تیسرا سیارہ ۔ زندگی (5) ۔۔وہاراامباکر

پچھلی نصف صدی میں خلائی مشن انسان کو چاند پر لے جا چکے ہیں، مریخ کی وادیوں میں مہم جوئی کر چکے ہیں، زہرہ کے جھلسے صحراوٗں میں جھانک چکے ہیں، مشتری میں گرنے والے دمدار ستارے کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ ان کام کام پتھروں کے ساتھ رہا ہے۔ بہت سے پتھروں کے ساتھ۔ اپنے پڑوسی فلکیاتی اجسام میں ہم پتھروں کا تجزیہ کرتے رہے ہیں۔ اپالو پروگرام سے لائے گئے ایک ٹن کے قریب چاند سے آئے والے پتھر ہوں، دمدار ستارے سے پکڑی گئی دھول یا مریخ پر پتھر۔ پتھر خلا میں بہت دلچسپ اشیاء ہیں۔ یہ ہمیں نظامِ شمسی کے ارتقا سے آگاہی دیتے ہیں۔ یہ کیسے بنا، سہارے کیسے بنے، فلکیاتی واقعات کے بارے میں۔ لیکن جو جیولوجسٹ نہیں، ان کو مریخ کے کونڈرائیٹ اور چاند کے ٹروکٹولائیٹ میں بہت فرق محسوس نہیں ہو گا۔ اس نظامِ شمسی میں ایک سیارہ ہے جہاں کا مادہ اس قدر ورایٹی، فنکشن اور کیمسٹری رکھتا ہے جس کی مثال نہیں۔ یہ جگہ اس نظامِ شمسی کا نیلگوں نقطہ ہے جسے ہم زمین کہتے ہیں۔ اور ایسا اس لئے کہ یہ کائنات کا ابھی تک وہ واحد معلوم گوشہ ہے، جہاں پر زندگی ہے۔

زندگی نادر شے ہے۔ ایک چڑیا سونگھتی ہے، سنتی ہے، کھاتی ہے، کیڑے پکڑتی ہے۔ درخت کی شاخوں میں پھدکتی ہے۔ زمین پر آ جاتی ہے اور پھر لمبی اڑان کے لئے ہوا میں بلند ہو جاتی ہے اور اس کا سب سے حیران کر دینے والا کام یہ کہ اپنے کسی ساتھی کے ساتھ ملکر اپنی جیسی چڑیوں کا کنبہ تیار کر لیتی ہے جس کا ہر فرد اسی سیارے کے مادوں سے بنتا ہے۔ اور اس طرح کھرب ہا کھرب جاندار اس سیارے پر پائے جاتے ہیں، جو قسم قسم کے کارنامے سرانجام دینے کے اہل ہیں۔

ایسا ایک شاندار جاندار آپ ہیں۔ رات کے آسمان کو گھورتے ہیں۔ روشنی کے فوٹون آنکھ سے ٹکراتے ہیں۔ آنکھ کی پتلی کا ٹشو ان سے خفیف برقی سگنل میں بدلتا ہے جو بصری اعصاب میں سفر کرتے ہوئے دماغ کے اعصابی ٹشو تک پہنچتے ہیں۔ یہاں پر فائر ہونے والے نیورون سے آپ محسوس کرتے ہیں کہ آسمان پر ایک ستارہ جگمگا رہا ہے۔ اور اسی وقت، پریشر سے دباوٗ کی معمولی سی تبدیلی، جو فضائی پریشر کا ایک اربواں حصہ ہے، اندرونی کان کے بالوں کے خلیے کے ٹشو تک پہنچی۔ اس سے پیدا ہونے والے سماعت کے نرو سگنل سے آپ ہوا کے چلنے سے پتوں میں ہونے والی سرسراہٹ کو سن رہے ہیں۔ اڑتے ہوئے چند مالیکیول تیرتے ہوئے آپ کی ناک تک پہنچے۔ یہاں پر اولفیکٹری ریسپٹر نے انہیں پکڑ لیا۔ ان کی کیمیائی شناخت کی اور دماغ تک پیغام پہنچایا۔ بہار کی اس رات میں باغ میں کھلے موتیا کی خوشبو پھیلی ہے۔ اور اس خوبشبو کو سونگھتے، ہوا کو سنتے، تاروں کو دیکھتے ہوئے، جسم کی ہر معمولی ترین حرکت سینکڑوں پٹھوں کی کوآرڈینشن کا نتیجہ ہے۔

اور یہ کارنامے، کئی دوسرے غیرمعمولی کارناموں کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں، جو دوسرے عام سے جاندار کرتے ہیں۔ پتے کاٹنے والی چیونٹی اپنے جسم سے تیس گنا بھاری وزن اٹھا سکتی ہے۔ یہ ویسا ہے جیسے آپ اپنے گاڑی کمر پر اٹھا کر پھر رہے ہوں۔ ٹریپ جا چیونٹی اپنے جبڑے کو صفر سے 230 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک صرف 0.13 ملی سینکنڈ میں پہنچا لیتی ہے۔ یہ بہترن ریسنگ کار سے چالیس ہزار گنا تیز ایکسلریشن ہے۔ برقی ایل چھ سو وولٹ کی بجلی کا جھٹکا دے سکتی ہے۔ پرندے اڑ سکتے ہیں۔ مچھلی تیر سکتی ہے۔ کیچوے زمین کھود سکتے ہیں۔ بندر شاخوں پر جھول سکتے ہیں۔ اور اہلیت میں کوئی بھی زمین کی سبز زندگی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ ہوا اور پانی (بمعہ کچھ معدنیات کے) سے گھاس، برگد، سمندری بوٹیاں، کنول کے پھول، کائی اور شیشم کے درخت بنا لیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شاید اہلیت اور کامیابی کے حساب سے ایک عضو ہے، جس کا ثانی نہیں۔ اور وہ آپ کی کھوپڑی میں پایا جاتا ہے جو کسی بھی طاقتور ترین کمپیوٹر سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے اور اس کے استعمال نے زمین پر اہرامِ مصر، جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی، الف لیلہ، انٹرنیٹ اور ٹام اینڈ جیری کی تخلیق کی۔ اور شاید سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ انسانی دماغ اس چیز کی اہلیت رکھتا ہے کہ جان سکے کہ یہ موجود ہے۔

لیکن اس مادے کے اپنے بے پناہ تنوع کے باوجود اس کے بنیادی اجزاء بالکل وہی ہیں۔ یہ انہی ایٹموں کا ملاپ ہے جو مریخ کے کونڈرائیٹ پر پائے جاتے ہیں۔ زمین پر مادے میں کچھ بھی خاص شے نہیں۔ اور یہ جاندار اسی مادے کی ترتیب ہیں۔

اور یہ سائنس کے ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے۔ یہ عام سے ایٹم اور مالیکیول، روز کیسے اچھلتے کودتے، دوڑتے بھاگتے، اڑتے، راستہ تلاش کرتے، تیرتے، بڑھتے، محبت کرتے، نفرت کرتے خوفزدہ ہوتے، ہنستے، روتے اور سوچتے اجسام میں بدل جاتے ہیں۔چونکہ ہم یہ روز ہوتا دیکھتے ہیں، اس لئے یہ غیرمعمولی تبدیلی چونکا نہیں دیتی لیکن یہاں پر یاد رکھنے والی ایک چیز۔ جینیاتی انجینرنگ اور سنتھیٹک بائیولوجی کے اس دور میں ابھی تک ہم زندگی کو عام مادے سے تخلیق نہیں کر پائے۔ ہماری ٹیکنالوجی ابھی تک وہ ٹرانسفورمیشن کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جو سادہ ترین مائیکروب بھی بآسانی کر لیتا ہے۔ اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے بارے میں ہمارا علم نامکمل ہے۔

تو پھر کیا ارسطو کا خیال ٹھیک تھا کہ کوئی جادوئی جزو ہے جو زندگی کو متحرک کر دیتا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ کائنات اس سے کہیں زیادہ دلچسپ جگہ ہے۔ زندگی کی کہانی اس سے کہیں زیادہ مزیدار ہے۔ اب تک کے شواہد یہی بتاتے ہیں زندگی کا بڑا حصہ روزمرہ کے عام اشیاء والی کلاسیکل دنیا میں ہے جبکہ ایک قدم کوانٹم دنیا کی گہرائی میں۔

جاندار اور بے جان اشیاء کے لئے فزکس میں کوئی فرق نہیں۔ مادے میں کوئی فرق نہیں۔ وہی قوتیں، وہی قوانین۔ تو پھر کیا جاندار اشیاء ٹریلین در ٹریلین ذرات سے بنی فٹبال یا سٹیم انجن کی طرح ہی ہیں؟ اس کیلئے ایک نظر تاریخ پر۔۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *