روایات کی دنیا۔صفتین خان

اسلامی علمی تاریخ اور روایت میں حدیث کو قرآن و سنت اور تجزیاتی عقل سے ماورا ہو کر قبول کرنے کے جو اثرات ہوئے وہ ماہ محرم میں زیادہ واضح ہو کر سامنے آتے ہیں.

اسلام کی سیاسی تاریخ میں شیعہ و سنی کی مستقل خلیج کی بنیاد کو خون انہی  روایات نے فراہم کیا. کوئی مولا علی والی روایت سے ولایت و خلافت علی ثابت کر رہا ہے تو کوئی روایت قسطنطنیہ سے یزید کی نجات و عظمت کشید کرنے میں مصروف ہے. کوئی عمار یاسر رض کی شہادت سے باغی گروہ کا تعین کر رہا ہے تو کوئی کتابی و اہل بیتی کی حدیث سے اہل بیت کی حقانیت کا دلیل لا رہا ہے. فقہا و اسلاف کی اس وقت کی کسی خاص شخصیت کے متعلق سیاسی رائے کو بھی الہام کا درجہ عطا کیا جا رہا ہے.

یہ ایسا چیستان ہے جہاں دونوں گروہوں کے پاس ” متواتر ” و مشہور حوالے موجود ہیں. اس لیے یہ خلیج کبھی ختم نہیں ہو سکتی. مطلق روایات کو دین کے مجموعی مزاج و نظام کے اندر رکھ کر جب تک نہیں لیا جاتا تب تک یہ تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا. اب تو خود سنیوں میں بھی اس سلسلے میں دو متضاد انتہا پسندانہ رویے سامنے آنے لگ گئے ہیں.لہذا ضروری ہے کہ ایسی تمام روایات کے فہم کو ازسرنو مرتب کر کے پیش کیا جائے. یہ اصولی بات ہے جس پر پوری تاریخ کو پرکھا جانا وقت کی نمایاں ترین ضرورت ہے.

اس لیے کہ نہ ایک غزوہ کسی کی نجات کا ضامن ہے اور نہ کسی ایک خاص شخص یا گروہ کی محبت حق کی علامت. کسی پر لعن طعن کرنا دین کا کوئی حکم ہے اور نہ کسی کی شان کو بیان کرنا شریعت کی کوئی ہدایت. کسی کی کوئی تعریف اگر بیان ہوئی ہے تو اس سے مطلقاً  قرآن سے ماورا کلی فضیلت اخذ کرنا درست نہیں اور نہ شارع کا یہ منشا ہوتا ہے. یہ سب جذبات و احساسات کی تسکین کے مظاہر ہیں. اگرچہ اپنی جگہ اس کی بھی اہمیت ہے مگر اس کی بنیاد پر مسلم بھائیوں کی تنقیص و ایمان کے فیصلے کرنا خود خدا اور ان ہستیوں کو پسند نہیں جن کے لیے ایسا کیا جاتا ہے.

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *