ٹریولرز کی اقسام۔۔عبداللہ فیضی

خادم نے عمر عزیز کا نصف حصہ سفر میں ضائع کیا ہے، گویا اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے۔ اب اس سے آپ میری عمر کا اندازہ نا لگائیے گا پلیز۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ مجھے گھر سے زیادہ ہوٹل ،موٹل ، ہاسٹل، ٹرین کی برتھ حتی کے جہاز کے عقبی حصے کی خالی نشستوں پر زیادہ راحت (بمعنی سکون)نصیب ہوتی ہے۔ اس بیچ اگر کبھی کبھار گھر پہ رہنا پڑے تو بعض دفعہ صبح اپنے ہی گھر میں اٹھ کر موندی آنکھوں سے سوچنے لگتا ہوں کہ “اس درمیانے درجے کے ہوٹل” کا چیک آؤٹ ٹائم کیا ہے۔۔ اس دوران مجھے ریل گاڑی سے لے کر بحری جہاز بشمول ڈاچی تک کے اسفار درپیش آئے جن میں ہر نسل(اچھی و گندی)، قومیت، رنگ و بو الغرض ہرطرح کے مسافروں سے واسطہ پڑا بلکہ ایک دفعہ تو مجھے بجٹ ہاسٹل میں یہودی عورتوں کے ساتھ والے بیڈ پر بھی سونا نصیب ہوا۔ بات ذرا دور نکل گئی ، قصہ مختصر، تفنن طبع کے لیئے ان میں سے (یہودی عورتوں کی نہیں، بلکہ ٹریولرز کی) چند اقسام بطور نمونہ پیش خدمت ہیں۔
برانڈڈ ٹریولر
اہم نشانیاں:
گوچی کا چشمہ ،
جوتے اور بیگ جن پر لوگو نمایاں ہو۔
گرائپ واٹر جیسی چھوٹی بوتل میں خوشبودار ہینڈ سینی ٹائزر جو انکے شولڈر بیگ پر مستقل جھول رہا ہوگا۔
ٹریولرز کی یہ قسم جہاز میں نہایت طمطراق اور نخرے سے داخل ہوتی ہے۔ آس پاس والے مسافروں کو عموما شودر سمجھتی ہے اور کسی سے بات کرنا اپنی شان میں توہین الا یہ کہ انکی نظر آپ کی پہنی ہوئی کسی بہتر برانڈ والی چیز پر پڑ جائے۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ سامنے پڑے ائرلائن کے فضول ترین اشتہاری میگزین کو اٹھائیں گے اور ایویں ورق گردانی کرکے واپس رکھ دیں گے۔ جب کھانا سرو ہوگا تو پہلے تو مینو پر اچٹتی سی نگاہ ڈالیں گے اور کہیں گے “نو تھینکس” لیکن پھر فوراً  ہی مینو میں سے کوئی بھی ڈش ساتھ ڈائٹ کولڈ ڈرنک طلب کرلیں گے۔ مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر انکے ساتھ والے مسافر کی توجہ ان پر ہو تو یہ “ویج” کھاناطلب کریں گے بصورت دیگر یہ بھی “نان ویج” ہی کھاتے ہیں ۔

انسٹا گرام ٹریولر
اہم نشانیاں
ہاتھ میں سات کیمروں والا اوپو موبائل
کانوں میں شوخ رنگ کی ٹوٹیاں (ہینڈز فری)
موبائل کا کیمرہ آن
ٹریولرز کی یہ قسم اپنی مثال آپ ہے۔ گھر سے نکلنے سے لے کر منزل پر اترنے تک یہ اپنے موبائل کا کیمرہ آن ہی رکھتے ہیں اور تلاشی کے عمل سے لے کر سیٹ بیلٹ باندھنے تک یہ ہر ہر موقع کی تصویر بناتے ہیں اور بناتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو یہ پاسپورٹ کنٹرول والے کے ساتھ بھی سیلفی لے لیں۔ جہاز میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ کھڑکی کے باہر کی تصویر لیں گے، اسکے بعد اندر کی تصویر لیں گے، اسکے بعد اپنے دونو ں جوتے ایک دوسرے پر کراس کر انکی تصویر لیں گے اور آخر میں وکٹری کا نشان بنا کر اسکے ساتھ اپنے منہ کی تصویر لیں گے۔ یہ سب تصویریں انسٹا گرام پر ہیش ٹیگ “مائی لائف مائی رولز” کے ساتھ پوسٹ کریں گے۔ ہیش ٹیگ فوڈ، ہیش ٹیگ سویگ، ہیش ٹیگ باتھ روم اسکے علاوہ ہیں۔ عموماً خوش اخلاق واقع ہوئے ہیں لیکن اگر آپ اپنی پرائیوسی کے معاملے میں حساس ہیں تو ان سے زیادہ فری نا ہوں ورنہ ایک منٹ میں یہ آپکے “فرینڈ” بن جائیں گے اور پھر آپکو بھی فرینڈشپ کے جرمانے کے طور پر ایک سیلفی انکے ساتھ بنوانا پڑے گی بلکہ یہ آپکو انسٹا ، فیس بک اور نجانے کہاں کہاں ہیش ٹیگ فرینڈز ٹریولنگ ٹوگیدر کے ساتھ ٹیگ کردیں گے۔

“یہ سیٹ مجھے دے دے ٹھاکر” ٹریولر
اہم نشانی
(کمبخت) ہمیشہ جتھے کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔
ٹریولرز کی یہ قسم عموما ریل گاڑیوں میں پائی جاتی ہے۔ تین، چار لوگ ساتھ سفر کریں گے لیکن ٹکٹ پتہ نہیں کیوں ساتھ نہیں لیتے۔ اس طرح کے لوگ اپنے ساتھی مسافروں کے ساتھ تقریباً پورے سفر میں زبردست طریقے سے برتاؤ کریں گے تاکہ بعد ازاں سیٹ بارگین میں کامیاب ہوسکیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے قریب کی نشستیں حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے تو وہ ساتھیوں سے “تھوڑا جگہ” بنانے کے لئےبولیں گے اور بیچ میں فٹ ہوجائیں گے۔ اس زمرےکے مسافروں کے گروپ میں انکا ایک ساتھی ہمیشہ ” جگاڑ والا” یعنی بغیر ٹکٹ والا ہوتا ہے ،لہذا آدھے سفر یہ ٹی ٹی کے ساتھ یا اپنے ساتھی مسافروں کے ساتھ سیٹ کے لئے سودے بازی کرتے نظر آئیں گے۔

دیسی ٹریولرز:
اہم نشانیاں
قیمتی اشیا لیکن بے ڈھنگا طریقہ
ٹریولرز کی یہ قسم عموماً  یورپی ممالک سے آنے والی فلائٹ میں پائی جاتی ہے ۔ یہ آسودہ حال لیکن ٹکا کے شوخے ہوتے ہیں۔ ٹھیٹ پنجابی بولتے ان مسافروں کو آسان نہ  لیں، آدھی دنیا گھومے ہوئے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے انتہا کے فنکار لوگ ۔ یہ بیلجیم یا پیرس سے براستہ لاہور سیدھا سیالکوٹ، گجرات یا وزیر آباد پہنچیں گے۔ یہ وہ مجاہد ہیں جو آپکے ملک میں سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ اکثریت یورپی سیٹیزن ہوتے ہیں لیکن اپنی حرکتیں بالکل نہیں بدلتے۔

پکے/لیجنڈ ٹریولرز:
نشانیاں
اکتائے ہوئے
ہوائی چپل یا سوفٹی پہنے، ٹراوزر یا بوسیدہ جینز میں ملبوس

ٹریولرز کی اس قسم کو آدھے ایمیگریشن اور ہوائی عملے کے افراد بار بار سفر کی وجہ سے ویسے ہی پہچانتے ہیں۔ جہاز میں کونسی سیٹ سونے کے لیئے اور کونسی لاتیں لمبی کرنے کے لیئے بہترین ہے؟ کس ائیرلائن کے کھانے میں نمک تیز اور جہاز لیٹ ہوتے ہیں ؟ جہاز کون سے گیٹ پر لگے گا ؟یہ سب معلومات انہیں پہلے سے پتہ ہوتی ہیں۔ عموما ً پیشے سے ڈاکٹر،انجینئر لیکن حلیے سے فقیر لگتے ہیں۔

بچوں والے ٹریولرز:
نشانیاں
جتنے بچے اتنی نشانیاں
مسافروں کی جملہ اقسام میں یہ قسم سب سے خطرناک واقع ہوئی ہے۔ اگر بدقسمتی سے یہ عناصر آپکے ساتھ یا بہت قریب سفر کررہے ہوں تو جان لیں کہ آپکا کل سفر غارت۔ ان کی آپکے قرب و جوار میں موجودگی کے دوران ہرطرف ایک ہاہا کار مچی ہوگی ، عجیب غدر کا سماں ہوتا ہے کہ الاماں ۔ شروع میں تو کچھ دیر امن رہے گا لیکن جیسے ہی جہاز، ٹرین یا بس ذرا سے رینگنا شروع ہونگے ان کے بچے، دودھ کی بوتل اماں کے بیگ پر گرا دیں گے، بقول شخصے ایسے میں ابھی ماں بہت تہذیب یافتہ اور پڑھی لکھی بن کر بچے کو شُستہ انگریزی ایکسنٹ میں “کام ڈاؤن ، کام ڈاؤن ” کہہ ہی رہی ہوگی کہ چھوٹے سے ذرا بڑے والا، زور سے ماں کے کان کے پردے کے پاس چلائے گا “اماں جاج اُڈ گیا ” اوروہ بوکھلائی ہوئی ماں سے ایک فوری چپیڑ کھائے گا ۔ اب یہ جو لمبا سانس کھینچ کر جو رونا شروع کرے گا، تو اسے چپ کروانا کسی کے بس میں نہیں۔ اس سفر کے آخر میں آپ اپنے فیملی پلاننگ والے نظریے سے یہ کہتے ہوئے دست بردار ہوجائیں گے کہ “بچے ” تو دو بھی نہیں اچھے”۔
شاید میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ پاکستانی جہازوں میں بڑا فیملی ماحول بنا ہوتا ہے (یعنی سارے کام آپکو خود ہی سرانجام دینے ہوتے ہیں)۔ ایک دفعہ پی آئی اے کی رات گئے پرواز میں سٹیورٹ سے تکیہ طلب کیا جس پر انہوں نے بجائے خود تکیہ فراہم کرنے کے ، میرے ساتھ بیٹھے سوتے ہوئے مسافر کو دور سے ہی آواز لگا کر ان سے اگلی سیٹ پر رکھا تکیہ مجھے عطا کرنے کی فرمائش کی۔۔
بغور مشاہدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پی آئی اے کے فلائیٹ کریو کے باہمی تعلقات نہایت خوشگوار بلکہ مثالی ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تروقت عملہ باہم خیر سگالی اور آپسی گپ شپ میں مشغول نظر آتا۔ ایک اور چیز یہ کہ پاکستانی جہازوں میں لحاف کی کمی لیکن تکیوں کی فراوانی ہوتی ہے اسکی وجہ میں باوجود کوشش کے آج تک سمجھ نہ  پایا لیکن عملے کی انسان دوستی اور دور اندیشی کی داد دینے پڑے گی کہ لحاف (عند الطلب) صرف بچوں کو ہی مہیا کیے جاتے ہیں کہ نونہالان چمن ٹھنڈ کی دست برد سے محفوظ رہیں باقی مسافروں کو ٹھنڈ سے بہتی ناکیں پونچھنے کے لیے ٹشو مہیا کیے جاتے ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *