فیصل عرفان کی بے مثال کاوش۔۔۔ راجا شاہد رشید

SHOPPING
SHOPPING

پوٹھوہار قدرت کی رنگا رنگیوں کا عجیب و غریب نمونہ ہے، کہیں اُونچی نیچی کٹی پھٹی زمین ندیاں نالے‘ کہیں ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح کھلے ”میرے“ میدان‘ کہیں اُونچی اُونچی کھردری چٹانیں اور کہیں نرم نرم مٹی اور ریت۔ پوٹھوہار قدرت کے قیمتی خزانوں‘ معدنیات اور ہر طرح کے وسائل و سیر گاہوں سے بھی بھرا پڑا ہے اگر کوئی جستجو والا ہو اور توجہ دے تو اس انمول و نایاب دھرتی دیس سے بے بہا مال خزانے حاصل ہو سکتے ہیں۔ میرے پوٹھوہار کو صوبہ ہونا چاہیے‘ کیا ہے جو اس خطے میں نہیں اور یہی حال اس خوبصورت وادی کے باسیوں کا ہے‘ جس سمت چلے سب کو ساتھ لے کر چلے اسی لیے دیس پوٹھوہار کے رہنے والے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہیں۔ اگر ہم ادب ہی کی بات کریں تو اس دھرتی نے کئی نامی سپوت پیدا کیے مثلاً باقی صدیقی‘ میاں محمد بخشؒ‘ عظیم صوفی سرکار شیر زمان مرزاؒ‘ ضمیر جعفری‘ عالمی شہرت یافتہ ادیب راجہ انور‘ اختر امام رضوی‘ پیر مہر علی ؒ‘ ابن آدم‘ تصدق اعجاز‘ سلطان ظہور اختر‘ نصیر الدین گولڑویؒ‘ شاہ مرادؒ‘ محمد شاہؒ‘ جاوید احمد‘ راجہ عارف منہاس‘ پروفیسر عبدالغنی‘ کرم حیدری۔

پوٹھوہاری زبان و ادب کے حوالے سے افضل پرویز نجمی صدیقی‘ دلپذیر شاد‘ اختر جعفری‘ رشید نثار‘ شیر زمان مرزا‘ نثار مرتضوی‘ زمان اختر‘ شریف شاد‘ نسیم تقی جعفری‘ انور فراق‘ یاسر کیانی‘ ارشد چہال‘ شعیب خالق‘حبیب شاہ بخاری‘ شاہد ہاشمی‘ شیراز طاہر‘ عابد جنجوعہ‘ طالب بخاری‘ آل عمران اور بھی بڑے نام ہیں۔ پوٹھوہار کے اہل فکر و ادب کو چاہیے کہ وہ باوا یاسر کیانی سے رابطہ کر کے فوری طور پر میری کمپوز شدہ کتاب نوائے پوٹھوہار شائع فرمائیں جس میں پوٹھوہار کے اور پوٹھوہاری کے اہل قلم قبیلوں کی تفصیلات و خدمات موجود ہیں۔ کاش کوئی کام لینے والا ہو یا سر کیانی پوٹھوہاری زبان و ادب کیلئے بڑا ہی کام کر سکتے ہیں۔ پوٹھوہاری زبان و گرائمر نامی کتاب لکھ کر یاسر کیانی نے پوٹھوہاری زبان و ادب پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ پروفیسر شیکل جب پوٹھوہار کی تاریخ و تہذیب پر تحقیق کی غرض سے پوٹھوہار آیا تو اُس نے کہا تھا کہ بلا شبہ پوٹھوہار کی تاریخ و تہذیب بے مثال ہے اور قدیم ترین بھی لیکن پوٹھوہاری زبان کے حوالے سے اس قدر لٹریچر نہیں مل رہا جس کی مجھے اُمید تھی۔ شاید تبھی تو رشید نثار نے کہا تھا کہ ”سواں نے کانڈھے جیہڑا ڈبیا‘ مُڑ تریا نئیں“۔ حتیٰ کہ ماہرینِ لسانیات نما کچھ نمبرداروں ٹھیکیدارں نے بطور طعنہ اہل پوٹھوہار کو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ چند چو مصرعوں سے کوئی بولی کبھی زبان نہیں بن سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوٹھوہاری لکھنے والے زیادہ سے زیادہ کتب دیں کیونکہ ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ پوٹھوہاری ایک مکمل اور قدیم زبان ہے۔

نثری و شعری کتب ہی ہمارے اس دعوے کی دلیل کہلائیں گی۔ تازہ شائع ہونے والی کتب کی اگر ہم بات کریں تو معروف شاعر شکور احسن نے پوٹھوہاری شاعری کی بہترین کتاب شائع کی ہے جس کا نام ”بنُمبل“ہے۔ اسی طرح نثر کے حوالے سے پوٹھوہاری رسالہ ”پُرا“ کے ایڈیٹر نعمان رزاق کے پوٹھوہاری فیچرز پر مشتمل کتاب ”مٹی مونہوں بولنی“ شائع ہوئی ہے اور یہ دونوں کتب پوٹھوہاری زبان و ادب میں خوبصورت اضافہ ہیں۔ خطہ پوٹھوہار کے معروف شاعر‘ صحافی اور نثر نگار فیصل عرفان نے اپنی کتاب ”پوٹھوہاری اکھانٹر اور محاورے“ شائع کر کے ایک بہت ہی بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پوٹھوہاری ادب کے فروغ اور پوٹھوہاری زبان کی ترویج و ترقی کیلئے اس طرز کے تاریخی اور تحقیقی کاموں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ انتہائی محنت طلب‘ باریکیوں اور عرق ریزی کاکام ہے اور یہ کتاب شہادت دے رہی ہے کہ برادرم فیصل عرفان نے اس پر بھر پور محنت اور لگن سے کام کیا ہے او کوزے میں دریا بند کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

SHOPPING

فیصل عرفان کی یہ کتاب ”پوٹھوہاری اکھانٹرتے محاورے“ بلا شبہ ایک بے مثال و لازوال کتاب ہے اور لاجواب بھی۔ پوٹھوہاری سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے اس کتاب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ کتاب کی ایک جھلک آپ بھی ملاحظہ فرمائیے:۔ اللہ چنگی گلے اپر راضی ہونڑاں‘ اللہ پاک اچھی بات پر راضی ہوتے ہیں۔ آلادے نوالہ‘ ہر پل مانگتے پھرنا۔ اللہ نیاں اللہ ہی جانڑے‘ اللہ کی اللہ ہی جانے۔ سونے نی سلاخ‘ قیمتی آدمی۔ ستے خیراں‘ سب خیر خیریت ہونا۔ سنبھالا کرنا‘ سنبھال لینا۔ یاسر محمود کیانی‘ پروفیسر ارشد محمود ناشاد اور شیراز طاہر کے تاثرات کتاب میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر ارشد ناشاد فرماتے ہیں کہ پوٹھوہار کے جواں سال تخلیق کار فیصل عرفان صدیوں کی دانش سمیٹنے میدان میں اُترے ہیں۔ پوٹھوہار کے علاقے میں بکھرے محاورات اور ضرب الامثال کی جمع آوری دراصل اپنے وجود کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ میں پوٹھوہار کے اس فعال جوان کا کھلی بانہوں کے ساتھ ”سواگت“ کرتا ہوں۔ اُمید ہے برادرم فیصل عرفان ادب و اہل ادب کے لئے اسی طرح کے اچھوتے اور منفرد کام کرتے رہیں گے۔ میں آخر میں اپنا ہی ایک شعر فیصل عرفان کی نذر کرتا ہوں:۔
تُو آس ہے کل کی اور اُمید ہے آج کی
تُو عزت و عظمت ہے اِس دیس و سماج کی

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *