مساجد، وائرس اور با جماعت نماز۔۔احمد ثانی

اسلام سلامتی اور آسانی پھیلانے  کا دوسرا نام ہے ۔ میں کوئی مفتی قطعا ً نہیں، مبتدی ضرور اور   کامن سینس کواستعمال کر کے چند مشورے اہل علم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے ۔ شاید اس پلیٹ فارم سے میری یہ آواز کسی ایک اہلِ دل عالم تک جا پہنچی اور انہوں نے اس پر عمل شروع کروا دیا تو میرے لکھے کا پھل سمجھیں مجھے مل گیا ۔ ایک بار جسٹ توجہ دلانا چاہوں گا کہ آنے والا وقت مزید کڑا ہونے والا ہے ماہ رمضان میں جوش سے نہیں  ہوش سے کام لیجیے گا خدارا۔
با جماعت نمازیں مسجد میں کس طرح ادا کی جاسکتیں ہیں ۔

مساجد میں ستھرائی کا خصوصی اہتمام کیا جائے ۔

اگر مساجد کے فنڈز میں گنجائش ہے تو فورا ً سے پیشتر سینی ٹائزر بیسڈ والک تھرو گیٹ نصب کرائیں جائیں۔

وضو خانوں میں صابن کا اہتمام لازمی کیا جائے۔

ایک نماز کے وقت ایک مسجد میں ایک سے زیادہ مرتبہ باجماعت نماز ادا کروائی جائے ۔

مثلا ً اذان ظہر ،سوا ایک بجے دی گئی ۔
پہلی جماعت ایک بج کر 25 منٹ
دوسری جماعت ایک بج کر چالیس منٹ
تیسری جماعت ایک بج کر بچپن منٹ پر ادا کر دی جائے

اس طرح ایک وقت میں کم سے کم لوگ مسجد میں ہوں گے جس سے وائرس کا پھیلاؤ کا خطرہ کم سے کم ہو گا۔

بہتر تو یہ ہے کہ نمازی وضو گھر سے کر کے جائیں۔

ہر نمازی اپنے ساتھ ایک عدد صاف تولیہ یا کپڑا ضرور لے کر جائے جسے وہ نماز کے دوران سجدے والی جگہ پر بچھا کر رکھے، فرش سے ڈائریکٹ کانٹیکٹ کرنے سے احتیاط کی جائے تو بہتر ہے، دورانِ جماعت ہر نمازی ماسک کا استعمال لازمی کرے ۔

سنتیں و نوافل گھر پر ادا کرنا  افضل ہے اس لیے ان کی ادائیگی کا اہتمام گھر پر ہی کیا جائے تو زیادہ ثواب کما سکتے۔

بہتر تو یہی ہے کہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد نمازیں گھر پر ہی ادا کریں ۔

ماہِ رمضان تقوی و پرہیز گاری سے ادا کرنا اس بات پر منحصر ہو گا کہ آپ کتنے صحت مند رہ پاتے ہیں ۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی آپ پر فرض ہے۔ دوسروں پر بوجھ بننے سے بہتر ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاط اختیار کی جائے اور اس بات پر یقین رکھیں کہ

انماالعمال بالنیات

بے شک عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔

اپنا اور اپنے متعلقین کا خیال رکھنا آپ کی بنیادی ذمے داری ہے ۔ خدارا اس بات کو بہتر طور پر سمجھیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *