زہر کا پیالہ۔۔شہباز الرحمٰن خان

‏مجھ سے ڈر گئے ہو تم
تم سے میں ڈرا نہیں
کب کے مر گئے ہو تم
میں ابھی مرا نہیں
تم وہم ، میں یقین ہوں
میں علم کا امین ہوں
میں انقلابِ وقت ہوں
میں زیست کی مثال ہوں
میں زندگی ہوں زندگی
میں موت کا زوال ہوں
میں “مشال” ہوں!

عام لوگوں کے لیے دماغی مشقت سے کام لینا مشکل ہوتا ہے،لیکن یہ کام سماج میں ان لوگوں کے لیے بہت آسان ہوتا ہےجو کائنات کے پوشیدہ رازوں کی کھوج میں جُتے رہتے ہیں۔میں بھی آپ کو  تاریخ کے ایک گمنام پیمبر سقراط سے روشناس کروانے جارہا ہوں جس نے کھوکھلے اور پست ،بت پرست ،اپنے اجداد کی ذہنی غلامی کے خلاف سوال اٹھانے کی پاداش میں ز ہر کا پیالہ پیا۔

وہ کہا کرتا تھا میں دنیا میں غور وفکر کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں ،عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لئے نہیں ۔ایک معمولی سنگتراش کا بیٹا گھنٹوں اپنے باپ کو پتھروں میں سے مورتیاں تراشتے دیکھتا اورسوال کرتا کہ کس طرح چٹانوں کے ٹکڑوں میں سے شیر کی شکل ڈھال دی جاتی ہے۔اس کا باپ بچہ سمجھ کر اسے نظر انداز کر تا تھا۔اس کے باپ کو کیا پتہ تھا کہ یہ تاریخ کا عظیم شخص سقراط ہے۔سنگ تراشی کی سند سے منسوب روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس نے اپنے خاندانی کام کا تسلسل قائم رکھا لیکن قدرت نے اسے کسی اور کام کے لیے چنا تھا۔

یہ نوجوان یونان کے کنارے زمین میں گڑے قدآور بت کو زمین بوس کرنے جارہا تھا۔جس کی قیمت اسے اپنے خون سے دینی پڑی۔اس کے ذہن میں اپنے استاد نیکساگورس کا انجام تھا۔جسے بتوں کے خلاف عوام میں شعور اجاگر کرنے کی پاداش میں شہر بدری کی سزا دی گئی۔ایتھنز کی عدالت نے سقراط پہ الزام لگایا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف بھڑکا رہا ہے اور ہمارے دیوی اور دیوتاؤں کے خلاف سوال اٹھاتا ہے،اس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہ کر رہا ہے۔500 افراد کی موجودگی میں ایک ہی دن میں ٹرائل اور 3 گھنٹے میں اپنے حق میں دلائل دینے کا وقت تھا لیکن سقراط نے خاموشی اختیار کی اور صرف یہ الفاظ ادا کیے” مجھے میرے سچ کے لیے قربان ہونے دو”۔

شہباز الرحمٰن خان
شہباز الرحمٰن خان
شہباز الراحمن خان سابق ڈپٹی جنرل سیکریٹری پیپلز پارٹی برائے نوجوان کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *