کا وجود نعمت ہے۔دنیا آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلے اور اس دنیائے ر نگ و نور میں آباد ہو جائیں، جس کی بنیادیں کرّہ ٔ ارض پر موجود کسی بھی الہامی مذہب سے نہیں ملتیں۔آپ اختلاف رائے کو آلہ بناکر مسجد و محراب میں نقب لگاتے ہو اور وہ دلیل و برہان کو بنیاد بناکر آپ کو دعوتِ اصلاح،مکالمہ و مذاکرہ دیتے ہیں۔آپ کے پاس لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے لے کر دیگر سائنسی ایجادات کے استعمال و عدم استعمال پر اختلاف تعبیر و تشریح کے لیے تنقیص کے حربے ہیں ،جن سے علمائے باصفا کا مذا ق اڑاتے ہو مگر خود اس دولت سے عاری ہو جسے بے تعصبی،برداشت،اختلاف رائے اور عدل کہتے ہیں۔ ان کے پاس آپ کے قلم کی کاٹ بھی ہے اور گفتار کے لیے دلیل بھی،آپ کی جملہ بازی،جگت بازی  ،طنزو تشنیع کے لیے نرم گفتاری بھی ہے اور سچ پر مبنی دوٹوک مؤقف بھی ،مگر کیا کیجیے کہ آپ کا مقصد واہ ،واہ اور شاباش حاصل کرنا اور ان کمین گاہوں کو خوش کرنا ہے جہاں سے ان پر تیر و تفنگ برسانے کی پلاننگ ہوتی ہے، جب کہ ان علما کا مقصد اجتماعی نظم و دینی فکر و عمل کا تحفظ کرنا ہے۔
کبھو جائے گی جو ادھر صبا ،تو کہیو اس سے کہ بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا تیرے باغِ تازہ میں خار تھا

ابرار خٹک
ابرار خٹک
میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ۔ مری تمام سرگزشت کھوۓہوٶں کی جستجو۔۔۔(اقبال)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *