اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو۔۔سیدہ نجم زہرا

کراچی پاکستان کا دل،معاشی حب ہے اس شہرکی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اس غریب پرور شہرکی ہزاروں خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ملک بھرسے روٹی روزی کی تلاش میں آنے والے افراد کو اپنے اندر سمالیتا ہے ،شہرِقائد کے باسیوں کا قیام پاکستان سے مزاج رہاہے کہ  اپنی روٹی میں سے آدھی اپنے ہم وطنوں سے بانٹ کر کھاتے ہیں، وطن عزیز میں جب بھی کبھی کہیں کوئی ناگہانی آفت آئی سب سے پہلے کراچی کے غیور عوام امدادی سامان لے کر پہنچتے ہیں، کراچی والوں کی خدا ترسی کے کارناموں کی تاریخ رقم ہے۔ جیساکہ سب جانتے ہیں دنیااس وقت کرونا جیسی آفت سے نبرد آزما ہے، وہیں  پاکستان بھی اس سے متاثر ہے، ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے پاکستان کی معیشت کے پہیہ کا انحصار کراچی پرہے۔

لاک ڈاؤن نے تاجر برادری کو دیوالیہ کردیا اور کراچی کے باشندوں اور ملک بھر سے روٹی روزی کمانے کیلئے آنے والے افراد کو بے روزگاری کی چکی میں پیس کرحسرت ویاس کی تصویر بنادیاہے۔ریاست مدینہ کا تصور پیش کرکے وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنے والے عمران نیازی نے چندروز قبل کراچی کے غریب عوام کیلئے امداد میں فی گھرانہ بارہ ہزار روپے کا اعلان کیا ،نا صرف اعلان کیا بلکہ کراچی کے چھ اضلاع میں یوسیز کا انتخاب بھی کرلیا ۔اضلاع کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔۔
1_ڈسٹرک ایسٹ Uc_23 ڈالمیا
2_ ڈسٹرک سینٹرلUc_19 پہاڑ گنج نارتھ ناظم آباد
3_ڈسٹرک ساؤتھ Uc_1 لیاری ،آگرہ تاج کالونی
4_اورنگی Uc_12 داتا نگر
5_کورنگی شاہ فیصل کالونی ناتھا خان گوٹھ
6_ملیر ابراہم حیدر حیدری قائد آباد Uc_4

شہرکراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، اس کے ان چھ اضلاع کا جائزہ لیتے ہیں، جنہیں امداد کیلئے منتخب کیا گیا۔
ڈسٹرک  سینٹرل کراچی کا سب سے زیادہ یوسیز رکھنے والا علاقہ ہے، اس میں 50 یوسیز ہیں ،یہاں 49 یوسیز پر کراچی کی نمائندہ جماعت ہمیشہ منتخب ہوتی ہے۔اس علاقے کی 50 یوسز میں امدادی پوائنٹ پہاڑ گنج جوکہ پہاڑ پہ واقع ہے ،واضح رہے یہ آبادی تجاوزات ہے ،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نقشے میں کراچی کے  قدرتی حسن پہاڑوں کے سلسلے پر مشتمل یہ منفرد علاقہ تھا ،جسے غیر قانونی لینڈ کریپرز نے گھیرکر آباد کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیں  کہ اصل باشندوں کی 49 _Uc پر قبضہ مافیا کی 1 یوسی بھاری  ہے۔

ڈسٹرک ایسٹ جو لاکھوں نفوس پر مشتمل بڑی آبادی ہے اس میں پوش،متوسط آبادیوں کے علاوہ کئی غریب کچی آبادیاں بھی ہیں ،یہاں بھی اصل شہریوں کو نظر انداز کرکے ڈالمیا یوسی 23 کو امداد کا مستحق قرار دیا گیا ،ڈالمیا کے بارے میں کراچی میں بسنے والا ہرذی شعور بخوبی جانتاہے کہ  یہ علاقہ آج بھی عام شہریوں کیلے نوگوایریا ہے۔

ڈسٹرک ساؤتھ  کو بھی  مندرجہ بالا کی طرح نظرکرم  کرتے ہوئے لیاری ، آگرہ تاج کالونی یوسی 19کو سرفہرست رکھا گیا ہے، آگرہ تاج کالونی سے کون واقف نہیں کہ  یہاں کی تنگ و تاریک گلیاں جرائم پیشہ افراد  کی آماجگاہ ہے، تادمِ  تحریر یہ علاقہ پولیس ، رینجرز کیلئے ناک میں دم  کرنے کا باعث ہے رینجرز یا پولیس کی مجال نہیں کہ  ان تنگ و تاریک گلیوں کارخ کریں۔

ڈسٹرک ویسٹ اورنگی یوسی 12واحد ضلع ہے جہاں کراچی ہائٹس اور غیر مقامی باشندے آباد ہیں۔ڈسٹرک کورنگی بڑی آبادی والا علاقہ اور کراچی کی نمائندہ جماعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہےاس پوری آبادی پر مٹی ڈال کر شاہ فیصل ناتھا خان گوٹھ کے نام قرعہ امداد نکالا گیا ،ناتھا خان گوٹھ کا ماضی فسادات کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔چھٹا ڈسٹرک ملیر بہت بڑی آبادی پر مشتمل ہے تمام یوسیز کو یکسر نظرانداز  کرکے ابراہم حیدری قائد آباد صرف یوسی 4 پر کرم نوازی کی گئی۔

وزیراعظم عمران نیازی صاحب جس آبادی کو آپ نظرانداز کررہے ہیں یہ وہ ہی لوگ  ہیں جنہیں آپ نے نفیس ،پڑھے لکھے ہونے  کی ڈگری عنایت کی تھی، جناب اعلیٰ  ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ  آپ جسے چاہیں نوازیں، مگر انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں ،مصیبت کی اس گھڑی میں تو تعصب کی  عینک توڑ دیجیے۔
کراچی والوں کو صرف اس بات پر بھوک وافلاس سے مرنے کیلئے چھوڑ رہے ہیں کہ  انھوں نے آپ کی جماعت کو ووٹ نہیں دیا ۔۔؟

حضور آپ تو والی ء  ریاست مدینہ بن کر آئے تھے ریاست کے ایک ایک فرد کی جان ومال کی حفاظت آپکی  ذمہ داری ہے ،اپنے پرائے کی تفریق چھوڑ کر سب کو ساتھ لے کر چلنے کی منصوبہ بندی اپنائیں۔ جناب جس خزانے سے اپنوں کو نواز رہے ہیں ،اس خزانے کا 70فیصد کراچی والے ہی اداکرتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ آپ کا یہ متعصبانہ رویہ کراچی والوں کے دل میں نفرت پیدا کردے ،یاد رہے جب تک کراچی سہتا  ہے  ، مگر جب اٹھ کھڑا ہوتاہے تو بڑے بڑے فرعون صفت حکمرانوں کو انکی اوقات یاد دلادیتاہے یہ بھی کراچی کا مزاج ہے۔

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کوبھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔۔

اور آخر میں کراچی والوں کے ووٹوں پہ عیش کرنے والوں کے نام اہل کراچی کا ایک پیغام

جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کوگھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
جان لیا اہل کرم تم ٹولی ہوعیاروں کی
دست نگرکیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خدداروں کی
ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *